تین یہودیوں کے قتل کا ڈرامہ اسرائیل نے خود رچایا؟ (خصوصی رپورٹ)

in Tahaffuz, August-September 2014, متفرقا ت

بحران کے شکارمشرق وسطیٰ میں فلسطین، اسرائیل امن مذاکرات کی ناکامی کے بعد حالات تیزی کے ساتھ ایک نئی جنگ کی جانب بڑھتے دکھائی دے رہے ہیں۔2007ء میں فلسطین میںاسرائیل مخالف تنظیم اسلامی تحریک مزاحمت’’حماس‘ ‘ کے برسراقتدار آنے کے بعد صہیونی ریاست تین بار فلسطینیوں پر جنگ مسلط کرچکی ہے۔ امریکی وزیرخارجہ جان کیری کی نگرانی میں نو ماہ تک جاری رہنے والی نام نہاد مذاکرات کی بے سودمشق اپنے انجام کو پہنچنے کے بعد صورت حال اس وقت زیادہ گھمبیر ہوگئی جب آٹھ سال سے ناراض حما س اور الفتح نے اچانک قومی مفاہمتی معاہدے کا اعلان کرتے ہوئے مشترکہ قومی حکومت قائم کرلی۔ حماس کے اشتراک سے بننے والی مخلوط عبوری فلسطینی حکومت کے خلاف اسرائیل کی انتہا پسند مقتدر طاقتوں نے حسب توفیق زہراگلنا شروع کردیا۔
میڈیا میں یہ قیاس آرائیاں پہلے ہی شروع ہوگئی تھیں کہ فلسطین میں حالات کو کسی نئے رخ کی طرف موڑنے کے لیے خفیہ ہاتھ کسی’’ان ہونی‘‘ کی تیاری میں مصروف ہیں۔ وہ ان ہونی تین یہودی آباد کاروں کے پراسرار گم شدگی اور ان کے قتل کی صورت میں سامنے آئی۔ اسرائیلی پارلیمنٹ میں شامل انتہا پسند حلقوںنے قومی حکومت توڑنے کے لیے محمود عباس پر بھرپور دباؤ ڈالنا شروع کردیا۔ جب اسرائیل کو اندازہ ہواکہ محمود عباس کو دھمکیوں کے ذریعے حماس سے علیحدہ نہیں کیا جاسکتا ہے تو فلسطین میں تین یہودی آباد کاروں کے اغواء کے بعد قتل کا ڈرامہ رچایا گیا۔
یہ واقعہ تیرہ جون کو مقبوضہ مغربی کنارے کے شہرالخلیل میں پیش آیا جب مبینہ طورپر تین یہودی لڑکوں سولہ سالہ نفتالی فرنکو، گیل عاد شاہر اور انیس سالہ ایال یفراح ایک مذہبی اسکول سے نکلنے کے بعد اچانک لاپتا ہوگئے۔ تینوں یہودیوں کی گمشدگی پر اسرائیل نے فلسطین میں ایک طوفان برپا کردیا اور تین ہفتوں کے دوران بار بار وحشیانہ کریک ڈاؤن میں 700 فلسطینی شہریوں کو حراست میں لے لیا گیا۔ پکڑے جانے والوں کی اکثریت حماس کے حامیوں پر مشتمل ہے جن میںبزرگ فلسطینی لیڈر اور مجلس قانون ساز کے اسپیکر ڈاکٹرعزیزدویک اور ایک درجن دیگر ممبر ان اسمبلی شامل ہیں۔
تین یہودی آباد کاروں کے اغواء کی تلاش کے لیے جاری کریک ڈاؤن کا ڈراپ سین دو جولائی کو اس وقت ہوا کہ ایک ویران مکان سے تینو ں لڑکوں کو مردہ حالت میں پایا گیا۔ اسرائیل نے یہودی آباد کاروں کے اغواء اور قتل کی ذمہ داری حماس پرعائد کی۔حماس نے ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کردیا ہے تاہم اغواء کی کارروائی کی تحسین بھی کی ہے۔اسرائیلی وزیراعظم جنرل بینی گانٹز کا کہنا ہے کہ ان کا اصل مشن تین یہودی آباد کاروں کی تلاش ہی نہیں بلکہ مغربی کنارے سے حماس کے نیٹ ورک کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہے۔اسرائیلی اور مغربی میڈیا میں جہاں کارروائی کی شدید مذمت کی ہے وہیں یہ تاثر بھی دیا ہے کہ یہ اسرائیل کی ’’منصوبہ بند‘‘ سازش ہے۔ تین یہودی آباد کاروں کے اغواء میں حماس ملوث ہو یا نہ ہو لیکن اسرائیل اس واقعے کی آڑ میں فلسطین میں ایک نئی جنگ مسلط کرنے کی راہ ہموار کررہا ہے۔
