اہلسنت کو درپیش چیلنجز اور ان کا حل

in Articles, Tahaffuz, June 2011, علامہ کمال الدین, مسلک اعلیٰ حضرت

مساجد کی سطح پر اہلسنت کا کردار

اسلام میں گھریلو نظام سے لے کر معاشرتی نظام تک اور ریاستی نظام سے لے کر عالمی نظام تک مساجد کا بڑا دخل رہا ہے۔ رسول اﷲﷺ کا اس حوالے سے عملی کردار سب سے بڑی کامیاب مثال ہے۔ پھر خلفائے راشدین نے بھی اس سلسلے کو برقرار رکھا اور مساجد سے ہی پوری ریاست کے نظام کو درست کیا اور کنٹرول حاصل کیا۔ رسول اکرمﷺ اور خلفائے راشدین علیہم الرضوان کا کامیاب اور بے مثال ریاستی اور معاشرتی نظام بلکہ رہتی دنیا تک کے لئے قابل تقلید رہنما نظام اس بات کا عکاس ہے کہ پرسکون، پرامن، مضبوط اور ناقابل تسخیر دفاعی قوت والے ملکی نظام کے لئے اسلامی نظام نہایت ضروری ہے، بلکہ یہی واحد راستہ ہے اور اس نظام کی اساس مساجد کے محراب و منبر ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ ہم اہلسنت و جماعت نے عصر حاضر میں اس نظام کو زندہ کرنے کے لئے مساجد کا کتنا استعمال کیا ہے؟ اور مساجد کے محراب و منبر کو خالصتاً اسلام کے لئے کہاں اسلامی پیغام کا ذریعہ بنایا ہے؟ اہل انصاف اہلسنت کا جواب یقینا یہی ہوگا کہ ’’ہم نے ان محراب و منبر کا وہ حق ادا نہیں کیا جو درحقیقت ان کا حق ہے‘‘ اس سچائی کی تائید کے لئے ہمیں گواہی لانے کی کوئی ضرورت نہیں کرنی چاہئے کیونکہ ہماری مساجد کا حال سورج کی روشنی سے بھی زیادہ عیاں ہے۔

ذاتی اغراض کے لئے مساجد کا استعمال

الا ماشاء اﷲ چند مساجد کے علاوہ اکثر مساجد کا حال یہ ہے کہ ہم نے انہیں آمدن کا ایک بہت بڑا ذریعہ بنالیا ہے۔ ہم نمازیں پڑھاتے ہیں، تقاریر کرتے ہیں تو ان کا زیادہ حصہ اپنے ذاتی مفادات کے لئے اپنے حلقہ احباب کو بڑھانے کے لئے ہوتا ہے اور پھر جب حلقہ احباب وسیع ہوجاتا ہے تو مسلک حق میں فسادات و انتشار پھیلانے کا سلسلہ اس طرح شروع ہوجاتا ہے کہ ہم اپنے مختصر حلقہ احباب کو دنیا کی مجموعی خلقت سمجھ کر اپنی بھی ایک تنظیم قائم کرلیتے ہیں اور پھر اکابرین سے بغاوت کا سلسلہ شروع کردیتے ہیں۔ اس مرض کی واحد وجہ یہی ہے کہ ہمارا مقصد ذاتی مفاد اور اپنے آپ کو نمایاں کرنا ہوتا ہے نہ کہ مسلک حق کی ترویج!

مساجد کے منتظمین

مسجد بنانا یقینا بہت بڑا اعزاز ہے۔ اﷲ تعالیٰ کی جانب سے رحمت کی نوید ہے اور جنت میں اس کے لئے عظیم مقام ہے۔ مالک جنتﷺ کا فرمان ہے ’’جس نے اﷲ تعالیٰ کی رضا کے لئے مسجد بنائی اﷲ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں اسی جیسا گھر بنائے گا‘‘ (بخاری 64/2) اسی طرح مسجد کی خدمت کرنا اس کا انتظام و انصرام سنبھالنا بھی باعث ثواب ہے اور بہت بڑا اعزاز ربانی ہے۔ تاہم اہلسنت وجماعت کا المیہ یہ ہے کہ ہماری مساجد کے اکثر منتظمین عالم تو بہت دور کی بات ہے، اتنے مسائل سے بھی آگاہ نہیں ہوتے جو ہر مسلمان پر فرض ہیں بلکہ دینی شعائر مثلا شرعی مقدار کے مطابق داڑھی اور باجماعت نماز کی پابندی سے بھی خالی ہوتے ہیں اور صحیح معنوں میں بہت ساروں کو وضو بھی نہیں کرنا آتا ہوگا۔ مگر علماء پر حکمران بن بیٹھے ہیں۔ اپنی مرضی مسلط کرتے ہیں۔ کوئی بات اگر ان کے غیر موافق امام صاحب کی زبان سے نکل جائے، اگرچہ وہ بات ضروریات دین میں سے ہو، امام صاحب کی خیر نہیں ہوتی۔ اگرچہ امام صاحب وقت کے کتنے ہی بڑے عالم دین کیوں نہ ہو۔ وہ نرا جاہل اس پر حکومت کرتا ہے اور جب چاہے پروپیگنڈا اور اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرکے مسجد سے خارج کردیتا ہے اور امام صاحب بہت بڑے عالم دین ہونے کے باوجود بے بسی کی تصویر بنے وہاں سے چل پڑتے ہیں۔ بتایئے کس قدر افسوس کی بات ہے کہ وہ مسجد جو بنی وارثانِ انبیاء اہل حق علماء کے لئے ہوتی ہے، مگر حکومت نرے جاہل کی ہوتی ہے۔ آپ شہر کا سروے کرلیں، جہاں مسلک کے کام کی اشد ضرورت ہے، بدمذہب دیمک کی طرح مسلمانوں کے ایمان کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ وہاں کے منتظمین نے ایسے امام متعین کئے ہیں جنہیں نماز اتنی مسائل بھی نہیں آتے کہ کم از کم دو یا چار رکعت نماز فرض کی حد تک ادا کرسکیں۔ ایسے لوگ صرف مال و دولت کی خاطر علماء کے نام پر دھبہ بن کر علماء کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور عالم نہ ہونے کے باوجود منتظمین نے انہیں مفتی، شیخ الحدیث، نہ جانے کیا کیا بنا کر عوام اہلسنت کو بے وقوف بنایا ہوا ہے۔ وہ لوگ اہل علم افراد کو امام اس لئے متعین نہیں کرتے کہ وہ ان کی عزت نہیں کریں گے یا ان کی خوشامد نہیں کریں گے۔ ان کی ناجائز باتوں کو تسلیم نہیں کریں گے اور ان کے غلط کاموں پر خاموش نہیں رہیں گے۔

