بسم اﷲ الرحمن الرحیم
الحمد ﷲ والصلوٰۃ والسلام علی حبیب اﷲ وعلیٰ الہ واصحابہ اجمعین
سیدنا امام حسین رضی اﷲ عنہ نے اب تلوار کیوں اٹھائی اور پہلے کیوں نہ اٹھائی تھی؟
سیدنا امام حسین رضی اﷲ عنہ نے تمام خلفاء راشدین کے دور میں حتی کہ حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ کے زمانے تک کسی حکومت کے خلاف تلوار نہیں اٹھائی بلکہ اطاعت گزاری کو اختیار کئے رکھا۔ حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ کے دور حکومت میں سیدنا امام حسن اور سیدنا امام حسین رضی اﷲ عنہا دونوں حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ کے پاس شام میں آیا جایا کرتے تھے اور حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ ان دونوں شہزادوں کابہت احترام فرماتے تھے۔ ان کی خدمت میں بہت سے عطیات اوروظائف پیش کرتے تھے اور دونوںشہزادے انہیں بخوشی قبول فرماتے تھے (البدایہ والنہایہ، جلد 8، ص 158)
حضرت داتا صاحب علیہ الرحمہ لکھتے ہیں کہ ایک دن حضرت سیدنا امام حسین رضی اﷲ عنہ کے پاس ایک غریب آدمی نے آکر خیرات مانگی۔ آپ نے فرمایا بیٹھ جائو ہمارا وظیفہ آنے والا ہے، جیسے ہی وظیفہ پہنچ جائے گا، آپ کو دے دیا جائے گا۔ تھوڑی دیر میں حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ کی طرف سے ایک ایک ہزار دینار کی پانچ تھیلیاں پہنچ گئیں۔ تھیلیاں پہنچانے والوں نے عرض کیا کہ حضرت امیر معاویہ نے معذرت کی ہے کہ یہ تھوڑی سی رقم ہے اسے قبول فرمائیں۔ سیدنا امام حسین رضی اﷲ عنہ نے ساری رقم اس غریب آدمی کے حوالے کردی اور اس سے معذرت چاہی (کشف المحجوب، ص 77)
حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ نے یزید کو اپنا ولی عہد مقرر کیا تھا یا نہیں؟ اس کے بارے میںدو قول موجود ہیں۔ پہل قول یہ ہے کہ آپ نے اسے ولی عہد مقرر نہیں کیا بلکہ اس نے خود بخود حکومت سنبھال لی تھی۔ یہ بات علامہ ابوالشکور سالمی رحمت اﷲ علیہ (متوفی پانچویں صدی) نے اپنی مایہ ناز کتاب التمہیدکے صفحہ 169 پر بیان فرمائی ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یزید کو ولی عہد مقرر کرنے کے لئے حضرت امیر معاویہ نے مختلف اکابر سے مشورہ لیا تھا۔ کچھ لوگ اس تجویز سے متفق ہوگئے جبکہ حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر، حضرت عبداﷲ ابن عباس، حضرت عبداﷲ بن عمر، حضرت عبداﷲ بن زبیر اور حضرت امام حسین رضی اﷲ عنہم اس بات سے متفق نہیں تھے۔ یہ سب باتیں شیعہ کتاب (تاریخ یعقوبی جلد 2، ص 229) پر اور اہل سنت کی کتاب (البدایہ والنہایہ جلد8، ص 158) پر درج ہیں۔ نیز مورخین نے لکھا ہے کہ حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ نے یزید سے کہا تھا کہ امام حسین رضی اﷲ عنہ کے ساتھ اچھا رویہ اختیار رکھنا فصل رحمہ وارفق بہ (البدایہ والنہایہ جلد8 ص 169 اور شیعہ کی کتاب جلاء العیون ص 388 فصل دوازدہم)
حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ ایک باپ ہونے کی حیثیت سے یزید کے کرتوتوں سے آگاہ نہیں تھے۔ اور اگر کوئی چھوٹی موٹی خرابی آپ کے علم میں تھی بھی تو آپ نے یہ سوچ کر یزید کو اپنا ولی عہد مقرر کردیا کہ جب ذمہ داری سر پر آئے گی تو انسان بن جائے گا۔ مگر یزید نے ان کی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ کے زمانے میں ہی عراق کے شیعہ لوگوں نے سیدنا امام حسین رضی اﷲ عنہ کو حضرت امیر معاویہ کے خلاف اکسایا تھا مگر آپ رضی اﷲ عنہ نے شیعہ کی اس بات کوقبول نہ فرمایا اور صبر سے کام لینے کا حکم دیا
ایشان را مجاب ننمود و بصیرامر کرد (شیعہ کی اپنی کتاب جلاء العیون ص 348)
یہی بات شیعہ کے مشہور عالم شیخ مفید نے اپنی کتاب الارشاد کے صفحہ 182 پر عربی زبان میں لکھی ہے۔
فاتبع علیہم وذکر ان بینہ و بین معاویۃ عہدا و عقدا لایجوز لہ نقضہ حتی تقضی المدۃ (الارشاد 182)
غورفرمایئے! آخر کیا بات ہے کہ سن60 ہجری تک سیدنا امام حسین رضی اﷲ عنہ نے تمام خلفاء علیہم الرضوان کی تابعداری کو قبول کئے رکھا مگر سن 61ھ میں جب یزید کی باری آئی تو آپ رضی اﷲ عنہ نے تلوار کھینچ لی؟
حضرت داتاگنج بخش سید علی ہجویری علیہ الرحمہ اپنی مایہ ناز کتاب کشف المحجوب میں فرماتے ہیں کہ ’’تاحق ظاہر بود مرحق را متابع بود و چوں مفقود شد شمشیر برکشید‘‘ یعنی جب تک حق ظاہر تھا امام حسین رضی اﷲ عنہ حق کے تابع رہے۔ مگر یزید کے دور میں حق رخصت ہوگیا تو آپ رضی اﷲ عنہ نے تلوار کھینچ لی (کشف المحجوب ص 76)
سیدنا امام حسین رضی اﷲ عنہ کا عمل اس بات کا زندہ ثبوت ہے کہ چاروں خلفائے راشدین اور حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ میںسے ہر ایک کے ساتھ امام عالی مقام متفق تھے۔ اسی لئے ان کے تابع رہے اور ان سے وظیفہ بھی قبول فرماتے رہے۔ مگر یزید سے متفق نہ تھے اسی لئے اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔
کوفیوں کی طرف سے خطوط
کوفہ کے شیعوں نے حضرت امام حسینرضی اﷲ عنہ کی خدمت میں بے شمار خطوط لکھے اور عرض کیا کہ آپ کوفہ میں تشریف لائیں آپ ہی ہمارے امیر ہیں۔ ہم نے یہاں کے حکمرانوں کی اطاعت چھوڑ رکھی ہے اور کوفہ کے والی نعمان بن بشیرکے پیچھے جمعہ تک ادا نہیں کرتے (الاصابہ جلد 1، ص 332، تحت حسین بن علی، شیعہ کی کتاب جلاء العیون، ص 356)
فبعث اہل العراق الی الحسین الرسل والکتب یدعونہ الیہم (البدایہ والنہایہ جلد 8 ص 165)
جلاء العیون میں واضح طور پر لکھا ہے کہ وسائر شیعان اواز مومنان و مسلمانان اہل کوفہ یعنی یہ خط کوفہ کے تمام حسینی شیعوں کی طرف سے ہے (جلاء العیون ص356)
