چائلڈ لیبر کا حل افکارِ رضا کی روشنی میں

in Tahaffuz, August-September 2014, دلاور خان, متفرقا ت

عصر حاضر میں پوری دنیا بالخصوص کئی مسائل سے دوچار ہے۔ مختلف مکاتب فکر نے ان مسائل کے حل کے لئے کئی اقدامات تجویز کئے لیکن ان مسائل کو صحیح طور پر حل کرنے میں ناکام رہے جس کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ ان مسائل کی صحیح تشخیص نہ ہوسکی اور یقینا جب مسئلہ کی تشخیص صحیح نہ ہو تو اس مسئلے کے حل کے لئے جتنے بھی اقدامات کئے جائیں گے وہ بے سود ثابت ہوں گے۔ ان ہی مسائل میں سے ایک سلگتا ہوا مسئلہ کم سنی مشقت (Child Labour) ہے۔ کسی نے اس مسئلہ کی علت غربت و بے روزگاری اور کسی نے مالی مجبوری اور کم شرح خواندگی کو قرار دیا۔ اگر بنظر غائر ان علّت کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا یہ کم سنی کی مشقت کی علت نہیں بلکہ علامات ہیں اس سے پہلے کہ ہم اس مسئلہ کی علت دریافت کرنے کی کوشش کریں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس کم سنی کی مشقت کی کیفیات کا پہلے جائزہ لیتے ہیں۔
کم سنی کی مشقت کی تعریف
بچوں سے لیا جانے والا ہر وہ کام جو ان کے لئے نقصان دہ ہو، یا کسی نہ کسی انداز میں ان کے استحصال کا سبب بنتا ہو مثلا جسمانی، دماغی یا اخلاقی استحصال اور وہ کام ان کے حصول تعلیم کی راہ میں رکاوٹ بنتا ہو۔ ایک اندازے کے مطابق کے مطابق دنیا بھر میں اکیس کروڑ اسی لاکھ کم سن بچے محنت میں مصروف عمل ہیں۔ ان بچوں کی عمریں 5 تا 17 برس ہیں۔ پاکستان میں 66% کم سن محنت کش ہفتے میں 35 گھنٹوں سے زیادہ اور 34% اس سے بھی زیادہ وقت تک کام کرتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق صوبہ پنجاب میں تقریبا 5 تا 16 سال کی عمر کے درمیان 22.63 ملین بچے موجود ہیں۔ جن میں تقریبا 1.94 ملین بچے (دس لاکھ چورانوے ہزار) چائلڈ لیبر کاشکار ہیں۔ اسی طرح سندھ میں 8.62 ملین بچے ہیں جن میں سے 0.3 ملین بچے محنت کرتے ہیں جبکہ خیبر پختونخوا 6.71 ملین بچوں میں سے 1.06 ملین بچے ہیں جبکہ بلوچستان کے 2.07 ملین بچوں میں 0.01 ملین بچے چائلڈ لیبر کے زمرے میں آتے ہیں۔ پاکستان میں سب سے زیادہ بچے پنجاب میں 60% مزدوری کو اپنا پیشہ بنانے پر مجبور ہیں جبکہ اوسطاً خیبر پختونخوا میں سب سے زیادہ بچے محنت مزدوری کرتے ہیں۔ جہاں یہ شرح 15.8% بنتی ہے جبکہ پاکستان کے کم سن محنت کشوں کی اکثریت 73% لڑکوں پر اور 27% لڑکیوں پر مشتمل ہے۔
مشقت کم سنی کی نوعیت
