خفیہ نکاح اور ’’سول میرج‘‘ کی شرعی حیثیت

in Tahaffuz, November 2014, آپ کے مسا ئل کا شر عی حل, حافظ قادری محمّد صائم چشتی

سوال: بعض اوقات لڑکا اور لڑکی خفیہ طور نکاح کرلیتے ہیں۔ اس صورت میں یا تو دونوں کے والدین کی رضامندی شامل نہیں ہوتی یا لڑکی کے والدین کی رضامندی شامل نہیں ہوتی بلکہ یہاں تک دیکھا گیا ہے کہ انہیں اطلاع تک نہیں ہوتی۔ ایسے نکاح کا شرعی حکم کیا ہے؟
الجواب: خفیہ نکاح سے مراد اگر یہ ہے کہ لڑکا اور لڑکی تنہائی میں ایجاب و قبول کرلیں تو ایسا نکاح شرعاً فاسد ہے۔ کیونکہ صحت نکاح کے لئے دو عاقل و بالغ مسلمان مردوں یا ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہی شرط ہے، یعنی وہ ایسے دو گواہوں کے سامنے ایجاب و قبول کریں۔ خواہ بذات خود لڑکا اور لڑکی ایجاب و قبول کریں یا اپنے مجاز وکیل کے ذریعے یہاں تک کہ علامہ علائو الدین حفصلی نے فتاویٰ در مختار میں لکھا ہے کہ اگر لڑکا اور لڑکی نے خلوت میں ایجاب و قبول کیا ہے اور یہ کہا ہے کہ ہم اﷲ عزوجل اور رسول اﷲﷺ کو گواہ بناکر نکاح کرتے ہیں تو ایسا نکاح جائز نہیں اور اگر خفیہ نکاح سے مراد یہ ہے کہ کسی نے والدین کی رضامندی کے بغیر نکاح کرلیا ہے، نکاح کرنے والی لڑکی بالغہ ہے اور نکاح کا انعقاد مجلس میں گواہوں کی موجودگی میں ہوا ہے۔ لڑکی نے برضا ورغبت براہ راست یا اپنے مجاز وکیل کے معرفت ایجاب و قبول کیاہے تو ایسی صورت میں نکاح منعقد ہوجائیگا۔ یہ الگ بات ہے کہ اخلاقاً ایسا نہیں ہونا چاہئے۔ بہت سے امور اخلاقی اقدار کے خلاف ہونے کے باوجود قانونی اور شرعی طور پر نافذ ہوجاتے ہیں اور موثر ہوتے ہیں۔ البتہ اگر لڑکی نے اپنا نکاح برضا و رغبت کیا ہے مگر غیر کفو یعنی اپنے منصب کے خلاف، مثلا رشتہ داری، حسن و جمال اور پیشے کے اعتبار سے اس کے خاندان کے لئے باعث عار ہے، تو اس سلسلے میں علماء اور فقہاء کی مختلف آراء ہیں۔
بعض کے نزدیک یہ نکاح جائز ہی نہیں، جب کہ ولی اس پر راضی نہ ہو، وہ اسے فسخ کرسکتا ہے اور بعض کے نزدیک ولی کو اس سلسلے میں عدالت کے ذریعے نکاح کو فسخ کرانے کا حق حاصل ہے اور بعض کے نزدیک ہم کفو ہونے کے لئے اسلام ہی کافی ہے۔ تاہم موجودہ شہری معاشرے میں جہاں انسان مخلوط ہوں، دین داری اور تقویٰ کوچھوڑ کر دولت ہی معیار عزت قرار پائے۔ وہاں یہ ثابت کرنا مشکل ہوجاتا ہے کہ کون کس کا ہم کفو ہے اور کون نہیں ہے بلکہ یہ بحث ہی بے معنی ہوجاتی ہے۔ اگر ہمیںان نتائج سے بچنا ہے تو ہمیں اپنی اولاد کی دینی تربیت کا اہتمام کرنا چاہئے۔
سول میرج کسے کہتے ہیں
لڑکی اپنا شناختی کارڈ، میڈیکل سرٹیفکیٹ یا کوئی دستاویزی ثبوت پیش کرکے کسی مجاز عدالت کے سامنے اپنے آپ کو شناخت کراکے اپنی بلوغت کا ثبوت پیش کردے اور عدالت کو مطمئن کردے کہ وہ اپنی آزادانہ مرضی سے بلاجبر کسی سے شادی کرنا چاہتی ہے۔عدالت اس کو مطمئن ہونے کے بعد اجازت دے دے اور وہ اپنے پسندیدہ شخص سے باقاعدہ نکاح کرلے تو اسے عرف عام اور قانون کی اصطلاح میں سول میرج کہتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس میں والدین اور سرپرست کی مرضی اور اجازت شامل نہیں ہوتی تاہم یہ شادی قانونا منعقد ہوجاتی ہے جیسا کہ میں نے اوپر ذکر کیا لیکن اس سے معاشرتی مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ بعض اوقات نوبت قتل تک جاپہنچتی ہے۔ فقہ حنفی کی رو سے شادی کے لئے عاقلہ و بالغہ لڑکی کی رضامندی ضروری ہے۔ لہذا والدین کو چاہئے کہ وہ شادی کے لئے لڑکی کی آزادانہ مرضی ضرور معلوم کرلیں۔ لڑکی کو بھی چاہئے کہ وہ جذباتی فیصلہ نہ کرے کیونکہ جذباتی فیصلے بعض اوقات تباہ کن ثابت ہوتے ہیں اور ایسی شادیاں اکثر ناکام رہتی ہیں۔ چنانچہ اگر لڑکی ولی کی اجازت کے بغیر غیر کفو سے شادی کرلے تو ولی کو عدالت کے ذریعے نکاح فسخ کرانے کا حق حاصل ہے۔
کفوسے مراد ہے لڑکا اور لڑکی حسب و نسب، مال و دولت، دین داری اور صنعت و حرفت، پیشہ کے لحاظ سے ہم پلہ ہوں۔