تمام تعریفیں رب کائنات کے لئے جس نے علم و عمل کے سبب بنی آدم کو تمام عالم پر فضیلت دی اور بے شمار درود وسلام ہوں ہمارے آقا ومولیٰ حضور اکرم نور مجسم، جناب احمد مجتبیٰ ﷺ کی ذات مبارکہ پر جو علم و معرفت کا سرچشمہ ہیں اور بے شمار درود وسلام ہوں ان کی آل اور ان کے اصحاب پر جوکہ ہمارے ہادی اور رہنما ہیں اور علم الٰہی کو ہم تک پہنچانے میں واسطہ اور وسیلہ ہیں۔
فالحمد ﷲ رب العالمین علی احسانہ
اﷲ تبارک و تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا۔ اس اشرف کی وجہ قوت و طاقت نہیں کیونکہ اونٹ انسان سے زیادہ طاقتور ہوتا ہے۔ نہ اس فضیلت کا سبب انسان کا جسم ہے کیونکہ ہاتھی کا جسم جسم انسانی سے بہت بڑا ہوتا ہے۔ نہ شجاعت اس کی وجہ ہے کیونکہ شیر انسان کی بہ نسبت زیادہ بہادر ہے اور نہ ہی کھانے پینے کی وجہ سے انسان کو فضیلت دی گئی کیونکہ بیل انسان سے زیادہ کھاتا ہے بلکہ انسان کو جو شرف و بزرگی عطا کی گئی ہے وہ بسبب علم ہے کہ اس علم کی وجہ سے ہی انسان اشرف المخلوقات ٹھہرا ہے۔
اے خاصہ خاصان رسل وقت دُعا ہے
امت پہ تیری آکے عجب وقت پڑا ہے
آج مسلمانوں کی جو حالت ہے وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ افسوس اسلامی تعلیمات سے دور ہوکر آج ہم نے اپنی حالت آپ بگاڑ ڈالی ہے۔ ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہم پر لازم ہے کہ ہم اپنے مذہب اسلام کی پاکیزہ و سچی تعلیمات کو سیکھیں۔ کتنے دکھ کی بات ہے کہ مسلمانوں کی اکثریت کو اسلامی عقائد ونظریات کا علم ہی نہیں۔
اﷲ کی ذات سے متعلق، انبیاء و مرسلین سے متعلق، جنات فرشتوں، جنت اور دوزخ سے متعلق اسلام نے کیا تعلیم دی ہے؟ ہمیں نہیں معلوم اور سیکھنے سے متعلق وقت کون نکالے، یہی وجہ ہے کہ آج ہمارے منہ میں جو آتا ہے، ہم بک دیتے ہیں۔
افسوس آج کوئی اﷲ پر اعتراض کرتا ہے۔
کوئی انبیاء کرام کو گناہ گار کہہ دیتا ہے۔
کوئی جنات کے وجود کا انکار کرتے ہوئے کہہ دیتا ہے کہ یہ سب ڈھکوسلے ہیں اور صرف یہ فلموں، ڈراموں اور قصے کہانیوں میں ہوتا ہے۔
کوئی معاذ اﷲ فرشتوں کی تکذیب کرتا ہے۔ ان کی طرف غلطی کو منسوب کرتا ہے۔
کوئی ڈیوٹی کو نماز پر فوقیت دیتے ہوئے کفریہ کلمات بکتا ہے۔
کوئی سنتوں کا بالخصوص داڑھی کا مذاق اڑاتا ہے۔
کوئی علمائے اسلام کی تحقیر و توہین کرتا نظر آتا ہے۔
اسلام کی پاکیزہ تعلیمات سے دوری اختیار کرکے ہم ذلت و رسوائی کے گہرے گڑھے میں نہایت تیزی کے ساتھ گرتے چلے جارہے ہیں۔ زیر نظر مضمون میں علم کی اقسام و فضائل اور اسلامی عقائد بتائے گئے ہیں۔ غلط عقائد اور غلط فہمیوں کی نیز بہت سے کفریہ اقوال کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ نہایت توجہ سے پڑھ کر اس پر بھرپور طریقے سے عمل پیرا ہونے اور دوسروں تک پہنچانے کی کوشش کریں۔ ان شاء اﷲ جہالت کے اندھیروں دور ہوں گے۔ علم کی روشنی پھیلے گی۔ غلط نظریات و غلط فہمیوں سے چھٹکارا ملے گا۔ اﷲ تعالیٰ ہمیں خوب علم دین کی بھلائیاں عطا فرمائے۔ آمین