یزید نے حکومت سنبھالتے ہی اہل مدینہ سے بیعت کامطالبہ کیا۔ خصوصا سیدنا امام حسین رضی اﷲ عنہ اور سیدنا صدیق اکبر رضی اﷲ عنہ کے نواسے حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ سے بیعت لینے پر زور دیا تاکہ ان دونوں معتبر ہستیوں کے بیعت کرلینے کے بعد باقی اہل مدینہ کے لئے بیعت کا راستہ آسان ہوجائے۔ مگر ان دونوںمقدس ہستیوں نے بیعت نہ کی بلکہ راتوں رات مدینہ طیبہ سے نکل کر مکہ شریف چلے گئے۔
فبعث الی الحسین وابن الزبیر فی اللیل ودعاہما الی بیعۃ یزید فقالا نصبح و ننظر فیما یعمل الناس ووثبا فخرجا (سیر اعلام النبلاء للذہبی جلد 3، ص 198)
صحابہ کرام علیہم الرضوان سے مشورہ
کوفہ کے شیعوں کی طرف سے اس قدر بے تحاشا خطوط آنے کے بعد امام عالی مقام سیدنا حسین رضی اﷲ عنہ جیسی ذمہ دار ہستی کے پاس لبیک کہنے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ مگر پھر بھی آپ رضی اﷲ عنہ نے صحابہ کرام اور اکابر امت علیہم الرضوان سے مشورہ فرمایا اور انہیں کوفیوں کے خطوط کے انبار دکھائے۔
اس کے باوجود صحابہ کرام علیہم الرضوان بلکہ بعض اہل بیت اطہار نے بھی آپ رضی اﷲ عنہ کو کوفہ جانے سے منع فرمایا۔ منع کرنے والوں میں حضرت عبداﷲ بن عمر،حضرت عبداﷲ بن عباس، امام عالی مقام کے بھائی حضرت محمد بن حنفیہ، حضرت جابر، حضرت ابو سعید اور حضرت ابوبکر بن عبدالرحمن بن حارث علیہم الرضوان جیسی ہستیاں شامل تھیں۔ ان بزرگوں کے بیانات سیر اعلام النبلاء جلد 2 ص 197، البدایہ والنہایہ جلد 8 ص 72 اور المصنف لابن ابی شیبہ جلد 15 ص 96-97 وغیرہ پر موجود ہیں۔ مثلا نبی کریمﷺ کے سگے چچا زاد بھائی اور سیدنا امام حسین رضی اﷲ عنہ کے چچا حضرت عبداﷲ بن عباس کا یہ فرمان ملاحظہ فرمایئے۔ آپ رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں۔
جآء نی حسین یستشیر نی فی الخروج الی ماہہنا یعنی العراق فقلت لولا ان یزروابی وبک لشبئت یدی فی شعرک الی این تخرج؟ الی قوم قتلوا اباک وطعنوا اخاک؟
یعنی میرے پاس حسین آئے اور عراق جانے کے بارے میںمجھ سے مشورہ لیا۔ میں نے کہا کہ میرا بس چلے تو میں آپ کو سر کے بالوں سے پکڑ کر عراق جانے سے روک دوں۔ آپ کہاں جانا چاہتے ہیں؟اس قوم کی طرف جس نے آپ کے والد ماجد کو شہید کیا اور بھائی کو نیزہ مارا؟ (المصنف جلد 15 ص 96-97، البدایہ والنہایہ جلد 8، ص 166)
سیدنا امام حسین رضی اﷲ عنہ کے بھائی محمد بن حنفیہ رضی اﷲ عنہ نے مشورہ دیا کہ آپ کا عراق جانا درست نہیں مگر امام حسین رضی اﷲ عنہ نے ان کا مشورہ قبول نہ فرمایا۔ اس کے بعد محمد بن حنفیہ رضی اﷲ عنہ نے اپنی اولاد کو ساتھ جانے سے روک دیا جس کی وجہ سے سیدنا امام حسین رضی اﷲ عنہ اپنے بھائی محمد بن حنفیہ سے ناراض ہوگئے (البدایہ والنہایہ، جلد 8، ص 172)
شرعی مسائل
ظالم حکمران کے خلاف کارروائی کرنا شرعا فرض نہیں بلکہ حق واضح کرنے کے بعد اس سے جان چھڑا کر خاموش ہوجانے کی اجازت ہے۔ اس اجازت کو شریعت کی زبان میں رخصت کہا جاتا ہے۔ اس کے برعکس اگر کوئی بلند ہمت اور بلند رتبہ شخصیت ظالم حکمران کے خلاف ڈٹ جائے تو شریعت اس بات کی بھی اجازت دیتی ہے۔ ظالموں کے خلاف ڈٹ جانے کی اس اجازت کو شریعت کی زبان میں عزیمت کہا جاتا ہے۔ عزیمت کا معنی ہے ’’مضبوط اور پختہ ارادہ‘‘
