٭ امام حاکم علیہ الرحمہ و امام طبرانی علیہ الرحمہ، حضرت عمارہ بن حزم رضی اﷲ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ سرور کائناتﷺ نے مجھے ایک قبر پر بیٹھے دیکھا، فرمایا اور قبر والے! قبر سے اُتر آ، نہ تو قبر والے کو ایذا دے نہ وہ تجھے (شرح الصدور بحوالہ طبرانی و حاکم باب تاذیہ بسائرہ وجوہ الاذی ص 126، خلافت اکیڈمی سوات)
٭ رسول پاکﷺ نے فرمایا۔ میت کو جس بات سے گھر میں ایذا ہوتی ہے، قبر میں بھی اس سے ایذا ہوتی ہے (الفردوس بما ثور الخطاب، حدیث دارالکتب العلمیہ بیروت، جلد اول، ص 199)
٭ نبی پاکﷺ ارشاد فرماتے ہیں۔ مردے کی ہڈی کو توڑنا اور اسے ایذا پہنچانا ایسا ہی ہے جیسے زندہ کی ہڈی کو توڑنا (سنن ابو دائود، کتاب الجنائز)
٭ امام شامی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں جس سے زندوں کو اذیت ہوتی ہے، اس سے مردے بھی ایذا پاتے ہیں (ردالمحتار، فصل الاستنجائ، ادارۃ الطباعۃ المصریۃ مصر، جلد اول، ص 229)
٭ امام ابن شیبہ علیہ الرحمہ اپنی مصنف میں حضرت عبداﷲ ابن مسعود رضی اﷲ عنہ سے راوی ہیں۔ مسلمان کو بعد موت تکلیف دینی ایسی ہے جیسی زندگی میں اسے تکلیف پہنچائی (شرح الصدور، بحوالہ مصنف ابن ابی شیبہ باب تاذیہ بسائرہ وجوہ الاذی خلافت اکیڈمی سوات، ص 126)
٭ شاہ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ فتح القدیر میں فرماتے ہیں۔ اس بات پر اتفاق ہے کہ مردہ مسلمان کی عزت و حرمت زندہ مسلمان کی طرح ہے (فتح القدیر، فصل فی الدفن، جلد 2، ص 102، مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر)
جب ایک مسلمان کی قبر کی حرمت کا یہ حکم ہے تو پھر اﷲ تعالیٰ کے نیک بندوں کے مزارات کی تعظیم کا کس قدر خیال رکھنا چاہئے مگر افسوس موجودہ دور کے خارجی وہابی جوکہ یہودی قوتوں کے آلۂ کار بنے ہوئے ہیں۔ وہ انبیاء اور اولیاء کی عداوت میں اس قدر اندھے ہوچکے ہیں کہ وہ اصل شریعت کو پس پشت ڈالے ہوئے ہیں۔
مزارات کی تعمیر شریعت کے آئینہ میں
اﷲ تعالیٰ کے نیک بندوں کے مزار تعمیر کروانا شرعی اعتبار سے جائز ہے، چنانچہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے
القرآن: وَکَذَلِکَ اَعثَرْنَا عَلَیْہِمْ لَِیَعْلَمُوا اَنَّ وَعْدَ اللّہِ حَقٌّ وَاَنَّ السَّاعَۃَ لَا رَیْبَ فِیْھَا اِذْ َتَنَازَعُونَ بَیْنُمْ اَمْرَہُمْ فَقَالُوْا ابنُوْا عَلَیِْھِم بُنْیَانًا رَّبَُّھُم اَعْلَمُ بِِھِمْ قَالَ الَّذِیْنَ غَلَبُوا عَلَیٰ اَمرِھِمْ لَنَتَّخِذَنَّ عَلَیْھِمْ مَّسْجِدًا
ترجمہ: اور اسی طرح ہم نے ان کی اطلاع کردی کہ لوگ جان لیں کہ اﷲ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے اور قیامت میں کچھ شبہ نہیں۔ جب وہ لوگ ان کے معاملے میں باہم جھگڑنے لگے تو بولے ان کے غار پر کوئی عمارت بنائو ان کا رب انہیں خوب جانتا ہے۔ وہ بولے جو اس کام میں غالب رہے تھے، قسم ہے کہ ہم تو ان پر مسجد بنائیں گے (سورۂ کہف، آیت 21، پارہ 15)