دین کی تعریف
لغوی معنی: عادت، مکافات، فیصلہ، طاقت اور سر تسلیم خم کرنا
اصطلاحی معنی
قانون سماوی سائق لذوی العقول الی الخیر بالذات کالاحکام الشرعیۃ النازلۃ علی سیدنا و نبینا محمدﷺ
یعنی دین ایسے قانون سماوی کو کہتے ہیں جو عقل مندوں کو خیر بالذات کی طرف چلا کے جائے اور وہ آسمانی قانون جو ذوی العقول کی خیر بالذات کی طرف رہنمائی کرے اور ان کو خیر بالذات کی طرف لے جائے۔ جس طرح کہ ہمارے نبیﷺ پر جو احکام شرعیہ نازل ہوتے ہیں۔ یہ انسانوں کی خیر بالذات کی طرف رہنمائی کرتے ہیں، جن کی وجہ سے انسان جس وقت ان احکام کو سمجھ لیتا اور پھر عمل کرتا ہے تو اس کو خالق کائنات دونوں جہاں کی بھلائیاں عطا فرماتا ہے۔
علم اور علماء کے فضائل
نبی کریم رئوف رحیم علیہ افضل الصلوٰۃ والتسلیم کا فرمان رحمت بنیاد ہے کہ:
من سلک طریقا یلتمس فیہ علماً سہل اﷲ بہ طریقاً الی الجنۃ
جو بندہ ایسے راستے پر چلے جس میں علم حاصل کرنا چاہتا ہو تو اﷲ تعالیٰ اس کے لئے اس راستہ کی وجہ سے جنت کی طرف جانے والا راستہ آسان کردیتا ہے (صحیح مسلم، کتاب الذکر والدعاء والتوبۃ رقم الحدیث 7028)
جو بندہ دنیا کے مقصد کے لئے نہیں بلکہ علم کے حصول کے لئے ایک راستہ پر چل نکلا تو اﷲ اس کے لئے ان قدموں کی وجہ سے اس کے لئے جنت کا راستہ آسان فرمائے گا۔ یہ قدم جو دنیا میں گلی میں چلتا ہوا اور محلہ کی سڑکوں پر چلتا ہوا دین کے علم کے حصول کے لئے نکل پڑا تو اگرچہ یہ اس کے لئے کوئی ایسی دشواری نہیں تھی تو ادھر جنت کا راستہ کتنا مشکل ہے وہ تلوار سے زیادہ تیز اور بال سے زیادہ باریک راستہ ہے۔
رسول اکرمﷺ ارشاد فرماتے ہیں:
جس بندے کو یہ مقصود ہو کہ وہ جنت میں آسانی سے داخل ہوجائے، پل صراط پر چلتے ہوئے اسے کوئی پریشانی نہ ہو، جنت میں اپنا ٹھکانہ اور مکان تلاش کرنے میں اسے کوئی الجھن نہ ہو تو اسے چاہئے کہ وہ طلب علم کے لئے سفر کرے تو اﷲ ان قدموں کی وجہ سے اس کے لئے جنت کا راستہ آسان کرے گا۔
رسول اﷲﷺ نے ارشاد فرمایا:
جس بندے کو یہ شوق ہو کہ وہ جہنم سے آزاد بندوں کی زیارت کرے اس کو علم دین ڈھونڈنے والوں کی زیارت کرلینی چاہئے۔
جو دین کی طلب میں گھر سے نکلتے ہیں اور جن کو دین سیکھنے کا شوق ہے اور دین پڑھنے کا ذوق ہے۔ یہ لوگ ہیں جن کو جہنم سے آزاد کردیا گیا ہے تو جس کو جہنم سے آزاد لوگوں کی زیارت کا شوق ہو، اسے ایسے لوگوں کی زیارت کرنی چاہئے، جو دین کے حصول کے لئے نکلتے ہیں۔
