آرٹ اور تفریح کے نام پر ذہن و فکر کو منجمد کرنے کی سازش

in Tahaffuz, October 2014, ذیشان احمد مصباحی, متفرقا ت

آرٹ اور تفریح (Entertainment) زندگی میں ضروری بھی ہیں اور زندہ ثقافت کی علامت بھی، ان کی مخالفت زندہ قدروں کی مخالفت ہے جسے حساس طبیعتیں گوارا نہیں کرسکتیں، آرٹ ثقافت کا ترجمان ہوتا ہے، کسی بھی عہد کے آرٹ سے اس عہد کی طرز زندگی، فکری رجحان اور معاشی، اقتصادی اور سماجی صورت حال کا اندازہ کیا جاسکتا ہے،جبکہ تفریح آرٹ ہی کا ایک حصہ ہے جسے ارباب ذوق ہر دور میں ذہنی و جسمانی تھکن سے آسودگی کے لئے مختلف انداز میں برتتے آرہے ہیں۔ کسی بھی تہذیب کی تشکیل میں ان کا بڑا اہم رول ہوتا ہے۔
آرٹ اور تفریح کے مفہوم کو ذہن میں اتارنے کے بعد یہ سمجھ لینا مشکل نہیں ہوگا کہ یہ ہر آن تجدد اور تنوع کے متقاضی ہیں، ان میں یکسانیت نشاط کی جگہ اکتاہٹ پیدا کردے گی جو کسی طور پربھی ان کے اصل مفہوم سے میل نہیں کھاتی۔ اس کے معنی یہ ہوئے کہ آرٹ اور تفریح کے اندر یک رنگی، جمود، قدامت کی طلب اور تنوع اور تغیر و تبدل سے گریز نہ صرف ان کے مفہوم سے ناواقفی ہے بلکہ بدمذاقی کی اعلیٰ مثال ہے جسے زندہ دلان دہر اپنے لئے کسی گالی سے کم نہیں سمجھتے۔
آرٹ اور تفریح چونکہ فکر ونظر کی بھی ترجمانی کرتے ہیں، اس لئے آرٹ پر ایمان لانا بالواسطہ اس فکر ونظر کو تسلیم کرنا ہے جو اس آرٹ کے درپردہ کارفرما ہوتی ہے، دہلی کی جامع مسجد بھی ایک آرٹ کی مثال ہے، جو عقیدت کو توحید کا درس دیتی اور ایک خدا کے حضور جبیں سائی کی دعوت دیتی ہے اور سومناتھ کا مندر بھی آرٹ کا ایک نمونہ ہے جس سے شرک کا دھواں اٹھتا ہے اور کفر کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔ اس سے ان لوگوں کو اپنے فکری توہمات سے باہر آجانا چاہئے جو مطلقاً آرٹ کی موافقت یا مخالفت کو اپنا فریضہ سمجھتے ہیں۔
انٹرٹینمنٹ کا مقصد چونکہ ذہنی و جسمانی راحت سے زیادہ کچھ بھی نہیں، یہ انسان کی مجبوری ہے شوق یا مطلوب نہیں، سیروسپاٹ اور تفریح و سیاحت کے حوالے سے جتنی باتیں کہی جاتی ہیں سب کا حامل اس سے زیادہ نہیں کہ انسان ہر وقت زندگی کے مسائل کے ساتھ لڑتا، الجھتا رہتا ہے، جس سے اس کے اعصاب بری طرح متاثر ہوتے ہیں، اس لئے زندگی میں کچھ ایسے سامان بھی مہیا ہونے چاہئیں جن سے اعصاب کو تھوڑی دیر راحت پہنچائی جاسکے، تاکہ پھر وہ اپنی سابقہ نشاط و رفتار سے روبہ عمل ہوسکیں۔
حالانکہ اولوالعزم اور نمبرون انسانوں کے لئے آرام کا تصور ہی زہر قاتل ہے، زندگی بڑی مختصر ملی ہے انسان کو، اگر اس نے اس کا بڑا حصہ سیر و تفریح میں گزار دیا تو وہ کوئی مثالی یا تعمیری کام نہیں کرسکتا، جو دوسروں کے لئے بہتر ہو، اسلام نے لہوولعب کے تصور کا اسی لئے انکار کیا ہے کہ اس کا مقصودانسانوں کو مثالی بنانا ہے۔ لیکن اس کے باوجود راحت کے جو فطری تقاضے ہیں اور جسم کو جو طبعی طلب ہے اس سے گریز بھی ممکن نہیں۔ قرآن کا ارشاد:
وجعلنا اللیل لباساً و جعلنا النہار معاشا
میں اسی حقیقت کا خوبصورت استعاراتی اظہار ہے۔ پیغمبر علم و حکمت کے ارشاد و عمل سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے اور یہی عقل کا بھی فیصلہ ہے کہ انٹرٹینمنٹ یا تفریح ذہنی و جسمانی آسودگی پیدا کرنے کے لئے ہے، جسم و دماغ کو تھکانے کے لئے نہیں، اس لئے تفریح یا انٹرٹینمنٹ کے نام پر اگر کوئی ایسا مشغلہ چھیڑ دے جس سے اعصاب راحت پانے کی بجائے مزید تھکان سے دوچار ہوجائیں یا زندگی کے جو حقیقی امور و معاملات اور حقائق و مسائل ہیں، اس سے ان میں رکاوٹ پیدا ہو تو سمجھ لینا چاہئے وہ تفریح نہیں، بے وقوف بنانے کی مشین ہے جو انسانوں کو ان کے حقیقی مسائل سے روک کر لغویات میں الجھانا چاہتی ہے۔
ان آفاقی سچائیوں کو سامنے رکھتے ہوئے توہمات، مفروضات اور مرعوبیات کے طلسم سے باہر آکر ہمیں عصر حاضر کے آرٹ اور تفریح کے سامانوں کا جائزہ لینا چاہئے اور ہر لیت اور لعل سے پرے صداقتوں کا کھلے دل سے اعتراف کرنا چاہئے۔ جن کی نظریں مسدود اور فکریں محدود ہیں وہ بے نقاب سچائیوں کی آنکھوں میں آنکھیں نہیں ڈال سکتے۔ یہ عجیب اتفاق ہے کہ موجودہ دنیا ماضی و فردا میں الجھ کر رہ گئی ہے۔ ماضی کو چاہے جتنا مطعون کرلو، مستقبل میں جتنے خیالی محل تعمیر کرلو، اس پر کوئی پابندی نہیں، امروز کو مت کوسو، امروز کے حوالے سے نہ جانے کیوں یہ ذہنیت پروان چڑھتی جارہی ہے کہ ’’جیسا ہورہا ہے ہونے دو، امروز کو طعن و تشنیع کا نشانہ مت بنائو ورنہ زمانے کا جو مکھیہ دھارا (Main Stream) ہے اس سے کٹ جائو گے‘‘ دراصل یہی مردہ ذہنیت ہماری اس تحریر کی محرک اور اس کا مدعا ہے جسے پیش آمدہ سطریں ثابت کریں گی۔
آج کے آباد خرابے
آرٹ کی دنیا میں فیشن اور موسیقی اور انٹرٹینمنٹ کے جہان میں فلم اور کرکٹ عہد حاضر کے وہ اہم ترین عناصر ہیں جن سے اس کی روح کا ادراک اور اس میں شعوری یا غیر شعوری طور پر پرورش پارہے افکار و رجحانات کا جائزہ لیا جاسکتا ہے۔ تہذیب حاضرہ کے یہ وہ عناصر ہیں جو عصر حاضر کے شعور پر اس طرح مسلط ہیں کہ اس میں زندگی گزار رہے انسانوں کی نظر حقائق سے کٹ کر رہ گئی ہے۔ اس حقیقت کا عرفان اس وقت حاصل ہوت اہے جب نگاہیں چمکتی، چمچماتی اسکرین سے گزر کر ان ایوانوں تک پہنچتی ہیں جہاں سے اسے روشنی فراہم کی جاتی ہے اور جن میں موجود دماغ حق وناحق یا ظلم وانصاف کے خود سے نظریے بناتے ہیں اور پوری نوع انسانیت کو ان نظریات کی اسیر بنالینے کی منصوبہ بناتے ہیں۔ ان نظریات کے ابلاغ کے لئے وہ درج بالا عناصر کا بھی فنکارانہ استعمال کرتے ہیں۔ لوگ ان خرافات میں اس طرح کھو جاتے ہیں کہ انہیں اپنے حقیقی مسائل کا احساس تک نہیں رہتا۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کا ایک عظیم مدبر، سیاست داں اور تاریخ کا ایک نادر ہیرو مرتا ہے تو دوسرے دن ہی وہ خبر لوگوں کے لئے باسی ہوجاتی ہے اور ذرائع ابلاغ اسے تاریخ کے ڈسٹ بن میں ڈال کر آگے بڑھ جاتے ہیں اور ایک کرکٹ کا ماہر اور کھلاڑیوں کا استاد مرتا ہے تو لوگ ہفتوں ہفتوں اس کی گتھیاں سلجھانے اور ذرائع ابلاغ اس پر تبصرے و تجزیے کرنے میں اس طرح منہمک ہوجاتے ہیں گویا یہ وقت کا ایسا سانحہ ہو جس سے تاریخ کا رخ تبدیل ہونے کے ہو۔ جہیز کی لعنت میں گرفتار قوم کی درجنوں بیٹیاں شادی کے غم میں جانیں دے رہی ہیں، مگر ان کا کوئی ذکر نہیں، لیکن ایک اداکارہ کی شادی ہونے والی ہے تو پورا ملک شادیانے بجانے میں مصروف ہے۔ ’’عراق میں 80 افراد جاں بحق‘‘ یہ سرخی پڑھ کر سرسری گزر جاتے ہیں اور ’’پاکستان کرکٹ ٹیم فائنل سے باہر‘‘ سن کر دل کا دورہ پڑجاتا ہے۔ یہ واضح دلیل ہے اس بات کی کہ موجودہ دنیا میں تفریح اور آرٹ کے نام پر جو خرافات وضع کئے گئے ہیں، انہوں نے ہماری فکری حریت کو محبوس کرکے رکھ دیاہے۔
فیشن
فیشن کے حق میں ایک بڑی دلیل یہ دی جاتی ہے کہ ایک ہی رنگ و آہنگ کے کپڑے پہننے کا مطالبہ فکری ترقی، عصری تجدد، سائنسی ارتقاء اور سماجی وسعت پذیری سے ناواقفیت کی دلیل ہے۔ اس حوالے سے ایک بہت بڑا معارضہ یہ پیش کیا جاتا ہے کہ فیشن کے سب سے بڑے مخالفین ’’اسلام پسند‘‘ آخر کیوں اپنے پوشاک اور وضع قطع میں تجدد و تنوع کے اصول پر عامل ہیں؟ کیا ان کا لباس وہی ہوتا ہے جو ان کے پیغمبر پہنا کرتے تھے؟ خود مختلف ممالک کے مذہبی رہنمائوں کے ملبوسات مختلف ہیں، بلکہ ایک ہی ملک میں مختلف زمانے میں مختلف ملبوسات کی روایتی ملتی ہے اور اسی تغیر و تنوع اور اختلاف و تجدد کا نام فیشن ہے، پھر فیشن کی مخالفت کیوں؟
فیشن حقیقت میں وہی مفہوم رکھتا ہے جس کی فیشن پرست وضاحت و وکالت کرتے ہیں، لیکن یہ لطیف فرق سمجھنے کا ہے کہ جو لوگ فیشن کی مخالفت کرتے ہیں، وہ فیشن کچھ الگ ہی معنی رکھتا ہے۔ یہ وہ فیشن ہے جس کے ذریعے ایک مخصوص تہذیب دنیا کی ساری قوموں پر مسلط کی جارہی ہے۔ اس کے لئے خوبصورت جسموں، لفظوں اور تعبیروں کا سہارا لیا جارہا ہے۔ ’’فیشن شوز‘‘ کے آغاز سے انجام تک کا جائزہ لیجئے اور سرمایہ داروں کی جسم و جاں کی سوداگری پر لعنت بھیجئے، حیرت ہے کہ Feminism جو (لفظوں میں) عورتوں کی حمایت اور ان کے حقوق کی بازیابی کی تحریک ہے، اس نے بھی حوا کی بیٹیوں کی چادریں چھیننے والوں کی عزت افزائی اور تائید فرمادی ہے، بلکہ Feminism کے نام پر شائع ہونے والے کسی میگزین کو اٹھا کر دیکھ لیجئے، اس میں عورتوں کو اقتدار دینے کی باتیں کم اور انہیں قحبہ خانوں میں لانے کی دعوت زیادہ ہوتی ہے۔ میں اکثر Feminism کے معنی میں مشکوک ہوجاتا ہوں کہ آیا اس کے معنی عورتوں کو مرد بنانے کی تحریک ہیں یا عورتوں کو مزید عورت بنانے اور مردوں کو نسوانی مرد بنانے کی تحریک؟
