ایام تعطیل میں طلبہ کی دعوتی ذمہ داریاں

in Tahaffuz, November 2014, متفرقا ت, محمد قطب الدین رضا مصباحی

طالب علمی کا زمانہ
عموما زندگی کے جس حصے میں علم کی تحصیل ہوتی ہے، وہ نسبتاً پرآشوب دور ہوتا ہے، نئی نئی خواہشات ابھرتی ہیں، آرزوئیں جوان ہوتی ہیں اور تمنائیں انگڑائیاں لیتی ہیں۔ ان ساری خواہشات اور تمنائوں کی زد سے محفوظ رہ کر یک سوئی کے ساتھ تحصیل علم میں مصروف رہنا بہت بڑی کامیابی ہے۔ کسی موڑ پر اگر قدم بہکا تو وہ ناکامی تک پہنچا دیتا ہے۔ ایک طالب علم کی ذمہ داری ہے کہ اس کا اٹھنے والا ہر قدم مقصد کی تحصیل میں ہو۔
بالعموم آج مدارس کے حالات ایسے ہوگئے ہیں کہ طلبہ کو عہد طالب علمی میںاپنے فرائض سے دل چسپی نہیں ہوتی۔وہ ایک غیر ذمہ دارانہ زندگی گزارنے کے عادی ہوجاتے ہیں۔ گزرنے والے اوقات کی قدروقیمت کا احساس نہیں ہوتا۔ سودوزیاں کا امتیاز کئے بغیر وہ اپنے لمحات کو استعمال کرتے ہیں، بے جا لہو و لعب اور غیر مفید بحث و مباحثہ ان کے روزانہ معمولات کا ایک حصہ ہوتا ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ان کے اندربہت سی صلاحیتیں مخفی ہوتی ہیں۔ ان خفیہ صلاحیتوں کا اگر درست استعمال ہو تو وہ ایک زمانہ فتح کرسکتے ہیں۔ زندگی کے ہر موڑ پروہ ایک انقلاب برپا کرسکتے ہیں۔افسوس یہ ہے کہ وہ اپنی غفلت کی بنیاد پر قدرتی صلاحیتوں کو ضائع کردیتے ہیں۔ ان کی پیدائشی قوتیںاور فطری صلاحیتیں دبی کی دبی رہ جاتی ہیں۔ مخفی صلاحیتوں کوابھرنے کا موقع نہیں ملتا۔ اس میںشک نہیں کہ آنے والی زندگی کا دارومدار اسی زندگی پر ہوتا ہے، محنت و جفاکشی کے ساتھ مقصد کی تحصیل میں منہمک ہوکر اگر یہ زندگی گزار لی گئی تو مستقبل میں کامیابی کی راہیں ہموار اور روشن ہوجاتی ہیں۔ اور اگر اس عہد میںغفلت، بے توجہی اور لاپرواہی کا مظاہرہ کیا گیا تو مستقبل کی بہاریں، ان سے روٹھ جاتی ہیں اور حیات کی رعنائیاں منہ موڑ لیتی ہیں۔
تعطیل کے ایام اور ان کی مصروفیات
ہر طالب علم کویہ فکرہونی چاہئے کہ اس کا کوئی لمحہ ضائع نہ ہو۔ اس کی ہر گھڑی کسی مفید کام ہی میں استعمال ہو۔ ہر کام کو اگر پابندی کے ساتھ اس کے وقت میںانجام دیا جائے تو فرصت ہی نہ ملے، جو تضیع اوقات کی نوبت آئے، خود ہر طالب علم کے ذمہ درسی کتابیں اتنی ہوتی ہیں کہ ان کا مطالعہ کیا جائے تو شاید معمولی وقت بچ سکے۔البتہ عصر سے مغرب تک روزانہ ہر طالب علم کے لئے فرصت کا وقت ہوتا ہے، جو ضروریات کی تکمیل میں استعمال ہوتا ہے۔اگر کوئی ضرورت نہ ہو تو اسے بھی مفید طریقے سے صرف کرنے کی کوشش ہونی چاہئے۔ جب تفریح کے لئے نکلیں تو لایعنی گفتگو کی بجائے کسی علمی اور اصلاحی پہلو پر تبادلہ خیال کریں، مثبت اور منفی ہر پہلو پر ایک دوسرے کی رائے حاصل کریں اور اس کا تجزیہ کریں۔ اس طرح ایک اچھی خاصی ذہنی ورزش ہوگی اور سوچنے سمجھنے کا شعور پیدا ہوگا۔ ہوسکے تو طلبہ مختلف ٹولیوں میں بٹ کر مختلف محلوں میں جائیں اور لوگوں کو نیک اعمال اور پاکیزہ سیرت و کردار کی دعوت دیں۔ ان کے محاسن اور اچھے اثرات کاذکر کرکے ان کی طرف راغب دلائیں
ہفتہ میں ڈیڑھ دن چھٹی کے ملتے ہیں، نصف جمعرات اور جمعہ کا پورا دن۔ آج عام طور پر ان دنوں کے تعلق سے طلبہ کا یہ تصور ہوتا ہے کہ یہ کھیل کود، ہنسی مذاق اور سونے کے دن ہیں۔ یہ شیطانی خیالات اور وسوسے ہیں جو سوئے اتفاق سے ہمارے اکثر طلبہ کے ذہن وفکر میں سرایت کرگئے ہیں۔ حضور حافظ ملت قدس سرہ طلبہ سے جب خطاب فرماتے تو وقت کی قدر وقیمت پر بھرپور روشنی ڈالتے اور مولانابدر القادری مصباحی کے بقول آپ ارشاد فرماتے کہ جمعرات اور جمعہ کی چھٹیاں ہفتہ بھر میں پڑھے ہوئے اسباق دیکھنے کے لئے ہوتی ہیں۔ (حیات حافظ ملت ازِ مولانا بدر القادری مصباحی، ص 300، المجمع الاسلامی)
ان دنوں کو بھی مختلف حصوں میں تقسیم کرلینا چاہئے۔ کچھ وقت ضروریات کی تکمیل کے لئے، کچھ وقت ہفتہ بھر کے اسباق کے اعادہ کے لئے اور کچھ وقت دعوت و تبلیغ کے لئے بھی نکالا جائے جس میں مختلف گروپ بناکر قریبی مقامات کا دورہ ہو اور حالات اور موقع محل کے لحاظ سے لوگوں کی دینی تربیت کی جائے۔ اسلام کے عقائد ونظریات پیش کئے جائیں، روزمرہ پیش آنے والے امور اور مسائل و احکام سے روشناس کیا جائے۔ اسلامی تہذیب و تمدن کے قیام کی جتن کی جائے۔
موقع بہ موقع بزرگان دین کے اعراس کی مناسبت سے اور دوسرے مخصوص ایام میں تعطیلات ہوتی ہیں، ان مواقع پطر بزموں کا انعقاد کرکے لوگوں کو اپنے اسلاف کے نقوش حیات سے آشنا کرائیں، نیز ان کی زندگی میں پائے جانے والے دینی تصلب کو اجاگر کرکے اسے اپنانے کی تلقین کی جائے۔
بقرعید، محرم اور عید میلاد النبیﷺ کی تعطیل ان سب کی بہ نسبت کچھ لمبی ہوتی ہے۔ ان مواقع سے گھر جانے والے طلبہ کچھ مفید اور موثر کام اپنے علاقوں میں انجام دے سکتے ہیں۔
سال میں سب سے بڑی چھٹی شعبان اور رمضان کی ہوتی ہے جو تقریبا دو مہینوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ ان دنوں کو گھر پر گزارنے والے طلبہ تھوڑی تگ و دو کرکے بہت پائیدار، مضبوط اور مستحکم کارنامے انجام دے سکتے ہیں۔