رسول کریمﷺ نے قسم اٹھا کر ارشاد فرمایا:
مجھے اس ذات کی قسم ہے جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے۔ ہر وہ شخص جو علم کے حصول کے لئے کسی عالم دین کے پاس جاتا ہے۔ میرا رب اسے ہر قدم پر ایک سال کی عبادت کا ثواب دیتا ہے۔
راہ علم میں اٹھنے والے قدم کتنے بابرکت ہیں۔ دین کے شوق میں گھر سے نکلنا کتنی بڑی سعادت ہے۔ ان کو اس لئے جہنم سے آزاد قرار دے دیا گیا ہے کہ ایک ایک قدم پر سال کی بندگی کا ثواب مل رہا ہے اور یہی نہیں بلکہ میرے آقا دوعالم کے داتاﷺ ارشاد فرماتے ہیں۔
اﷲ تعالیٰ فرشتوں کو حکم دیتاہے۔ میرے جتنے بندوں نے دین سیکھنے کے لئے قدم اٹھائے ہیں، ان کے ہر قدم پر ایک شہر آباد کرو۔
کتنے مبارک قدم ہیں کہ جب بندہ چلتا ہے، آتے وقت اور جاتے وقت زمین پر قدم رکھتا ہے تو زمین نیچے سے اس بندے کے لئے گناہوں کی معافی مانگتی ہے۔ جب قدم اٹھاتا ہے پھر وہ گناہوں کی معافی مانگتی ہے۔
علم اور فرمان فاروقی
علم دین کے لئے سفر کرنے والے بندے کو کتنی عظمتیں ملتی ہیں…
خلیفۃ المسلمین سیدنا فاروق اعظم رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں:
انسان اپنے گھر سے نکلتا ہے علم کے حصول کے لئے تو اس کے کندھے پر تہامہ پہاڑ کے وزن کے برابر گناہ ہوتے ہیں۔ جب وہ صحیح علم کی بات سنتا ہے۔ اس کا دل بیدار ہوتا ہے، گناہوں سے تائب ہوتا ہے۔ جب وہ گھر واپس پہنچتا ہے تو ایک چھٹانک برابر بھی گناہ کا اس کے کندھے پر باقی نہیں رہتا (التفسیر الکبیر، سورۃ البقرہ آیت نمبر 31، ج 2 ،ص 177)
حضرت انس رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ تاجدار مدینہ، سرور قلب و سینہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
طلب العلم فریضۃ علی کل مسلم و مسلمۃ
علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے۔
حدیث مبارکہ میں مذکور علم سے مراد علم دین ہے، علم دنیا نہیں
حضرت ملا علی قاری علیہ رحمۃ الباری لکھتے ہیں۔ شارحین حدیث نے فرمایا کہ علم سے مراد وہ مذہبی علم ہے جس کا حاصل کرنا بندے کے لئے ضروری ہے جیسے خدائے تعالیٰ کو پہچاننا۔ اس کی وحدانیت اس کے رسول کی نبوت کی شناخت اور ضروری مسائل کے ساتھ نماز پڑھنے کے طریقے کو جاننا، مسلمانوں کے لئے ان چیزوں کا علم فرض عین ہے اور فتویٰ اور اجتہاد کے مرتبہ کو پہنچنا فرض کفایہ ہے (مرقاۃ شرح مشکوٰۃ ج1، ص 233)
حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کہ اس حدیث سے مراد وہ علم ہے جو مسلمانوں کو وقت پر ضروری ہو۔ مثلا جب اسلام میں داخل ہو تو اﷲ تعالیٰ کی ذات و صفات کو پہچاننا اور سرکار اقدسﷺ کی نبوت کو جاننا واجب ہوگیا اور ہر اس چیز کا علم ضروری ہوگیا کہ جس کے بغیر ایمان صحیح نہیں اور جب نماز کا وقت آگیا تو اس پر یعنی جس پر نماز فرض ہے، نماز کے احکام کا جاننا واجب ہوگیا اور جب ماہ رمضان آگیا ( اس پر روزہ فرض ہے) اس کو روزے کے مسائل سیکھنا ضروری ہوگیا اور اگر مالک نصاب ہونے سے پہلے مرگیا تو زکوٰۃ کے مسائل کو نہ سیکھا تو گناہ گار نہ ہوا اور جب عورت سے نکاح کیا تو حیض و نفاس وغیرہ جتنے مسائل کا میاں بیوی سے تعلق ہے، مسلمان کا جاننا واجب ہوتا ہے… علی ہذا القیاس (اشعۃ اللمعات، ج 1،ص 61)
راہ علم ترجمہ تعلیم المتعلم فی طریق التعلم صفحہ 13 اور 14 پر بھی لکھا ہے…
ہر مسلمان پر تمام علوم کا حاصل کرنا فرض نہیں ہے بلکہ ایک مسلمان پر ان امور کے متعلق دینی معلومات حاصل کرنا فرض ہے جس سے ان کا واسطہ پڑتا ہے۔
اس وجہ سے کہا جاتا ہے۔
افضل ترین علم موجودہ درپیش امور سے آگاہی حاصل کرنا ہے اور افضل ترین علم اپنے احوال کی حفاظت کرنا ہے۔۔
پس ایک مسلمان پر ان علوم کا جاننا بہت ضروری ہے جس کی ضرورت اس کو اپنی زندگی میں پڑتی ہے خواہ وہ کسی بھی شعبے سے تعلق رکھتا ہو۔
ایک مسلمان کے لئے پہلا فرض تو نماز ہے۔ لہذا ہر نماز سے متعلق اتنی معلومات کا جاننا فرض ہے کہ جن سے اس کا فرض ادا ہوسکے اور اتنی معلومات کا حاصل کرنا واجب ہے۔ جن کی آگاہی سے وہ واجبات نماز کو ادا کرسکے کیونکہ ضابطہ یہ ہے کہ وہ معلومات جو فرض کی ادائیگی کا سبب بنے ان کوحاصل کرنا فرض ہے اور وہ معلومات جو واجب کی ادائیگی کا سبب بنے، ان کو حاصل کرنا واجب ہے۔ اسی طرح روزے سے متعلق معلومات حاصل کرنے کا معاملہ ہے اور اگر صاحب نصاب ہے تو زکوٰۃ کا بھی یہی ضابطہ ہے اگر کوئی تاجر ہے تو خرید و فروخت کے مسائل جاننے سے متعلق بھی یہی حکم ہے کہ اتنی معلومات کا جاننا فرض ہے جن سے فرض ادا ہوسکے اور اتنی معلومات کا حاصل کرنا واجب ہے کہ جن سے واجب ادا ہوسکے۔
علمائے کرام کی شان ارفع و اعلیٰ ہے
رسول اکرم نور مجسمﷺ فرماتے ہیں:
علماء کے حق کو ہلکا نہ سمجھے گا مگر کھلا منافق اور فرماتے ہیں
’’جو ہمارے عالم کا حق نہ پہچانے وہ میری امت سے نہیں‘‘ (فتاویٰ رضویہ جدید ج 21، ص 129)
شیخ طریقت، امیر اہلسنت، عالم شریعت ، پیر طریقت، رہبر شریعت، مولف فیضان سنت حضرت علامہ مولانا ابو البلال محمد الیاس عطار قادری ضیائی دامت برکاتہم العالیہ فرماتے ہیں:
اسلام میں علماء حق کی بہت زیادہ اہمیت ہے اور وہ علم دین کے باعث عوام سے افضل ہوتے ہیں۔ غیر عالم کے مقابلے میں عالم کو عبادت کا ثواب بھی زیادہ ہوتا ہے۔
چنانچہ محمد بن علی رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے کہ
علماء کی 2 رکعت غیر عالم کی 70 رکعت سے افضل ہے (کنز العمال، ج 10، ص 87)
