احناف ،مالکیہ ،شافعیہ ،حنبلیہ تمام حضرات مجتہد ین اور فقہاء کرام کے نزدیک جب جہاد فرض عین ہوتا ہے تواس کی یہ صورت ہوتی ہے جب جہاد پر روانگی کااذن عام دے دیا جائے یعنی کسی ملک کاسربراہ ہر شہری کوجہاد کے لئے روانہ ہونے کا حکم صادر کرے خواہ وہ شہری فوجی ہو یا غیر فوجی اس وقت اس ملک کے ہرمسلمان پرجہاد فرض عین ہے اسی طرح اگر کسی شہر کے ہرمسلمان پر جہاد فرض عین ہے البتہ جو لوگ جہاد کرنے سے معذور ہوں وہ اس حکم سے مستثنیٰ ہیں۔
مسلمانوں کے جس شہر کی سرحد وں پر کفار حملہ کرنے کے قصد سے جمع ہوجائیں اس شہر کے مسلمانوں پران کفار سے جہاد کرنا فرضِ عین ہے اوراگر ان کو اپنے دفاع میں دوسرے شہر کے مسلمانوں کی ضرورت ہوتو پھر ان پربھی جہاد فرِض عین ہے اورجب کافر(معاذ اللہ ) مسلمانوں کے کسی شہر کو روندرہے ہوں توا س شہر کے مسلمانوں پر بھی جہاد کرنافرضِ عین ہے اورجب انہیں دوسرے مسلمانوں کی مدد کی ضرورت ہو تو ان پر بھی جہاد فرض عین ہے۔
اگر موجودہ حالات کاتجزیہ کیاجائے توفرضیت جہاد کی جملہ وجوہ موجود ہیں مگر انگریز نے کچھ ایسا جال بچھا یا اورپھیلایا ہے کہ مسلمان باآسانی اس میں پھنسنے کے لئے تیار رہتے ہیں حالانکہ حدیث شریف میں آچکا ہے کہ مسلمان ایک بل سے دوبار نہیں ڈسا جاتا ہے مگر یہاں حالت ہی نرالی ہے ہر بار قوم ایک نیا تجربہ کرنے پر آمادہ اورتیا ر ہے۔
ہاں ہاں جہاد ازروئے شریعتِ اسلامیہ مسلمانوں پر فرض ہوچکا ہے بلکہ وہ ہر فرض سے مشابہ فرض ہے اب جوہاتھ میں اور بازووں میں قوت رکھتا ہے ہاتھ استعمال کرے اورجوزبان کی پاور رکھتا ہے وہ زبان استعمال کرے اورجواہلِ قلم ہیں وہ اپنے قلم سے کفار کے خلاف جہاد کریں اورجو کچھ نہ کرسکے وہ مرد مسلمان کفار کی جارحیت اوردہشت گردی کودل سے گھنائونا جانے یہ کمزور ایمان کادرجہ ہے۔
اے انسانی حقوق اورجمہوریت کے چمپئن بننے والو
اے آزاد ثقافت کی بات کرنے والے یہودو نصاریٰ تمہیں تو کسی کے مذہب میں مداخلت نہیں کرنی چاہئے تھی ،کوئی ملک جمہوری طریقہ سے اسلامی بنتا ہے یاجمہوری طریقے سے کافر بنتا ہے ۔عالمی جمہوریت کانعرہ بلند کرنے والوں کو یہ حق پہنچتا ہی نہیں کہ وہ کسی کے دین ومذہب میں ثقافت میں، جمہوریت کانام لے کر مداخلت کریں؟
مگر آج پوری دنیا میں جھوٹی جمہوریت کا جھنڈا لہرارہا ہے مگر جہاں اسلامی ثقافت سر اٹھاتی ہے جہاں اسلامی انقلاب کی تحریکیں سراٹھاتی ہیں وہاں تمہاری آزاد ثقافت بھی گئی،جمہوریت بھی گئی ،آزاد کلچر بھی گیا تم انہیں ختم کرنے کی کوشش کرتے ہو اور اس وقت چین سے نہیں بیٹھتے جب تک انقلابی تحریکوں کو صفحۂ ہستی سے نہ مٹادو ۔
مسلمان حکمران ذرا سوچیں :…
