حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ (گزشتہ سے پیوستہ)

in Tahaffuz, October 2014, خان آصف, شخصیات

جب حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ دیگ لے کر اس درویش کے قریب پہنچے تو وہ بھوک کی شدت سے اس قدر مضطرب ہوا کہ اس نے ابلتے ہوئے پانی میں بے جھجھک اپنا ہاتھ ڈال دیا۔ حضرت محبوب الٰہی علیہ الرحمہ اسے منع کرتے ہی رہ گئے… مگر درویش بار بار دیگ میں ہاتھ ڈالتا اور پھر جوکے رقیق آٹے کو منہ میں رکھ لیتا… گدڑی پوش نے یہ عمل تین بار دہراہا۔ پھر اس نے دیگ کو اٹھا کر زمین پر ماردیا۔ وہ دیگ دراصل مٹی کا ایک بڑا مٹکا تھا جو زمین پر گرتے ہی ٹوٹ گیا۔
حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ نہایت صبروسکون سے درویش کی اس اضطراری حرکت کو دیکھتے رہے مگر مولانا کمال الدین یعقوب علیہ الرحمہ خاموش نہ رہ سکے۔
’’مہمان! تم نے یہ کیا کیا؟‘‘ مولانا کے لہجے سے تلخی کا رنگ نمایاں تھا۔ ’’تمہیں معلوم ہے کہ اس پانی جیسی غذا سے کچھ اور بندگان خدا بھی روزہ کشائی کرتے۔ افسوس! تم نے دوسروں کی بھوک کو نظر انداز کردیا۔ تم نہیں جانتے کہ یہ درویشان خدا مست کتنے دن کے فاقے سے ہیں‘‘
’’میں اﷲ کے حکم سے یہ بات جانتا تھا مگر کیا کرتا کہ میرے لئے اﷲ کا یہی حکم تھا‘‘ درویش بڑی بے نیازی کے عالم میں بول رہا تھا ’’مجھ سے یہی کہا گیا تھا کہ میں اس دیگ کو توڑ دوں‘‘ یہ کہہ کر گدڑی پوش حضرت محبوب الٰہی علیہ الرحمہ کے قریب آیا اور نہایت محبت آمیز نظروں سے دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔
’’شیخ! نظام الدین! تمہیں بابا فرید گنج شکر علیہ الرحمہ نے نعمت باطنی بخشی اور میں نے تمہاری فاقہ کشی کی دیگ کو توڑ دیا۔ اب تم سلطان ظاہری بھی ہو اور سلطان باطنی بھی‘‘ یہ کہہ کر وہ درویش تیز قدموں سے چلاگیا اور تھوڑی دور جاکر غائب ہوگیا۔
مولانا کمال الدین یعقوب علیہ الرحمہ حیرت سے اپنے پیرومرشد کی طرف دیکھنے لگے۔
حضرت محبوب الٰہی علیہ الرحمہ نے اپنے مرید کی حیرت دور کرنے کے لئے فرمایا۔ ’’مولانا! اﷲ کی قدرت بھی لامحدود ہے اور اس کا کرم بھی۔ انسان عاجز ہے اور وہ توفیق الٰہی کے بغیر کچھ نہیں سمجھ سکتا۔ ہم نہیں جانتے کہ کس بھیس میں کون ہے؟ آئو! اپنے اﷲ کا ذکر کریں کہ تمام تعریفیں اﷲ ہی کے لئے ہیں‘‘
اس گدڑی پوش نے حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کو ’’سلطان ظاہری و باطنی‘‘ کہہ کر پکارا تھا۔ اس لئے آپ کا ایک لقب ’’سلطان المشائخ‘‘ بھی ہے۔
٭…٭…٭
اس اجنبی درویش کے جانے کے بعد ایک ہفتہ بھی نہ گزرا ہوگا کہ حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ پر تسخیرظاہری کے دروازے کھل گئے۔ لوگ قطار در قطار چلے آتے تھے۔ آنے والوں میں امرائ، وزراء اور صاحب حیثیت افراد شامل تھے۔ مفلس و تنگ دست لوگوں کے علاوہ جو شخص بھی حضرت محبوب الٰہی علیہ الرحمہ کے آستانہ عالیہ پر حاضر ہوتا، کچھ نہ کچھ نذر کے لئے ضرور لاتا اور درخواست گزار ہوتا کہ حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ اسے قبول فرمالیں۔ حضرت محبوب الٰہی علیہ الرحمہ کسی کی دل شکنی نہ کرتے۔ اگر آنے والا متکبر سرمایہ دار ہوتا تو یہ درویش خدا مست اسے ناکام و نامراد لوٹا دیتا… ورنہ عام طور پر حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ نذریں قبول فرمالیتے تھے۔ مگر اس طرح کہ ساری چیزیں اسی وقت ضرورت مندوں میں تقسیم کردی جاتی تھیں۔ تسخیر ظاہری کے دروازے کھل جانے کے بعد بھی حضرت محبوب الٰہی علیہ الرحمہ کا وہی حال تھا۔ ایام ممنوعہ کو چھوڑ کر آپ تمام سال روزہ رکھتے۔ سحری میں جو کی ایک ٹکیہ استعمال فرماتے اور جب افطار کا وقت آتا تو جو کی دوسری روٹی آپ کی غذا ہوتی۔ خانقاہ میں رہنے والے خدمت گار شکم سیر ہوکر کھاتے اور ذکر الٰہی میں مشغول ہوجاتے۔
٭…٭…٭
حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ، سلطان علاء الدین خلجی کے اقتدار میں آنے سے پہلے ہی دہلی اور اس کے گردونواح میں بہت زیادہ مشہور ہوچکے تھے۔ آپ کی خانقاہ میں ہر محرم کی پانچویں تاریخ سے لے کر دسویں تک حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر علیہ الرحمہ کے عرس مبارک کی تقریبات منعقد ہوتی تھیں۔ عرس میں شرکت کرنے کے لئے ملک کے گوشے گوشے سے زائرین آتے تھے۔ اس طرح طویل و عریض ملک کا شاید ہی ایسا کوئی خطہ ہو، جہاں کے لوگ حضرت محبوب الٰہی علیہ الرحمہ کے حلقہ عقیدت میں شامل نہ ہوں۔
اس زمانے میں سلطان علاء الدین خلجی کا ایک امیر حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور قیمتی نذر پیش کی۔ خلجی امیر کا خیال تھا کہ حضرت محبوب الٰہی کسی پس و پیش کے بغیر اس کے نذر قبول فرمالیں گے۔شاید اس خیال کی وجہ یہ ہو کہ خلجی امیر گوشہ نشین درویشوں کو ضرورت مند سمجھتا تھا۔
’’تمہاری اس محبت کا شکریہ کہ تم نے درویشوں کا اس قدر خیال رکھا‘‘ حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ نے فرمایا۔ ’’مگر اس فقیر کو اتنی بڑی رقم کی حاجت نہیں ہے‘‘
خلجی امیر کا چہرہ اتر گیا۔ حضرت محبوب الٰہی علیہ الرحمہ کے طرز عمل نے ایک سرمایہ دار کے ان خیالات کی نفی کردی تھی کہ درویش ضرورت مند ہوتے ہیں اور ہر خاص و عام کی پیش کردہ نذر قبول کرلیتے ہیں۔
’’یہ رقم ضرورت مندوں تک پہنچا دو، کہ وہ مجھ سے زیادہ تمہاری امداد کے مستحق ہیں‘‘ خلجی امیر کو خاموش پاکر حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ نے فرمایا۔
ایک سرمایہ دار کا قصر پندار آن کی آن میں منہدم ہوگیا۔ خلجی امیر نے درویش کا یہ انداز بے نیازی نہیں دیکھا تھا۔ دل پر چوٹ لگی تھی گڑگڑانے لگا۔ ’’شیخ! مجھے اس طرح تو ناکام و نامراد واپس نہ لوٹائیں‘‘
’’بھائی! اپنا راستہ لو۔ کیوں ایک درویش کا وقت برباد کرتے ہو؟‘‘ حضرت محبوب الٰہی علیہ الرحمہ نے بیزاری کے ساتھ فرمایا۔ ’’مجھے اور بھی بہت سے ضروری کام ہیں‘‘
دراصل وہ خلجی امیر اپنی دولت کا مظاہرہ کررہا تھا اور درویشوں کو ایک بڑی رقم دے کر اپنی اناکی تسکین چاہتا تھا۔ حضرت محبوب الٰہی علیہ الرحمہ پر کشف کے ذریعے خلجی امیر کی نیت ظاہر ہوچکی تھی۔ اس لئے آپ اس کی نذر قبول کرنے سے گریز فرما رہے تھے۔
’’شیخ! کچھ تو کرم فرمایئے!‘‘ خلجی امیر نے دوبارہ درخواست کی۔
حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ نے اپنے خادم خاص خواجہ اقبال علیہ الرحمہ کو طلب کیا اور پھر تھیلی میں سے ایک سکہ نکال کر فرمایا ’’اسے کسی ضرورت مند کو دے دو‘‘
حضرت محبوب الٰہی کے اس عمل سے خلجی امیر کے چہرے پر اطمینان کا رنگ ابھر آیا۔
’’اب جائو!‘‘ حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ نے خلجی امیر کو مطمئن انداز میں بیٹھا دیکھ کر فرمایا۔
’’میں نے اپنی مرضی کے خلاف تمہاری خواہش کی تکمیل کردی‘‘ حضرت محبوب الٰہی علیہ الرحمہ نے فرمایا۔ ’’اب کہاں تک کسی کی دلجوئی کروں؟ باقی رقم تم رکھ لو، یہ تمہارے کام آئے گی‘‘
خلجی امیر کی شخصیت پر چڑھا ہوا ملمع اتر گیا اور اس کی زبان لڑکھڑا گئی۔ ’’مجھے اس رقم کی حاجت نہیں کہ میرے پاس بہت دولت ہے‘‘
سرمایہ کی نشے میں مبتلا ایک مقتدر انسان کی بات سن کر حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ نے چند لمحوں کے لئے سکوت فرمایا۔ پھر آپ کے چہرۂ مبارک پر رنگ جلال ابھر آیا۔ ’’بے شک! تم ایک دولت مند شخص ہو مگر اﷲ نے اس درویش کو بھی اپنی نعمتوں سے محروم نہیں کیا ہے‘‘ اس کے بعد آپ نے خلجی امیر کو حکم دیا کہ اپنے بائیں طرف دیکھے۔
امیر نے جیسے ہی اپنے بائیں جانب نگاہ کی، اس کی زبان گنگ ہوگئی اور آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ اشرفیوں کا ایک دریا جاری تھا جسے خلجی امیر شدید حیرت واستعجاب کے عالم میں دیکھ رہا تھا۔ اتنا کچھ دیکھ کر وہ امیر شرمندہ ہوگیا۔
(باقی آئندہ شمارے میں ملاحظہ فرمائیں)