اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ انسان کی پیدائش سے لے کر موت تک کے تمام معاملات کے متعلق رہنمائی موجود ہے۔ بچے کی پیدائش کے بعد کیا کرنا ہے، اذان کیسے دینی ہے۔ عقیقہ کب کرنا ہے، پرورش و تربیت میں کن باتوں کا خیال رکھنا ہے۔ نیز انسان جس عمر تک پہنچ گیا ہو، اس کے لئے رہنمائی موجود ہے۔
آج مسلمان کی اسلام سے دوری اسلامی تعلیمات سے دوری کی وجہ انسان نہ اپنی اولاد کی درست پرورش کرسکتا ہے، نہ ہی درست تربیت، اس کے علاوہ اسلام نے جن کاموں کے کرنے سے منع کیا ہے، انسان ان ہی کاموں میں مصروف ہوگیا ہے۔
ان کاموں میں ایک کام ’’جوا‘‘ بھی ہے۔ آج مسلمان نہ چاہتے ہوئے بھی اس میں پڑ جاتا ہے۔ اس کی وجہ اس کے متعلق معلومات کا نہ ہونا ہے۔ جوا کیا ہے؟ اس کا حکم کیا ہے؟ قرآن میں اس کے متعلق کیا فرمایا گیاہے؟ زیر نظر مضمون میں اس کے متعلق کچھ بیان کیا جائے گا۔ لہذا اچھی اچھی نیتوں کے ساتھ ’’جوا‘‘ سے متعلق معلومات حاصل کریں۔
جوا کھیلنا گناہ ہے
پارہ نمبر 2 سورۃ البقرہ آیت نمبر 219 میں اﷲ رب العباد ارشاد فرماتا ہے۔
ترجمہ کنزالایمان: تم سے شراب اور جوئے کا جو حکم پوچھتے ہیں۔ تم فرمادو کہ ان دونوں میں بڑا گناہ ہے اور لوگوں کے کچھ دنیاوی نفع بھی اور ان کا گناہ ان کے نفع سے بڑا ہے۔
حضرت صدر الافاضل مفتی محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ الرحمہ اﷲ الھادی اپنی مشہور زمانہ تفسیر خزائن العرفان میں اس آیت کریمہ کے تحت لکھتے ہیں۔ جوئے میں کبھی مفت کا مال ہاتھ آتا ہے اور گناہوں اور مفسدوں (یعنی خرابیوں) کا کیا شمار! عقل کا زوال، غیرت و حمیت کا زوال، عبارت سے محرومی، لوگوں سے عداوتیں (یعنی دشمنیاں) سب کی نظر میں خوار (یعنی ذلیل) ہونا، دولت و مال کی اضاعت (یعنی بربادی)
جوا شیطانی کام ہے
پارہ نمبر 7 سورۃ المائدۃ کی آیت نمبر 90 تا 91 میں اﷲ عزوجل کا فرمان عبرت نشان ہے
ترجمہ کنزالایمان: اے ایمان والو! شراب اور جوا اور بت اور پانسے ناپاک ہی ہیں۔ شیطانی کام تو ان سے بچتے رہنا کہ تم فلاح پائو۔ شیطان یہی چاہتا ہے کہ تم میں بیر اور دشمنی ڈلوادے۔ شراب اور جوئے میں اور تمہیں اﷲ عزوجل کی یاد اور نماز سے روکے تو کیا تم باز آئے؟
صدر الافاضل حضرت مفتی سید محمد نعیم الدین مراد آبادی تفسیر خزائن العرفان میں اس آیت مقدسہ کے تحت لکھتے ہیں: اس آیت میں شراب اور جوئے کے نتائج اور وبال بیان فرمائے گئے کہ شراب خوری اور جوئے بازی کا ایک وبال تو یہ ہے کہ اس سے آپس میں بغض اور عداوتیں پیدا ہوتی ہیں اور جوان بدیوں (یعنی برائیوں) میں مبتلا ہو وہ ذکر الٰہی اور نماز کی پابندی سے محروم ہوجاتا ہے۔