مگر افسوس جو لوگ اپنی چار دن کی جھوٹی حکومت کی خاطر اپنی بے وفا کرسی کی خاطر،اپناضمیر ،اپنا ایمان ،اپنی غیرت امریکہ اوریہودونصاریٰ کے ہاتھ فروخت کررہے ہیں مسلمانوں کوقتل کرو اکروا شنگٹن سے انعام وصول کرتے ہیں ۔
وہ ذراسوچیں کہ یہ حکمران کیا کر رہے ہیں ،سرکارِ اعظم(ﷺ) کا کلمہ پڑھنے والو! تمہار ایہ سودا نفع کاسود انہیں بڑے نقصان کا سودا ہے عنقریب ہم کو مرنا ہے مرنے کے بعد ایک ساعت آنے والی ہے جس ساعت میںہمیں سرکارِ اعظم (ﷺ) کے چہرہ مبارک کا تمہیں سامنا کرنا ہو گا اورقیامت کے دن تانبے کی تپتی ہوئی زمین پر اللہ تعالیٰ کے سامنے تمہیں حاضر ہونا ہے۔
یہ نادان حکمران سب جانتے ہیں کہ کشمیر کامسئلہ کیوں حل نہیں ہورہا؟فلسطین کیوں آزاد نہیں ہورہا ؟چیچنیا پرکیوں ظلم ہورہا ہے؟بوسنیا کے مسلمانوں کوکیوں کاٹا جارہا ہے؟
افغانستان پر حملے کے پیچھے کیا راز ہے؟عراق پر قبضہ کرنے کے پیچھے کیاعزائم ہیں؟
حکمران یادر کھیں دوسروں کے ملک پر حملہ کروانے میں مدد دے کر تم اپنا ملک نہیں بچاسکو گے اگلا نشانہ تمہارا ملک بھی ہوسکتا ہے کیوں کہ یہ آگ سب کو لپیٹ میں لے لے گی۔
لمحہ فکریہ!اے مسلمانو! ہم اللہ تعالیٰ اوراس کے محبوب ﷺ کے احکامات سے روگردانی کرکے پہلے ہی آدھا پاکستان گنواچکے ہیں پوری دنیا میں مسلمان آج بھی غربت وافلاس زوال اورپریشانیوں کا شکار ہیں اس کا سبب بھی اللہ تعالیٰ اورا س کے محبوب (ﷺ) کے احکامات سے روگردانی ہے اگر آپ دنیا اورآخرت میں سرخرو ہوناچاہتے ہیں تو اپنی خواہشات اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربان کرنا ہوں گی۔
{خواہشات کی قربانی}
اب ہمیں شیطانی تہذیب اوریہودونصاریٰ کی سازشوں کونیست ونابود کرنے کے لئے اپنی خواہشات کی قربانی دینا ہوگی۔دشمنانِ اسلام کی پھیلائی ہوئی گند ی تہذیب کے جال کوتوڑنا ہوگا۔ان کی سازشوں کوناکام بنانے کے لئے ہر مسلمان اپنے گھر سے فحاشی کے اڈوں کاخاتمہ کرے انفرادی اوراجتماعی طور پر اس فحاشی اورعریانی کے بڑھتے ہوئے سیلاب کے اِردگرد نہ صرف حفاظتی بند باندھیں بلکہ اس کا مکمل خاتمہ کردینے کی بھرپور کوشش کریں عیش پرستی کواپنے اُوپر غالب نہ ہونے دیں۔
یہود ونصاریٰ کی اشیاء کا ان کی رسموں کامکمل بائیکاٹ کریں اپنے اندر غیرت ایمانی پیدا کریں تاکہ ہمارا کردار ایک عظیم کردار بن جائے۔
{مغرب کی یلغار مسلمانوں کو کردوبیکار}