معزز قارئین! اس سے بھی بڑھ کر المیہ تو یہ ہے کہ ایسی مساجد میں اہلسنت کے اکابرین جلسہ جلوس کے سلسلے میں جاتے ہیں اور ان مساجد میں تقاریر بھی کرتے ہیں اور منتظمین سے راہ و رسم بھی رکھتے ہیں مگر وہاں کلمہ حق بلند کیوں نہیں کرتے؟ اور ان منتظمین کو مسلک کا درد رکھنے والے سچے عالم دین کی تعیناتی پر مجبور کیوں نہیں کرتے؟ یہ ہر دردمند سنی کا سوال ہے؟ کہ ایک طرف غیر دھڑا دھڑ کام کئے جارہے ہیں اور ہم صرف اپنی انا اور نفس کو تسکین دینے پر اکتفا کررہے ہیں۔ ہمیں صرف اس بات سے غرض رہ گئی ہے کہ فلاں مسجد میں ہمارے چاہنے والے کتنے ہیں اور وہاں سے کتنا چندہ آتا ہے۔ باقی رہا مسلک…! تو العیاذ باﷲ اس کی طرف نظر نہیں۔

ہمیں یہاں تک کس نے پہنچایا؟

آج نوبت یہاں تک کیسے پہنچ گئی؟ تو یہ کوئی مشکل سوال نہیں ہے۔ اس کا جواب بہت آسان ہے کہ ہم نے نااہل لوگوں کو اپنے سروں پر بٹھالیا ہے جس کی وجہ سے صرف وہی مخصوص افراد مسلک کے نام پرلوگوں پر اپنے مفادات کے لئے حکومت کررہے ہیں۔ باقی اہل علم حضرات کا کوئی پرسان حال نہیں کہ وہ کس حال میں ہیں بلکہ یہی مخصوص لوگ جہاں ممکن ہو، اپنے ہی لوگوں کو دبا دیتے ہیں۔

آپ کے قدم ہمارے سر آنکھوں پر

معزز قارئین! میں یہاں یہ بات بھی عرض کردوں کہ اہلسنت وجماعت پر اپنوں کے نام سے اور اپنوں کا روپ دھارے ظلم کی یلغار کرنے والے بہت ہیں جو جلسے جلوسوں میں تو ایسے محسوس ہوں گے کہ ان سے بڑھ کر اس مسلک کا ہمدرد کوئی اور ہے ہی نہیں، لیکن جب آپ انہیں تنہائی میں ملیں تو آپ کے افسوس کرنے کے علاوہ کچھ نہیں رہے گا۔ اس پرفتن وقت میں اور اس نازک دور میں ایسی مرد مجاہد بھی ہیں جو اہلسنت وجماعت کے مقدمات تن تنہا لڑرہے ہیں۔ اﷲ تعالیٰ نے انہیں وہ ہمت جواں عطا فرمائی کہ جسمانی ضعف کے باوجود ایک جماعت کثیرہ کا کردار ادا کررہے ہیں۔ الحمدﷲ انہیں مجلس میں ملیں یا تنہائی میں، بہردو صورت آپ کا دامن خوشیوں سے بھر جائے گا۔ الحمدﷲ علی احسانہ، ہمارے یہ سچے اکابرین ہمارے لئے امید کی کرنیں ہیں اور اس کے علاوہ ہمارے وہ مجاہدین اکابرین بھی ہمارے لئے عظیم سرمایہ ہیں جو حکومت وقت کے ہزارہا ظلم و ستم کے باوجود رسول اﷲ ﷺ کی ناموس کے لئے سڑک پر نکل آتے ہیں اور اپنی جانوں کی پرواہ کئے بغیر کلمہ حق بلند کئے ہوتے ہیں۔ اﷲ تعالیٰ اہلسنت پر ان کا سایہ عاطفت تادیر قائم و دائم رکھے اور ساتھ ہی ہم اپنے اکابرین سے دست بستہ عرض کرتے ہیں کہ وہ مساجد پر خصوصی توجہ فرمائیں تاکہ مسلک حق کا پیغام عوام اہلسنت تک پہنچے اور عوام اہلسنت کی علمی پیاس بجھے۔