جوا میں جیتا ہوا مال حرام ہے
پارہ نمبر 2 سورۃ البقرہ آیت نمبر 188 میں ارشاد رب العباد ہوتا ہے۔
ترجمہ کنزالایمان:آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھائو۔
صدر الافاضل مفتی سید محمد نعیم الدین مراد آبادی خزائن العرفان میں ارشاد فرماتے ہیں۔ اس آیت میں باطل طور پر کسی کا مال کھانا حرام فرمایا گیا۔ خواہ لوٹ کر یا چھین کر یا چوری سے یا جوئے سے یا حرام تماشوں یا حرام کاموں یا حرام چیزوں کے بدلے یا رشوت یا جھوٹی گواہی یا چغل خوری سے یہ سب ممنوع اور حرام ہے۔
حضور نبی کریم رئوف رحیمﷺ نے ارشاد فرمایا جس نے جوا کھیلنے کے سامان سے جوا کھیلا تو گویا اس نے اپنا ہاتھ خنزیر کے گوشت اور خون میں ڈبودیا۔
(سنن ابن ماجہ، ج 1، ص 231، حدیث 3863)
حضور نبی کریمﷺ کا ارشاد عبرت بنیاد ہے۔ جس شخص نے اپنے ساتھی سے کہا ’’آئو جوا کھیلیں‘‘ تو اس کہنے والے کو چاہئے کہ صدقہ کرے (صحیح مسلم، ص 893، حدیث 1637)
حضرت علامہ یحیی بن شرف الدین نووی علیہ رحمتہ اﷲ القوی اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں۔ علماء فرماتے ہیں کہ سرکار علیہ السلام نے صدقہ کا حکم اس لئے دیا ہے کہ اس شخص نے گناہ کی دعوت دی تھی۔ حضرت علامہ خفاجی علیہ رحمتہ القوی نے کہا کہ جتنے پیسوں کا جوا کھیلنے کا کہا تھا اتنے پیسوں کا صدقہ کرے۔ مگر صحیح وہ ہے جو محققین نے فرمایا ہے اور یہی حدیث پاک کا ظاہر ہے کہ صدقہ کی کوئی مقدار معین نہیں، آسانی سے جتنا صدقہ کرسکے، کردے۔
(شرح مسلم للنووی، ج 6، ص 107)
میرے آقا اعلیٰ حضرت امام اہلسنت حضرت علامہ مولانا شاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمتہ الرحمن فتاویٰ رضویہ ج 19 ص 646 پر فرماتے ہیں۔ سود اور چوری اور غصب اور جوئے کا پیسہ حرام ہے (فتاویٰ رضویہ، ج 19، ص 646)
جوا کی تعریف
حضرت میر سید شریف جرجانی علیہ رحمۃ القوی لکھتے ہیں۔ ہر وہ کھیل جس میں یہ شرط ہو کہ مغلوب (یعنی ناکام ہونے والے) کی کوئی چیز غالب (یعنی کامیاب ہونے والے) کو دی جائے گی (التعریفات ص 126)
جوئے کی صورتیں
محترم قارئین آج کل دنیا میں جوئے کے نت نئے طریقے رائج ہیں۔ ان میں سے 6 یہ ہیں۔
1… لاٹری:
اس طریقہ کار میں لاکھوں، کروڑوں روپے کے انعامات کا لالچ دے کر لاکھوں ٹکٹ معمولی رقم کے بدلے فروخت کئے جاتے ہیں پھر قرعہ اندازی کے ذریعے ہونے والوں میں چند لاکھ یا چند کروڑ روپے تقسیم کئے جاتے ہیں جبکہ بقیہ افراد کی رقم ڈوب جاتی ہے۔ یہ بھی جوا کی ایک صورت ہے جوکہ حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔
2… موبائل میسجز اور جوا:
