ہر قوم کی ترقی کا دارومدار تعلیم پر ہے، جب انسان کے دماغ میں عمدہ خیالات، بلند حوصلے، نفیس معلومات ہوں گی تو وہ اپنی عقل و تدبر سے کوئی اچھا کام لے سکے گا۔ نوعمر مسلمانوں کی معلومات بالعموم ناولوں اور عشقی قصے کہانیوں میں منحصر ہیں اور اس کا جیسا تباہ کن اثر ہونا چاہئے، ہورہا ہے۔ مدارس اور درسگاہیں بہت کم ہیں اور چونکہ ہمارا علمی مذاق خراب ہوچکا ہے۔ اس لئے عام دماغوں میں مدارس کوئی ضروری اور کارآمد چیز بھی نہیں خیال کئے جاتے اور اسی وجہ سے مدرسوں کی نہایت قلیل تعداد مسلمانوں کو بہت کافی بلکہ ضرورت سے زیادہ معلوم ہوتی ہے۔ قاعدے کی بات ہے جس چیز سے انسان کو رغبت نہ ہو وہ کم بھی ہو تو زیادہ معلوم ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کی مذہبی اور اسلامی حالت روز بروز خراب ہوتی جارہی ہے۔ عمدہ خصائل اور ملکات فاضلہ سے مسلمان محروم ہوتے جاتے ہیں۔ درندہ خصالی اور جنگجوئی، سنجیدگی اور شائستگی کی جگہ لیتی جارہی ہے۔
مسلمانوں کی ترقی کے عہد کو سامنے لایئے تو آپ کو نظر آئے گا کہ ہمارے اسلاف شب و روز تعلیم کی ترقی میں مصروف تھے اور ان کی نگاہوں میں تعلیم ہر چیز سے زیادہ ضروری اور قابل قدر تھی۔ بے شمار درسگاہیں کھلی ہوئی تھیں، علماء کو بیش قرار تنخواہیں دی جاتی تھیں، طلبہ کے وظیفے مقرر تھے۔ مسلمانوں کی علمی قدردانی طلبہ میں شوق تحصیل پیدا کرتی تھی۔ ان کی راتیں مطالعے میں سحرہوجایا کرتی تھیں اور وہ اپنے اعزہ و اقارب اور وطن تک کو مدت تحصیل تک فراموش کردیتے تھے۔ اسی کانتیجہ تھا کہ دنیا کی نگاہوں میں ان کی عزت تھی۔ جہاں ان سے تہذیب سیکھنے کے لئے سرنیاز جھکاتا تھا۔آج بھی جو قوم بااقبال ہے اور زمانہ جس کا موافق ویار ہے وہ ترقی علم میں محو ہے اور اس نے ممالک بعیدہ میں درسگاہیں جاری کی ہیں۔ اور روز بروز ان کی ترقی اور اضافے کی کوششیں ہورہی ہیں۔
جو سعی کسی مقصد کے لئے کی جاتی ہے اس سے وہی مقصد حاصل ہوسکتا ہے۔ جو، بوکر گیہوں کاٹنے کی توقع فضول ہے۔ عمارت بے شک سفید اور کارآمد چیز ہے۔ بازار کی عمارت جس مقصد کے لئے بنائی جاتی ہے وہ تو اس سے حاصل ہوسکتا ہے لیکن وہ عمارت قلعہ کا کام نہیں دے سکتی۔ اسی طرح حفظان صحت کے لئے جو تعلیم دی جائے وہ انجینئری میں کام نہیں آسکتی۔ اگر آپ کو انجینئروں کی ضرورت ہے تو آپ کو اس مدعا کے لئے ایک جداگانہ دارالتعلیم درکار ہے۔ میڈیکل کالج اس ضرورت کو پورا نہیں کرسکتا۔ انجینئری کی درس گاہ وکیل اور بیرسٹر نہیں پیدا کرسکتی کیونکہ وہ اس مقصد کے لئے جاری نہیں کی گئی۔ علی ہذا انگریزی درس گاہیں خواہ وہ اعلیٰ ہوں یا اولیٰ، کالج و یونیورسٹیاں ہوں یا تحصیلی اور پرائمری مدارس و مکاتب، مشرقی زبان کی درسگاہیں ہوں خواہ مغرب کی، وہ جس مقصد کے لئے جاری کی گئی ہیں اس کے سوا دوسرا مقصد ان سے حاصل نہیں ہوسکتا۔ وہ مسلمانوں کو مسلمان بنانے، اسلامی زندگی کی حفاظت کرنے، اسلامی عادت و خصائل کا رواج دینے، دین داری کے خوگر اور عادی بنانے کے کام میں نہیں آسکتیں۔ ان کے پڑھے ہوئے طلبہ اسلامی عقائد، اسلامی محبت و مودت، اسلامی اخوت و اتحاد، اسلامی طرز معٰاملت و معاشرت کا نمونہ نہیں ہوسکتے۔ غرض اسلامی حیثیت سے یہ مسلمانوں کے لئے کوئی کارآمد چیز نہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان درس گاہوں کے طلبہ بالعموم اسلامی اخلاق و اوضاع، اسلامی عادات وخصائل سے بالکل بے تعلق نظر آتے ہیں۔صورت، عمل، عقیدہ کوئی چیز اسلامی نہیں رکھتے گویا اسلام ان کے لئے ایک اجنبی چیز ہوتا ہے اور وہ اسلام اور مسلمانوں سے بیگانہ ہوجاتے ہیں۔ اس کے شواہد بہت کثیر ہیں۔ سردست تفصیل ضروری نہیں معلوم ہوتی۔ تعلیم جادو کی طرح اثر کرتی ہے۔ جن میں ابتدائی عمر سے یورپی تعلیم کا نشہ پیدا کیا گیا ہو اور مغربیت ان کی عادت ثانیہ ہوگئی ہو۔ اگر وہ اپنے مذہبی امتیازات کو مٹاڈالیں تو کیا تعجب ہے۔ مسلمانوں کی تباہی کا یہ بہت بڑا سبب ہے کہ وہ مذہبی علوم سے بے تعلق ہونے کی وجہ سے اپنی خصوصیات کو محفوظ نہیں رکھ سکے اور اپنی قومی و ملی زندگی کو انہوں نے خود تباہ کرلیا۔ دنیا کی تمام ترقی یافتہ قومیں اپنی قومی خصائص کو محفوظ رکھتی ہیں اور اسی میں ان کی زندگی ہے۔
اردو ہندوستان کی عام زبان ہے۔ ہندو اور مسلمان اس میں برابر کے شریک اور حصہ دار ہیں۔ لیکن آج ہندو اپنی ترقی کے دور میں اس کو مٹا ڈالنے کے لئے کیسی جانکاہ کوششیں کررہے ہیں اور ایک مردہ زبان کو جو ان کی قومی یا مذہبی زبان ہے، رواج دینے اور زندہ کرنے کے لئے کیسی جدوجہد عمل میں لارہے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ قومی خصوصیات کا تحفظ ترقی کے لئے شرط اول ہے۔ ہندوئوں میں مسلمانوں سے زیادہ انگریزی داں اور گریجویٹ ہیں، لیکن وہ اپنے مذہبی شعار و امتیازات کو نہیں کھو بیٹھے۔ فیصدی ایک کی نسبت سے بھی ہندو انگریزی دانوں میں ایسے لوگ نہ ملیں گے جنہوں نے اپنی قومی وضع ترک کردی ہو، چوٹی کو وحشت خیال کیا ہو، ایک ڈورا جس کو جنیو کہتی ہیں،باندھنا چھوڑ دیا ہو۔ یہی سبب ہے کہ ان کا رشتہ محبت گستہ اور شیرازۂ قومیت منتشر نہیں۔ مغربی تعلیم سکھوں کے سر سے بالوں کا بوجھ نہ اتار سکی۔ان کی داڑھی تک ولایتی استرے نہ پہنچ سکے۔ انگریزیت ان کی وضع کو تبدیل کرنے سے عاجز رہی لیکن مسلمان اپنی مذہبی شعائر سے دستبردار ہوتے چلے جاتے ہیں۔ قرآن پاک کی تعلیم انہیں غیر ضروری معلوم ہونے لگی، اسلامی صورت سے نفرت ہوگئی، اسلامی وضع عار معلوم ہوئی، فرائض کی ادائیگی میں شرم آنے لگی۔ اسلامی اعمال و افعال سے وہ ناآشنا ہوگئے، اسلامی خصائل و خصائص سے ان کی لوح زندگی سادہ ہوگئی، کفار کی وضع ان کا طرز معاشرت پسند آیا، یورپ کے رنگ میں رنگ گئے، اور بایں حیثیت مسلمانوںسے مغائرت تامہ ہوگئی۔ اب جو مسلمان اسلامی وضع میںنظر آتا ہے اس کی صورت سے ان کے قلب میںنفرت پیدا ہوتی ہے۔ علماء و صلحاء کے نام سے دل بیزار ہے، پابند مذہب مسلمانوںکا مضحکہ اڑایا جاتا ہے۔ نمازیوں پر آوازیں کسی جاتی ہیں۔ ان کو ’’ملا‘‘ کہتے ہیں۔ گویا کہ ان کی اصطلاح میں ’’ملا‘‘ حیوان لایعقل کا نام ہے۔ ہر ایک مذہبی ادا سے ان کو تنفر ہے اور ہر اسلامی وضع رکھنے والا ان کی نظر میں حقیر و ذلیل ہے۔ اس کے ساتھ حسن اخلاق سے پیش آنا بے تکلف بات کرلینا سلام کرنا تو کیا معنی کشادہ پیشانی سے سلام کا جواب دینا یہ سب باتیں آپ کی توہین ہیں۔یہ حالت اسلامی اتحاد و اخوت کو کس قدر صدمہ پہنچانے والی ہے جس پر کسی قوم کی فلاح و بہبود اور عزت و حرمت کا دارومدار ہے۔ ستم ہے ہزار حدیثیں سنادی جائیں اثر نہیں۔ ایک انگریز کا قول پیش کردیجئے، سر عقیدت ختم ہوگیا۔ گردن ارادت جھک گئی۔ کیا یہ دل مسلمان ہے یاغیر کی تعلیم نے اس کو اپنا کرلیا؟ اگر مذہبی علوم سے کچھ بھی بہرہ ہوتا یا علما و صلحا کی صحبت رہی ہوتی مذہب کا وقار دل میں ہوتا تو یہ حالت کیوں ہوتی؟ دوسروں سے زیادہ اپنے مذہب و ملت کے تحفظ میں جانیں نثار کرتے مذہب کے ساتھ سچی عقیدت و گرویدگی ہوتی تو خدام مذہب اور حامیان دین کی عزت و توقیر بھی دل میں ہوتی۔
میری آنکھوں نے دیکھا ہے اور آپ معائنہ کرسکتے ہیں کہ ہندو اپنے پنڈتوں اور پجاریوں کا کس قدر احترام کرتے ہیں۔ ایک والی ملک کا جلوس نکلتا ہے جب وہ ایک پاٹ شالہ کا افتتاح کرنے جاتا ہے مگر اس شان سے کہ راجہ فٹن یا لینڈ میں سوار ہے اس کے آگے ہاتھی پر طلائی عماری میں پنڈت ویدلیے سوار ہے۔ رئیس کی نشست اپنی سواری میںمودبانہ ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے مذہب کی عزت کرتا ہے۔ عیسائی اپنے پادریوں کے ساتھ کس تکریم و احترام کا برتائو کرتے ہیں۔ بخلاف اس کے ہمارے نونہالوں اور سپوتوں کی زبانیں علماء اہل مذہب کی توہین اور بدگوئی سے لذت حاصل کرتی ہیں۔ اگر کبھی قلم ہاتھ میں آگیا ہے تو علماء کی خوبیوں کو عیب بنا ڈالا ہے اور ان کی ہستی کو میٹ دینے کے لئے اپنے امکان تک سعی کی ہے۔ آپ کے زبان اور قلم سے آپ کے اکابر کی ایسی توہینیں ہوتی ہیں کہ مخالف غیر مذہب والا باوصف جوش تعصب اس کی ہمسری نہ کرسکے۔ ایسی حالت میں اسلامی اجتماع کیونکر باقی رہ سکتا ہے اور اخوت و محبت کی بنیادیں جنہیں آپ نے اپنی پوری طاقت سے برکندہ کرنے کی کوشش کی ہے کیونکر قائم رہ سکتی ہیں۔ آپ جس عمارت پر ہیں اس کی بنیادیں خود کھود رہے ہیں۔ ’’آیئے برہر شاخ بن می برید‘‘ والا معاملہ ہے۔ اس کا باعث یہی ہے کہ انگریزی کے بادۂ رنگیں نے آپ کو سرشار کردیا ہے اور آپ کا رواں رواں اس کے کیف میں مست ہے، ہر بن مول سے اسی کے بخارات پسینہ بن کر ٹپکتے ہیں اور اپنے خواص دکھاتے ہیں۔علوم اسلامیہ کے آب حیات سے آپ کے لب ناآشنا ہیں، اس کی لذتیں ابھی تک جناب کو غیر معلوم ہیں۔ اگر یہ اجنبیت دور ہوجائے اور دینی معلومات کی روشنی آپ کی دماغوں میں جلوہ گر ہو تو نئے دور کے علوم آپ کو جہالت کی تاریکی معلوم ہونے لگیں۔ جب تک اپنے خزائن کے جواہر نفیسہ پر آپ مطلع نہیں ہیں، اس وقت تک دوسروں کے نقلی اور جعلی پتھروں کی جھوٹی چمک دمک پر مفتون ہیں۔ جس وقت اپنے لآلی ابدار سامنے آئیں گے وہ پتھر یقینا آپ کی نظر میں بے وقعت ہوجائیں گے۔
علوم دینیہ سے تعلق ہوگا تو آپ ان مقاصد کی طرف چل پڑیں گے جن کی طرف و رہنمائی کرتے ہیں ۔جب ان پھولوں کی خوشبو آپ میں بس جائے تو آپ کے پسینے کا ہر قطرہ ہزار چمن زاروں کوشرمائے گا۔ آپ کے افعال و اعمال ہیں۔ آپ کے اطوار و عادات میں آپ کی خوبو میں، آپ کے طرز عمل اور طریقہ زندگی میں اسلام کے جلوے نمودار ہوں گے، اسلامی معلومات سے دماغ روشن ہو اور انگریزی کی بجائے وہ آپ کے رگ وریشہ میں سرایت کرجائے تو آپ کے افعال ضرور اس پیمانہ اور اس میزان پر واقع ہوں گے جو شریعت اسلامیہ نے مقرر فرمائی ہے۔ پھر اپنے نفس سے لے کر دور دراز کے تعلقات تک درست ہوجائیں گے اور آپ اعلیٰ زندگی باآسانی بسر کرسکیں گے۔ جب آپ کو ماں باپ، بھائی بہن، بی بی بچے، چھوٹے بڑے سب کے حقوق و مدارج معلوم ہوںگے جو شریعت نے مقرر فرمائے ہیں اور آپ انہیں اپنا دستور العمل بنائیں گے۔ اسی کے مطابق اپنے گھر والوں کے ساتھ سلوک کریں گے تو خانہ جنگی کا خاتمہ ہوجائے گا اور تدبیر منزل و انتظام خانہ داری اخود بخود اعلیٰ حیثیت پر آجائے گا۔ گھر کی چپقلش گھر والوں کے رنج و تعصب باہمی کشاکش سب دور ہوجائے گی۔ آپ شریعت مطاہرہ کے ہاتھ میں اپنااور اپنے گھر کا انتظام دیجئے۔ کسب معاش اور مصارف پر اس کے منشاء کے مطابق عمل کیجئے پھر دیکھئے آپ کی مشکلات کافور ہوئے جاتے ہیںاور آپ کی باہمی محبت وارتباط میں ایسا ربط حاصل ہوتا ہے جس سے زندگی کا لطف آجائے۔ عزیز واقارب، دوست، آشنا، ہمسایہ، محلہ دار، اہل شہر بلکہ تمام مسلمانوں کے حقوق جب آپ کو معلوم ہوں اور ہر ایک کے مراتب کا لحاظ رکھیں اور اسلامی تعلیم آپ کی عادت ہوجائے تو آپ کا تمدن درست ہوگیا۔ یگانگت اور اتحاد، دوستی و یکدلی کے نقشے جابجا نظر آنے لگیںگے، دشمنی اور عداوت نیست ونابود ہوجائے گی اور اس کی وجہ سے جو ناگوار صدمے برداشت کرنا پڑتے ہیں ان سے امن رہے گی، بدخواہوں اور بدگویوں کی ایذا سے نجات ہوگی، لڑائی جھگڑوں میں عزت مال وقت صرف ہونے سے بچے گا۔ اخوت و مودت ہمدردی و غمخواری کی موجیں عجیب لطف پیدا کریں گی اور ہر مقصد میں کامیاب ہونے کے لئے پیش آنے والی رکاوٹیں مرتفع ہوجائیں گی۔ آپس کی یکدلی و یکجہتی سے بہت سی آسانیاں بہم پہنچیں گی۔ مسلمان جب اپنی ایسی حالت بنالیں تو ان کا اجتماع اتم اور اتحاد مکمل ہوجائے۔ دنیا کی قومیں اس کی عزت کرنے لگیں۔ جب ہر مسلمان ایک دوسرے کا مددگار اور خیرخواہ ہو اور ہر ایک کی زبان سے دوسرے کی نسبت کلمہ خیر ہی نکلے، ایک دوسرے کی مرفہ الحالی، ترقی، عزت، جاہ، منزلت، دولت، مال، شہرت، شوکت، زہد، رع، تقویٰ، عبادت وطاعت سے خوش ہو، غیبت اور حضور میں محبت بھرے کلمات سے ذکرکرے۔ کسی کی زبان سے مسلمان کی برائی سن نہ سکے تو غیروں کی نگاہوں میں مسلمانوں کی ہیبت و وقار کا وہی عالم ہوگا جو زمانہ سلف میں تھا۔
مسلمانوں کے یہی ہتھیار ہیں، حق سلاح ہے، یہی جہاد ہے کہ وہ اپنے آپ کو مسلمان بنائیں اور اپنے نفس کافر کیش کو مغلوب کریں اور اس کو اسلام کا مطیع اور فرمانبردار بنائیں۔اگر آج اس پر قدرت نہیں ہے کہ اپنے آپ کو مسلمان بنالیجئے تو آپ دوسروں کو کیا مسلمان بناسکیں گے؟ اگرآج اپنے نفس کا ذکر مغلوب نہیں کرسکتے تو دوسرے کفار پر غلبہ حاصل کرنا کہاں تک قرین قیاس ہے؟ تم مسلمان بنو، جہاں تمہارے سامنے سرافگندہ ہوگا۔ دنیا میںتمہاری شوکت کے پھریرے لہرائیں گے، تمہارے عزت و اقبال کی صدائوں سے دنیا کا گوشہ گوشہ گونج اٹھے گا، تمہاری کھوئی ہوئی دولت پھر واپس مل جائے گی، تمہارا گیا وقت پھر لوٹ آئے گا،تمہاری مردہ سطوت پھر جی اٹھے گی۔ مسلمان بنو، پکے مسلمان علوم دینیہ سے علاقہ پیدا کرو، علماء سے صلح کی بنیاد ڈالو، عیسائیوں کی گود میں پرورش پاکے پکے مسلمان بننے کی توقع بعید از عقل ہے۔ علوم اسلامیہ کا دامن تھامو،مذہبی معلومات حاصل کرو، دینی درسگاہیں کھولو، بچے جوان بوڑھے سب مذہب سے واقفیت حاصل کرنے کے لئے جدوجہدکریں، علم عام کیاجائے اسلامی مدارس کو ترقیاں دی جائیں۔