صحابہ کرام علیہم الرضوان نے امام عالی مقام رضی اﷲ عنہ کو عراق جانے سے منع فرمایا۔ وہ رخصت پر عمل کرنے کو ترجیح دے رہے تھے۔ اس کے برعکس سیدنا امام حسین رضی اﷲ عنہ نے عراق جانا پسند فرمایا۔ آپ اپنے مقام اور مرتبے کے لحاظ سے عزیمت کو ترجیح دے رہے تھے۔ دونوں طرف کے فیصلے میں کوئی عیب نہیں۔ یہ بھی حق ہے اور وہ بھی حق ہے۔ اجتہادی مسائل میں اختلاف ہوجانا کوئی بڑی بات نہیں۔
شیعہ حضرات صحابہ کرام علیہم الرضوان پر تنقید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ انہوں نے امام پاک رضی اﷲ عنہ کا ساتھ کیوں نہ دیا؟ اس کے برعکس خارجی حضرات امام حسین رضی اﷲ عنہ پر تنقید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ منع کرنے کے باوجود باز کیوں نہ آئے۔ الحمدﷲ ہم نے ثابت کردیا کہ اہل تشیع اور خارجی دونوں بے ادب اور گستاخ ہیں اور امام حسین اور صحابہ کرام علیہم الرضوان دونوں حق پر ہیں۔
دوسری بات یہ ہے کہ سیدنا امام حسین رضی اﷲ عنہ کو معلوم تھا کہ خواہ کوفہ جائیں یا مکہ شریف میں رہیں۔ جام شہادت نوش کرنا ہمارا مقدر ہے۔ مگر آپ رضی اﷲ عنہ نے مکہ شریف میں شہید ہوکر یزید کو مکہ کی بے حرمتی کرنے کا موقع نہ دیا بلکہ کوفہ کی طرف بڑھ کر شہادت کو گلے لگایا۔ چنانچہ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ امام پاک رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:
فقال لان اقتل بمکان کذا و کذا احب الی من ان اقتل بمکۃ وتسحل بی
اس سے زیادہ بہتر ہے کہ میں مکہ میں قتل کیا جائوں اور مکہ کی بے حرمتی ہو (البدایہ وا لنہایہ جلد 8، ص 172)
تیسری بات یہ ہے کہ کوفہ کے شیعوں نے جس قدر خطوط لکھے تھے۔ اگر سیدنا امام حسین رضی اﷲ عنہ اب بھی ظالم حکمران کے خلاف عوامی دعوت کوقبول نہ فرماتے تو کوفی لوگ قیامت کے دن امام پاک کے خلاف بیان بازی کرسکتے تھے۔ لہذا آپ رضی اﷲ عنہ نے اپنی ذمہ داری نبھانا ضروری سمجھا۔
چوتھی بات یہ ہے کہ مکمل سوجھ بوجھ اور مشورے کے بعد جب آپ نے ایک عزم اور ارادہ کرلیا تو اپنے عزم پر ڈٹ گئے۔ اﷲ پر توکل کرنے والوںکا یہی طریقہ ہوا کرتا ہے۔ اﷲ کریم فرماتا ہے:
وشاورہم فی الامر فاذا عزمت فتوکل علی اﷲ
یعنی ان سے مشورہ کریں اور جب کوئی عزم کرلیں تو اﷲ پر توکل کرتے ہوئے ڈٹ جائیں (آل عمران 159:)
پانچویں بات یہ ہے کہ صحابہ کرام علیہم الرضوان کے مشورے کو آپ رضی اﷲ عنہ نے مکمل طور پر نہیںپھینکا بلکہ پہلے احتیاطاً اپنے چچا زاد بھائی حضرت مسلم بن عقیل رضی اﷲ عنہ کو کوفہ بھیجا تاکہ اگر کوفہ والے حضرت مسلم رضی اﷲ عنہ سے بے وفائی کریں تو ان کا شعری طورپر منہ بند ہوجائے اور اگر وفا کریںتو صحابہ کرام علیہم الرضوان کو مطمئن کیا جاسکے۔
