محرم الحرام اسلامی سال کا پہلا مہینہ ہے۔ اسلام دنیا کا واحد مذہب ہے جس کا اسلامی سال محرم الحرام میں حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ، حضرت امام حسین رضی اﷲ عنہ اور ان کے رفقاء کی بے مثال قربانی سے شروع ہوکر حضرت اسماعیل علیہ السلام کی لازوال قربانی پر اختتام پذیر ہوتا ہے۔
مگر کتنے افسوس کی بات ہے کہ محرم الحرام شروع ہوتے ہی تعزیہ داری، اسٹیل، پیتل اور چاندی سے تیار کردہ مصنوعی ہاتھ، پائوں، آنکھیں اور بازو تعزیئے پر چڑھانا، نیلے پیلے دھاگے بازو پر باندھنا، بچوں کو امام کا فقیر بنانا، دشمنانِ صحابہ کا دس یا گیارہ دن کالے کپڑے پہننا، ماتم کی کیسٹیں بجانا اور شیعوں کی مجالس اور جلوس میں شامل ہونا اور شب عاشورہ کو خوب ڈھول بجاکر اس شب کے تقدس کو پامال کرنا یہ کام عروج پر ہوتے ہیں۔ یہ تمام کام شریعت کی رو سے ناجائز اور گناہ ہیں مگر ہماری عوام ان کاموں میں اپنا وقت ضائع کرتی ہے۔ یاد رکھئے ہم اہلسنت ہیں اور ہمارے رہبر اور پیشوا امام اہلسنت احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ ہیں جنہوں نے اپنے ماننے والوں کو ان ناجائز کاموں سے بچنے کا حکم دیا ہے اور اپنی کتابوں میں ان کاموں سے بچنے کی سختی سے تاکید فرمائی ہے، چنانچہ امام اہلسنت مولانا احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ کے ارشادات ملاحظہ فرمائیں۔
1۔ تعزیہ بنانا کیسا؟
اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ تعزیہ بنانا بدعت و ناجائز ہے (فتاویٰ رضویہ جدید، جلد 24، ص 501، مطبوعہ رضا فائونڈیشن لاہور)
2۔ تعزیہ داری میں تماشا دیکھنا کیسا؟
اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ چونکہ تعزیہ بنانا ناجائز ہے، لہذا ناجائز بات کا تماشا دیکھنا بھی ناجائز ہے (ملفوظات شریف، ص 286)
3۔ تعزیہ پر منت ماننا کیسا؟
اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ تعزیہ پر منت ماننا باطل اور ناجائز ہے (فتاویٰ رضویہ جدید، جلد 24، ص 501، مطبوعہ رضا فائونڈیشن لاہور)
4۔ تعزیہ پر چڑھاوا چڑھانا اور اس کا کھانا کیسا؟
اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ تعزیہ پر چڑھاوا چڑھانا ناجائز ہے اور پھر اس چڑھاوے کو کھانا بھی ناجائز ہے (فتاویٰ رضویہ، جلد 21، ص 246، مطبوعہ رضا فائونڈیشن لاہور)
5۔ محرم الحرام میں ناجائز رسومات:
اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ محرم الحرام کے ابتدائی 10 دنوں میں روٹی نہ پکانا، گھر میں جھاڑو نہ دینا، پرانے کپڑے نہ اتارنا (یعنی صاف ستھرے کپڑے نہ پہننا)، سوائے امام حسن و حسین رضی اﷲ عنہما کے کسی اور کی فاتحہ نہ دینا اور مہندی نکالنا، یہ تمام باتیں جہالت پر مبنی ہیں (فتاویٰ رضویہ جدید، ص 488، جلد 24، مطبوعہ رضا فائونڈیشن، لاہور)
6۔ محرم الحرام میں تین رنگ کے لباس نہ پہنے جائیں:
اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ محرم الحرام میں (خصوصاً یکم تا دس محرم الحرام) میں تین رنگ کے لباس نہ پہنے جائیں، سبز رنگ کا لباس نہ پہنا جائے کہ یہ تعزیہ داروں کا طریقہ ہے۔ لال رنگ کا لباس نہ پہنا جائے کہ یہ اہلبیت سے عداوت رکھنے والوں کا طریقہ ہے اور کالے کپڑے نہ پہنے جائیں کہ یہ رافضیوں کا طریقہ ہے، لہذا مسلمانوںکو اس سے بچنا چاہئے (احکام شریعت)
7۔ عاشورہ کا میلہ:
اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ عاشورہ کا میلہ لغو و لہو و ممنوع ہے۔ یونہی تعزیوں کا دفن جس طور پر ہوتاہے، نیت باطلہ پر مبنی اور تعظیم بدعت ہے اور تعزیہ پر جہل و حمق و بے معنیٰ ہے (فتاویٰ رضویہ جدید، جلد 24، ص 501، مطبوعہ رضا فائونڈیشن لاہور)