مثلا انہیں غیر قانونی طور پر بیچا اور خریدا جاتا ہے۔ گھروں پر کام کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ مسلح تصادم کے لئے انہیں بھرتی کیا جاتا ہے۔ شہروں کی نسبت دیہات میں یہ شرح زیادہ ہے۔ پاکستان میں سب سے زیادہ کم سن بچے شعبہ زراعت سے منسلک ہیں۔ 70 فیصد کم سن محنت کشوں کو معاوضے کے طور پر کچھ نہیں ملتا، کیونکہ وہ باپ کے کام میں محض مددگار ہیں۔ مثلا کھیتوں میں کھاد ڈالنا لکڑیاں کاٹنا، جبکہ شہروں میں ورکشاپ میں کام کرتے ہیں اور کچرا چنتے ہیں۔ قالین بافی کی صنعت میں بھی بڑی تعداد میں یہ کم سن بچے شریک کار ہیں۔ وہ جنگلات میں شکار کرنے والوں کی خدمت میں مامور ہوتے ہیں اور کہیں ماہی گیروں کی سرگرمیوں میں ہاتھ بٹاتے ہیں۔ صنعتی شعبوں میں وہ کہیں کان کنی کرتے ہیں اور کہیں تعمیراتی کام میں ہاتھ بٹاتے ہیں اور کہیں بجلی، گیس اور پانی کی فراہمی میں ہاتھ بٹاتے ہیں۔ خدمات کے شعبے میں کہیں تھوک اور کہیں خوردہ فروشوں کی دکانوں میں کام کرتے ہیں۔ ہوٹلوں اور ریستورانوں میں اور ٹرانسپورٹ کی صنعت میں دن رات محنت کرتے ہیں۔ اس مسئلے کے حل کے لئے ہر سال 12 جون کو عالمی چائلڈ لیبر ڈے منایا جاتا ہے۔
آئین پاکستان آرٹیکل 11 کی شق نمبر 3 کے تحت 14 سال سے کم عمر بچوں سے محنت مزدوری کرانا ممنوع ہے۔ اسی طرح آئین کا آرٹیکل 25-A حکومت کو تاکید کرتا ہے کہ 5 سے 16 سال کی عمر تک کے ہر بچے کو مفت تعلیم مہیا کرے۔
اس مسئلہ کے بارے میں مختلف ماہرین کی آراء مختلف ہیں۔ مثلا کسی کے خیال کے مطابق یہ ایک معاشی مسئلہ ہے، کسی کے مطابق سماجی اور کسی کے مطابق یہ تعلیمی یا کم شرح خواندگی کا مسئلہ ہے جیسے پہلے عرض کیا کہ یہ بادی النظر میں ایسے ہی معلوم ہوتا ہے لیکن تھوڑی سے گیرائی کے ساتھ اس مسئلہ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ اس مسئلہ کی اصل وجہ اسلامی تعلیمات سے عدم آگاہی اور دوری کا نتیجہ بھی ہے۔ اگر اسلامی تعلیمات پر عمل کیا جائے تو یہ مسئلہ بہت آسانی سے حل کیا جاسکتا ہے۔ سب سے پہلے اسلامی تناظر میں بچوں کی حیثیت ان کے مقام اور فضیلت کا مطالعہ کیا جائے کہ یہ بچے اسلام کا کتنا بڑا اثاثہ ہیں۔ اس کے بعد ان کے حقوق کا مطالعہ اسلامی تناظر میں کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ کم سنی کی مشقت بچوں اور بچیوں کو اسلام کے عطا کردہ مراعات و حقوق سے محروم کرنے کا بھیانک جرم ہے۔ اس لئے اسلامی تعلیمات کو اجاگر کئے بغیر ہم اس مسئلے سے نبرد آزما نہیں ہوسکتے۔ اس تناظر میں ہم چائلڈ لیبر کا حل تلاش کرنے کے لئے مفکر اسلام احمد رضا خاں قادری حنفی کے افکار و نظریات کا مطالعہ کرتے ہیں تاکہ اس مسئلے کا حل ٹھوس بنیادوں پر پیش کیا جاسکے۔
مفکر اسلام امام سواد اعظم اہل سنت و جماعت احمد رضا خاں حنفی قادری نے ’’یشعلۃ الارشاد فی حقوق الاولاد‘‘ میں بچوں اور بچیوں کو معاشرتی، معاشی، ذہنی، جسمانی اور تعلیمی استحصال سے محفوظ رکھنے کے لئے اسی (80) حقوق تحریر فرمائے جن میں سے مذکورہ عنوان کے تحت چند یہ ہیں۔
(1)… بچے کا نفقہ، اس کی حاجت کے سبب سامان مہیا کرنا، خود واجب ہے جن میں حفاظت بھی شامل ہے۔