تفسیر… مشائخ کرام اور علماء کرام کے مزارات کے اردگرد یا اس کے قریب میں کوئی عمارت بنانا جائز ہے۔ اس کا ثبوت مندرجہ بالا آیت سے ملتا ہے۔ قرآن مجید نے اصحاب کہف کا قصہ بیان فرماتے ہوئے کہا
قَالَ الَّذِیْنَ غَلَبُوا عَلَیٰ اَمرِھِمْ لَنَتَّخِذَنَّ عَلَیْھِمْ مَّسْجِدًا
وہ بولے اس کام میں غالب رہے کہ ہم تو ان اصحاب کہف پر مسجد بنائیں گے۔ تفسیر روح البیان میں علامہ اسماعیل حقی علیہ الرحمہ نے اس آیت میں ’’بنیاناً‘‘ کی تفسیر میں فرمایا۔
دلیل… یعنی انہوں نے کہا کہ اصحاب کہف پر ایسی دیوار بنائو جو ان کی قبر کو گھیرے اور ان کے مزارات کے جانے پر محفوظ ہوجاوے جیسے کہ سرکار اعظمﷺ کی قبر شریف چار دیواری سے گھیر دی گئی ہے مگر یہ بات نامنظور ہوئی تب مسجد بنائی گئی۔
’’مسجداً‘‘ کی تفسیر میں تفسیر روح البیان میں ہے کہ ’’یصلی فیہ المسلمون ویتبرکون بمکانہم‘‘ یعنی لوگ اس میں نماز پڑھیں اور ان سے برکت لیں۔ قرآن مجید نے ان کی دو باتوں کا ذکر فرمایا۔ ایک تو اصحاب کہف کے گرد قبہ اور مقبرہ بنانے کا مشورہ کرنا، دوسرے ان کے قریب مسجد بنانا اور کسی باب کا انکار نہ فرمایا جس سے معلوم ہوا کہ مزارات اور قبہ بنانا اور قریب میں مسجد بنانا اس وقت بھی جائز تھے اور اب بھی جائز ہیں۔ اگر غلط ہوتے تو قرآن مجید کبھی اس کا حکم نہیں دیتا۔ مزارات اولیاء شعائر اﷲ ہیں اور اس سے برکتیں حاصل کرنا اور اس کی تعمیر قرآن مجید سے ثابت ہے۔
دلیل… کتب اصول سے ثابت ہے کہ ’’شرائع قبلنا یلزمنا‘‘ سرکار اعظمﷺ کے جسم اطہر کو سیدہ عائشہ رضی اﷲ عنہا کے حجرے میں رکھا گیا ہے۔ اگر یہ جائز نہ تھا تو صحابہ کرام علیہم الرضوان اس کو گرا دیتے پھر تدفین فرماتے مگر یہ نہ کیا بلکہ قاطع شرک و بدعت حضرت عمر رضی اﷲ عنہ نے اپنے زمانہ خلافت میں اس کے گرد کچی اینٹوں کی گول دیوار کھینچوادی پھر ولید بن عبدالملک کے زمانے میں صحابی رسول حضرت عبداﷲ ابن زبیر رضی اﷲ عنہ نے تمام صحابہ کرام علیہم الرضوان کی موجودگی میں اس عمارت کو نہایت مضبوط بنایا اور اس میں پتھر لگوائے۔
دلیل… ’’بخاری جلد اول کتاب الجنائز باب ماجاء فی قبر النبی و ابی بکر و عمر‘‘ میں ہے کہ حضرت عمر رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ ولید ابن عبدالملک کے زمانے میں روضہ رسول اﷲﷺ کی ایک دیوار گر گئی تو ’’اخذوفی بنائہ‘‘ صحابہ کرام علیہم الرضوان اس دیوار کے بنانے میں مشغول ہوگئے۔
دلیل… بخاری جلد اول کتاب الجنائز اور مشکوٰۃ باب البکا علی المیت میں ہے کہ حضرت امام حسن ابن علی رضی اﷲ عنہما کا انتقال ہوا تو ان کی بیوی نے ان کی قبر پر ایک سال تک قبہ ڈالے رکھا۔