اس سلسلے میںسب سے زیادہ چیز یہ ہے کہ ایک علاقے کے ان تمام طلبہ کا آپس میں ربط ہو جو کسی ادارہ میں زیر تعلیم ہوں۔ وہ تمام طلبہ اپنے گائوں کے حالات کا گہری نظر سے جائزہ لیں اور معاشرے میںپائی جانے والی خرافات، لوگوںکی بے راہ روی اور کوتاہیوںپر سنجیدگی کے ساتھ غور کریں پھر معاشرے کی اصلاح اور عقائد و اعمال کی درستگی کے لئے مختلف طریقہ تبلیغ کو بروئے کار لاکر مناسب اقدامات کئے جائیں۔ مندرجہ ذیل طریقے اس سلسلے میں نہایت مفید ثابت ہوں گے۔
1… ہفتہ کے دنوں کو مختلف مقامات کے لئے تقسیم کردیاجائے۔ پھر مقررہ دن اس مخصوص جگہ پر ایسی مجلس کا انعقاد ہو جس میںلوگوں کوزیادہ سے زیادہ معلومات فراہم کرنے کی کوشش کی جائے۔ وہاں کے حالات کے مطابق مختلف موضوعات کا انتخاب کرکے ان پر سنجیدہ خطابات کئے جائیں۔ عوام کے مابین مشہور غلط اعتقاد اور من گھڑت باتوں کی نشاندہی کرکے صحیح امور کی طرف رہنمائی کی جائے۔ اسلام کے عقائد و نظریات پیش کرکے عظمت اسلام و مسلم کو ان کے دلوں میں ثبت کیا جائے۔ نیز عصری حالات اور ان کے تقاضوں سے باخبر کیا جائے اور اجتماعی زندگی بہتر سے بہتر گزارنے کی طرف توجہ دلائی جائے۔
2… روزانہ کسی مخصوص مقام پر آدھا ایک گھنٹہ متعین کرکے تعلیم و تدریس کا سلسلہ قائم کیا جاسکتاہے۔ جس میں خاص طور پر عمر رسیدہ لوگوں کو موقع دیا جائے اور کم از کم ان کے اندر اتنا شعور پیدا کیا جائے کہ درست تلفظ کے ساتھ وہ قرآن کریم کی تلاوت کرسکیں۔ اس کا مستقل انتظام نہ ہونے کے سبب لوگ کسی کے پاس جاکر پڑھنے میں شرمندگی محسوس کرتے ہیں، مگر جب اس کا باضابطہ اہتمام ہونے لگے تو لوگ اس میں ضرور دلچسپی لیںگے اور شوق و ذوق کے ساتھ تحصیل علم میں حصہ لیں گے۔ اس طرح وہ فرائض و واجبات کی صحیح ادائیگی پر قادر ہوکر عنداﷲ مواخذہ سے محفوظ ہوںگے۔
3… اپنے علاقائی مدارس و مکاتب میں پہنچ کر وہاں کے ذمہ داروں سے تعلقات بحال کریں۔ وہاں کے نظام تعلیم اور نصاب تعلیم کا قریب سے جائزہ لیں، پھر معیاری، پختہ اور مستحکم تعلیم و تدریس کی راہیں تلاش کریں۔ ذمہ داران مدارس اور ارباب مکاتب کے سامنے باادب اپنے معروضات رکھیں، ان کو عملی شکل دینے میں ابھاریں اور خود بھی شریک کار ہوں۔ آج مدارس میں درس نظامی کی پختہ تعلیم کاانتظام کچھ مشکل ہے، کیونکہ وہاں جو اساتذہ موجود ہیں، وہ اس کے متحمل نہیں۔ایک زمانہ سے درسی کتابوں سے لاتعلق ہونے کی بنیاد پر ان کی صلاحیتیں زنگ آلود ہوچکی ہیں۔ایسی صورت میں ان سے درس نظامی کی پختہ تعلیم کی امیدرکھنا فضول ہے۔ البتہ ابتدائی تعلیم کو ہی پختہ بنانے کی طرف توجہ دی جائے تو یہ ضرور کارگر ہوگی۔