لہذا تمام مسلمانوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ علمائے اہلسنت سے ہرگز نہ ٹکرائیں۔ ان کے ادب اور احترام میں کوتاہی نہ کریں۔ علمائے اہلسنت کی تحقیر سے مکمل گریز کریں۔ بلا اجازت شرعی ان کے کردار اور عمل پر تنقید کرکے غیبت کا، گناہ کبیرہ، حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام نہ کریں۔
حضرت سیدنا ابوالحفص الکبیر فرماتے ہیں:
جس نے کسی عالم کی غیبت کی تو قیامت کے روز اس کے چہرے پر لکھا ہوگا یہ اﷲ کی رحمت سے مایوس ہے (مکاشفۃ القلوب، مترجم ص 160)
حضرت سیدنا ابوذر غفاری رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے۔
عالم زمین میں اﷲ تعالیٰ کی دلیل و حجت ہیں تو جس نے عالم میں عیب نکالا وہ ہلاک ہوگیا (کنزالعمال، ج 10، ص 77)
میرے آقا اعلیٰ حضرت، مجدد دین و ملت، پروانہ شمع رسالت، حامی سنت، ماہی بدعت، عالم شریعت، پیر طریقت، رہنمائے سنیت، حضرت علامہ مولانا الحاج الحافظ القاری الشاہ مفتی امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ المنان فرماتے ہیں۔
اس کی (یعنی عالم کی) خطا گیری (یعنی بھول نکالنا) اور اس پر اعتراض حرام ہے اور اس کے سبب رہنمائے دین سے کنارہ کش ہونا اور استفادہ مسائل چھوڑ دینا اس کے حق میں زہر ہے (فتاویٰ رضویہ جدید، ج 23، ص 711)
ان نادان لوگوں کو ڈر جانا چاہئے جو بات بات پر علمائے کرام کے بارے میں توہین آمیز کلمات بک دیا کرتے ہیں۔ مثلا
٭ بھئی ذرا بچ کر رہنا علامہ صاحب ہیں
٭ علماء لالچی ہوتے ہیں، ہم سے جلتے ہیں
٭ ہماری وجہ سے ان کا کوئی بھائو نہیں پوچھتا
٭ چھوڑو، چھوڑو، یہ تو مولوی ہے۔
٭ یہ ملا لوگ علماء ہیں (معاذ اﷲ) سنیت کا کوئی کام نہیں کیا (ناپسندیدگی کے انداز میں کہہ دیا جاتا ہے)
٭ فلاں کا انداز بیاں تو مولویوں والا ہے وغیرہ وغیرہ
عالم کی توہین کرنا شرعاً کیسا؟
عالم کی توہین کی صورتیں اور اس کا حکم شرعی بیان کرتے ہوئے میرے آقا اعلیٰ حضرت رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں:
’’اگر عالم کو اس لئے برا کہتا ہے کہ وہ ’’عالم‘‘ ہے تو یہ صریح کفر ہے اور اگر بوجہ علم اس کی تعظیم فرض جانتا مگر کسی دنیوی خصوصیت (دشمنی) کے باعث برا کہتا ہے، گالی دیتا ہے اور تحقیر کرتا ہے تو سخت فاسق و فاجر ہے اور اگر بے سبب (یعنی) بلاوجہ بغض رکھتا ہے تو مریض القلب خبیث الباطن (دل کا مریض اور ناپاک باطن والا ہے اور اس (خواہ مخواہ بغض رکھنے والے) کا کفر کا اندیشہ ہے۔
شریعت کی توہین کے متعلق کفریات کی مثالیں
1… جو شخص حکم الٰہی کے بارے میں کہے…
’’اس پر کون قادر ہے جو اسے بجالائے، ایسے پر حکم کفر ہے۔
2… شریعت کا مذاق اڑانا نیز توہین کرنا کفر ہے۔
3… جو کہے ساری شریعت حیلہ و دھوکہ بازی کا نام ہے، وہ کافر ہے۔