موبائل پر مختلف میسجز (Messages) جوکہ سوالات پر مبنی ہوتے ہیں، بھیجے جاتے ہیں۔ جس میں مثلا کون سی ٹیم میچ جیتے گی؟ پاکستان کس دن بنا تھا؟ درست جوابات دینے والوں کے لئے مختلف انعامات رکھے جاتے ہیں۔ شرکت کرنے والے کے ’’موبائل بیلنس‘‘ سے قلیل رقم مثلا دس روپے کٹ جاتی ہے۔ جن کا انعام نہیں نکلتا، ان کی رقم ضائع ہوجاتی ہے۔ یہ بھی جوا ہے جوکہ حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔
3… پرائز بانڈ کی پرچی:
حکومت پاکستان 200، 750، 1500، 7500، 15000 اور 40000 روپے کی مالیت کے انعامی بانڈز بینک کے ذریعے جاری کرتی ہے اور جدول کے مطابق ہر ماہ قرعہ اندازی کے ذریعے کروڑوں روپے کے انعامات خریداروں میں تقسیم کرتی ہے۔ جس کا انعام نہیں نکلتا، اس کی بھی رقم محفوظ رہتی ہے۔ وہ اسے جب چاہے کیش کرواسکتا ہے۔ یہ جواز (جائز ہونے) کی صورت ہے اور جوئے میں داخل نہیں لیکن بعض لوگ انعامی بانڈز کی پرچیاں بیچتے ہیں۔ ان پرچیوں کی خرید وفروخت غیر قانونی ناجائز حرام ہے کیونکہ بیچنے والا حکومت کی طرف سے جاری کردہ پرائز بانڈز اپنے ہی پاس رکھتا ہے (بلکہ بعض اوقات پرائز بانڈز بھی بیچنے والے کے پاس نہیں ہوتے ہیں) پرچی بیچنے والا خریدار کو قلیل رقم کے بدلے پرچی پر محض ایک نمبر لکھ دیتا ہے کہ اگر اس نمبر پر انعام نکل آیا تو میں تمہیں اتنی رقم دوں گا۔ انعامی پرچی کا یہ کام بھی جوا ہے کیونکہ اس میں انعام نہ ملنے کی صورت میں خریدار کی رقم ڈوب جاتی ہے۔
4…معمہ:
اس میں ایک یا ایک سے زیادہ سوالات حل کرنے کے لئے دیئے جاتے ہیں۔ جس کا حل منتظمین کی مرضی کے مطابق نکل آئے، اسے انعام دیا جاتا ہے۔ انعامات کی تعداد تین یا چار یا اس سے بھی زائد ہوتی ہے لہذا درست حل زیادہ تعداد میں نکلیں تو قرعہ اندازی کے ذریعہ فیصلہ ہوتا ہے۔اس کھیل میں بہت سارے افراد شریک ہوتے ہیں۔ ان کی شرکت دو طرح سے ہوتی ہے۔
(1۔ مفت) (2۔ معمولی فیس دے کر)
اگر شرکاء سے کسی قسم کی فیس نہ جائے اور کوئی مانع شرعی نہ ہونے کی صورت میں انعام لینا جائز ہے جس میں شرکاء سے فیس لی جاتی ہے، اس میں انعام ملے یا نہ ملے، رقم ڈوب جاتی ہے۔ یہ صورت جوئے کی ہے جوکہ حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔
5… پیسے جمع کرکے قرعہ اندازی کرنا:
بعض دوست یا افراد مل کر تھوڑی تھوڑی رقم جمع کرکے قرعہ اندازی کرتے ہیں کہ جس کا نام نکلا، ساری رقم اس کو ملے گی۔ یہ بھی جوا ہے کیونکہ بقیہ افراد کی رقم ڈوب جاتی ہے۔ اس طرح بعض اوقات پیسے جمع کرکے کوئی کتاب یا دوسری چیز خریدی جاتی ہے کہ جس کا نام قرعہ اندازی میں نکل آیا۔ اسے یہ کتاب دے دی جائے گی۔ یہ بھی جوا ہے۔ یاد رہے کہ بعض کمپنیاں اپنی مصنوعات خریدنے والوں کو قرعہ اندازی کرکے انعامات دیتی ہیں، یہ جائز ہے کیونکہ اس میں کسی کی بھی رقم نہیں ڈوبتی۔