حضرت مسلم بن عقیل رضی اﷲ عنہ کی روانگی
سیدنا امام حسین رضی اﷲ عنہ نے کوفہ کے حالات کا جائزہ لے کر اطلاع دینے کے لئے اپنے چچا زاد بھائی اور بہنوئی حضرت مسلم بن عقیل رضی اﷲ عنہ کو روانہ فرمایا۔ جب وہ کوفہ پہنچے تو تقریبا بارہ ہزار کوفیوں نے آپ کے ہاتھ مبارک پر بیعت کرلی (الاصابہ جلد 1، ص 332)
آپ نے حالات سے مطمئن ہوکر سیدنا امام حسین رضی اﷲ عنہ کو اطلاع دی کہ کوفہ کے حالات ہمارے لئے سازگار ہیں۔ آپ جلد تشریف لے آئیں۔ اس وقت کوفہ کے والی نعمان بن بشیر تھے۔ جب یہ اطلاع سیدنا امام حسین رضی اﷲ عنہ کو پہنچ گئی تو کوفہ میں حکومت کے حامیوں نے کوفہ کے والی تک حضرت مسلم بن عقیل رضی اﷲ عنہ کے خلاف شکایت پہنچائی مگر کوفہ کے والی نعمان بن بشیر نے نرمی سے کام لیا اور حضرت مسلم کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی۔ اس پر حکومت کے حامیوں نے یزید کو اس صورتحال سے آگاہ کردیا۔ یزید نے فورا نعمان بن بشیر کو برطرف کردیا اور اس کی جگہ بصرہ کے والی عبیداﷲ بن زیاد کو کوفہ کی ذمہ داری بھی سونپ دی۔ حضرت مسلم بن عقیل نے حضرت ہانی بن عروہ کے گھر میں قیام کر رکھا تھا۔ تمام کوفیوں نے حکومت کے خوف سے حضرت مسلم بن عقیل کا ساتھ چھوڑ دیا اور ابن زیاد نے حضرت مسلم اور ہانی بن عروہ رضی اﷲ عنہما کو شہید کردیا (طبقات ابن سعد جلد 4، ص29 تحت عقیل بن ابی طالب) ادھر سیدنا امام حسین رضی اﷲ عنہ کواس واقعہ کی کوئی خبر نہ تھی۔
سیدنا امام حسین رضی اﷲ عنہ کی روانگی
حالات کو سازگار سمجھتے ہوئے حضرت سیدنا امام حسین رضی اﷲ عنہ تقریبا 80 افراد کا قافلہ لے کر کوفہ کی طرف روانہ ہوئے۔یہ واقعہ 3 ذوالحج 60ھ کا ہے۔ ادھر اسی روز حضرت مسلم بن عقیل رضی اﷲ عنہ کو شہید کردیا گیا تھا۔
کوفہ جاتے وقت راستے میں امام حسینرضی اﷲ عنہ کو حضرت مسلم بن عقیل کی شہادت کی افسوسناک خبر ملی۔اسی راستے میںمختلف لوگوں سے ملاقات بھی ہوئی۔ ان میںبشیر بن غالب، عبیداﷲ بن مطیع اور اہل بیت کے مداح اور مشہور شاعر فرزدق خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ ان سب نے سیدنا امام حسین رضی اﷲ عنہ کو آگے جانے سے منع فرمایا۔ فرزدق نے کہا کہ کوفہ والوں کے دل آپ کے ساتھ ہیں مگر ان کی تلواریں یزید کے ساتھ ہیں۔
یہ حالات سننے کے بعد امام حسین رضی اﷲ عنہ کے ساتھیوں میں مختلف خیالات پیدا ہوگئے۔ ایک مرتبہ آپ رضی اﷲ عنہ نے بھی واپسی کا ارادہ ظاہر فرمایا۔ لیکن حضرت مسلم بن عقیل رضی اﷲ عنہ کے بھائی نے فرمایا کہ ہم ہرگز واپس نہیں جائیں گے۔ طویل گفتگو کے بعد یہی طے پایا کہ کوفہ جانا چاہئے۔ جب قافلہ کوفہ کے قریب پہنچا تو حر بن یزید سے ملاقات ہوئی۔ حر کے ساتھ ایک ہزار فوجی سوار تھے۔ اس نے امام حسین رضی اﷲ عنہ سے عرض کیا کہ میں آپ کا خیر خواہ اور وفادار ہوں، مگر سرکاری ملازمت میری مجبوری ہے۔مجھے ابن زیاد نے آپ کو گرفتار کرکے اس کے پاس لانے کا حکم دیاہے۔ میں آپ کے ادب و احترام کی وجہ سے آپ کو گرفتار نہیں کرتا۔ لیکن آپ بھی میرے حال پر مہربانی فرمائیں اور کوفہ میں داخل نہ ہوں۔ مجبوراً سیدنا امام حسین رضی اﷲ عنہ کو کوفہ میں داخل ہونے کی بجائے قریب ہی میدان کربلا میں پڑائو ڈالنا پڑا۔
