مسلم اُمّہ اور جہادی کلچر

in Tahaffuz, October 2014, سید رفیق شاہ, متفرقا ت

جہاد اسلام کا اہم فریضہ ہے جو مسلمانوں پر بہ وقت ضرورت فرض بھی ہے۔ فرضیت کا فیصلہ ریاست اسلامی کا حکمراں یا علماء کریں گے۔ علماء نے جہاد کی کئی قسمیں بیان کی ہے مگر اس وقت جہاد پر کلام مقصد نہیں بلکہ جہاد کے نام پر استعماری طاقتوں کا مسلم اُمّہ کی تقسیم اور ان کے خلاف سازش کو سمجھنا ہے۔ موجودہ جہادی کلچر کو سمجھنے سے قبل مشرق وسطیٰ کی تقسیم کو جاننا ضروری ہے۔ مسلمانوں کی وحدت خلافت عثمانیہ اپنی کمزوریوں اور خامیوں کے باوجود مسلمانوں کی اتحاد و طاقت کی علامت تھی۔ جنگ عظیم اول سے 6 سال قبل 1908ء میں کفر کی طاقتوں برطانیہ، روس، فرانس، اٹلی نے خلافت عثمانیہ کے خاتمے اور اس کے جغرافیہ کو تبدیل کرنے اور اس کے وسائل پر قبضے کے لئے منصوبہ بندی کی۔ 1916ء میں ان ممالک کے مابین خفیہ معاہدے ہوئے جس کے مطابق خلافت عثمانیہ کے ماتحت صوبوں کو آزاد ریاستوں کے طور پر دنیا کے نقشے پر متعارف کروایا جائے۔ مسلمانوں کی وحدت کو انتشار اور عرب وعجم کی بنیاد پرتقسیم کردیا جائے۔ سامراجی طاقتوں کا بنیادی مقصد خطے کے وسائل کا حصول اور ان پر حکمرانی تھا۔ کفر کے ان ممالک برطانیہ، روس، فرانس، اٹلی کو یقین تھا۔ خلافت عثمانیہ کے ماتحت علاقوں کی تقسیم سے مشرق وسطی کا انتظام چلانا اور خطے کے وسائل پر ان کی دسترس ہوجائے گی مگر ان کے سارے خواب چکنا چور ہوگئے۔ گزشتہ 66 سالوں سے مشرق وسطیٰ کے قدرتی وسائل سے فیضیاب ہونا ایک ڈرائونا خواب بن چکا ہے۔
برطانوی سرپرستی میں امریکہ اور اسرائیل ان ممالک اور علاقوں کے مختار کل بن چکے ہیں۔ مسلم دنیا اور بالخصوص عرب دنیا میں براہ راست مداخلت کرنے کے بجائے اپنے نامزد حکمرانوں اور جہادی کلچر کے ذریعے خطے کے وسائل پر قابض ہے۔ امریکہ نے روس کے خلاف جہاد افغانستان کے ذریعے دنیا بھر میں جہادی تحریک جہادی کلچر کو متعارف کروایا جس میں کئی عرب ممالک ان کی اس تحریک کا حصہ تھے جس میں مسلمانوں کے لئے قابل احترام اور حجاز مقدس پر قابض سعودی عرب سرفہرست ہے۔
جہادی تحریک میں دنیا بھر سے جذبہ جہاد سے سرشار نوجوانوں بالخصوص عرب نوجوان اس کلچر کا حصہ بنے ماضی میں ہندوستان پر برطانوی تسلط کے دوران ممکنہ طور پر انگریز کے خلاف کسی قسم کی مزاحمتی تحریک یا جدوجہد آزادی سے نبرد آزما ہونے کے لئے شاہ اسماعیل اور سید احمد رائے بریلی کی قیادت میں سکھوں کے خلاف جہاد کے نام پر ہندوستان بھر سے جذبہ جہاد کے جذبے سے سرشار مسلمانوں کو بالاکوٹ میں مسلمانوں سے لڑوا دیا گیا تاکہ ہندوستان میں انگریز کے خلاف آواز حق بلند نہ ہوں (تفصیلات کے لئے مفتی شاہ حسین گردیزی کی کتاب حقائق بالا کا مطالعہ کیجئے)
مگر اس کے باوجود 1857ء میں مسلمانان ہند نے امام حریت علامہ فضل حق خیرآبادی، مفتی کفایت علی کافی، مفتی صدر الدین آزدہ، مولانا فیض احمد بدایونی، علامہ رحمت اﷲ کیرانوی، علامہ احمد اﷲ صدر لاسی، علامہ سید احمد سعید مجددی و دیگر کی قیادت میں انگریز تسلط کے خلاف جہاد آزادی میں حصہ لیا جس میں پچیس ہزار علماء و مشائخ شہید، جلاوطن ہوئے کالے پانی کی سزائیں دی گئی۔ مساجد، مدارس، خانقاہوں و کتب خانوں کو برباد کردیا گیا۔ عوام کی شہادتیں اور ان کی املاک کی تباہی و بربادی علیحدہ ہے۔ اس جدوجہد کے نتیجے میں برطانوی سامراج کو ہندوستان چھوڑنا پڑا۔ امریکہ نے جس جہادی کلچر کو فروغ دیا۔ وہ اسلامی جہاد کے برعکس ہے۔ اسلامی جہاد حالت جنگ میں بھی جنگی اصولوں کی مکمل پاسداری کرتے ہیں۔ خواتین، بچوں، بوڑھوں اور عام شہریوں اور ان کی املاک کو کسی قسم کے نقصان پہنچانے سے گریز کرتے ہیں۔ آج مسلمانوں کی غالب اکثریت یہ سمجھتی ہے اسلام کو چند انتہا پسندوں نے ہائی جیک کرلیا ہے اور ان کے اس عمل میں کچھ عرب ممالک کا کردار اہم ہے۔