6… مختلف کھیلوں میں شرط لگانا:
ہمارے یہاں مختلف کھیل مثلا گھڑ دوڑ، کرکٹ، کیرم، بلیئرڈ، تاش، شطرنج وغیرہ دو طرفہ شرط لگا کر کھیلے جاتے ہیں کہ ہارنے والا جیتنے والے کو اتنی رقم یا فلاں چیز دے گا۔ یہ بھی جوا ہے اور ناجائز و حرام۔ کیرم، بلیئرڈ کلب وغیرہ میں کھیلتے وقت عموما یہ شرط رکھی جاتی ہے کہ کلب کے مالک کی فیس ہارنے والا ادا کرے گا۔ یہ بھی جوا ہے۔ بعض نادان گھروں میں مختلف کھیلوں میں مثلا تاش، لوڈوں پر دو طرفہ شرط لگا کرکھیلتے ہیں اور کم علمی کے باعث اس میں کوئی حرج نہیں رکھتے۔ وہ بھی سنبھل جائیں کہ یہ بھی جوا ہے۔ جوا حرام اور جہنم میں لے جانے والاکام ہے۔
جوئے سے توبہ کا طریقہ
جوا کھیلنے والا اگر نادم ہو تو اس کو چاہئے کہ بارگاہ الٰہی عزوجل میں سچی توبہ کرے مگر جو کچھ مال جیتا ہے وہ بدستور حرام ہی رہے گا۔ اس ضمن میں رہنمائی کرتے ہوئے میرے آقا اعلیٰ حضرت امام اہلسنت مولانا شاہ امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ فرماتے ہیں۔ جس قدر مال جوئے میں کمایا محض حرام ہے۔ اس سے نجات کی یہی صورت ہے کہ جس جس سے جتنا جتنا مال جیتا ہے، اسے واپس دے یا جیسے بنے، اسے راضی کرکے معاف کرالے۔ وہ نہ ہو تو اس کے وارثوں کو واپس دے یا ان میں جو عاقل بالغ ہوں، ان کا حصہ ان کی رضامندی سے معاف کرالے۔ باقیوں کا حصہ ضرور انہیں دے کہ اس سے معافی ممکن نہیں اور جن لوگوں کا پتہ کسی طرح نہ چلے نہ ان کا، نہ ان کے وارثوں کا ان سے جس قدر جیتا تھا، ان کی نیت سے خیرات کردے۔ اگرچہ (خود) اپنے (ہی) محتاج بہن بھائیوں، بھانجوں، بھتیجوں کو دے دے۔ آگے چل کر مزید فرماتے ہیں۔ غرض جہاں جہاں جس قدر یاد ہوسکے کہ فلاں سے اتنا مال ہار جیت میں زیادہ پڑا تھا اتنا تو انہیں یا ان کے وارثوں کو دے یہ نہ ہو تو ان کی نیت سے تصدق (یعنی صدقہ) کرنے اور زیادہ پڑنے کے یہ معنی کہ مثلا ایک شخص سے 10بار جوا کھیلا، کبھی یہ جیتا کبھی یہ، اس (سامنے والے جواری) کے جیتنے کی (رقم کی) مقدار مثلا سو روپے کو پہنچی۔ اور یہ (خود) سب دفعہ ملا کر سواسو (125) کے دینے رہے۔ اتنے ہی اسے واپس دے۔ وعلی ہذا القیاس۔ اور جہاں یاد نہ آئے کہ (جوا کھیلنے والے) کون کون لوگ تھے اور کتنا (مال جوئے میں جیت) لیا۔ وہاں زیادہ سے زیادہ مقدار کا تخمینہ (اندازہ) لگائے کہ اس تمام مدت میں کس قدر مال جوئے سے کمایا ہوگا۔ اتنا مالکوں (یعنی ان نامعلوم جواریوں) سے خیرات کردے عاقبت یونہی پاک ہوگی۔ واﷲ تعالیٰ اعلم
(فتاویٰ رضویہ، ج 19، ص 651)