اسلام اخوت، بھائی چارہ اور محبت کا پیغام عام کرنے والا مذہب ہے۔ اس دین کو اس کے ماننے والو ںنے قربانیاں دے کر پروان چڑھایا ہے۔ اسلام اور قربانی کا آپس میں ایک گہرا تعلق ہے ،اسلام میں قربانیوں کی ایک تاریخ رقم ہے۔ جن کی یاد اُمّت محمدیہ ہر سال مناتی ہے، ان میں سرفہرست حضرت ابراہیم علیہ السلام کی لازوال قربانی ہے جوکہ انہوں نے اپنے رب کی رضا کے لئے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی صورت میں پیش کرکے رہتی دنیا تک کے لئے بارگاہ رب العزت میں سب کچھ لٹانے کے لئے ہروقت تیار رہنے کی مثال قائم کردی۔ سید عالم نور مجسمﷺ سے اس قربانی کے متعلق پوچھا گیا۔
حدیث شریف= حضرت زید بن ارقم رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کی۔ یارسول اﷲﷺ یہ قربانیاں کیا ہیں؟ فرمایا تمہارے باپ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی سنت ہے۔ لوگوں نے عرض کی یارسول اﷲﷺ! اس میں ہمارے لئے کیا ثواب ہے؟ فرمایا ہر بال کے بدلے نیکی ہے، عرض کی، اون کا کیا حکم ہے؟ فرمایا: اون کے ہر بال کے بدلے میںنیکی ہے (سنن ابن ماجہ، کتاب الاضاحی، باب ثواب الاضحیۃ، جلد 9، ص 280)
ایام قربانی میں مخصوص شرائط کے پائے جانے کے سبب قربانی واجب ہوجاتی ہے جیساکہ رب تعالیٰ کا ارشاد ہے۔
ترجمہ: یعنی آپ اپنے رب کی رضا کے لئے نماز پڑھتے رہئے اور قربانی کرتے رہیں (سورۂ کوثر آیت 2)
لہذا جو شخص مالک نصاب ہونے کے باوجود حکم خداوندی کو پامال کرتے ہوئے قربانی نہیں کرتا، وہ یقینا سخت گناہگار اور آخرت میں سزا کا مستحق ہے۔
قربانی کس پر واجب ہے
ایام قربانی میں چار شرائط پائی جائیں تو قربانی واجب ہوگی (تنویر الابصار، کتاب الاضحیۃ جلد 9، ص 520)
1… مسلمان ہونا (کافر پر قربانی واجب نہیں)
2… مقیم ہونا (مسافر پر قربانی واجب نہیں)
3… اگر کسی شخص کے پاس حاجت اصلیہ (وہ چیزیں جن کی شدید ضرورت ہوتی ہے اور اس کے بغیر زندگی دشوار ہوجائے مثلا رہنے کے لئے گھر، چند کپڑے، خانہ داری کا سامان وغیرہ) کے علاوہ ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا اتنی (یعنی چاندی کی) رقم و مال تجارت یا حاجت اصلیہ کے علاوہ کوئی سامان موجود ہو تو وہ شخص مالک نصاب کہلاتا ہے (فی زمانہ چاندی کی قیمت 755 روپے تولہ ہے لہذا40 ہزار روپے کا مالک، صاحب نصاب کہلائے گا۔)
4… نابالغ پر قربانی واجب نہیں ، چاہے وہ مالک نصاب ہو یا نہ ہو۔
مسئلہ: گھر کا ہر ہر فرد جو صاحب نصاب ہو، مثلا بیوی، والدین یا بالغ اولاد ہوں۔ سب پر قربانی کرنا واجب ہے۔
مسئلہ: قربانی کے ابتدائی وقت میں تمام شرائط نہیں تھے لیکن درمیان یا آخری وقت میں چاروں شرطیں پائی گئیں تو اب اس پر قربانی واجب ہوجائے گی، جیسے کافر آخری وقت میں مسلمان ہوگیا، مسافر آخری وقت میں مقیم ہوگیا وغیرہ (ہندیہ، کتاب الاضحیۃ، جلد 5، ص362)