4… اسکول اور کالج کے طلبہ کے لئے خصوصی مجلس کا انعقاد کریں، جس میں ان کے معیار کے مطابق اسلامی احکام و نظریات کی تشریح کی جائے۔ انہیں مذہبی تعلیمات سے قریب کرنے کی اور دین و مذہب کے عقائد و معمولات کو ان کے دلوں میں راسخ کرنے کی کوشش کی جائے۔
5… حساس موضوعات کا انتخاب کرکے سبق آموزباتوں پر مشتمل پمفلٹ تیار کئے جائیں اور اسے زیادہ سے زیادہ عام کرنے کی کوشش کی جائے۔ اس طرح نئے موضوعات پر کتابچے تیار کراکر اسے شائع کیا جائے۔ نیز اہم موضوعات پر اصلاحی کتابیں خرید کر انہیں لوگوں میں تقسیم کیا جائے۔ ان کتابوں کی اہمیت کا احساس دلاکر ان کے مطالعہ کی تلقین بھی کی جائے۔
6… ان سب امور کی انجام دہی کے لئے چند چیزیں ضروری ہیں۔
(الف)… وہ طلبہ خود احکام کے پابند ہوں، فرائض و واجبات کی ادائیگی میں کوتاہی نہ کریں، کیونکہ بدعملی کو دیکھ کر عوام کی نظروں سے وقار و اعتماد جاتا رہتاہے۔ ان کے دل متنفر ہوجاتے ہیںاور پھر ان کی باتوں پر وہ کان نہیں دھرتے۔ نیز خود عمل پیرا ہوکر کوئی بات کہی جائے تو اس کے اثرات بھی زود اثر اور دیرپا ہوتے ہیں۔ اسی طرح ان دعوتی امور میں کسی طرح کی کوئی ذاتی منفعت داخل نہ ہو،بلکہ نہایت خلوص وللہیت کے ساتھ محض خدمت دین کے پیش نظر ان امور کو انجام دیا جائے اور عنداﷲ اس کے اجر کی امید رکھی جائے۔
(ب)… اس راہ میںمشکلات اور پریشانیاں تو بہرحال درپیش ہوں گی، بسا اوقات لوگوں کی طرف سے طعن و تشنیع سے لبریز حوصلہ شکن الفاظ بھی سننے پڑیں گے، مگر ان سے حوصلے پست نہ ہونے پائیں، ہمتیں سرد نہ ہوں، بلکہ خندہ پیشانی کے ساتھ ان کا سامنا کریں اور مضبوط ارادے، مستحکم عزائم کے ساتھ آگے بڑھتے رہیں۔
(ج)… ان امور کی انجام دہی کے لئے اپنے علاقے کے کسی مخلص اور صاحب فکر وبصیرت ذمہ دار عالم دین کی رہنمائی حاصل کی جائے، جو گاہے بگاہے حالات و واقعات کے تناظر میں مناسب مشورے دیتے رہیں اور خدمتوں کو سراہتے ہوئے آگے بڑھنے کے لئے حوصلہ اور توانائی فراہم کرتے رہیں۔
عہد طالب علمی میں اگر ان امور کوانجام دیا گیا تو مختلف جہتوں میں بڑے مفید نتائج ظاہر ہوںگے۔ معاشرے کی اصلاح اور عقائد و اعمال کی درستی تو ہوگی ہی، ساتھ ہی طلبہ کے اندر تبلیغ و اشاعت کا جذبہ اور قوم و ملت کی ہمہ جہت رہنمائی کا حوصلہ پیدا ہوگا۔ نیز اسی عہد طالب علمی میں انہیں اچھے خاصے تجربے ہوجائیں گے اور اس پرخطر راہ کو عبور کرنے کے طور طریقے معلوم ہوں گے، جس کی بنیاد پر مستقبل میں دعوتی امور کو انجام دینا ان کے لئے آسان ہوجائے گا۔
٭٭٭