یہ بھی صحابہ کرام علیہم الرضوان کی موجودگی میں ہوا مگر کسی نے اس کا انکار نہ کیا۔
دلیل… تفسیر روح البیان جلد تیسری پہلا پارہ ’’انما یعمر مسجد اﷲ من امن باﷲ‘‘ کے تحت لکھتے ہیں کہ علماء اور اولیائاﷲ کی قبروں پر عمارت بنانا جائز ہے جبکہ اس کا مقصد لوگوں کی نظروں میں عظمت پیدا کرنا ہو،تاکہ لوگ اس قبر کو حقیر نہ جانیں۔
بدمذہبوں کی دلیل
بدمذہب اس حدیث کو بنیاد بناتے ہیں:
الحدیث… حضرت علی رضی اﷲ عنہ کو سرکار اعظمﷺ نے حکم دیا کہ تصویر مٹا دو اور اونچی قبروں کو برابر کردو۔
بدمذہبوں کی دلیل کا جواب
1… جن قبروں کو گرا دینے کا حکم حضرت علی رضی اﷲ عنہ کو دیا گیا، وہ مسلمانوں کی قبریں نہیں تھیں بلکہ کفار کی قبریں تھیں۔ کیونکہ ہر صحابی رضی اﷲ عنہ کے دفن میں سرکار اعظمﷺ خود شرکت فرماتے تھے، نیز صحابہ کرام علیہم الرضون کوئی کام سرکار اعظمﷺ کے مشورے کے بغیر نہ کرتے تھے لہذا اس وقت جس قدر مسلمانوں کی قبریں بنیں، وہ یا تو سرکار اعظمﷺ کی موجودگی میں یا آپﷺ کی اجازت سے بنیں تو وہ کون سے مسلمانوں کی قبریں تھیں جوکہ ناجائز بن گئیں اور ان کو برابر کرناپڑا؟ ہاں البتہ غیر مسلموں، عیسائیوں کی قبریں اونچی ہوتی تھیں جس کو مٹانے کا حکم سرکاراعظمﷺ نے حضرت علی رضی اﷲ عنہ کو دیا جس کی دلیل یہ حدیث ہے۔
دلیل… بخاری شریف جلد اول ص 61 میں ایک باب باندھا ’’باب ہل ینبش قبور مشرکی الجاہلیۃ‘‘ کیا مشرکین زمانہ جاہلیت کی قبریں اکھیڑ دی جاویں۔ اسی کی شرح میں امام ابن حجر فتح الباری شرح صحیح بخاری جلد دوم ص 26 میں فرماتے ہیں کہ انبیاء کرام علیہم السلام اور اس کے متبعین کے سوا ساری قبریں ڈھائی جائیں کیونکہ اﷲ تعالیٰ کے نیک بندوں کی قبریں ڈھانے (مٹانے) میں ان کی توہین ہے۔
جامع الفتاویٰ میں ہے ’’جب میت مشائخ عظام، علماء و سادات کرام رحمہم اﷲ کی ہو تو اس کے اوپر عمارت (یعنی مقبرہ وغیرہ) بنانا مکروہ نہیں‘‘
(رد المحتار، باب صلاۃ الجنائز، مطلب فی حدیث جلد 3، ص 111، الفتاویٰ الہندیہ، کتاب الصلاۃ، الباب العادی والعشرون، الفصل الثانی، جلد اول، ص 159)
شیخ محقق شاہ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ نے مدارج النبوت میں مطالب المومنین سے نقل کیا ہے کہ سلف نے مشہور مشائخ و علماء کی قبروں پر قبے تعمیر کرنا جائز و مباح رکھا ہے تاکہ زائرین کو آرام ملے اور اس کے سائے میں بیٹھ سکیں۔ اسی طرح مفاتیح شرح مصابیح میں بھی ہے اور مشاہیر فقہاء میں سے اسمٰعیل زاہدی نے بھی اسے جائز قرار دیا ہے (مدارج النبوت، بحوالہ مطالب المومنین، وصل در نماز جنازہ جلد اول، ص 420، مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر) (فتاویٰ رضویہ (جدید) جلد 9، ص 418، مطبوعہ جامعہ نظامیہ لاہور)