مسئلہ: اگر کوئی شخص ایام قربانی کی ابتداء میں فقیر تھا اور آخر میں مالک نصاب (یعنی غنی) ہوگیا تو اس پر قربانی لازم ہوگی (ہندیہ، کتاب الاضحیۃ، جلد 5، ص 361)
مسئلہ: اگر کسی شخص پر اتنا قرضہ ہے کہ ادائیگی کے بعد وہ مالک نصاب نہیں رہتا تو اس پر قربانی لازم نہیں (ہندیہ، کتاب الاضحیۃ، جلد 5، ص 361)
مسئلہ: کسی دوسرے شخص کی طرف سے قربانی ادا کرنے میں ضروری ہے کہ اس سے اجازت لے لی جائے، اگر بلا اجازت قربانی کی گئی تو دوسرے کی طرف سے واجب قربانی ادا نہیں ہوگی۔ البتہ اگر کسی گھر میں یہ طریقہ رائج ہو کہ ہر سال صراحتاً اجازت تو نہیں لی جاتی لیکن بیوی و اولاد کو معلوم ہے کہ میرے شوہر میری طرف سے قربانی ادا کررہے ہیں تو اس صورت میں صراحتاً اجازت نہ لینے کی صورت میں بھی قربانی ادا ہوجائے گی ۔
(ہندیہ، کتاب الاضحیۃ جلد 5، ص 362)
مسئلہ: قربانی کرنے والوں کے لئے مستحب ہے کہ ذوالحجہ کا چاند نظر آنے سے قربانی کرنے تک اپنے بال اور ناخن نہ کاٹیں، البتہ اگر کوئی شخص بال و ناخن کٹوا دیتا ہے تو اس سے نہ تو قربانی میں فرق آئے گا اور نہ ہی وہ شخص گناہ گار ہوگا (مسلم)
اعلی ٰحضرت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ یہ حکم یعنی ذوالحجہ کا چاند نظر آنے سے قربانی کرنے تک اپنے بال اور ناخن نہ کاٹیں۔ صرف استحبابی ہے کرے تو بہتر ہے، نہ کرے تو مضائقہ نہیں، نہ اس کو حکم عدولی کہہ سکتے ہیں، نہ قربانی میں نقص آنے کی کوئی وجہ (فتاویٰ رضویہ، کتاب الاضحیہ، جلد 20، ص 353)
مسئلہ: قربانی کا وقت دس ذوالحجہ کو طلوع صبح صادق سے بارہ ذوالحجہ کے غروب آفتاب تک ہے (ہندیہ، کتاب الاضحیۃ جلد 5، ص 364)
مسئلہ: شہر میں قربانی کرنے کے لئے ضروری ہے کہ نماز عید ہوجائے، لہذا شہر میں عید کی نماز سے قبل قربانی جائز نہیں (در مختار، کتاب الاضحیۃ جلد 9، ص 527)
مسئلہ: اگر شہر میں متعدد مقامات پر عید کی نماز ادا کی جاتی ہے تو پہلی جگہ نماز ہونے کے بعد قربانی جائز ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ قریبی مسجد میں نماز ادا ہونے کے بعد قربانی صحیح ہوگی (رد المحتار، کتاب الاضحیۃ، جلد 9، ص 528)
مسئلہ: قربانی صرف تین دن ہے۔ امام طحاوی علیہ الرحمہ نے حضرت ابن عباس رضی اﷲ عنہما سے بسند جید روایت کی ہے کہ یوم نحر (یعنی دس ذوالحجہ) کے بعد قربانی مزید دو دن اور ہے (البنایہ جلد 12، ص 28، مطبوعہ بیروت، جوہر النقی جلد 9، ص 296، بیروت)
٭ حضرت نافع رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عبداﷲ ابن عمر رضی اﷲ عنہما نے فرمایا کہ قربانی یوم الضحیٰ یعنی دس ذوالحجہ کے بعد دو دن تک ہے (مرأۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح باب صلوٰۃ العیدین الفصل الثالث، حدیث 1389، ص 368، مطبوعہ قادری پبلشرز اردو بازار لاہور)