8۔ دشمنانِ صحابہ کی مجالس میں جانا:
اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ رافضیوں (دشمنانِ صحابہ) کی مجلس میں مسلمانوں کا جانا اور مرثیہ (نوحہ) سننا حرام ہے۔ ان کی نیاز کی چیز نہ لی جائے، ان کی نیاز، نیاز نہیں اور وہ غالباً نجاست سے خالی نہیں ہوتی۔ کم از کم ان کے ناپاک قلتین کا پانی ضرور ہوتا ہے اور وہ حاضری سخت ملعون ہے اور اس میں شرکت موجب لعنت۔ محرم الحرام میں سبز اور سیاہ کپڑے علامتِ سوگ ہیں اور سوگ حرام ہے۔ خصوصاً سیاہ (لباس) کا شعار رافضیاں لیام ہے (فتاویٰ رضویہ جدید، 756/23، مطبوعہ رضا فائونڈیشن لاہور)
صحابہ کرام علیہم الرضوان ستاروں کی مانند ہیں
رسول پاکﷺ نے فرمایا۔ میرے صحابہ ستاروں کی طرح ہیں جن کی بھی اقتدا کرو گے ہدایت پاجائو گے (مشکوٰۃ شریف، باب مناقب الصحابہ)
اہلبیت اطہار رضوان اﷲ علیہم اجمعین کشتی نوح کی مانند ہیں
حضرت ابو ذر رضی اﷲ عنہ نے کعبہ شریف کے دروازے کو پکڑے ہوئے فرمایا کہ میں نے رسول پاکﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا، خبردار! بے شک میرے اہل بیت تم میں اس طرح ہیں، جس طرح حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی تھی جو اس میں سوار ہوگیا ، وہ نجات پاگیا اور (کفر کی وجہ سے) پیچھے ہٹارہا، وہ ہلاک ہوگیا (رواہ احمد، مشکوٰۃ شریف، باب مناقب الصحابہ)
ان احادیث میں صحابہ کرام علیہم الرضوان کو ستاروں کی مانند اور اہلبیت اطہار کو کشتی نوح کی مانند فرمایا۔ گویا منزل پر پہنچنے کے لئے اہلبیت اطہار کی محبت کی کشتی میں سوار ہوناضروری ہے اور منزل کے حصول کے لئے ستاروں سے رہنمائی لینا بھی ضروری ہے لہذا دونوں کی محبت سے اپنے دل کو لبریز رکھنا چاہئے کیونکہ اہلبیت سے محبت کا دعویٰ کرکے صحابہ کرام علیہم الرضوان سے عداوت رکھنا یہ بھی گمراہیت ہے اور فقط صحابہ کرام علیہم الرضوان سے محبت کا دعویٰ کرکے اہلبیت اطہار رضوان اﷲ علیہم اجمعین سے عداوت رکھنا یہ بھی گمراہیت ہے۔
صحابہ کرام علیہم الرضوان کو گالیاں مت دو
حدیث شریف= رسول اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا۔ جب تم ان لوگوں کو دیکھو جو میرے صحابہ کرام علیہم الرضوان کو برا بھلا کہتے ہیں تو کہو تمہاری شرارت پر اﷲ تعالیٰ کی لعنت ہو۔ (ترمذی، جلد دوم، حدیث 1800، ص 763، مطبوعہ فرید بک لاہور)
٭ معلوم ہوا کہ صحابہ کرام علیہم الرضوان سیدنا صدیق اکبر، سیدنا فاروق اعظم، سیدنا عثمان غنی، حضرت امیر معاویہ، حضرت خالد، حضرت ابو ہریرہ، سیدہ عائشہ رضوان اﷲ علیہم اجمعین کو گالیاں دینے والوں کی صحبت و مجالس سے بچنا چاہئے کیونکہ وہ لعنت کے مرتکب ہیں۔
انبیاء و مرسلین کے بعد تمام مخلوقات انسان، جنات اور ملائکہ سے افضل حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ ہیں پھر عمر فاروق پھر عثمان پھر حضرت علی رضی اﷲ عنہم ہیں جو شخص حضرت علی رضی اﷲ عنہ کو حضرت ابوبکر صدیق یا عمر فاروق رضی اﷲ عنہما سے افضل بتائے، گمراہ بدمذہب ہے
(بہار شریعت حصہ اول)
٭ ماتم کی ممانعت
حدیث شریف= نبی پاک ﷺنے فرمایا جو مصیبت کے وقت رخساروں کوپیٹے اور گریبان پھاڑے اور جاہلیت جیسے پکار کرے، وہ ہم میں سے نہیں ہے (بخاری، جلد دوم، کتاب المناقب، رقم الحدیث738، ص 365، مطبوعہ شبیر برادرزلاہور)
معلوم ہوا کہ مصیبت اور رنج والم کے وقت نوحہ کرنا، گال پیٹنا، سینہ کوبی کرنا، گریبان چاک کرنا اور آہ و بکا کرنا شرعا ممنوع ہے۔
٭ سوگ (غم) اسلام میں صرف تین دن ہے