ریاستی نظام اور اہلسنت کا کردار

ہمارا یہ دعویٰ برحق ہے کہ وطن عزیز کو ہمارے اکابرین نے بنایا ہے، انہی کے لہو سے اس کی آزادی کی شمع کو روشن کیا گیا۔ پوری تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان یارسول اﷲ کہنے والوں نے بنایا ہے۔ ان لوگوں نے نہیں  بنایا جو آج اس عظیم اسلامی ریاست کی اسمبلیوں میں چور دروازوں سے پہنچے ہیں اور اس ملک کی تخلیق کو ناپسند کرتے تھے اور اس عظیم اسلامی ریاست کی تخلیق سے ناپسندیدگی کا اظہار پاکستان کو ’’ناپاکستان‘‘ کا نام دے کر کرتے تھے اور کہتے تھے کہ ’’اﷲ کا شکر ہے کہ ہم پاکستان بنانے کے گناہ میں شامل نہیں تھے‘‘ لیکن اس المناک صورتحال کے باوجود ہم اہلسنت ریاست میں کوئی کردار ادا کرتے نظر نہیں آتے۔ اگر کچھ کرتے بھی ہیں کہ ہمارے آبائو اجداد کا یہ ملک محفوظ رہے، اس کے لئے بے شمار سختیاں جھیلتے رہے اور جھیل رہے ہیں مگر آواز اعلیٰ سطح تک نہیں پہنچتی اور ہم عملی کردار ادا نہیں کرپارہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ریاستی نظام کو چلانے والی اسمبلیوں میں کوئی ایسا نمائندہ نہیں جو مسلک کے نام الیکشن لڑ کر گیا ہو، جبکہ غیر اپنے مذہب بد کے نام اسمبلیوں تک پہنچ رہے ہیں اور ملکی نظام پر اثرانداز ہورہے ہیں اور ہرممکن اہلسنت وجماعت کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ اس المناک صورتحال سے نکلنے کا راستہ سب کو معلوم ہے مگر اس کے لئے عملی اقدام کماحقہ نہیں کئے جارہے۔

نظام مصطفیٰﷺ کا راستہ

ریاست میں نظام بدلنے کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ اقتدار حاصل ہو، ریاست کا اعلیٰ عہدہ نظام بدلنے والی جماعت کے پاس ہو اور ہمارے ہاں اس کا راستہ الیکشن ہے۔ اس کے لئے افرادی قوت کی ضرورت ہے جوکہ الحمدﷲ اہلسنت کے پاس ہے مگر ہم اس کو اپنے اختلافات کی وجہ سے استعمال کرنے سے قاصر ہیں۔ ہماری سنی تنظیمات کو چاہئے کہ ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں تاکہ سنی انقلاب لایا جاسکے اور دنیا کے سامنے نظام مصطفیٰ کا رول ماڈل پھر سے پیش کیا جاسکے اور ساتھ ہی عوام اہلسنت کو بھی چاہئے کہ وہ ووٹ صرف اور صرف سنی کو دیں، شرط یہ ہے کہ وہ امیدوار سنی تنظیم کا نمائندہ ہو۔ یاد رکھیں ووٹ ایک طاقت ہے۔ اگر آپ نے اس کو غلط استعمال کیا تو عنداﷲ اس پر گرفت ضرور ہوگی۔

بین الاقوامی میڈیا اور ہمارا کردار

حال ہی میں گستاخان رسولﷺ کے جو کیسز سامنے آئے، ان کے پیچھے ملکی اور غیر ملکی میڈیا کا بہت بڑا کردار نظر آیا مگر ہم اہل اسلام کماحقہ ناموس رسالتﷺ کا دفاع نہیں کرسکے اور میڈیا یکطرفہ ہمارے خلاف پروپیگنڈہ کرتا نظر آیا۔ بعض مواقع پر بدمذاہب کے نمائندوں کو میڈیا کے ساتھ سر ملاتے ہوئے دیکھا گیا۔ اور ہم بے بسی کی تصویر بنے رہے۔ اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ ہم اس سطح پر بھی بہت کمزور ہیں۔ ہمیں چاہئے کہ اکابرین اہلسنت کو اپنے اتحاد کے ذریعے پیغام محبت و اتحاد دیں اور آپس میں ایک دوسرے سے بھرپور تعاون کریں، صرف یہ دیکھیں کہ سامنے والا سنی ہے اور بس… اﷲ تعالیٰ ہم سب پر رحم فرمائے۔