اس آیت میں لفظ ’’رَبُّکَ‘‘ فرمانے میں لطف رمزیہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے ہاتھی والوں کے ساتھ جو کچھ کیا ہے وہ آپ کی تشریف آوری اور عظمت کے اظہار کی خاطر کیا ہے، کیونکہ اسی سال جان کائنات رحمت عالمﷺ عالم قدس سے عالم دنیا میں جلوہ گر ہوئے۔ گویا اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے۔
اے حبیب! میں تیرا رب ہوں۔ جب میں نے تیری آمد سے پہلے تیری عظمت کا خیال رکھا ہے تو تیرے ظہور کے بعد تیری ضرور ضرور مدد کروں گا اور تجھے باطل ادیان پر غلبہ عطا کروں گا۔
امام رازی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں۔ مفہوم یہ ہے کہ اے حبیب! کعبہ تمہاری نمازوں کا قبلہ ہے اور تمہارا دل، تمہارے رب کی معرفت کا قبلہ ہے۔ جب میں نے تمہارے اعمال کے قبلہ کی دشمنوں سے حفاظت کی ہے تو تمہارے عقائد کے قبلہ کی دشمنوں سے حفاظت کیوں نہ کروں گا۔
کسی نبی سے بعثت سے قبل جو خلاف عادت باتیں ظاہر ہوتی ہیں، انہیں اصطلاح میں ارہاص کہتے ہیں۔ حضورﷺ کی بعثت سے پہلے ایسے کئی معجزات (ارہاصات) ظاہر ہوئے، مثلا بادل کا حضورﷺ پر سایہ کرنا، پتھر کا حضورﷺ کو سلام کرنا، اسی طرح ہاتھی والوں کا تباہ کیا جانا بھی امام الانبیائﷺ کا ارہاص ہے۔
علامہ قاضی ثناء اﷲ پانی پتی علیہ الرحمہ رقم طراز ہیں۔ اس واقعہ کا پیش آنا حضورﷺ کے ظہور و بعثت سے قبل تمہید و مقدمہ کے طور پر تھا (مظہری)
الم یجعل کیدھم
ارشاد ہوا ’’کیا ان کا دائو تباہی میں نہ ڈالا‘‘ یعنی کیا اﷲ تعالیٰ نے ان کے مکروفریب کو ناکام نہیں بنادیا۔
لفظ ’’کید‘‘ کے معنی خفیہ تدبیر اور پوشیدہ چال کے ہیں۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ ابرہہ ساٹھ ہزار سپاہیوں کا لشکر لے کر آیا جبکہ مکہ مکرمہ کی کل آبادی چند ہزار سے زیادہ نہ تھی۔ پھر اس نے اعلان بھی کردیا کہ وہ خانہ کعبہ کو گرانے کے لئے آیا ہے اس کے باوجود اسے خفیہ تدبیر کیوں فرمایا گیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی خفیہ بات ضرور ایسی تھی جوکہ لوگوں پر ظاہر نہ تھی۔
ایک بات تو یہ ہے کہ وہ یہ چاہتا تھا کہ (معاذ اﷲ) کعبہ کو گرانے کے بعد اس کا کلیساکعبہ بن جائے۔ اس طرح تمام عرب، یمن کی عیسائی حکومت کو اپنا مذہبی پیشوا تسلیم کرلیں گے اور پھر تمام عرب کے لوگوں کو عیسائی بنانا آسان ہوجائے گا۔ اس کا خطرناک پہلو یہ ہے کہ اس طرح نبی کریمﷺ کے ظہور سے پہلے ہی اسلام کے مقابلے میں عیسائیت ایک مسلح طاقت کے طور پر کھڑی ہوجاتی، جس کی پشت پناہ، حبش اور روم کی عیسائی حکومتیں ہوتیں۔ رسول معظمﷺ کی دعوت حق کو کامیاب بنانے کے لئے رب تعالیٰ نے ان کی چال کو خاک میں ملادیا۔
دوسری بات یہ ہے کہ تمام تجارتی قافلے عرب سے گزر کر ہی شام اور مصر جاتے۔ خانہ کعبہ کے متولی ہونے کی وجہ سے قریش کو عرب میں سرداری حاصل تھی اور وہ تجارتی قافلوں کے نگراں تھے۔ یہ بات عیسائیوں کو ناگوار تھی
یہ بات تحقیق طلب ہے کہ ابرہہ کے کلیسا کو کسی نے آلودہ کیا تھا یا نہیں، لیکن اسی پراپیگنڈے کی بنیاد پر اس نے کعبہ پر حملہ کا اعلان کیا جس کے پس پردہ اس کے مذموم مقاصد میں سے ایک یہ بھی تھا کہ تجارت میں عربوں کا عموماً اور قریش کا خصوصا عمل دخل ختم کیا جائے۔ اس سازش کو رب تعالیٰ نے ناکام بناکر عربوں پر خاص احسان کیا۔
وارسل علیہم طیراً
یہ بات پہلے مذکور ہوئی کہ ابرہہ کا لشکر اس قدر بڑا اور مسلح تھا کہ اگر مکہ اور اس کے تمام حلیف قبائل جمع ہوجاتے، تب بھی اس کا مقابلہ نہیں کرسکتے تھے۔ مزید یہ کہ اس میں جنگی ہاتھی بھی شامل تھے۔ ابرہہ کی جنگی حکمت عملی میں شکست کا قطعاً کوئی امکان نہ تھا لیکن اﷲ تعالیٰ کی حکمت نے اس کی تمام چالوں کو ناکام بنادیا۔