نوجوانوں کا اس جہادی کلچر کا حصہ بننے کا سبب بے روزگاری، غربت اور افلاس ہے۔ عرب بادشاہوں کی طرز حکمرانی سے بیزار ہزاروں نوجوان روزگار کے حصول اور خاندان کی کفالت کے لئے انسانی اسمگلروں کے ذریعے ہزاروں ڈالر خرچ کرکے یورپ کا رخ کرتے ہیں مگر وہاں بھی انہیں مایوسی کا سوا کچھ بھی نہیں ملتا۔ ایسے نوجوان پیشہ ور جہادیوں کا جلد شکار ہوکر جہادی کلچر کا حصہ بن جاتے ہیں۔ عراق اور شام کی خانہ جنگی میں شریک غیر ملکی نوجوانوں کا تعلق بھی اسی گروہ سے ہے۔ یورپی شہروں میں ہزاروں کی تعداد میں بے روزگار مسلم نوجوان موجود ہیں جہاں ان کی جہادی تربیت کی جاتی ہیں۔ یہ نوجوان زیادہ تر عالمی جہادی کلچر کا حصہ بن رہے ہیں۔ جہادیوں کی ایک قسم مقامی جہادی کہلاتے ہیں جو جغرافیائی خود مختاری اور آزادی کے لئے لڑتے ہیں جبکہ عالمی جہادیوں کا مسلم تنازعات جغرافیائی خود مختاری پر کوئی دلچسپی نہیں ہوتی۔ عالمی جہادیوں کا تصور القاعدہ کے اسامہ بن لادن نے پیش کیا تھا۔ اسامہ بن لادن کی مشکوک ہلاکت کے بعد یہ خیال کیا جانے لگا کہ اب عالمی جہادی ختم ہوجائیں گے مگر عراق اور شام کے حالیہ واقعات نے تمام مفروضات کو غلط ثابت کردیا کیونکہ اس وقت جہاد، جہادِ اسلام نہیں بلکہ استعماری قوتوں بالخصوص امریکہ کا اسرائیل کے تحفظ کے لئے ہے۔ امریکی صدر اوباما برسر اقتدار آئے تو انہوں نے امریکی جیوش لابی کو یقین دہانی کروائی کہ جو امریکہ کا مفاد ہے، وہ اسرائیل کا مفاد ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کے مفادات میں کوئی تضاد نہیں۔ اسرائیل کی سلامتی امریکہ کی ذمہ داری ہے۔ اسرائیل کا تحفظ اور سلامتی صرف اس صورت میں ممکن ہے کہ اس کے ہمسائے کمزور ہوں یعنی عراق، شام، ایران، لبنان ان مسلم ممالک کا پرسکون اور مضبوط ہونے کا مطلب اسرائیل کا غیر محفوظ ہونا ہے۔ اس کا ایک ہی حل ہے کہ ان ملکوں کو جہادی کلچر کے ذریعے غیر مستحکم کردیا جائے۔ شام اور عراق میں ISIS داعش جوکہ عراق اور شام میں تباہی مچاچکی ہے اور عراق میں تیل کی دولت سے مالا مال علاقے پر قبضے کے اپنی خود ساختہ خلافت کا اعلان کرچکی ہے اور مزارات انبیاء اہل بیت و صحابہ مزارات کو شہید کرچکی ہے۔ امریکی اور اسرائیلی پیرول پر ہے۔ امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے سابق اہلکار ایڈورڈ اسٹوڈن نے انکشاف کیا کہ داعش ISIS (دولت اسلامیہ) کا مقصد دنیا کے بڑے خطرات کو ایک جگہ جمع کرنا ہے تاکہ انہیں باآسانی کنٹرول کیا جاسکے اور عرب دنیا میں انتشار پھیلایا جاسکے۔ سی آئی اے اہلکار کے مطابق امریکہ، برطانیہ اور اسرائیل کے نزدیک صیہونی ریاست کی حفاظت کے لئے اسرائیل کی سرحدوں کے قریب ایک جنگجو تنظیم ضروری ہے اور داعش یہ کردار ادا کررہی ہے۔ استعماری قوتوںنے شام میں شامی حکومت کے خاتمے کے لئے داعش کو جدید اسلحہ اور مالی امداد فراہم کی تھی اور یہ سلسلہ جاری ہے۔ اب دنیا اسلام کے سامنے استعماری قوتوں کے خفیہ فیصلے و معاہدے اب خفیہ نہیں رہے تو اب مسلم اَُمّہ کے مفکرین آگے آگے بڑھے اور مسلم اُمّہ کی تباہی و بربادی کا حل تلاش کرے۔ غزہ میں اسرائیلی دہشت گردی پر مسلم دنیا بالخصوص عرب دنیا کی خاموشی ان کی بے حسی بے ضمیری کو واضح کررہی ہیں۔ داعش القاعدہ، طالبان کسی نے بھی غزہ کے مسلمانوں کے لئے ہمدردی کا ایک لفظ بھی ادا نہیں کیا کیونکہ جہادی خود امریکی و استعماری قوتوں کے زرخرید ہیں۔ ان کا سارا زور مسلم دنیا میں جہاد کے نام پر فساد ہوتا ہے۔ وقت اور حالات کا تقاضا ہے کہ مسلم دنیا کے حکمران ان سازشوں سے اپنے آپ کو نکالے اور اپنے سارے وسائل عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کرے تاکہ مسلم عوام امن، سکون اور سلامتی کی زندگی گزار سکیں۔
٭٭٭