٭ امام بیہقی علیہ الرحمہ، حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ یوم النحر (یعنی دس ذوالحجہ) کے بعد قربانی کے مزید دو دن ہیں (سنن الکبریٰ، جلد 9، ص 297، مطبوعہ بیروت)
الحمدﷲ چودہ سو سال سے لوگ صرف عیدالاضحیٰ میں صرف تین دن قربانی کرتے چلے آرہے ہیں اور یہی سنت رسول اور سنت صحابہ ہے۔ اب بھی پوری دنیا میں حرمین طیبین، پاکستان، ہندوستان، افغانستان، انڈونیشیا، عراق، ایران، مصر، شام، بنگلہ دیش، اردن، عمان، لبنان اور سوڈان وغیرہ سمیت ہر ملک میں صرف تین دن یعنی دس، گیارہ اور بارہ ذوالحجہ کے دن قربانی ہوتی ہے لہذا چوتھے دن قربانی کرنا اس اُمّت میں انتشار پھیلانا ہے۔
مسئلہ: قربانی کے جانور تین قسم کے ہیں۔ (1) اونٹ (2) گائے (3) بکری
ان تین قسموں میں ان کی نوعیں بھی داخل ہیں۔ نر، مادہ، خصی اور غیر خصی سب کی قربانی ہوسکتی ہے نیز بھینس کو گائے میں اور بھیڑ و دنبہ کو بکری میں شمار کیا جائے گا (ہندیہ، کتاب الاضحیۃ جلد 5، ص 367)
مسئلہ: اونٹ پانچ سال، گائے دو سال اور بکری ایک سال کی ہونا ضروری ہے۔ دنبہ یا بھیڑ کا چھ ماہ کا بچہ اگر اتنا بڑا ہوکہ دور سے دیکھنے میں سال بھر کا معلوم ہوتا ہو تو اس کی قربانی جائز ہے (دور سے دیکھنے سے مراد یہ ہے کہ اگر اس دنبہ کو ایک سال کے دنبوں کے ساتھ شامل کیا جائے تو اب تمیز ممکن نہ رہے کہ کون سا سات ماہ کا ہے اور کون ایک سال کا ۔
(الدرالمختار، کتاب الاضحیۃ جلد 9، ص 533)
مسئلہ: قربانی کے جانور کے لئے مخصوص عمر کا ہونا ضروری ہے۔ اس عمر سے کم میں قربانی ادا نہیں ہوگی، لہذا اگر کوئی جانور دیکھنے سے پوری عمر کا معلوم ہوتا ہے لیکن (یقین کے ساتھ) معلوم ہوکہ اس کی عمر پوری نہیں تو اس کی قربانی جائز نہیں۔ اسی طرح اگر کسی شخص نے جانور پالا اور اسے معلوم ہے کہ اس جانور کی عمر پوری ہے لیکن دیکھنے میں پوری عمر کا نہیں لگتا تو اس کی قربانی جائز ہے۔
قربانی کے جانور میں اصل اعتبار عمر کا ہے، دانت کا نہیں لہذا اگر کوئی بکرا دو سال کا ہے اور اس کے سامنے کے دانت نہیں نکلے تو اس کی قربانی جائز ہے (الدرالمختار، کتاب الاضحیۃ، جلد 9، ص533)
مسئلہ: جس جانور کے پیدائشی سینگ نہ ہوں اس کی قربانی جائز ہے (تنویر الابصار، جلد 9، ص 535)
(اگر سینگ تھے لیکن بالکل جڑ سے ٹوٹ گئے ہوں تو قربانی جائز نہیں (اگرچہ ایک ہی سینگ ٹوٹا ہو) ہاں اگر صرف اوپر سے گھس (رگڑ) گیا ہو تو اس کی قربانی جائز ہے (ہندیہ کتاب، الاصحیۃ، جلد 5،ص 367)
مسئلہ: خصی یعنی جس کے فوطوں کو نکال دیاگیا ہو، اس کی قربانی جائز ہے (یعنی اس کو نقص میں شمار نہیں کیا جائے گا، کیونکہ آقاﷺ نے خود خصی جانور ذبح فرمائے (تنویر الابصار، کتاب الاضحیۃ، جلد 9، ص 535)
