اداریہ حکمرانوں کے دل سخت کیوں؟

in Tahaffuz, October 2014, ا د ا ر یے, مو لا نا شہز ا د قا د ری تر ا بی

حکمرانوں کے دل سخت کیوں؟
اس وقت پوری قوم ایک ہی بات کررہی ہے۔ ہر ایک کے لبوں پر یہی جملہ موجود ہے کہ ہمارے حکمران ظالم ہیں۔ انہیں اپنی رعایا کی کوئی فکر نہیں۔ قوم سخت مشکلات کا شکار ہے۔ مگر حکمران عیاشی میں مصروف ہیں۔ قوم تین وقت پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھاسکتی مگر حکمران اپنے محلات میں پچاس سے زیادہ ڈشیں سجا کر اپنا دستر خوان لگائے بیٹھے ہیں۔ بے روزگاری، کرپشن، قتل و غارت گری، لوڈشیڈنگ، مہنگائی، خودکشی اور بے یقینی کی کیفیت بڑھتی چلی جارہی ہے مگر حکمرانوں کے دل نرم نہیں ہوتے۔
محترم قارئین کرام! کبھی آپ نے غور کیا کہ یہ حکمران کوئی دوسری مخلوق نہیں، یہ ہم میں سے ہی ہیں۔ یہ ہمارے ہی درمیان پلے بڑھے اور آج حکمرانی ان کو نصیب ہوئی۔ یہ اقتدار کی کرسی پر بیٹھنے سے قبل تو بہت نرم تھے، بڑی میٹھی میٹھی گفتگو کرتے تھے۔ غریبوں اور بے سہارا افراد کی مدد کرتے تھے، انہیں گلے سے لگاتے ہیں۔ ظالم کے خلاف خود آواز بلند کرتے تھے۔ عوام کے دکھوں کو اپنا دکھ قرار دیتے تھے، مہنگائی، بے روزگاری، کرپشن، قتل و غارت گری، ظلم و زیادتی، دہشت گردی اور ناانصافی ختم کرنے کے ہم سے وعدے کرتے تھے مگر اقتدار کی کرسی پر بیٹھ کر اتنے بدل کیوں جاتے ہیں؟ کرسی پر بیٹھ کر ان کے دل اتنے سخت کیوں ہوجاتے ہیں؟ کرسی پر بیٹھ کر اپنے وعدے کیوں بھول جاتے ہیں؟ آخر ایسی کون سی وجہ ہے جو حکمرانوں کے دلوں کو سخت کردیتی ہے، وہ ظالم بن جاتے ہیں۔
اس کا جواب حدیث قدسی میں موجود ہے۔ حدیث قدسی اسے کہتے ہیں جس میں ارشاد کائنات کے پروردگار اپنے بندوں پر ماں سے زیادہ مہربان اﷲ تبارک و تعالیٰ کا ہوتا ہے مگر زبان اُمّت کی کشتی کے نگہبان رحمت عالمیانﷺ کی ہوتی ہے۔ آپ اس حدیث قدسی کو پڑھیں۔ بار بار پڑھیں، غور کریں، ہر سوال کا جواب سامنے آجائے گا۔
حضرت ابو درداء رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول پاکﷺ نے فرمایا کہ حق تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے۔ میں اﷲ ہوں، میرے سوا کوئی معبود نہیں، میں بادشاہوں کا مالک اور بادشاہوں کا بادشاہ ہوں، بادشاہوں کے دل میرے دست قدرت میں ہیں جب لوگ میری تابعداری کریں، میں بادشاہوں کے دلوں میں رحمت اور نرمی ڈال دیتا ہوں اور جب میری مخالفت کریں تو ان کے دلوں کو عذاب اور غضب کی طرف پھیر دیتا ہوں پھر وہ ان کو سخت ایذائیں دیتے ہیں تو لوگوں کو چاہئے کہ بادشاہوں کو برا کہنے میں مشغول نہ ہوں بلکہ ذکر اور عاجزی اختیار کریں پھر بادشاہوں کی طرف سے میں کافی ہوجائوںگا، یعنی وہ رعایا کے ساتھ سلوک و محبت سے پیش آئیں گے (مشکوٰۃ المصابیح، کتاب الامارۃ والقضائ، الفصل الثالث، حدیث نمبر 3721، جلد 2 ، ص 12)
بات واضح ہوگئی، جواب ہمیں مل گیا
جب قوم اﷲ تعالیٰ کے احکامات اور اس کے حبیبﷺ کے فرامین پر چلتی رہی، انہیں حضرت ابوبکر و عمر رضی اﷲ عنہما جیسے حکمران ملے، جب قوم گناہوں سے دور تھی، انہیں حضرت عثمان و علی رضی اﷲ عنہما جیسے حکمران ملے، جب قوم خوف خدا رکھنے والی تھی، انہیں حضرت امام حسن اور امیر معاویہ رضی اﷲ عنہما جیسے عادل حکمران ملے۔