علامہ طاہر فتنی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ سلف نے مشہور علماء و مشائخ کی قبروں پر عمارت بنانے کی اجازت دی ہے تاکہ لوگ ان کی زیارت کو آئیں اور اس میں بیٹھ کر آرام پائیں (مجمع بحار الانوار، تحت لفظ ’’شرف‘‘ جلد 2، ص 187، مطبوعہ منشی نورلکشور لکھنؤ) (فتاویٰ رضویہ (جدید) جلد 9، ص 418، مطبوعہ جامعہ نظامیہ لاہور)
کشف الغطاء میں ہے مطالب المومنین میں لکھا ہے کہ سلف نے مشہور علماء و مشائخ کی قبروں پر عمارت بنانا مباح (جائز) رکھا ہے تاکہ لوگ زیارت کریں اور اس میں بیٹھ کر آرام لیں، لیکن اگر زینت کے لئے بنائیں تو حرام ہے۔ مدینہ منورہ میں صحابہ کرام کی قبروں پر اگلے زمانے میں قبے تعمیر کئے گئے ہیں، ظاہر یہ ہے کہ اس وقت جائز قرار دینے سے ہی یہ ہوا اور حضور اقدسﷺ کے مرقد انور پر بھی ایک بلند قبہ ہے (کشف الغطائ، باب دفن میت، ص 55، مطبوعہ احمدی دہلی) (فتاویٰ رضویہ (جدید) جلد 9، ص 418، مطبوعہ جامعہ نظامیہ، لاہور)
یعنی یہ اگرچہ نوپیدا ہے پھر بھی بدعت حسنہ (اچھی بدعت) ہے اور بہت سی چیزیں ہیں کہ نئی پیدا ہوئیں اور اچھی بدعت ہیں، اور بہت احکام ہیں کہ زمانے یا مقام کی تبدیلی سے بدل جاتے ہیں (جواہر الاخطاطی، کتاب الاحسان والکراہیۃ، قلمی نسخہ ص 168۔ بی) (فتاویٰ رضویہ (جدید) جلد 9، ص 495، مطبوعہ جامعہ نظامیہ، لاہور)
قبر کے لئے پکی اینٹوں کا استعمال کیسا؟
’’مضمرات‘‘ میں ہے کہ حضرت شیخ ابوبکر بن فضل علیہ الرحمہ فرماتے ہیں۔ ہمارے ہاں قبروں کے لئے پکی اینٹیں اور رفرف لکڑی استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ (المبسوط للسرخسی، کتاب الصلاۃ، باب غسل المیت جلد اول الجزء 2، ص 98)
حضرت امام تمر تاشی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں۔ قبر کے لئے پکی اینٹوں کے استعمال میں اختلاف اس وقت ہے جبکہ میت کے اردگرد لگائی جائیں اور اگر قبر کے اوپر ہوں تو جائز ہے کیونکہ اس طرح قبر کی درندوں سے حفاظت ہوتی ہے جیسا کہ کفن کو چوری سے بچانے کے لئے قبر کو کچی اینٹوں کے ساتھ کوہان نما بنانے کا رواج ہے اور عوام و خواص میں اسے بہت اچھا سمجھا جاتا ہے (ردالمحتار کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، مطلب فی دفن المیت، جلد 3، ص 167 تا 170)
تنویر الابصار میں ہے۔ قبر پر قبہ بنانے میں کوئی حرج نہیں اور یہی صحیح ہے (تنویر الابصار مع رد المحتار، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، مطلب فی دفن المیت، جلد 3، ص 169)
الحمدﷲ قرآن و حدیث اور فقہی عبارات بلکہ مستند کتب سے یہ ثابت ہوگیا کہ اولیاء اﷲ کی قبور پر گنبد وغیرہ بنانا جائز ہے۔ عقل بھی چاہتی ہے کہ یہ جائز ہونا چاہئے۔ عام کچی قبروں کا عوام کی نگاہ میں نہ ادب ہوتا ہے، نہ احترام، نہ زیادہ فاتحہ نہ کچھ اہتمام ہوتا ہے بلکہ لوگ پیروں تلے اس کو روندتے ہیں اور اگر کسی قبر کو پختہ دیکھتے ہیں، غلاف وغیرہ رکھا ہوا پاتے ہیں تو سمجھتے ہیں کہ یہ کسی بزرگ کی قبر ہے۔ خود بخود فاتحہ کو ہاتھ اٹھ جاتے ہیں۔ مشکوٰۃ شریف باب الدفن میں اور مشکوٰۃ کی شرح مرقات میں ہے کہ مسلمانوں کا زندگی اور موت کے بعد ایک سا ادب ہونا چاہئے۔