مسئلہ: اتنا کمزور جانور جس کی ہڈیوں میں مغز نہ ہو، اس کی قربانی جائز نہیں۔ ہاں اگر تھوڑا بہت کمزور ہو اور ہڈیوں میں مغز بھی ہو تو اس کی قربانی جائز ہے (در مختار، کتاب الاضحیۃ، جلد 9، ص 535)
مسئلہ: جو جانور قربان گاہ تک اپنے پائوں سے نہ جاسکے، اس کی قربانی جائز نہیں (در مختار، جلد 9، ص 536)
مسئلہ: اگر جانور اتنا لنگڑا ہے کہ تین پائوں سے چلتا ہے، چوتھا پائوں رکھ کر نہیں چل سکتا تو اس کی قربانی جائز نہیں۔ ہاں اگر چوتھے پائوں سے سہارا لیتے ہوئے لنگڑا کر چلتا ہے تو اس کی قربانی جائز ہے (ردالمحتار، کتاب الاضحیۃ، جلد 9، ص 536)
مسئلہ: کان اگر تہائی سے زیادہ کٹے ہوں تو اس کی قربانی جائز نہیں، اگر تہائی یا اس سے کم ہوں تو قربانی جائز ہے (تنویر الابصار، کتاب الاضحیۃ، جلد 9، ص 536)
مسئلہ: اگر کسی جانور کے دونوں کان تہائی سے کم کٹے ہوں تو اس کی قربانی جائز ہے، اگرچہ دونوں کو جمع کرنے سے تہائی سے زیادہ ہوجائے (ہندیہ، کتاب الاضحیۃ، جلد 5، ص 368)
مسئلہ: اگر کسی جانور کے پیدائشی کان ہی نہ ہوں (اگرچہ ایک) تو اس کی قربانی بھی جائز نہیں۔ ہاں اگر کان چھوٹے ہوں تو اس کی قربانی جائز ہے (ہندیہ، کتاب الاضحیۃ، جلد 5، ص368)
مسئلہ: جس جانور کی دم تہائی سے زیادہ کٹی ہو یا پیدائشی دم ہی نہ ہو تو اس کی قربانی جائز نہیں۔ ہاں اگر تہائی یا اس سے کم کٹی ہو تو قربانی جائز ہے (ہندیہ، کتاب الاضحیۃ، جلد5، ص 368)
مسئلہ: جس جانور کے دانت بالکل نہ ہوں اور وہ چارہ کھانے کی صلاحیت بھی نہ رکھتا ہو تو اس کی قربانی جائز نہیں۔ ہاں اگر کچھ دانت نہ ہونے کے باوجود چارہ کھانے میں دقت نہیں ہوتی تو اس کی قربانی جائز ہے (ہندیہ، کتاب الاضحیۃ، جلد 5، ص 368)
مسئلہ: جس جانور کی ناک کٹی ہوئی ہو اس کی قربانی جائز نہیں۔ (ہندیہ، کتاب الاضحیۃ، جلد 5، ص 368)
مسئلہ: جس جانور کی زبان کٹی ہوئی ہو جس کی وجہ سے وہ چارہ نہ کھاسکے تو اس کی قربانی جائز نہیں، لیکن اگر چارہ کھانے میں دقت نہیں ہورہی تو اس کی قربانی جائز ہے (ہندیہ)
مسئلہ: جس جانور کے تھن کٹے ہوئے ہوں یا خشک ہوگئے ہوں، اس کی قربانی جائز نہیں (در مختار، کتاب الاصحیۃ، جلد 5، ص 369)
مسئلہ: بکری میں (کم از کم) ایک اور گائے میں دو تھن خشک ہوگئے ہوں تو اس کی قربانی کرنا جائز نہیں۔ (ہندیہ، کتاب الاضحیۃ، جلد 5، ص 369)
مسئلہ: اگر کسی غنی (مالک نصاب) نے بے عیب جانور خریدا اور بعد میں عیب دار ہوگیا تو اس کی قربانی جائز نہیں (اس کے بدلے دوسرا بے عیب جانور قربان کرنا ضروری ہے)
مسئلہ: ہاں اگر فقیر نے بے عیب جانور قربانی کے لئے خریدا اور بعد میں عیب دار ہوجائے تو اس پر لازم نہیں کہ دوسرا جانور ذبح کرے (بلکہ اسی عیب دار جانور کو ذبح کرنے سے اس کی قربانی ہوجائے گی) (در مختار، کتاب الاصحیۃ، جلد 9، ص 539)
مسئلہ: اگر کسی نے عیب دار جانور خریدا اور قربانی سے پہلے وہ صحیح (بے عیب) ہوگیا، تو اس کی قربانی جائز ہے (رد المحتار، کتاب الاضحیۃ، جلد 9، ص 539)