عبیداﷲ بن زیاد نے اہل بیت اطہار علی جدہم وعلیہم الصلوٰۃ والسلام سے جنگ کرنے کے لئے عمرو بن سعد کو ایک ہزار مسلح گھڑ سواروں کے لشکر کا امیر بناکربھیجا۔ ابن زیاد نے بعد میں مزید کمک بھی بھیجی اور اس کے لشکر کی تعداد تقریبا 22 ہزار تک پہنچ گئی۔
گنتی کے مقدس افراد کا مقابلہ کرنے کے لئے اس لاتعداد لشکر کا پہنچ جانا ان لشکریوں کی بزدلی اور اہل بیت اطہار علیہم الرضوان کی عظمت و شجاعت کا زندہ ثبوت ہے۔ پھر اس پر بھی بس نہیں۔ کوفی فوج کو اس قدر خوف تھا کہ اتنی کثرت کے باوجود باقاعدہ جنگی تدبیریں اور حکمت عملیاں اختیار کی گئیں۔ تین دن تک پانی بند کردیا گیا۔
سیدنا امام حسین رضی اﷲ عنہ کسی صورت بھی جنگ نہیں کرنا چاہتے تھے اور خصوصا تلوار چلانے میں پہل کرنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ لیکن جو حالات نظر آرہے تھے ان حالات میں مخالفین پر حجت قائم کرنے کی غرض سے آپ نے فرمایا۔ میری تین باتوں میں سے کوئی ایک بات تسلیم کرلو۔
1… مجھے مسلمانوں کے خلاف لڑنے کی بجائے اسلامی سرحدوں پر جاکر کفار کے خلاف جہاد کرنے دو۔
2… مجھے مدینہ شریف جانے دو۔
3… یا یزید سے میری ملاقات کرادو۔ تاکہ میں اس سے خود بات کرکے مصالحت کی صورت نکال سکوں
(الاصابہ جلد 1، ص 333، البدایہ والنہایہ جلد 8، ص 204)
عمرو بن سعد نے یہ باتیں ابن زیاد تک پہنچادیں مگر ابن زیاد نے ان میں سے ایک بات کو بھی قبول نہ کیا اور امام حسین رضی اﷲ عنہ سے بیعت کا مطالبہ کرتا رہا۔ امام حسین رضی اﷲ عنہ نے بیعت سے انکار فرمادیا جس پر کوفیوں نے جنگ چھیڑ دی۔
سیدنا امام حسین رضی اﷲ عنہ اور آپ کے ساتھی راتوں کو نمازیں پڑھتے، استغفار اور دعائیں کرتے اور اﷲ کی بارگاہ میںعاجزی پیش کرتے رہے تھے اور دشمنوں کے گھوڑے ان کے اردگرد گھومتے رہتے تھے (البدایہ والنہایہ جلد 8 ص 185)
دسویں محرم کو سیدنا امام حسین رضی اﷲ عنہ نے غسل فرمایا اور زبردست خوشبو لگائی اور بعض دوسرے ساتھیوں نے بھی غسل فرمایا (البدایہ والنہایہ جلد 8 ص 185)
جنگ شروع ہوئی۔ کربلا کے اردگرد کے مسلمانوں کو جب اس جنگ کی خبر ہوئی تو بہت سے لوگ سیدنا امام حسین رضی اﷲ عنہ کا ساتھ دینے کے لئے میدان میں آگئے اور امام پاک پر اپنی جانیں قربان کردیں۔ سیدنا حضرت حر بن یزید رضی اﷲ عنہ نے بھی یزیدی لشکر کو خیرباد کہہ دیا اور سیدنا امام حسین سے پہلے جام شہادت نوش فرمایا (البدایہ والنہایہ جلد 8 ص 188)