آج کل پورے پاکستان میں کیبل سسٹم عام ہوتا جارہا ہے جس کے اثرات بھی مسلمانوں میں نمودار ہوتے جارہے ہیں بچوں سے لے کربوڑھوں تک فلموں اور اداکارائوں کے نام یاد ہوتے ہیں کل کونسی فلم آئے گی ماں ،باپ،بہن بھائی ،بھابھی اور بچے رات کوٹی وی پر ہندوئوں کے گندے اوربرے کلچر کی عکاسی اپنے گھر میں کرتے ہیں بے غیرت ماں باپ بھی اولاد کے ساتھ مل کر ہنس کر دیکھتے ہیں ان فلموں میں کیا ہوتا ہے باطل مذہب کا پرچار ہوتا ہے آج کل گھروں میں جو فلمیں بکثرت چلائی جاتی ہیں ان میں کیا ہو تا ہے ۔اسلام کے ماننے والوں تم اپنے گھروں میں رام بھگوان کاذکر کرواتے ہو جس کی وجہ سے روزی میں تنگی ،پریشانی گھر میں لڑائی اورجھگڑے اورخو د کشی کاان میں کافروں کے باطل فاسد خدائوں کوآراستہ حالت میں دکھایا جاتاہے اوریہ فلمیں روزانہ رات بھر چلائی جاتی ہیں ان میں باجوں کے ساتھ کفر یہ گانے گائے جاتے ہیں ،عریاں مناظر سے لذت حاصل کی جاتی ہے غیرت مند مسلمانوں کے گھر میں قائم ہونے والی اس بے غیرت مجلس کی وجہ سے نمازیں قضاہوتی ہیں فلموں میں مسلسل فحش مناظر دیکھنے سے شرم وحیا کا جنازہ نکل جاتا ہے بے حیائی ،قلب ودماغ میں اپنے ڈیرے ڈال لیتی ہے مثال کے طور پر باغیرت بھائی کااپنی جوان بہن اورماں باپ اورباشرم بہن کا اپنے جوان بھائیوں اوروالدین کے ساتھ وی سی آر اورڈش انٹینا پر انتہائی بے غیرتی اوربے شرمی پرمشتمل مناظر دیکھنا اور گندے فحش کلمات والفاظ پرمبنی گانے خوش دلی ومسرت طریقہ ہے جس کو مسلمان اپنائے ہوئے ہیں کیا یہ مسلمانوں کا طریقہ ہے ہر گز نہیں؟
آئیے ہم آج عہد کریں کہ ہمیں کبھی اپنے ملک کے لئے اسلام کی بقاء کے لئے عالمِ کفر سے جہاد کے لئے گھروں سے نکلنا پڑا تو ان شاء اللہ ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے اگر ہمارے جذبات یہی رہے تووہ وقت دور نہیں جب ہمارے ملک میں نظام مصطفی (ﷺ) قائم ہوجائے گا اورہمارا بچہ بچہ عاشقِ رسول بن جائے گا ۔
آج دولت کی محبت نے ،بنگلوں اوربڑے بڑے مکانات اورآرام دہ بستروں نے ہمارے اندر سے جذبہ جہاد کوسرد کردیا ہے ہمیں زندگی سے محبت ہوگئی ہے حالانکہ ہمیں موت سے محبت ہونی چاہئے ۔کسی نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ کے پاس ایسی کون سی طاقت ہے کہ فتوحات کاتانتا باندھ رکھاہے اورہر کسی کو چیلنج کرتے ہیں توبھی آجا،توبھی آجا؟یعنی آج کل کی زبان میں یوں سمجھ لیجئے کہ وہ کون سا میزائل ہے وہ کون سا ایٹم بم ہے کہ ہر سپر پاور کو چیلنج کرر ہے ہیں ۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ اے کفار ومشرکین ! ہماری طاقت کاراز سنوہماری طاقت کاراز یہ ہے کہ تمہارے بادشاہوں نے تمہیں زندگی سے محبت کرنا سکھایا ہے اورہمارے سرکارِ اعظم (ﷺ) نے ہمیں موت سے محبت کرنا سکھایا ہے ۔
جس شخص کوموت سے محبت ہوجائے وہ ناقابلِ تسخیر انسان بن جاتا ہے ۔