ہندوستان کی وسعت میں مدارس اسلامیہ ایک نادر چیز ہیں، جنہیں ہم اپنی غلط رائے اور غیر صحیح مذاق کی وجہ سے بہت کثیر سمجھ رہے ہیں۔ اتنے بڑے ملک میں چند مدرسے ہیں جو انگلیوں پر شمار کئے جاسکتے ہیں۔ جب ان مدارس کی حالت پر نظر جاتی ہے تو دل سوز جگر سے خون بن کر آنکھوں کی راہ بہہ جانے کی خواہش کرتا ہے۔ اسلامی مدارس کے شاکی بہت ملیں گے اور ملتے ہیں لیکن ایسے حضرات بہت کم ہوں گے جنہوں نے اپنے دماغ کو ان اسباب کی جستجو میں پریشان کیا ہو جن سے شکایتوں کے مادے تیار ہوتے ہیں۔ دینی درسگاہوں میں علی العموم مدرسین کی کوئی قدر نہیں ہوتی اور انہیں بسر اوقات کے قابل کفاف بھی میسر نہیں آتا۔ قلیل تنخواہوں پر صبر کئے بیٹھے رہتے ہیں۔ دولت مند طبقہ انہیں منہ نہیں لگاتا۔ نئے تعلیم یافتہ ان کی صورت کو حیرت ناک تماشا سمجھتے ہیں۔ ان کی وضع، رفتار، گفتار، خصائل، عادات سب ان کی نظر میں قابل مضحکہ ہیں۔ ان کی زندگی کے ایک ایک شعبہ پر نکتہ چینی اور حقارت آمیز عیب گیری کی جاتی ہے قوم کے برتاوے نہایت ناشائستہ، معاش اس قدر تنگ کہ گزارہ مشکل ہوسکتا ہے۔ اس خدمت پر نہ ان کی حوصلہ افزائی کرنے والا نظرآتا ہے، نہ اپنی ضروریات ہی کی طرف سے اطمینان ہے باوجود اس کے مردانہ وار اسی استقلال کے ساتھ اپنی خدمت کو انجام دیئے جانا اور افکار مصائب کے عساکرو افواج سے سینہ سپر ہونا، اپنوں بیگانوں کی سختیاں جھیلنا، ہر طرح کی باتیں سننا اور صبر وسکون کے ساتھ اپنا کام کئے جانا اور کسی کی پرواہ نہ کرنا اسلام کی حقانیت کا ایک اثر ہے اور علوم اسلامیہ کی روحانیت کی زندہ دلیل ہے۔
سب سے پہلی ضرورت یہ ہے کہ حامیان تعلیم کے دماغوں کوفکرنان و نمک کی قیدوں سے آزاد کیا جائے اور اہل و عیال کی بدحالی کے غموں سے رہائی دی جائے تاکہ وہ فارغ زندگی بسر کرسکیں اور دماغی قویٰ سے آزاد ہوکر کار تعلیم کے لئے وقف ہوجائیں۔ اس وقت تعلیم کا لطف آسکتا ہے اور سربراہ کاران تعلیم اپنے فضل و کمال کے جوہر دکھا سکتے ہیں۔ دوسری ضرورت یہ ہے کہ طلبہ متوسط درجے کی انسانی زندگی سے گرے ہوئے نہ ہوں۔ بھوکا استاد کیادماغ سے کام لے سکتا ہے، گرسنہ شاگرد کیا اخذ مطالب کرسکتا ہے۔ یہاں استاد بھی پریشان حال ہیں اور شاگرد پھر کیا ان شاگردوں میں اولوالعزمی پیدا ہو جن کی معاش در در سے ایک ایک لقمہ جمع کرکے بہم پہنچتی ہے اور وہ بھی کسی وقت پہنچی ہے اور کوئی وقت صاف گزر جاتا ہے، ان طلبہ کو یہ بھی امید نہیں ہے کہ کسی اگلے زمانے میں ان کو یہ محنتیں کام دیں گی اور ان کے عیش وراحت کا ذریعہ ہوسکیں گی۔ ان کے استاد ان کے سامنے نمونہ ہیں، وہ دیکھ رہے ہیں کہ اگر ہم نے جان ہلاک کرکے محنتیں جھیل کر استاد جیسا کمال پیدا کرلیا اور نصیب یاور ہواور بالفرض کہیں مدرسی مل بھی گئی تو ہمیں کار آزما اورمشاق ہوجانے کے بعد پھر ان مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا جن کے شکنجے میں حضرت استاد مدظلہ پھنسے ہوئے ہیں۔ یہ ایسے حوصلہ فرسا اورہمت شکن حالات ہیں ان کے باوجود عزم و استقلال کو پایہ ثبات سے محروم رہنا ناگزیر معلوم ہوتا ہے۔ مگر علوم اسلامیہ کی گرفت و جذب اور دل آویزی و خاطر گزینی کا ثمرہ ہے۔ باوصف ایسی تکالیف اور مصیبت کے جن کے تصور سے رونگھٹے کھڑے ہوتے ہیں، نہایت استقلال اور مردانگی کے ساتھ اپنے اپنے کاموں میں سرگرم ہیں۔ مدارس اسلامیہ کا فرض ہے کہ وہ اساتذہ کی ضرورتوں کا لحاظ رکھ کر اتنا کفاف مقرر کریں جو ان کے دماغوں کو معاش اور ضروریات زندگی کی افکار سے آشنا نہ ہونے دے۔ طلبہ کے لئے ایسے وظائف مقرر ہوں کہ وہ معمولی درجے کے انسان کی زندگی بسر کرسکیں۔ لیکن اسلامی مدارس یہ دونوں فرض انجام نہیں دیتے۔ حدیث و تفسیر ٹوٹی چٹائیوں پر بیٹھ کر پڑھائی جاتی ہے، مدرسہ کوئی انتظام نہیں کرسکتا۔ ایک نکتہ چیں یہ اعتراض کرسکتا ہے کہ مدرس کس بری حالت میں ہیں، طلبہ اس عسرت وتکلیف میں ہیں، نشست کی جگہ نامعقول ہے۔ سارا نظم ہی خراب ہے اور انتظام ہی مختل ہے۔ مگر حقیقت میں جان سکتاہے کہ قوم نے آنکھیں پھیرلی ہیں۔ مسلمانوں کی توجہ کارخ پھر گیا۔
ادھر سے ادھر پھر گیا رخ ہوا کا
دنیا ان مدارس کو غیر ضروری اور بے کار چیز شمار کرتی ہے۔ زمانہ چاہتا ہے کہ علماء اور طلباء کھانے پینے کے حق میں فرشتہ خصال ہوجائیں۔ وہ آمدنی جس کا مصرف یہی مدارس ہیں، دوسرے کاموں میں صرف کی جاتی ہے اور مستحق محروم چھوڑ دیئے جاتے ہیں۔ مدرسوں کے پاس اتنا سرمایہ ہی نہیں ہوتا جس سے وہ اپنی حالت درست کرسکیں۔ مدارس کو موجودہ قلیل تنخواہوں کا ادا کرنا دشوار ہے۔ اگر تنخواہیں بے وقت ادا کی جاتی ہیں اور مہتمم کو تقاضے سننے کی کوفت اٹھانا پڑتی ہے اس کا دماغ ان فکروںسے پریشان رہتا ہے اور کوئی صورت کامیابی کی نہیں نکلتی۔ مسلمان اس طرف سے بہت افسردہ خاطری برتتے ہیں۔ چندے بہت قلیل ہیں اور وہ بھی وقت پر نہیں پہنچتے۔ شکم سیر، بے فکروں کوشکایت ہے کہ ان مدارس میں گداگری کی تعلیم دی جاتی ہے، وہ ہمارے طلبہ کو حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں، مگر شکایت کرتے ہوئے ان کو غیرت آنا چاہئے کہ انہوں نے مذہب و دین کے لئے اپنی زندگیاں وقف کرنے والوں اور عیش و راحت سے دست کش ہوجانے والوں کو خود کس حالت میں رکھا ہے۔ کیا کسی مدرسے کو آج یہ ثروت حاصل ہے کہ وہ اپنے طلبہ کو انگریزی اسکولوں کے بورڈوں کی حیثیت میں رکھ سکے۔ طلبہ کو اولوالعزمی اور مردانگی صد ہزار آفرین کی مستحق ہے کہ وہ باوجود ان مصائب کے طلب علم میں محو ہیں اور آسائش کے مفہوم مفروض الوجود کاتصور بھی ان کے قلب میں نہیں گزر سکتا۔