(2)… خدا کی ان امانتوں کے ساتھ مہر و لطف کا برتائو رکھے۔
(3)… علم دین کی تعلیم دلائے۔
بچہ کو پاک کمائی سے روزی دے، ناپاک مال ناپاک ہی عادتیں ڈالتا ہے۔ حضور اقدس رحمت عالمﷺ کی محبت ان کے دل میں ڈالے کہ اصل ایمان و عین ایمان ہے۔ اس تناظر میں آپ فرماتے ہیں کہ یہ 80 حقوق ہیں۔ اس وقت نظر میں احادیث مرفوعہ سے خیال میں آئے۔ ان میں سے اکثر مستحبات ہیں جن سے ترک پر اصلاً مواخذہ نہیں اور بعض آخرت میں مطالبہ ہو مگر دنیا میں بیٹے کے لئے باپ پر گرفت اور جبر نہیں اور نہ بیٹے کو جائز ہے کہ باپ سے جدال و نزع کرے، سوائے چند حقوق کے ان میں جبر حاکم و چارہ جوئی و اعتراض کو دخل ہے۔
1… نفقہ کہ باپ پر واجب ہے اور نہ دے تو حاکم جبراً مقرر کرے، نہ مانے تو قید کیا جائے حالانکہ فروع کے اور کسی دین میں اصول محبوس نہیں، فتاویٰ شامی میں ذخیرہ کے حوالے سے نقل کیا گیا ہے والد اپنے بیٹے کے قرض میں قید نہیں کیا جاسکتا خواہ سلسلہ نسب اوپر تک بلحاظ باپ اور نیچے بلحاظ بیٹا چلا جائے البتہ نان و نفقہ کی عدم ادائیگی کی صورت میں والد کو قید کیا جائے گا کیونکہ اس میں چھوٹے کی حق تلفی ہے۔
افکار رضا کی روشنی میں یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ کم سنی بچوں پر کسی بھی قسم کی معاشی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی بلکہ یہ تو والد کی شرعی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کو ذہنی، جسمانی مشقت سے دور رکھتے ہوئے ان کے لئے مناسب رہائش، غذا، لباس، تعلیم اور حفاظت جو اس کے فرائض میں شامل ہے۔ اگر یہ فرائض والد پورے کرنے میں ناکام رہے تو اسلامی ریاست کا فرض ہے کہ بطور تعزیر والد کو قید کیا جائے تاکہ مسلم معاشرے میں چائلڈ لیبر کا خاتمہ ہو۔ چائلڈ لیبر کی صورت حال اس بات کی غمازی ہے کہ والد بچوں کی معاشی اور تعلیمی کفالت کرنے میں ناکام ہے جوکہ اسلامی معاشرے کے لئے ایک المیہ سے کم نہیں، یہ پاکستانی آئین سے غداری نہیں تو روگردانی ضرور ہے۔ پاکستان کی بقاء اس میں ہے کہ آئین پاکستان کی ہر ہر شق پر بھرپور انداز میں عمل کیا جائے۔ اگر والد اپنے مذہبی ذمہ داری کو بھرپور انداز سے نبھائے تو اس میں شک نہیں کہ کوئی بھی بچہ پاکستان میں کم سنی کی مشقت کا شکار ہو۔
تعلیمات رضا کی روشنی میں چائلڈ لیبر اس بات کی علامت ہے کہ والدین، معاشرتی ادارے اور حکومت بچوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ میں ناکام ہے۔ اگر والدین کسی جسمانی معذوری کا شکار ہیں تو حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ان افراد کے لئے وظیفہ مقرر کرے تاکہ بچوں کی صحیح معنوں میں پرورش ہوسکے اور کم سنی کی مشقت سے انہیں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے نجات مل جائے۔