مگر جب قوم گناہوں کے دلدل میں پھنسی ظالم و جابر حکمران مسلط ہوئے چنانچہ پہلی صدی کے مجدد امیر المومنین حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اﷲ عنہ کا فرمان غور طلب ہے۔
آپ رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ حجاج بن یوسف خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک آزمائش تھا جو لوگوں پر گناہوں کے موافق آیا (تنبیہ المغترین الباب الاول، ص 42)
حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اﷲ عنہ کے فرمان کی روشنی میں ہم ذرا اپنی حالت زار پر غور کریں کہ ہم سک قدر اپنے پیارے پروردگار کی نافرمانی میں مبتلا ہیں۔ فرض نماز ہم نہیں پڑھتے، ماہ رمضان کے روزے ہم نہیں رکھتے، زکواۃ پوری طرح ہم نہیں نکالتے، غریبوں کی مدد ہم نہیں کرتے، فلمیں، ڈرامے دیکھے بغیر ہمیں چین نہیں آتا، موسیقی میں سکون ہم تلاش کرتے ہیں، جھوٹ اور گالیاں ہمارے منہ پر رہتی ہیں، اپنے مسلمان بھائی کو دھوکہ ہم دیتے ہیں، اپنی اولاد کو حرام ہم کھلاتے ہیں، حسد، عداوت، غیبت حتی کہ اپنے ہی بھائیوں پر جادو کروانے میں ہم ملوث ہیں۔ سود کو سود ہم نہیں سمجھتے، جوا اور بے ہودہ کام ہم کرتے ہیں۔ بجلی کے بل سے بچنے کے لئے کنڈے ہم لگاتے ہیں، ٹیکس چوری کرکے اس پیارے وطن کو نقصان ہم پہنچاتے ہیں، بغیر ڈیوٹی کے مال نکلوا کر اس ملک کی معیشت کو کھوکھلا ہم کررہے ہیں۔
کیا یہ سب اﷲ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کی نافرمانی نہیں ہے؟ یہ تمام کام کرنے کے بعد بھی ہم یہ توقع رکھیں کہ حکمرانوں کے دل نرم ہوجائیں گے نہیں! ہرگز نہیں، یہ ہمارا قصور ہے۔ ہم سدھر گئے تو حکمران خود بخود سدھر جائیں گے۔
یہ جتنی مصیبتیں ہم پر نازل ہورہی ہیں، چاہے وہ کسی بھی صورت میں ہوں، یہ سب ہمارے ہاتھوں کی کمائی ہے۔ یہ سب ہمارے کرتوتوں کا وبال ہے،یہ میں نہیں کہتا، میرے رب جل جلالہ کا کلام کہتا ہے۔
ترجمہ: اور تم کو جو بھی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کے کرتوتوں کا نتیجہ ہے اور بہت سی باتوں کوتو وہ معاف فرمادیتا ہے (سورۂ شوریٰ، آیت 30، پارہ 25)
امام اعظم ابو حنیفہ رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ جب تجھے ظالم بادشاہ کے ساتھ ابتلاء واقع ہوجائے اور اس کے سب سے تیرے دن میں نقصان پیدا ہوجائے تو اس نقصان کو کثرت استغفار کے ساتھ تدارک کر اپنے لئے اور اس ظالم بادشاہ کے لئے (تنبیہ المغترین، الباب الاول، ص 42)
معلوم ہوا کہ ظالم حکمرانوں سے نجات کا راستہ سرکیں بلاک کرنا نہیں، عمارتوں اور دکانوں کو سڑکوں پر لانا نہیں، روڈ پر دھرنے دینا نہیں، گاڑیوں کو آگ لگانا نہیں، بے پردہ عورتوں کو سڑکوں پر لانا نہیں، سول نافرمانی نہیں، حکمرانوں کو گالیاں دینا نہیں بلکہ ان ظالموں سے نجات کا واحد راستہ اﷲ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کی سچی فرمانبرداری اور استغفار کی کثرت ہے۔