12 روز سے تو زیادہ ہی ہوگئے فلسطین میں غزہ کے نہتے مسلمان شہریوں پر اسرائیلی دہشت گرد جس طرح حملہ آور ہیں، کیا اس پر کہیں بھی کھلبلی مچی؟ کسی کی آنکھ بھیگی؟ بھیگی بلی بنی مسلم امہ کے اسی بے حس رویے کا فائدہ اٹھا کر اسرائیل مزید شیر ہوا، چنانچہ پہلے سے بڑھ چڑھ کر غزہ میں خون کی ہولی کھیل رہا ہے اور عالمی امن کی ٹھیکیدار سلامتی کونسل فلسطینیوں کے جان و مال کی سلامتی سے پوری طرح قاصر نظر آرہی ہے۔ خدائی فوجدار امریکہ کو بھی سانپ سونگھ گیا ہے۔ مغرب کے دیگر مہذبین نے تو حد ہی کردی۔ انہوں نے خون مسلم کو جائز قرار دے ڈالا۔ کیا کہنے اس روشن خیال کے اور جو معترض ہیں وہ بھی زبانی کلامی کارروائی تک محدود۔ سوال یہ ہے کہ کسی عملی اقدام کی فوری ضرورت کیوں محسوس نہیں کی جارہی؟ کوئی ہے جو ناجائز اسرائیلی ریاست کے غنڈہ اور منہ زور حکمرانوں کو لگام دے سکے؟ رہائشی انسانی آبادیوں پر فضائی بمباری کرکے امریکی بغل بچہ فرعونیت کے تمام ریکارڈ توڑ دینے کے درپے ہے اور کوئی مثل موسیٰ نہیں۔ نہتے فلسطینی شہریوں پر اب تک سینکڑوں حملے کئے جاچکے ہیں، شہداء کی تعداد 300 تک جاپہنچی ہے، جن میں عورتوں اور معصوم بچوں کی بھی بڑی تعداد شامل ہے مگر عالمی ضمیر ابھی تک نہیں جاگا۔ مسلم امہ خواب خرگوش کے مزے لے رہی ہے جو چنیدہ رہنما جاگے ہیں، ان کا حال بھی یہ ہے کہ وہ اسرائیل کے غزہ پر میزائل داغنے کے جواب میں صرف زبانی بیانات داغنے پر اکتفا کئے ہوئے ہیں۔
غزہ کے نہتے شہریوں کی ہلاکت پر اپنوں کے بے حس رویئے کو دیکھتے ہوئے ہمیں اغیار سے کوئی توقع نہیں رکھنی چاہئے کہ وہ اس معاملے کو اہمیت دیں گے۔ ایک تازہ اور حقیقی واقعہ اس کی زندہ مثال ہے۔ہوا کچھ یوں کہ اگلے روز میں نے ایک عامل سینئر صحافی سے غزہ کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے بات کرنی چاہی تو موصوف نے فرمایا کہ انہیں ابھی تک اس حوالے سے کچھ زیادہ معلومات نہیں۔ لاحول ولا! 12 روز ہوچکے، 300 سے زائد فلسطینیوں کی ہلاکت، جس میں درجنوں معصوم اور کمسن بچے بھی شہید ہوچکے، اس پر ایک جید قسم کے صحافی کی معلومات کا یہ عالم! سچ مانیے تو مجھے اب تک ان کی یہ بات ہضم نہیں ہوئی۔ حیرانی بھی اپنی جگہ جوں کی توں برقرار ہے، کیونکہ موصوف کا شمار ان باخبروں میں کیاجاتا ہے جو نہ صرف سیاست بلکہ ضرب و حرب سے لے کر حریفان حرم تک بال کی کھال نکالنے کے ماہر اور خبروں سے بہت آگے کی معلومات رکھنے کی شہرت کے حامل مانے جاتے ہیں۔ میں نے ان کی لاعلمی کے جواب میں اپنے طور پِر صورتحال واضح کرنے کی کوشش کی، تو بات کاٹ کر بے زاری سے فرمایا: بھئی اس وقت تو تفصیل طلب بات نہیں ہوسکتی کہ مجھے ایک افطار ڈنر میں شرکت کے لئے جانا ہے۔ ٹھیک ہے جب آپ واپس آجائیں گے تو پھر بات کرلیں گے۔ میرے اس سوال پر وہ بڑے ہی کھسیانے انداز میں گویا ہوئے: نہیں مجھے تقریب میں خاصی دیر ہوسکتی ہے۔ مطلب صاف ظاہر تھا کہ موصوف کو اس حوالے سے گفت وشنید کی زحمت نہ دوں۔ گویا موصوف کے لئے فلسطین میں ہونے والی سینکڑوں ہلاکتیں نہ تو کوئی اہم مسئلہ تھا اور نہ ہی وہ اس حوالے سے سنجیدہ۔ جبکہ پیشہ ورانہ طور پر انہیں اس بین الاقوامی المیے پر نہ صرف پریشان ہونا چاہئے تھا بلکہ اس پر کھل کر اپنی رائے اور اپنے تجزیے کا بھی اظہار کرنا چاہئے تھا مگر ان کے لئے افطار ڈنر زیادہ اہمیت کا حامل نکلا۔ پاکستانی صحافت میں ایسے بہت سے ہیں جنہیں مسلم دنیا میں ہونے والے مظالم سے کوئی دلچسپی نہیں۔ وہ تو ملالہ پر ہونے والے ظلم پر ملال کرتے ہیں اور بس… انہیں نہ تو روہنگیا کے مسلمانوں پر ہونے والے مظالم سے کوئی واسطہ ہے، نہ ہی افغانستان، بنگلہ دیش، عراق، شام اور مصر کی پرواہ۔ ہاں خیال ہے تو یہ کہ ایشوریہ رائے کی بچی کی سالگرہ کب ہوگی؟ مادھوری کتنے سال کی ہوگئی اور وہ اپنی سالگرہ اس سال کہاں منائے گی؟ امیتابھ بچن کے گھر پیدا ہونے والے دوسرے بچے کی جنس کیا ہوگی؟ وغیرہ… خیر مذکورہ بالا واقعے میں ذکر کردہ صحافی ایسی صفوں سے تعلق نہیں رکھتے، سو ملال بھی اسی لئے ہوا۔