فیشن کی حمایت میں جن خوبصورت تعبیروں کا سہارا لیاجاتا ہے، ان میں ایک یہ بھی ہے کہ’’پوری دنیا میں وضع داریوں میں جو اختلافات ہیں اور جن کی وجہ سے اقوام عالم ایک دوسرے سے کھنچی رہتی ہیں، فیشن کے ذریعے بنی نوع انسانیت کو ایک رنگ میں رنگ کر ان کشیدگیوں کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے‘‘ لیکن سوال ہے کہ وہ رنگ جو پوری دنیا کا ہوکن دماغوں کا انتخاب کردہ ہے اور ان کے ذاتی مقاصد کیا ہیں؟ اس سوال پر غور کرنے سے ’’وحدت اقوام عالم‘‘ کے تصور سے جو ذہن کو آسودگی ملی تھی وہ اچانک درد میں تبدیل ہونے لگتی ہے۔چلتے چلتے فیشن کی ایک مثال دیتا چلوں، ابھی چند دنوں قبل اخبارات میں ایک نئی کار کی تصویر نظر سے گزری جس کے سامنے کا حصہ کسی جواں سال دوشیزہ کاتصور ہی نہیں تصویر بھی پیش کررہا تھا، سوال ہے کہ اس فیشن کا کیا پیغام ہے؟ کیا موجودہ آزاد دنیا اس سوال پر آزادانہ سوچنے کے لئے تیار ہے؟ حق بات یہ ہے کہ تنوع، تجدد، اختلاف، نیاپن وغیرہ کی وجہ سے فیشن کے اچھا یا برا ہونے کا فیصلہ نہیں کیا جاسکتا۔ اس کی اچھائی اور برائی کی بنیاد اس پیغام پر ہے جو تنوع، تجدد سے نکل کر بہ آسانی نظرین کے ذہن وفکر میں اتر جاتا ہے۔
موسیقی
موسیقی روح کی شراب ہے۔ شراب جسم کو مضمحل، اعصاب کو کمزور اور عقل کو مختل کردیتی ہے جبکہ موسیقی روح کو بے کیف، شعور کو مردہ اور احساس کو فنا کردیتی ہے۔ موسیقی اپنے مختلف ادوار سے گزر کر اب پاپ میوزک کے دور میں داخل ہوگئی ہے، جس میں انسان مست و بے خود ہوکر دنیا و مافیہا سے بے خبر ہوجاتا ہے۔ انسانیت کے سارے وصف رخصت ہوجاتے ہیں، وجود پر ایک عجیب درندگی چھا جاتی ہے،انگ انگ اور روم روم پر جنون سوار ہوجاتا ہے اور انسان عقل و شعور کی بلندیوں سے گر کر جنسی حیوانیت کے قعر عمیق میں ڈوب جاتا ہے۔ موسیقی کے تعلق سے آج کل عجیب و غریب گل افشانیاں کی جارہی ہیں۔ اسے (Spratuality) کا ذریعہ بتایا جارہا ہے، بہت سے افراد اپنے آپ کو روحانیت پسند صرف اس لئے کہتے ہیں کہوہ موسیقی پابندی سے سنتے ہیں۔ دراصل یہاں غلط فہمی یہ ہے کہ غلطی سے روح کی موت کو روحانیت سمجھ لیا گیا ہے، ہمیں اس سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ اسلامی روحانیت آخر موسیقی کے خلاف کیوں ہے؟
ویسے جس طرح پچھلے ہزار سالوں سے شراب کے حوالے سے مشکوک انسانوں کو سائنس نے حق کا آئینہ دکھا دیا۔ اب رفتہ رفتہ موسیقیت کے حوالے سے بھی علمی انکشافات کاآغاز ہوچکا ہے جس سے اس روحانی زہر کی تفہیم میں مشکوک انسانیت کو صحیح رہنمائی مل سکے گی۔
فلم