اسرائیلی اخبارات’’معاریف‘‘ اور یروشلم پوسٹ نے عسکری ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے یہودی لڑکوں کے اغواء کے بعد قتل نے حماس کے خلاف فیصلہ کن جنگ کا موقع فراہم کردیاہے۔ حماس اس واقعے میں ملوث ہونے سے ہزار انکار کرے لیکن تل ابیب کے لیے حماس کو دیوار سے لگانے کا یہ سنہری موقع ہے۔ موجودہ حالات میں مصر اور کئی دوسرے عرب ممالک کے بھی حماس کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہیں۔ شام سے حماس کی جلا وطن قیادت کی قطر منتقلی ، مصر کی جانب سے تنظیم پرپابندیوں، سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات اور سب سے بڑھ کر ایران کی جانب سے حماس کی امداد بند ہونے کے بعد تنظیم کو علاقائی سطح پر مشکلات کا سامنا ہے۔ ایسے میں اسرائیل کے لیے تنظیم کے خلاف کسی بھی جارحیت کے زیادہ امکانا ت ہیں۔تین یہودی آباد کاروں کے قتل کے بعد تواسرائیل کو ایک بہانہ ہاتھ آگیا ہے۔
یہودی آباد کاروں کے قتل کے بعد فلسطین میں اسرائیل مخالف جذبات میں اس وقت اچانک اضافہ ہوگیا جب مقبوضہ بیت المقدس میں نماز فجر کے لیے مسجد کی طرف جاتے ہوئے ایک سولہ سالہ لڑکے محمد ابو خضیر کو نامعلوم دہشت گردوں نے اغواء کے بعدنہایت بے دردی سے شہید کردیا۔ اس واقعے کے بعد فلسطین میں اسرائیل کے خلاف نفرت کی آگ بھڑک اٹھی ہے۔ دوسری جانب اسرائیل تین یہودی آباد کاروں کے اغواء کے بعد ان کے قتل کی آڑ میں انتقامی کارروائی کے لیے غزہ کی پٹی پر حملے دانت کے لیے تیز کر رہا ہے۔ تین بریگیڈ فوج غزہ کی سرحد پرتعینات کردی گئی ہے۔ فضائی حملوں میں دو ہفتوں میں کم سے کم سات فلسطینی شہید اور ایک درجن زخمی بھی ہوچکے ہیں۔فلسطینی مزاحمت کاروں نے بھی جوابی کارروائی کے طورپر اسرائیلی کالونیوں پرراکٹ حملے شروع کر دیے ہیں۔
مشرق وسطیٰ کے موجودہ کشیدہ حالات میں پڑوسی عرب ممالک کا کردار نہایت مایوس کن ہے۔ حتیٰ کہ میڈیا رپورٹس کے مطابق مصرکی موجودہ فوجی حکومت نے درپردہ غزہ کی پٹی پر اسرائیلی فوجی کارروائی کی حمایت کی ہے۔مصر کی جانب سے اسرائیل کو پیغام دیاگیا ہے کہ وہ غزہ کی پٹی میں حماس کے خلاف کارروائی کرے۔ فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس گومگو کا شکار ہیں۔ انہیں ایک جانب حماس کے اشتراک سے قائم کردہ قومی حکومت کوبھی بچانا ہے لیکن ساتھ ہی وہ اسرائیل سے بھی پینگیں بڑھا رہے ہیں۔ محمودعباس کے لیے بہ یک وقت دونوں کو ایک ساتھ آگے بڑھانا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے۔اس لیے قومی حکومت کا مستقبل مخدوش دکھائی دیتا ہے۔
اسرائیل کے خلاف تیسری تحریک انتفاضہ کا آغاز؟
فلسطین میں قومی حکومت کے قیا م کے بعد جہاں مختلف الخیال جماعتوں میں قربت پیداہوئی ہے وہیں بعض معاملات میں اسرائیل مخالف جذبات بھی شدت اختیار کرنے لگے ہیں۔ماضی میں سنہ 1996 اور 2000ء میں اسرائیل کے خلاف دو عوامی تحریکیں برپا ہوچکی ہیں۔ ان تحریکوں کے پس پردہ جو عوامل اس وقت کار فرما تھے وہی آج بھی نہ صرف موجود ہیں بلکہ زیادہ شدت کے ساتھ ہیں۔ تین بڑے اسباب اسرائیل مخالف فلسطینی تحریکوں کا سبب بنے۔
فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کی ریاستی دہشت گردی، مقبوضہ عرب علاقوں میں اسرائیلی توسیع پسندی اور مذاکراتی کوششوں کو دانستہ تعطل کا شکار کرنا ایسے اقدامات تھے جن کے نتیجے میں فلسطینیوں کو تحریک انتفاضہ یعنی حقوق کے حصول کے لیے بیداری کی تحریکوں پر مجبور کیا۔ موجودہ حالات ماضی کی نسبت زیادہ خوفناک ہیں اور ان حالات میں فلسطینیوں کے غم وغصے پر قابو پانا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ فلسطین میں یہودی توسیع پسند، ریاستی دہشت گردی اور امن مخالف سرگرمیوں میں بنجمن نیتن یاھوکی حکومت سابقہ حکمرانوں کے ریکارڈ بھی توڑ دیے ہیں۔
اسرائیل کے سیاسی اور ابلاغی حلقے بھی مقتدر حلقوں کو حالات کی خرابی پر مسلسل خبردار کر رہے ہیں لیکن نیتن یاھو کی حکومت ’’میں نہ مانوں‘‘ کی ھٹ دھرمی پر قائم ہے۔ایسے میں فلسطینیوں کے پاس اسرائیل کے خلاف ایک نئی تحریک انتفاضہ شروع کرنے کے سوا کوئی چارہ باقی نہیں بچا ہے۔اسرائیل کے خلاف عوامی بغاوت کی تحریک کو باہر سے بھی مہمیز مل سکتی ہے۔
حماس۔ فتح میں بداعتمادی بڑھنے لگی
فلسطین میں قومی مفاہمت کے تحت مخلوط حکومت کی تشکیل کو ابھی ایک ماہ ہی گذرا ہے لیکن دونوں بڑی اسٹیک ہولڈر حماس اور الفتح کے درمیان گلے شکوے بڑھنے لگے ہیں۔موجودہ حالات میں قومی مفاہمت ہی فلسطینیوں کو بحران سے نکالنے میں مدد دے سکتی ہے۔ صدر محمود عباس حماس کے ساتھ مفاہمت پر اسرائیل کی جانب سے سخت دباؤ کا شکار ہیں۔ تین یہودی لڑکوں کے پراسرار قتل کے دوران فلسطینی اتھارٹی نے اپنا وزن اسرائیل ہی کے پلڑے میں ڈالا ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق محمود عباس نے یہودی آباد کاروں کے اغواء اور قتل کی مذمت کرنے ساتھ ساتھ ایک اعلیٰ سطح کا وفد بھی مقتول لڑکوں کے اہل خانہ سے ملاقات کے لیے بھیجا جس نے فلسطینی اتھارٹی کی طرف سے قاتلوں کی گرفتاری میں ہرممکن تعاون کا یقین دلایا ہے۔
حماس کو دوسرا شکوہ یہ ہے کہ مغربی کنارے میں صد محمود عباس کے زیرکمانڈ سیکیورٹی ادارے اسرائیل کے ساتھ فوجی تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں، جبکہ قومی مفاہمت کے تحت اسرائیل کے ساتھ سیکیورٹی تعاون ختم کرنے پراتفاق کیا گیا تھا۔ باہمی اعتماد میں کمی کا ایک سبب فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے غزہ کی پٹی میں حماس کی سابقہ حکومت کے ملازمین کو تنخواہوں کی عدم ادائیگی ہے۔
حماس قومی حکومت سے غزہ کے سابقہ ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی کا مطالبہ کررہی ہے لیکن فلسطینی اتھارٹی کا کہنا ہے کہ اس کے نزدیک حماس کی حکومت غیرآئینی تھی اور غیرآئینی حکومت کے ملازمین کسی مالی اعانت کے مستحق نہیں ہیں۔ دوسری جانب الفتح کو شکوہ ہے کہ حماس نے مغربی کنارے میں تین یہودی لڑکوں کے اغواء اور قتل میں معاونت کرکے اسرائیل کے ساتھ بگاڑ پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔
جس کے نتیجے میں فلسطینی ایک نئے بحران سے دوچار ہوئے ہیں۔ دونوں جماعتوں کے رہ نما ایک ددسرے پراب کھل تنقید کرنے لگے ہیں۔ اعتماد سازی کے لیے جو ماحول درکار ہے وہ پہلے ہی نہیں تھا، رہی سہی کسر باہمی تنقید اور الزام تراشی نے نکال دی ہے۔ دونوں جماعتوں میں گلے شکوے دور نہ ہوئے تو قومی مفاہمت کی بیل منڈے نہیں چڑھ پائے گی اور اسرائیل اور اس کے پشتیبان فلسطینیوں کو ایک مرتبہ پھر دست وگریباں کرنے کی گھناؤنی سازش میں کامیاب ہو جائیں گے۔
بحران میں عرب ممالک کا منفی کردار
فلسطین میں داخلی سطح کا کوئی اہم ایشو ہو یا اسرائیل کے ساتھ کشیدگی، عرب ممالک ہمیشہ ہراول دستے کے طورپر پیش پیش رہے ہیں، لیکن تیرہ جون کو تین یہودی آباد کاروں کے اغواء اور قتل کے بعد فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کی کارروائیوں پر عرب ممالک کہیں گہری نیند میں چلے گئے ہیں۔ اس ضمن میں سعودی عرب، مصر اردن سے فلسطینیوں کو توقعات وابستہ تھیں لیکن اب نہ عرب لیگ، نہ خلیج تعاون کونسل اور نہ ہی کسی قابل ذکر عرب ملک کی جانب سے کوئی مثبت قدم اٹھایا گیا ہے۔
محض مذمتی بیانات سے پہلے فلسطینیوں کو کون سے حقوق مل گئے ہیں، جو اب ملیں گے، لیکن اب تو کہیں مذمت کی توفیق بھی نہیں ہوتی۔ اسرائیل کا الزام ہے کہ حماس نے تین یہودی لڑکوں کو اغواء کے بعد انہیں قتل کردیا۔ تین یہودی آباد کاروں کے قتل پرعرب ممالک اور پوری دنیا نے آسمان سر پراٹھا رکھا تھا لیکن نہتے فلسطینی بچوں کی شہادت پر کوئی آوازکیوں نہیں اٹھاتا۔ انسانی حقوق کے ادارے’’المیزان‘‘ کی رپورٹ کے مطابق 2000ء کے بعدسے اب تک چودہ برسوں میں اسرائیل نے 1500 کم سن فلسطینی بچے نہایت بے رحمی سے شہید کیے۔
عرب اور مسلمان ملکوں کو یہ سوال اٹھانا چاہیے کہ اگر تین یہودی لڑکوں کا قتل جرم ہے تو اسرائیلی فوج کے تشدد سے ڈیڑھ ہزار فلسطینی بچوں کی شہادت بھی کوئی اعزاز کی بات نہیں۔ بجا کہ یہودی لڑکوں کے قاتلوں کے خلاف کاررائی اسرائیل کا آئینی مطالبہ مگرسیکڑوں فلسطینیوں کے قتل کا ذمہ داروں کو کون کٹہرے میں لائے گا؟ اسرائیل نے انتقامی کارروائی کے دوران سات سو فلسطینیوں کو حراست میں لے کر جیلوں میں ڈال دیا ہے۔ کیا یہ انسانی حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزی نہیں ہے۔
یہ مطالبہ اسلامی تعاون تنظیم اوآئی سی، عرب لیگ اور دیگر اداروں کی جانب اٹھایا جانا چاہیے۔ عرب ملکوں کی ذمہ داریاں سوا ہیں۔ مگر ایسے لگ رہا ہے کہ سعودی عرب ، اردن اور مصر جیسے تینوں بڑے ممالک فلسطینیوں کو اخوان المسلمون کی ہم خیال حماس کی حمایت کی سزا د ے رہے ہیں۔ جب سے مصر اور سعودی عرب میں اخوان پرپابندیاں لگی ہیں عرب ملکوں کی فلسطین کے بارے میں سرد مہری میں اضافہ ہوگیا ہے۔
عرب ملکوں کی بے اعتنائی فلسطینیوں کو مزید مشکلات سے دوچار کرسکتی ہے۔عرب ممالک کی فوری مداخلت ہی اسرائیل کو فلسطینیوں کے خلاف کسی نئی ننگی جارحیت سے باز رکھ سکتی ہے، عربوں اور مسلمانوں کی بے اعتنائی سے مشرق وسطیٰ میں ایک نئی جنگ چھڑ سکتی ہے اور یہ ممکنہ جنگ ماضی کی نسبت نہایت تباہ کن ہوگی جو صرف فلسطین تک محدود رہے گی نہیں بلکہ پہلے ہی زخموں سے چورعالم عرب کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