اگر کسی شخص نے عیب دار جانور خریدا اور بوقت ذبح وہ عیب دار ہی رہا تو فقیر اس کی قربانی کرسکتا ہے لیکن غنی پر لازم ہے کہ بے عیب جانور کی قربانی کرے (الدر المختار، کتاب الاضحیۃ، جلد 9، ص 539)
مسئلہ: اگر کوئی جانور بوقت ذبح عیب دار ہوگیا تو اس کی قربانی (غنی و فقیر دونوں کے لئے) جائز ہے (الدر المختار و ردالمحتار، کتاب الاضحیۃ، جلد 9، ص 539)
مسئلہ: بڑے جانور (گائے، بیل، اونٹ) میں سات حصے ہوتے ہیں جبکہ چھوٹے جانور (بکری، دنبہ، مینڈھا) میں صرف ایک حصہ ہوتا ہے۔
مسئلہ: گھر کے تمام افراد جن پر قربانی واجب ہے ان تمام کے حصے نکالنے کے بعد جو حصے بقیہ رہ جائیں، ان میں عقیقہ بھی کرسکتے ہیں اور مرحومین کے ایصال ثواب کی نیت سے بھی قربانی کرسکتے ہیں۔
مسئلہ: بڑے جانور کے ساتوں شرکاء میں گوشت وزن کرکے برابر برابر تقسیم کرنا ضروری ہے (اندازے سے تقسیم کرنے میں قوی امکان ہے کہ کسی کو کم اور کسی کو زیادہ ملے گا اور یہ صورت ناجائز ہے) تبیین الحقائق، کتاب الاصحیۃ، جلد 6، ص 476)
مسئلہ: بوقت ذبح جانور کا رخ قبلہ کی جانب رکھنا سنت ہے نیز اس کا ترک کرنا مکروہ ہے (یعنی قربانی ادا ہوجائے گی، لیکن شریعت غیر قبلہ کی جانب ذبح کو پسند نہیں کرتی) در مختار، کتاب الذبائح، جلد 2، ص 439)
جانور ذبح کرنے سے پہلے یہ دعا پڑھنا سنت ہے
(ابو دائود، باب مایستحب من الضحایا)
ذبح میں کم از کم چار رگیں یا تین رگیں ضرور کٹنی چاہئیں۔ ذبح کے بعد یہ دعا پڑھیں۔

(بہار شریعت)

مسئلہ: قربانی سے قبل دعا پڑھنا سنت ہے۔ لہذا اگر کوئی شخص دعا نہیں پڑھتا تو فقط ثواب سے محروم رہے گا۔ قربانی پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ البتہ بوقت ذبح تسمیہ (بسم اﷲ اﷲ اکبر) نہ پڑھی جائے تو ذبیحہ حلال ہی نہیں ہوگا (جوہرہ نیرہ، کتاب الصید والذبائح، جلد 2، ص 437)
مسئلہ: ذبح کرنے والے نے جان بوجھ کر (بسم اﷲ اﷲ اکبر) نہ پڑھا تو ذبیحہ حلال نہیں ہوگا (جوہرہ نیرہ، کتاب الصید والذبائح، جلد 2، ص 437)
مسئلہ: ار کسی شخص کا تسمیہ (بسم اﷲ اﷲ اکبر) پڑھنے کا ارادہ ہو لیکن بوقت ذبح بھول جائے تو اس صورت میں ذبیحہ حلال ہوجائے گا (در مختار، کتاب الذبائح، جلد 9، ص 499)
مسئلہ: اگر کسی شخص نے ذبح کے وقت تسمیہ پڑھنے کا مسئلہ شرعی معلوم نہیں تھا اور نہ ہی کبھی جانور ذبح کرتے وقت اس نے تسمیہ پڑھی تو اس کے ذبح کئے ہوئے تمام جانور مردار ہوں گے (کیونکہ دارالسلام میں جہالت عذر نہیں ہوتی) نیز اس کا گوشت کھانا بھی حلال نہیں) (ہندیہ، کتاب الذبائح، جلد 5، ص 353)
مسئلہ: اگر کسی شخص نے جانور ذبح کرتے وقت فقط بسم اﷲ کہا اور اﷲ اکبر نہ کہا تو یہ ذبیحہ حلال شمار کیا جائے گا البتہ سنت یہی ہے کہ بسم اﷲ اﷲ اکبر کہہ کر ذبح کیا جائے (بحر الرائق، کتاب الذبائح، جلد 8، ص 309)