فلم اپنی مقصدیت کے اعتبار سے وہی فریضے انجام دیتا رہا ہے جنہیں فیشن پرستوں نے اپنے کندھوں پر اٹھا رکھا تھا۔ فیشن کی جاذب نظر تعبیر جس قبیح و شنیع معنی کی ترجمانی کرتی ہے۔ فلم نے اس کی ترویج و اشاعت میں مرکزی کردار ادا کیا۔ لیکن موجودہ دور میں فلم سے ایک اور کام لیا جارہاہے۔ خود ساختہ نظریات کی ذہن نشین تعبیر و تدریس، فلم بینوں کامقصد صرف تفریح ہوتا ہے، وہ اپنا موڈ فریش کرنے سنیما گھروں میں جاتے ہیں اور وہاں سے دہشت گردی، جہاد، مسلمانوں کا طرز عمل، سفید داڑھی کے کالے کرتوت، مسلم گھروں میں عورتوں کے حقوق کی پامالی، مسلمانوں کے وحشیانہ مزاج، حیوانی جذبات، عقلیت سے بیگانگی، مذہب کا تشدد وغیرہ درجنوںبلکہ سینکڑوں اسباق پڑھ کر اور یاد کرکے آجاتے ہیں۔ چونکہ انہیں اس کا احساس ہی نہیں ہوتا کہ کسی نے ان کو کچھ سمجھایا ہے، جس کے ردوقبول میں وہ غور کریں۔ وہ عموماً قوت فکر کو خود سے ہی پابجولاں کردیتے ہیں اور اس طرح فلم کے ذریعے پیش کئے گئے سارے پیغامات اور نظریات دماغ کے خانوں میں بیٹھ جاتے ہیں۔
کرکٹ
کرکٹ مینیا (جنون) نے آج صرف نئی نسل نہیں پرانی پیڑھی کو بھی خبطی بنادیا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ ہمارے وہ نمائندے جنہیں ہم نے اعلیٰ فکروشعور کا مالک سمجھ کر پارلیمنٹ بھیجا تھا، وہ بھی ملک کی تعمیر و ترقی اور قوم کے حقیقی مسائل پر غوروخوض کرنے کے اوقات کو کرکٹ بینی پر قربان کرنے کو تیار ہوجاتے ہیں۔ اساتذہ رخصت لے لیتے ہیں، طلبہ عین امتحانات کے ایام میں ٹیلی ویژن خرید کرلاتے ہیں اور کھیل کے اوقات کھیل دیکھتے اور باقی وقت تبصرے تجزیے میں گزار دیتے ہیں، تاجر کاروبار بند کردیتے ہیں، بنیا بہی کھاتا کی جگہ اسکور بورڈ پر دماغ کھپاتے ہیں، راہ گیر اچانک گاڑیاں روک کر اسکور معلوم کرتے ہیں، کسی کی سانس اکھڑی ہوئی، کسی کا چہرہ تمتمایا ہوا، کوئی تالیاں بجاتا ہے تو کوئی غلیظ گالیاں بکتا ہے، کہیں کباب اور بوتل کا دور تو کہیں ہاتھا پائی، اس سے بڑھ کرڈنڈے فنڈے، اپنی محبوب ٹیم کی ناکامی دیکھ کر کوئی دل کے دورے میں ہلاک ہوا تو کسی نے خودکشی کرکے اپنی جان دے دی۔ ان ساری صداقتوں کے باوجود کیا ہم کرکٹ کے موجودہ جنون کو سامان تفریح کہہ سکتے ہیں، کیا اتنی بات بھی ہم نہیں سمجھ سکتے کہ تفریح اور جنون میں دور دور کا بھی رشتہ نہیں ہوتا؟
کرکٹ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس سے بین الممالکی رشتے ہموار ہوتے ہیں، ہمیں نہیں معٰلوم کہ کرکٹ نے امریکہ اور آسٹریلیا کے ساتھ کتنے تجارتی، صنعتی اور ایٹمی مسائل حل کئے ہیں لیکن جو بات ہمارے مشاہدے میں آتی ہے، وہ فقط یہ کہ ہندو پاک میچ کی وجہ سے ہندوئوں اور مسلمانوں کے تعلقات مزید کشیدہ ہوجاتے ہیں۔ ہندوستان میں ٹوپی پہن کر ہندو محلوں سے گزرنا مشکل ہوجاتا ہے اور ان کے تعلق سے دہشت گردی کے خدشات اور بڑھ جاتے ہیں۔ پاکستان کرکٹ کی حالیہ شکست پر تحسین منور کے اس شعر سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ کرکٹ سے کس قدر بین الاقوامی اتحاد و اخوت کا سرا جڑا ہوا ہے۔ جناب کھلاڑیوں کو مخاطب کرکے کہتے ہیں:
ہار کا ہار لئے لوٹ کر آنے والو
تم کو دشمن کو ہرانے کے لئے بھیجا تھا
کرکٹ کے تعلق سے میڈیا سے لے کر عوام تک کے جو رجحانات بن گئے ہیں یا بنادیئے گئے ہیں، ان کے پیش نظر اسے ’’کھیل‘‘ کہنا ہی غلط ہے۔ کھیل میں فتح و شکست دونوں پہلو ایسے ممکنات ہیں کہ کسی ایک کی صورت میں نہ تو بہت حیرت کی ضرورت ہے اور نہ ہی واویلا اور آہ و فغاں کی۔ یہاں تو اگر ملک کی ٹیم شکست کھا گئی تو پوری قوم اور ذرائع ابلاغ کا سارا قہر کھلاڑیوں پر اس طرح ٹوٹ جاتا ہے گویا انہوں نے ملک کے ساتھ بہت بڑی غداری کردی ہو۔ ان کی تصویریں جلائی جاتی ہیں، ان کے گھروں پر پتھرائو کیا جاتا ہے اور عورتیں انہیں چوڑیاں پہننے کی دعوت دیتی ہیں۔ آخر یہ حماقتیں کیاہیں اور کیوں اور کیسے پیدا ہوئی ہیں؟ کیا اس کا صاف یہ مطلب نہیں ہے کہ تفریح کے نام پر دنیا ایسے خرافات میں الجھ گئی ہے کہ اس کے عمومی ذہن نے صحیح سمت میں کام کرنا بند کردیا ہے اور زندگی کے حقیقی مسائل اس کے نزدیک غیر اہم ہوکر رہ گئے ہیں۔
ڈرامہ یا حقیقت
ہمارے سامنے اس وقت مصطفی السعدنی کا ڈرامہ ’’الکومیدیا الیہودیہ‘‘ رکھا ہوا ہے، بے ساختہ جی چاہتا ہے کہ اس سے چند اقتباسات نقل کردوں (ان اقتباسات کی اس مضمون کے ساتھ کیانسبت ہے، قارئین خود سمجھ لیںگے) ڈرامے کا ایک کردار ’’ایلیا‘‘ ڈرامے کی مرکزی کردار ’’سارا‘‘ کو اپنے منصوبے سمجھاتے ہوئے کہتا ہے:
’’ہم چاہتے ہیں کہ اچھوتوں (غیر یہود) سے ہم ان کے وہ اوصاف ختم کردیں جن کو انہوں نے دور اخیر کی پیش قدمیوں میں حاصل کئے ہیں، ان کی فکری قوتیں محدود کردیں، ان کے تخیلات کو پرواز سے روک دیں اور ان میں فکری حماقت اور دائمی جذبات بھردیں‘‘
ایک دوسرا فلسفہ سمجھاتے ہوئے:
’’نفسانی خواہشات انسانی خصائص میں ہیں جن میںیہود اور اچھوت مشترک ہیں، فرق بس یہ ہے کہ ہم نے نفسانی خواہشات کو مغلوب کردیا جبکہ اس کے برعکس اچھوتوں کو سیکس نے مغلوب کردیا، وہ سیکس سے ایسے ہی ڈرتے ہیںجیسے موت اور شیطان سے‘‘
ڈرامے کا ایک دوسرا کردار ’’حائیم‘‘ اسی مرکزی کردار ’’سارا‘‘ کی فکری تشکیل ان الفاظ میں کرتا ہے:
’’مختصر یہ کہ ہمیںشیطانی طریقوں پر چلنا ہے تاکہ ان کے توسط سے عالمی قیادت کے تعلق سے ہم خدا کی خوشنودی حاصل کرسکیں اور جب ہم کامیاب ہوجائیں گے تو پھر شیطان کو دھتکار دیں گے‘‘
ہمارے اہم ٹارگٹس یہ ہیں کہ ہمیں روئے زمین سے شرافت اور اخلاق کو مٹا دینا ہے۔ ہم اس دنیا کو کمینوں کی بستی بنادیں گے، ہمیں شروفساد اور کمینگی کو عام کرنا ہے، یہاں تک کہ یہ حیوانات (غیر یہود) ان میں ڈوب جائیں۔ اس طرح ہم باآسانی ایسی فضا بنانے میں کامیاب ہوجائیں گے جہاں ان حیوانوں کوذلیل وخوار کرکے نیست و نابود کردیں‘‘