جنگ کے دوران جب ظہر کی نماز کا وقت آیا تو سیدنا امام حسین رضی اﷲ عنہ نے فرمایا کہ دشمنوں سے کہو جنگ روک دیں تاکہ ہم نماز ادا کرسکیں۔
دخل علیہم وقت الظہر فقال الحسین رضی اﷲ عنہ مروہم فلیکفوا عن القتال حتی نصلی
(البدایہ والنہایہ جلد 8 ص 190)
آپ رضی اﷲ عنہ نے اپنے ساتھیوں سمیت نماز خوف ادا فرمائی۔
سیدنا امام حسین رضی اﷲ عنہ کے سوتیلے بھائی اور مولا علی رضی اﷲ عنہ کے شہزادے حضرت ابوبکر بن علی، حضرت عمر بن علی، حضرت عثمان بن علی اور حضرت عباس بن علی علیہم الرضوان بھی باری باری شہادت سے سرفراز ہوئے۔ مولا علی رضی اﷲ عنہ کے ان تمام شہزادوں کے نام شیعوں کی اپنی کتاب جلاء العیون کے صفحہ 414 پر اور بہتر تارے کے صفحہ 111, 107, 98 پر موجود ہیں اور اہل سنت کی کتاب البدایہ والنہایہ جلد 8 صفحہ 197 وغیرہ پر بھی موجود ہیں۔ حضرت عبداﷲ (علی اصغر) جوشیر خوار بچے تھے۔ امام حسین رضی اﷲ عنہ خیمے کے دروازے پر انہیں اپنی گود میں لے کر بیٹھے۔ انہیں بوسے دینے، الوداع کہنے اور اپنے گھر والوں کو وصیت کرنے لگے۔ بنی اسد کے ایک ظالم شخص نے جس کا نام ابن موقد النار تھا، انہیں تیر مار دیا جو ان کی گردن مبارک میں آکر لگا اور ننھے شہزادے نے جام شہادت نوش کرلیا (البدایہ والنہایہ جلد 8، ص 194)
بالاخر سیدنا امام حسین رضی اﷲ عنہ نے کوفیوں کے لشکر کا تنہا مقابلہ فرمایا۔ اپنے کثیر التعداد بھائیوں، جگر کے ٹکڑوں اور ہمراہیوں کی شہادت کا منظر اپنی مبارک آنکھوں سے دیکھ چکنے کے باوجود سیدنا امام حسین صبر و استقامت کا پیکر تھے۔ ہمت و شجاعت کی وہ مثال قائم فرمائی کہ جس طرف بھی آپ کا گھوڑا بڑھتا تھا۔ آپ دشمنوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹتے چلے جاتے تھے۔ جب لاتعداد کوفیوں کوگھائل کرچکے تو کوفیوں نے سوچا کہ اس سے پہلے کہ یہ فرد واحد ہم ہزاروں کا خون کر ڈالے مل کر حملہ کرنا چاہئے۔ چنانچہ ان سب نے یک بارگی تیروں کی برسات کردی۔ سیدنا امام حسین رضی اﷲ عنہ نے جام شہادت نوش فرمایا اور آپ کا جسم اطہر گھوڑے کی پشت سے زمین پر آگیا۔ سنان بن عمرو، یا شاید خولی بن یزید، یا شاید شمر بن یزید، یاشاید ثمر بن ذی الجوش نے آگے بڑھ کرآپ رضی اﷲ عنہ کے سر مبارک کو تن سے جدا کردیا (البدایہ والنہایہ جلد 8، ص 195)
سیدنا امام حسین رضی اﷲ عنہ نے دس محرم 61ھ جمعہ کے دن شہادت پائی۔ آپ کی عمر شریف 56 سال 5 ماہ 5 دن تھی۔ کربلا میں سیدنا امام حسین رضی اﷲ عنہ کے 72 ساتھی شہید ہوئے جبکہ یزیدی فوج کے 88 افراد قتل ہوئے (البدایہ والنہایہ جلد 8، ص 197)
میدان کربلا سے بچ کر آنے والوں میں صرف ایک نوجوان حضرت سیدنا امام زین العابدین رضی اﷲ عنہ تھے جو طبیعت مبارک کی ناسازی کی وجہ سے جنگ میں شریک نہ ہوسکے تھے۔ باقی سب اہل بیت اطہار خواتین تھیں۔ جن میں حضرت زینب رضی اﷲ عنہاکا نام نامی اسم گرامی سرفہرست ہے۔ آپ سیدنا امام حسین رضی اﷲ عنہ کی سگی بہن تھیں۔