4… کسی کو حدیث سنائی جائے تو وہ کہے میں نے اسٹوریاں بہت سنی ہیں بس کرو، کہنے والے پر حکم کفر ہے۔
5… جو کہے ’’مجھے اﷲ کا حکم یا نبی رحمتﷺ کی شریعت پسند نہیں، اسے کہا گیا کہ اﷲ تعالیٰ نے بیک وقت چار بیویاں رکھنا حلال کی ہیں۔ اس نے کہا مجھے یہ حکم پسند نہیں‘‘ یہ تینوں کلمات کفر ہیں۔
6… ’’ہم کو شریعت منظور نہیں، رواج منظور ہے‘‘ کہنا کلمہ کفر ہے۔
7… شریعت کو فرضی اور خود ساختہ کہنا کفر ہے۔
8… عدت کا انکار کفر ہے۔ مثلا یہ کہنا عدت کی کوئی ضرورت نہیں۔
9… جو کہے ’’میں شرع ورع نہیں جانتا‘‘ یا کہا ’’میں شریعت کا کیا کروں‘‘ دونوں کفریات ہیں۔
10… شریعت صرف مولویوں کے لئے، یہ کہنا کفر ہے۔
11… جو کہے علم شریعت میں توحید نہیں یا کہے علم حقیقت علم شریعت سے اعلیٰ ہے، جبکہ مقصود شریعت کی توہین ہو یا کہے علم شریعت کی کوئی حقیقت نہیں، تمام کلمات کفریہ ہیں۔
12… شریعت تو مولویوں کی گڑھی ہوئی باتیں ہیں، ایسا کہنا کفر ہے
13… جو تیمم کرنے والے پر ہنسے، اس پر حکم کفر ہے۔
14… تیمم کا مطلقاً انکار کفر ہے۔
15… تیمم کو جاہلوں کا فعل سمجھنا کفر ہے۔
16… اگر کوئی یہ دعویٰ کرے کہ میں درجات طے کرتے کرتے ایسے مقام پر پہنچ گیا ہوں کہ میں اب احکام الٰہیہ کا مکلف (پابند) نہیں رہا۔ میرے لئے حلال و حرام اطاعت و معصیت سب برابر ہیں، تو ایسا کہنے والا کافر ہے۔
17… کسی سے کہا گیا، تو کون سے مذہب پر ہے۔ شافعی یا حنفی؟ جواب دیا، میں دونوں مذہبوں پر لعنت بھیجتا ہوں۔ یہ کلمہ کفر ہے۔
18… اگر کسی نے حدیث پاک یا تفسیر کی کتابوں کو توہین اور حقارت کی نیت سے پھاڑا یا پھینکا تو کافر ہے۔
19… اگر کوئی گمان کرے کہ مسلمان اسلام کی وجہ سے کافروں سے پیچھے رہ گئے ہیں تو ایسا شخص کافر ہے (ماخوذ، کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب، صفحہ 337 تا 341)
عالم اور علم دین سے متعلق کفریات کی مثالیں
1… علم دین کو گھٹیا جانتے ہوئے کہے کہ ’’میں علم دین کیوں حاصل کروں‘‘ ایسا کہنا کفر ہے۔
2… بسبب علم دین عالم بے عمل کی توہین بھی کفر ہے۔
3… جتنے مولوی ہیں سب بدمعاش ہیں کہنا کفر ہے جبکہ بسبب علم دین علمائے کرام کی تحقیر کی نیت سے کیا ہو۔
4… یہ کہنا کہ عالم لوگوں نے دیس خراب کردیا، کلمہ کفر ہے۔
5… کسی نے کہا ’’مولویوں نے دین کے ٹکڑے ٹکڑے کردیئے‘‘
6… جو کہے ’’علم دین کا کیا کروں گا، جیب میں روپے ہونے چاہئیں‘‘ کہنے والے پر حکم کفر ہے۔
7… کسی نے عالم سے کہا ’’جا اور کسی برتن میں علم دین کو سنبھال کر رکھ‘‘ یہ کفر ہے۔
8… جس نے کہا ’’ثرید کا پیالہ علم دین سے بہتر ہے‘‘ کلمہ کفر ہے۔
9… جس نے کہا ’’علماء جو بتاتے ہیں اسے کون کرسکتا ہے‘‘ یہ قول کفر ہے۔
10… عالم دین سے اس کے علم دین کی وجہ سے بغض رکھنا کفر ہے۔ یعنی اس وجہ سے کہ وہ عالم دین ہے۔