یہ ایک ڈرامے کے اقتباسات ہیں جو سترہویں صدی عیسوی کے نصف آخر کے داخلی معاشرے کی منظر کشی کرتا ہے، جب ’’مسیحیت کی نشاۃ ثانیہ‘‘ کے نام پر اس میں موجود روحانی رمق کا خاتمہ کردیا گیا تھا، اسلام کا آفتاب اقبال روبہ زوال تھا، مسلم حکمراں دنیا پر اور یہود دوشیزائیں حکمرانوں کے دلوں پر حکومت کررہی تھیں، یہودی عقیدے کے مطابق مسیح منتظر کا انتظار ختم ہورہا تھا اور وہ ’’عالمی قیادت‘‘ کیلئے عجیب و غریب خواب دیکھ رہے تھے۔ ڈرامے کے ساڑھے تین سو سالہ قدیم اس خیالی منظر سے نکل کر جب ہم آج کی دنیا کا جائزہ لیتے ہیں تو اس منظر کو ’’ڈرامہ‘‘ سے تعبیر کرتے ہوئے ہمیں اپنے لفظوں پر اعتبار نہیں آتا۔
ہمارے لئے کرنے کا کیا ہے؟
سب سے پہلے ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ موجودہ دنیا فی الواقع Global Village (عالمی گائوں) بن گئی ہے۔ ایسا گائوں جس کے ہر محلے میں الگ الگ گاشتے ہیں، ان میں کوئی بے زور ہے، کوئی کمزور اور کوئی شہ زور، بعض محلے مسلمانوں کے بھی زیر اثر ہیں، لیکن وہ مسلم لیڈر ایک تو باہم متفق نہیں، دوسرے خارجی امور اور بہت سے داخلی امور میں بھی وہ چاہ کر بھی گائوں کے بڑے لیڈر (پردھان) کی مخالفت نہیں کرسکتے۔ اس گائوں میں مختلف مذاہب اور روایتوں کے لوگ بستے ہیں۔ اس گائوں میں چند ایسے مفکر اور دانش ور ہیںجو خدا کے منکر ہیں، گائوں کا ہر بچہ ان کی باتیں سنتا اور متاثر و مرعوب ہوتا ہے، اس گائوں میں مسلمانوں کی آبادی اقلیت میں ہے اور بکھری ہوئی ہے، مسلمان مالی، تجارتی اورصنعتی اعتبار سے کافی کمزور ہیں، لیکن باوجود اس کے مسلمانوں کے اندر عرفان حق کا جوہر موجود ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ گائوں کے دوسرے لوگوں کو بھی اس حق سے آگاہ کردیں، مگر مشکل یہ ہے کہ وہ اس قابل نہیں کہ گائوں کے مالدار ’’اسکولیے‘‘ لوگوں کے ساتھ بیٹھ سکیں، اگر کوئی بیٹھتا بھی ہے تو اسے سنانے کے بجائے جی حضوری کرنی پڑتی ہے۔ گائوں کے سارے اسکول اور کارخانے غیر مسلموں کے ہیں، جن پر ملحد دانشوروں کا فکری تسلط ہے۔ گائوں کے دوسرے مذاہب کے لوگ اپنے مذہب اور روایت کو تاریخ کا ایک حصہ باور کرچکے ہیں اور اپنے اوپر انہی ملحد دانشوروں کی خدائی کو مسلط کرلیا ہے۔یہ دانشور چاہتے ہیں کہ مسلمان بھی مذہب کو چھوڑ کر ہماری صف میں آجائیں۔ اس کے لئے گائوں میں مختلف میٹینگیں ہوتی ہیں، قراردادیں پاس کی جاتی ہیں، اسیے کھیل تماشے، طور طریقے، وضع داریاں، بڑے پن کی علامتیں، تعلیم یافتہ ہونے کی شناخت وضع کی جاتی ہیں جو مذہبی روح سے متصادم ہوں۔ فن اور تفریح کے نام پر آج جو کچھ ہورہا ہے،سب کا رشتہ کسی نہ کسی طرح اسی سے جڑا ہوتاہے، یہ چیزیں مذہبی روح سے متصادم ہوں۔ فن اور تفریح کے نام پر آج جو کچھ ہورہاہے، سب کا رشتہ کسی نہ کسی طرح اسی سے جڑا ہوتا ہے۔ یہ چیزیں مذہبی روح سے متصادم ہوں۔فن اور تفریح کے نام پر آج جو کچھ ہورہا ہے، سب کا رشتہ کسی نہ کسی طرح اسی سے جڑا ہوتا ہے۔ یہ چیزیں مذہبی رجحانات کی مخالفت میں ہوں یا غیر مذہبی رجحانات کی تائید میں، نتیجہ کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں۔
مسلمانوں کے بین الاقوامی مسائل اور ان کو درپیش عالمی چیلنجز پر سوچنے یا اظہار خیال کرنے کا سب سے آسان طریقہ یہی ہے کہ مذکورہ مفروضہ گائوں کے مسلمانوں کے تعلق سے سوچا جائے۔
غور کرنے سے اس گائوں کے مسلم باشندوں کے لئے چند ممکنہ راستے نظر آتے ہیں۔
1… مذہب نے انہیں گائوں کے اکثریتی سماج سے کاٹ رکھا ہے اور وہ علیحدگی اور پسماندگی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ اس لئے اب مزید اپنے کو پسماندہ چھوڑے رکھنے سے بہتر ہے کہ اپنے آپ کو اکثریت کے ساتھ ضم کرلیں۔ یہ چند جاہل نام نہاد مسلم دانشوروں کی رائے ہے جو اپنی مرعوبیت کی روشن خیالی سے تعبیر کرکے خوش ہوتے ہیں۔ لیکن یہ خیال قرآن کے اس ناقابل انکار فارمولے کے خلاف ہے
کم من فئۃ قلیلً غلبت فئۃ کثیرۃ باذن اﷲ
جس کے سیکڑوں شواہد تاریخ سے پیش کئے جاسکتے ہیں۔
2… مسلم نوجوانوں کے اندر دینی غیرت و حمیت بیدار کی جائے اور گائوں میں جہاں کہیں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف کوئی کام ہو، وہ نوجوان جان کو ہتھیلی پر رکھ کر اسے ناکام کردیں، اس پر ہلہ بول دیں، ایک ایسے گائوں میں جہاں مسلمان اقلیت، غربت اور جہالت کی زندگی گزار رہے ہوں، وہاں مسلم نوجوانوں کو ایسی تعلیم دینا کتنا مضر ہوگا، تصور کیا جاسکتا ہے۔
3… مسلمان چونکہ غربت اور ناخواندگی کے شکار ہیں، اس لئے اس وقت تک مذہب کی باتیں موقف کردیں جب تک مسلمان دولت مند اور تعلیم یافتہ نہیں ہوجاتے۔
4… اسلام کا ظہور ایک ’’عرب بستی‘‘ میں مخالفتوں کے ہجوم میں ہوا تھا۔ آج اس کا وجود ایک ’’عالمی بستی‘‘ میں مخالفوں کی زد میں ہے۔ شاید بداً الاسلام غریباً وسیعود کما بداً، اسلام کا ظہور اجنبی شکل میں ہوا اور اس کا انجام بھی اسی شکل میں ہوگا‘‘ کا یہی معنی ہو۔ اس کی تائید اس ارشاد سے بھی ہوتی ہی کہ ’’اس امت کے آخر کی اصلاح اسی طریقہ پر ہوگی جس طریقے سے اس کے اول کی اصلاح ہوئی تھی‘‘ اس کا مطلب یہ ہوا کہ آج ہمیں اپنی ساری دانشوری رسول گرامیﷺ کے قدموں میںنذر کردینی ہوگا اور ہمیں یقین کرلینا ہوگا کہ جو اسوہ اسلام کے آغاز میں کارگر ہوا۔ آجبھی وہی طریق مفید ہوگا۔ ہمارا کام صرف یہ ہے کہ رسول گرامی وقارﷺ کا جو اسوہ ایک عرب بستی میں تھا۔ ہم موجودہ ’’عالمی بستی‘‘ میں اس کی صحیح تطبیق کردیں، یہ تفہیم کا مرحلہ ہے، جس کے بعد تشکیل اور تعمیل کے مرحلوں کا آغاز ہوگا۔