المیہ بھی ہے کہ ہمیں صرف اپنی غرض سے غرض ہے، دوسرا جائے بھاڑ میں۔ ہم اپنی چھوٹی چھوٹی نفسانی خواہشات پر بڑے سے بڑے معاملات کو پس پشت ڈالنے کے عادی ہوچکے ہیں تو اتحاد بین المسلمین تو صرف تحریری دستاویز ہی ثابت ہوئی ناں۔ اپنے جید صحافی کے منجمد روییے پر میرے کانوں میں کچھ عرصہ پہلے ایک مسلم ملک سے اظہار یکجہتی نہ کرنے کے حوالے سے اپنے سیاسی رہنمائوں کے وہ اقوال بھی گونج رہے ہیں جس میں انہوں نے واضح الفاظ میں کہا تھا کہ ہم فلاں ملک کے معاملات کا دفاع کریں گے۔ کیا اس نے مشکل گھڑی میں ہمارے لئے آواز اٹھائی تھی؟ جب مسلم ممالک کے رہنما بات یہاں تک لے آئیں تو دشمن کیوں نہ طاقت ور ہوگا؟ آج ساری دنیا میں مسلمانوں پر جو ظلم و ستم ڈھایا جارہا ہے، اس کی بنیادی وجہ ہماری یہی کمزوریاں ہیں۔ بیشتر مسلم حکمراں مغرب اور بالخصوص امریکہ کی خوشنودی کے لئے حق کا ساتھ دینے سے محض اس لئے گریزاں ہیں کہ یہ قوتیں ان کا تخت حکمرانی ہی تاراج نہ کردیں۔
گستاخی معاف! پاکستان ایٹم بناکر اس کی حفاظت کررہا ہے اور دیگر ممالک اس کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھ رہے ہیں۔ ایٹمی ٹیکنالوجی کے حوالے سے امت مسلم کی قیادت کی بھاری ذمہ داری پاکستان کے کاندھوں پر ہے، مگر ہمارے حکمراں بھی امریکی اور مغربی آشیرباد کے پیٹ بھر کر شیدائی ہیں۔ کون کہتا ہے کہ آپ ایٹمی جنگ شروع کردیں، مگر ایٹمی قوت ہونے کے ناطے توانا احتجاج تو کریں۔ آپ کا احتجاج دشمن کو سوچنے پر ضرور مجبور کرے گا کہ آپ ملت اسلامیہ کے نمایاں اور طاقتور ترین ملک کے حاکم ہیں، لہذا ندامت اور احتجاج کے فرق کو سمجھیں۔
غزہ کی صورتحال روز بروز ابتر ہورہی ہے، گھر کھنڈر بن چکے ہیں، مکین دوسرے علاقوں کو نقل مکانی کررہے ہیں، قیمتی انسانی جانوں کی حفاظت کے لئے باامر مجبوری یہ لازمی ہے۔ اسرائیل نے تین یہودیوں کے پراسرار قتل کو جواز بناکر حماس کے خلاف اپنا بغض نکالنے کے لئے فلسطینیوں پر بارود کی برسات کی۔ کیا عالمی قوانین اسے اس بات کی اجازت دیتے ہیں؟ جبکہ قتل ہونے والے یہودیوں پر حماس کا موقف واضح ہے کہ اس کا قتل کی اس واردات سے کوئی تعلق نہیں۔ اسرائیل کی بمباری سے اہم فلسطینی رہنمائوں کے گھرانے بھی تاراج ہوئے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ اسرائیل نے انہیں اپنے نشانے پر لے رکھا تھا۔ حماس کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔ لیکن یہ بات بھی مدنظر رکھنی چاہئے حماس کا اسرائیلی آلات حرب سے کوئی مقابلہ نہیں۔ جو چھوٹے موٹے حملے حماس نے اپنے دفاع میں کئے ہیں ، ان میں کسی بھی اسرائیلی کے ہلاک یا زخمی ہونے کی کوئی اطلاع نہیں۔ جبکہ غزہ کے لگ بھگ 300 شہری اسرائیلی بمباری کی نذر ہوچکے ہیں۔ اس کے باوجود بھی اسرائیل حملے روکنے پر تیار نہیں۔ کیا نیتن یاہو کے سامنے اقوام متحدہ کی بھی کوئی حیثیت نہیں یا پھر اس تمام صورتحال کو مسلمانوں کے خلاف ملی بھگت سمجھا جائے۔ کوئی تو ہو جو خدا لگتی کہے، انصاف کی بات کرے۔
(وما توفیقی الا باﷲ)