مسئلہ: دو لوگوں نے جانور اس طرح ذبح کیا کہ دونوں کا ہاتھ چھری پر تھا تو دونوں پر تسمیہ (بسم اﷲ، اﷲ اکبر) پڑھنا واجب ہے۔ اگر کسی ایک نے بھی قصداً (جان بوجھ کر) تسمیہ نہ پڑھی یا یہ خیال کیاکہ دوسرے نے پڑھ لی ہے، مجھے پڑھنے کی ضرورت نہیں تو ذبیحہ حلال نہیں ہوگا۔ ہاں اگر قصاب نے فقط جانور کی گردن و ٹانگیں پکڑی ہوئی ہیں، آلہ ذبح (چھری) پر اس کا ہاتھ نہیں تو قصاب کا تسمیہ پڑھنا ضروری نہیں (رد المحتار، کتاب الاصحیۃ، جلد9، ص 551)
مسئلہ: قربانی کی کھالیں دینی اور فلاحی اداروں کو دیں، خصوصا مدارس اہلسنت اور تنظیمات اہلسنت کو دیں۔ گستاخ و بے ادب فرقے سے تعلق رکھنے والے اداروں کو نہ دیں۔
مسئلہ: عید کے دن روزہ رکھنا حرام ہے، البتہ قربانی کرنے والے کے لئے مستحب ہے کہ عید کے دن قربانی سے پہلے کچھ نہ کھائے (یعنی قربانی کے گوشت سے ہی ابتداء کرے) مگر یہ روزہ نہیں (اگر کچھ کھا بھی لے تو کوئی مضائقہ نہیں۔ قربانی کے گوشت میں سے تناول کرنا سنت ہے)
تکبیر تشریق کے مسائل
تکبیر تشریق یہ ہے۔
مسئلہ: تکبیر تشریق نویں ذوالحجہ کی فجر سے تیرہویں ذوالحجہ کی عصر تک ہر نماز فرض پنجگانہ کے بعد جو جماعت مستحبہ کے ساتھ ادا کی گئی، ایک مرتبہ (بلند آواز سے) پڑھنا واجب اور تین مرتبہ افضل ہے۔
مسئلہ: تکبیر تشریق فرض نماز کے سلام کے فوراً بعد پڑھنا واجب ہے لہذا اگر کوئی شخص بات چیت میں مصروف ہوگیا یا مسجد سے باہر چلا گیا تو تکبیر ساقط ہوگئیں (ہندیہ، کتاب الصلوٰۃ، جلد اول، ص 167)
مسئلہ: عورتیں گھر میں (انفرادی) نماز پڑھیں تو (امام اعظم ابوحنیفہ علیہ الرحمہ کے مطابق) ان پر تکبیر تشریق کہنا واجب نہیں (جوہرہ نیرہ، باب صلوٰۃ العیدین، جلد اول، ص 239)
مسئلہ: جو شخص نماز باجماعت میں دیر سے شامل ہوا، اس پر بھی تکبیر واجب ہے مگر تکبیر اس وقت کہے جب وہ خود سلام پھیرے (ہندیہ، کتاب الصلوٰۃ، جلد اول، ص 168)
مسئلہ: نفل و سنت و وتر کے بعد تکبیر واجب نہیں اور جمعہ کے بعد واجب ہے (الدرالمختار و ردالمحتار، کتاب الصلوٰۃ جلد3، ص 73)
مسئلہ: تنہا نماز پڑھنے والے پر تکب یر واجب نہیں (در مختار، کتاب الصلوٰۃ، جلد 3، ص 73)
مسئلہ: امام نے تکبیر نہ کہی جب بھی مقتدی پر کہنا واجب ہے (ہندیہ، کتاب الصلوٰۃ، جلد اول، ص 168)
مسئلہ: اگر فرض نماز (باجماعت) کے بعد تکبیر تشریق کہنا بھول گیا تو بعد میں اس کی قضاء نہیں، فقط توبہ کی جائے تاکہ گناہ معاف ہوجائے (بدائع الصنائع، کتاب الصلوٰۃ، جلد اول، ص 291)
عید کا انمول وظیفہ
جو شخص عید کے دن 300 مرتبہ سبحان اﷲ وبحمدہ پڑھ کر تمام فوت شدہ مسلمانوں کو اس کا ثواب ایصال کردے تو اﷲ تعالیٰ تمام مرحومین کی قبور میں ایک ہزار نور داخل فرمائے گا اور جب یہ پڑھنے والا اس دنیا سے رخصت ہوگا تو اس کی قبور میں بھی ایک ہزار نور داخل ہوں گے۔