مزارات پر چادر چڑھانے کا حکم
مزارات پر چادریں چڑھانے کا مقصد یہ ہے کہ یہ عام لوگوں کی قبروں سے نمایاں محسوس ہوں جس طرح بیت اﷲ پر غلاف چڑھایا گیا تاکہ اسے عام مسجدوں میں شمار نہ کیا جائے۔ قرآن مجید پر غلاف چڑھایا جاتا ہے تاکہ اسے عام کتابوں میں شمار نہ کیا جائے۔ اسی طرح مزارات اولیاء پر چادریں چڑھا کر اس کو نمایاں کرنا ہے تاکہ لوگ عام قبر نہ سمجھیں۔
دلیل… احادیث کی معتبر کتاب ابو دائود شریف میں ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ سرکار اعظمﷺ، صدیق اکبر رضی اﷲ عنہ اور حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کے مزارات مقدسہ پر غلاف (چادریں) موجود تھیں۔
الحدیث… حضرت ابن عباس رضی اﷲ عنہ بیان کرتے ہیں۔ حضورﷺ کی قبر مبارک پر سرخ چادر ڈالی گئی تھی۔
(بحوالہ مسلم شریف، جلد اول، کتاب الجنائز، رقم الحدیث 2136، ص 733، مطبوعہ شبیر برادرز لاہور)
حضرت امام عبدالغنی نابلسی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں لیکن ہم کہتے ہیں اگر چادریں چڑھانے اور عمامے اور کپڑے وغیرہ رکھنے کا مقصد یہ ہے کہ عاملوگوں کی نظر میں ان کی عزت و عظمت میں زیادتی ہو، تاکہ لوگ صاحب مزار سے نفرت نہ کریں، اور غافل زائرین کے دلوں میں ان کا ادب و احترام پیدا ہو، کیونکہ ان کے دل مزارات میں موجود اولیاء کرام (کا مقام نہ جاننے کے سبب ان) کی بارگاہ میں حاضری دینے اور ان کا ادب و احترام کرنے سے خالی ہوتے ہیں جیسا کہ ہم پیچھے بیان کرچکے کہ اولیاء اﷲ رحمہم اﷲ کی مقدس ارواح ان کے مزارات کے پاس جلوہ افروز ہوتی ہیں لہذا چادریں چڑھانا اور عمامے وغیرہ رکھنا بالکل جائز ہے اور اس سے منع نہیں کرنا چاہئے کیونکہ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہر ایک کیلئے اسی کا بدلہ ہے جو اس نے نیت کی۔ا گرچہ یہ ایسی بدعت ہے جس پر ہمارے اسلاف کا عمل نہ تھا لیکن یہ بات ویسے ہی جائز ہے جیسے فقہاء کرام رحمہم اﷲ ’’کتاب الحج‘‘ میں فرماتے ہیں۔ حج کرنے والا طواف وداع کے بعد الٹے پائوں چلتا ہوا مسجد حرام سے نکلے کیونکہ یہ بیت اﷲ شریف کی تعظیم و تکریم ہے اور ’’منہج السالک‘‘ میںہے۔ طواف وداع کے بعد لوگوں کا الٹے پائوں واپس لوٹنا نہ تو سنت ہے اور نہ ہی اس بارے میں کوئی واضح حدیث ہے۔ اس کے باوجود بزرگان دین ایسا کیا کرتے تھے (الفتاویٰ تنقیح الحامدیہ، وضع السّْتوْر جلد 2، ص 357)
نوٹ: مزار شریف پر صرف ایک چادر کافی ہے۔ زائد چادریں صدقہ کرنا بہتر ہے۔