حدیث شریف= ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم کسی وفات یافتہ پر تین روز کے بعد غم نہ منائیں مگر شوہر پر چار ماہ دس دن تک بیوی غم منائے گی (بخاری شریف، جلد اول، ص 804)
مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ بسوں، ویگنوں، پان کی کیبنوں، موٹر سائیکلوں اور اپنی سبیلوں میں ماتم، نوحہ اور مرثیہ کی کیسٹیں نہ بجائیں اور اپنے گھروں اور مکانوں کی چھتوں پر کالے جھنڈے وغیرہ لگانا ناجائز اور گناہ ہے۔
یزید کی مذمت میں احادیث
حدیث شریف= حضرت عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ سرور کائناتﷺ نے فرمایا کہ میری امت کا معاملہ عدل و انصاف پر قائم رہے گا، یہاں تک کہ رخنہ اندازی کرنے والا شخص بنو امیہ سے ہوگا اور نام اس کا یزید ہوگا (مجمع الزوائد، جلد 5، ص 241، لسان المیزان جلد 6، ص 294، تاریخ الخلفاء ص 142)
حدیث شریف= محدث رویانی نے اپنی مسند میں حضرت ابو درداء رضی اﷲ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول پاکﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میرے طریقے کو بدلنے والا سب سے پہلا شخص بنو امیہ میں سے ہوگا اور اس کا نام یزید ہوگا۔ (تاریخ الخلفاء ص 142، صواعق المحرقہ لابن حجر مکی علیہ الرحمہ، ص 219)
٭ امام حجر عسقلانی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اﷲ عنہ کے سامنے ایک شخص نے یزید کو امیر المومنین کہا۔ آپ نے اس کو بیس کوڑے مارے (تہذیب التہذیب، جلد 11، ص 361)
امام ذہبی، امام ملا علی قاری، شاہ عبدالحق محدث دہلوی رحمہم اﷲ سمیت علمائے امت نے یزید کو ظالم، جابر، فاسق، شرابی، بے نمازی اور امام حسین رضی اﷲ عنہ کا قاتل لکھا ہے۔
مسلمانوں کو چاہئے کہ محرم الحرام میں خرافات سے بچیں۔ 9 اور 10 محرم الحرام کا روزہ رکھیں، شہدائے کربلا کی یاد میں اجتماعات منعقد کریں، سبیلیں لگائیں، دودھ اور شربت پلائیں، نذرونیاز کریں، یہ کام جائز ہیں۔
ایصال ثواب (نیاز) بزرگوں کی طرف منسوب کرنا
حدیث شریف= حضرت سعد بن عبادہ رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے کہ تاجدار کائناتﷺ کی خدمت میں عرض کیا۔ یارسول اﷲﷺ! میری والدہ فوت ہوگئی ہے۔ کیا میں ان کی طرف سے کچھ خیرات اور صدقہ کروں۔ آپﷺ نے فرمایا! ہاں کیجئے۔ حضرت سعد بن عبادہ رضی اﷲ عنہ نے دریافت فرمایا۔ ثواب کے لحاظ سے کون سا صدقہ افضل ہے؟ آپﷺ نے فرمایا ’’پانی پلانا‘‘ تو ابھی تک مدینہ منورہ میں حضرت سعد رضی اﷲ عنہ ہی کی سبیل ہے (نسائی جلد دوم، حدیث 3698، ص 577، مطبوعہ فرید بک لاہور)
٭ صاحب تفسیر خازن و مدارک فرماتے ہیں کہ اگر فوت شدہ کا نام پانی پر آنا اس پانی کے حرام ہونے کا سبب بنتا تو حضرت سعد رضی اﷲ عنہ اس کنویں پر اُمّ سعد کا نام نہ آنے دیتے، مااہل بہ لغیر اﷲ‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ بوقت ذبح جانور پر غیر اﷲ کا نام نہ آئے، جان کا نکالنا خالق ہی کے نام پر ہو (تفسیر خازن و مدارک جلد اول، ص 103)
٭ حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی علیہ الرحمہ تفسیر عزیزی جلد اول ص 39 پر فرماتے ہیں۔ اگر مالیدہ اور شیرینی کسی بزرگ کی فاتحہ کے لئے ایصال ثواب کی نیت سے پکا کر کھلا دے تو جائز ہے، کوئی مضائقہ نہیں۔ مزید صفحہ نمبر 71 پر فرماتے ہیں۔ جس کھانے پر حضرات امامین حسنین کی نیاز کریں، اس پر قل اور فاتحہ اور درود پاک باعث برکت ہے اور اس کا کھانا بہت اچھا ہے۔
عاشورہ کے دن اچھے کام
عاشورہ کے دن اچھی طرح غسل کریں، اچھے کپڑے پہنیں، خوشبو لگائیں، تیل لگائیں، سرمہ لگائیں، ناخن ترشوائیں، روزہ رکھیں، بیمار کی عیادت کریں، صدقہ و خیرات کریں اور مرحومین کو ایصال ثواب کریں۔