رب تعالیٰ نے اس کی چالوں کو اس طرح اکارت کیا کہ ان پر جوق در جوق چھوٹے چھوٹے پرندے بھیجے۔ عموماً اردو میں ایک خاص چڑیا کو ابابیل کہتے ہیں۔ یہاں ابابیل سے وہ چڑیا مراد نہیں بلکہ عربی زبان میں ابابیل کا معنی ہے، کسی چیز کا مختلف ٹکڑیوں میںیکے بعد دیگرے آنا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہوا۔
’’اور ان پر پرندوں کی ٹکڑیاں (فوج در فوج) بھیجیں، کہ انہیںکنکر کے پتھروں سے مارتے‘‘ (کنزالایمان)
ہر پرندے نے ایک کنکر اپنی چونچ میں اور ایک ایک کنکری اپنے دونوں پنجوں میں پکڑی ہوئی تھی اور ہر کنکری پر اس شخص کا نام لکھا تھا جس نے اس کنکری سے ہلاک ہونا تھا۔ کنکری کا حجم چنے یا مسور کے دانے کے برابر تھا۔ وہ عام پرندے نہیں تھے بلکہ ایک خاص قسم کے تھے۔ ان کی چونچیں پرندوں کی طرح اور ان کے پنجے کتوں کی طرح کے تھے۔ ایک قول یہ ہے کہ ان کے سر درندوں کے سروں جیسے تھے۔
وہ پرندے اچانک فوج در فوج نمودار ہوئے اور تھوڑی ہی دیر میں ابرہہ کے لشکر پر چھا گئے۔ پھر حکم الٰہی سے انہوں نے کنکریاں پھینکنا شروع کیں۔ وہ کنکری جس سپاہی پر پڑتی، اس کے فولادی خود، آہنی زدہ کو چیرتی ہوئی، اس کے جسم سے پار ہوکر اس کی سواری کے جسم کو چھلنی کرتی ہوئی زمین پر دھنس جاتی۔ وہ کنکری جس پر پڑی، اس کے جسم پر پھوڑے نکل آئے اور ان سے پیپ اور خون بہنے لگا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کا گوشت گل سڑ کر گرنے لگا۔
فجعلہم کعصف ماکول
پھر فرمایا گیا، اس سنگ باری نے انہیں ایسا کر ڈالا جیسے کھایا ہوا بھوسہ۔ ہم دیکھتے ہیں کہ جانور جب بھوسہ کھاتا ہے تو کھاتے ہوئے اسے دانتوں سے مزید پیستا ہے اور پھر وہ معدے سے ہوکر آخرکار گوبر بن کر باہر نکلتا ہے۔ اب مفہوم یہ ہوگا کہ جس طرح جانور کا کھایاہوا بھوسہ گوبر کی صورت میں تباہ حال ہوجاتا ہے۔ اسی طرح کی حالت اس لشکر کی ہوگئی تھی جس پر عذاب الٰہی نازل ہوا۔
اس لشکر کا اکثر حصہ تو وہیں تباہ ہوگیا البتہ چند لوگ یمن پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔ ان میں ابرہہ بھی تھا۔ لیکن ان کی حالت بہت بری تھی۔ جسم پھوڑوں سے بھرے ہوئے، ان سے بہتی ہوئی بدبودار پیپ اور درد کی شدت سے زخمیوں کی آہ و پکار۔ ان کا گوشت گلتا رہا یہاں تک کہ وہ سسک سسک کر مرگئے۔ گوشت گلنے سے ابرہہ کا سینہ پھٹ گیا اور وہ بھی تڑپ تڑپ کر مرا۔
ابرہہ سمیت ان لوگوں کے اپنے دارالحکومت زندہ پہنچ کر ایسی کربناک موت مرنے کی یہی حکمت سمجھ میں آتی ہے کہ رب تعالیٰ نے یہ چاہا کہ مکہ والے ہی نہیں بلکہ اہل یمن اور راستے والے بھی دیکھ لیں کہ اس کے گھر کی بے ادبی کا ارادہ کرنے والے کس طرح اس کے عذاب سے تباہ وبرباد ہوتے ہیں۔
ابرہہ کے ہاتھی محمود کے دو ہاتھی بان، اندھے اور اپاہج ہوگئے اور بعد میں وہ مکہ میں بھیک مانگتے تھے۔ حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے ان دونوں کو اس حالت میں بھیک مانگتے دیکھا کہ وہ اندھے اور اپاہج تھے (تفسیر کبیر)
ملحدین کارد
اکثر ملحدین آسمانی عذابوں کا انکار کرتے ہیں مثلا حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کے کافروں کو پانی میں غرق کردیا جانا، فرعون کے لشکر کی سمندر میں ہلاکت، قوم عاد کو آندھی سے ہلاک کیا جانا، حضرت لوط علیہ السلام کی قوم پر پتھروں کی بارش، نیز کسی قسم کو زلزلے سے اور کسی کوآگ برسا کر ہلاک کیا گیا۔
قرآن کریم میں ان تمام واقعات کو مختلف سورتوں میں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ سورۃ الاعراف، سورۂ ہود اور سورۃ الشعراء ملاحظہ فرمایئے۔
باقی آئندہ شمارے میں ملاحظہ فرمائیں