موبائل (سیل) فون جسے عرب والے ’’جوال‘‘ کہتے ہیں، آج تقریبا اربوں کی تعداد میں ہوگا۔ کہا جاتا ہے کہ بہت تیزی سے اس ایجاد نے خود کو ہر ایک کی ’’ضرورت‘‘ بنالیا ہے۔ کیا واقعی یہ ہر ایک کی ضرورت ہے؟ کیا اس کے بغیر زندگی نامکمل ہے؟ اس کے فائدے اور نقصان کتنے ہیں؟ اس کا اندازہ اس بات سے کرلیا جائے کہ ہر ایک تیوہار پر اس کے استعمال پر پابندی لگادی جاتی ہے، یعنی اسے بند کردیا جاتا ہے۔ اس کی کارکردگی روک دی جاتی ہے۔ اس فون کے یقینی فائدے بھی ہوں گے، مگر اس کے نقصانات اس کے فائدے سے بہت زیادہ ہیں۔ طبی نقصانات بھی کم نہیں مگر ایمانی، اخلاقی اور معاشرتی نقصانات کچھ زیادہ اندوہناک ہیں۔ مسلمان کہلانے والے اس فون کا استعمال مکہ مکرمہ، خانہ کعبہ اور حرم نبوی مدینہ منورہ میں جس طرح کرتے نظر آرہے ہیں، وہ بہت شرمناک اور معیوب ہے۔ موسیقی والی رنگ ٹون، حرم شریف میں دوران طواف دوسروں سے باتیں، نامناسب تصویر کشی اور حرم میں بیٹھے بھی فون پر مشغول رہنا، سب سے زیادہ لرزا دینے والا فعل یہ کہ روضہ رسولﷺ کی سنہری جالیوں کی طرف پشت کرکے اپنی تصویر بنوانا اور مواجہ شریف میں بھی فون پر باتیں کرتے رہنا… فون کی اسکرین پر آیات قرآنی، مقدس اوراد اور مقامات مقدسہ کی عکس کو محفوظ کرکے اس کا ادب نہ کرنا، اعتکاف میں بھی اس فون کا بے دریغ استعمال کرتے رہنا، نماز کے دوران بھی فون بند یا سائے لنٹ Silent نہ کرنا، یہی نہیں بلکہ دین کے حوالے سے غیر مصدقہ اور غلط باتوں کو پھیلانا سنگین باتیں ہیں۔ رفتہ رفتہ بے ادبی اور بے حسی سے بڑھ کر بے شرمی و بے حیائی تک لے جانے میں موبائل فون کا بہت دخل ہے۔ گھر بھر کے افراد مل بیٹھے اور آپس میں باتوں کے بجائے اپنے اپنے فون پر مشغول رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ مہمان و میزبان بھی اس سے خالی نہیں۔ کال نہیں آئی مگر بار بار فون دیکھنا بھی گویا بیماری ہوگیا ہے۔ فیس بک اور ٹویٹر برے نشے ہی کی طرح ہیں۔ ایک دوسرے کا فون دیکھنے پر جھرپ اور غصہ و لڑائی کی نوبت بھی دیکھی سنی جاتی ہے۔ کوڈ لگاکر محفوظ کی گئی تصاویر اور پیغامات کو چھپایا جاتا ہے۔ جوان بہن، بیٹی بہو کس سے کس طرح چیٹنگ کررہی ہے، کوئی جاننے کی کوشش کرے تو اچھا خاصا جھگڑا شروع ہوجاتا ہے۔ اس فون نے کتنے ازدواجی رشتوں کو توڑا ہے، اس کی بھی آئے دن کہانیاں سننے دیکھنے میں آتی ہیں۔ میاں بیوی کے رشتے کے پیار اور اعتبار ختم کرنے میں بھی کئی گھرانے اسی فون کے شکوہ کناں ہیں۔ یہاں تک سنا گیا ہے کہ بعض گھرانوں میں رشتہ طے کرتے ہوئے یہ شرط رکھی جارہی ہے کہ دلہن موبائل فون استعمال نہیں کرے گی۔ ایسی شرط بتاتی ہے کہ کچھ دلہنوں کے غلط استعمال سے ہی یہ نوبت آئی ہے۔ اسی فون سے کون کس کی بات ریکارڈ کررہا ہے یا کس کی ویڈیو بنا رہا ہے؟ اس کا الگ جھگڑا ہے۔ یہ فون ضرورت سے کہیں زیادہ مصیبت ہوتا جارہا ہے۔ مشہور شخصیات کا اس کے حوالے سے رونا الگ ہے۔ لوگ اس کا فون نمبر معلوم کرنے کی ٹوہ میں رہتے ہیں۔ جس کسی کو کہیں سے یا کسی طرح نمبر مل جائے تو بے دھڑک فون کرتے ہیں اور اپنا حق جتاتے ہیں۔ مشہور شخصیات فون نہ سنیں تو انہیں بداخلاق گردان لیا جاتا ہے، سنتے رہیں تو اپنے کام اور آرام نہیں کرپاتے۔ کتنی شخصیات کو دیکھا کہ وہ زیادہ تر فون بند رکھتے ہیں تاکہ ’’بداخلاقی‘‘ کے ’’تمغے (تغمے)‘‘ سے بچے رہیں۔ انہیں یہ بھی شکوہ کرتے سنا گیا کہ ان کی اجازت کے بغیر ان کے فون نمبرز کچھ لوگ اپنے جرائد و رسائل میں شائع کردیتے ہیں۔ کیا ہم اس فون کے بے جا استعمال سے خود کو روک نہیں سکتے؟ وقت اور پیسہ ہی نہیں، اپنی صحت بھی عزیز ہو تو اس فون کو بلا ضرورت استعمال نہیں کیا جائے۔ اس کے طبی نقصانات کی تفصیل جو کوئی جان لے تو وہ یقینا بلا ضرورت اسے استعمال کرنا پسند نہیں کرے گا۔