11… جو کہے ’’عالم بننا فسادی سے بدتر ہے یا فساد کرنا عالم بننے سے بہتر ہے‘‘ ایسے شخص پر حکم کفر ہے۔
12… دینی طالب علم یا عالم دین کو بنظر حقارت کنوئیں کا مینڈک کہنا کفر ہے۔
13… ایک شخص علم کی مجلس سے اٹھ کر آیا تو دوسرے نے کہا ’’یہ گرجا سے آیا ہے‘‘ یہ کہنے والا کافر ہے۔
14… اگر کوئی عالم کسی بلند جگہ پر بیٹھے اور لوگ اس کے اردگرد جمع ہوکر مذاق کے طور پر سوال پوچھے پھر اس کو تکئے ماریں تو ان سب پر حکم کفر ہے۔
15… کسی نے عالم کی توہین کی نیت سے کہا کہ ’’جہالت علم سے بہتر ہے یا جاہل عالم سے بہتر ہوتا ہے‘‘ یہ اقوال کفریہ ہیں۔
16… جس نے توہین کی نیت سے عالم کو عویلم یا علوی کا علیوی کہا، اس نے کفر کیا۔
کفریہ کلمات کی مزید معلومات کے لئے میرے شیخ طریقت حضرت علامہ مولانا ابو البلال محمد الیاس عطار قادری کی مایہ ناز تالیف، کفریہ کلمات کے بارے میں سوال و جواب کو مکتبۃالمدینہ کی کسی بھی شاخ سے ہدیۃ حاصل فرمائیں اور اس کا مطالعہ فرمائیں۔
ایک غلط فہمی کی نشاندہی
فی زمانہ ہمارے معاشرے میں میڈیا پر بعض نام نہاد بدمذہب مولوی اپنی حرکتوں اور اسلام کو بدنام کرنے کی کوشش میں مصروف عمل ہیں۔ سستی شہرت حاصل کرنے کے لئے اپنے مسائل پر اختلاف کرتے ہیں جوکہ نص قرآنی یا حدیث یا اجماع صحابہ سے ثابت ہیں۔ مثلا پردہ کے متعلق جوکہ نص قرآنی سے ثابت ہے کہ عورت کا مرد سے پردہ کرنا واجب ہے یعنی جسم کے تمام اعضاء سوائے چہرہ، ہتھیلیاں اور پائوں کے چھپانا فرض ہے۔ اس کے بارے میں کہا کہ پردہ دل کا ہونا چاہئے۔ کوئی نماز کے متعلق، کوئی حج کے متعلق، کوئی روزہ کے متعلق، کوئی زکوٰۃ کے متعلق، کوئی کس مسئلہ پر نیز سستی شہرت حاصل کرنے کے لئے اور مسلمانوں کو اسلام کی تعلیمات سے دور کرنے کی ناپاک کوششیں کرتا نظر آتا ہے۔
اس کی وجہ سے مسلمانوں کی ایک اچھی خاصی تعداد علماء سے داڑھی عمامہ والوں سے بدظن نظر آتی ہے۔ جب کبھی ایسے لوگوں کے بیچ علماء سے متعلق مولویوں سے متعلق بات جھڑتی ہے تو دل کھول کر معاذ اﷲ علماء کی شان میں نازیبا کلمات کہتے ہیں۔
صرف سنی علماء ہی قابل تعظیم ہیں
میرے پیرومرشد شیخ طریقت، امیر اہلسنت، حضرت علامہ مولانا ابوالبلال محمد الیاس عطار قادری دامت برکاتہم العالیہ فرماتے ہیں
یاد رہے! صرف سنی علماء ہی قابل تعظیم ہیں۔ رہے بدمذہب علماء (یعنی علماء سوئ) تو ان کے سائے سے بھی بھاگو کہ ان کی تعظیم حرام، ان کا بیان سننا ان کی کتب کا مطالعہ کرنا اور ان کی صحبت اختیار کرنا حرام اور ایمان کے لئے زہر قاتل ہے۔
علمائے اہلسنت سے رابطہ رکھیں
قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: فسئلوا اہل الذکر ان کنتم لاتعلمون (پارہ 14 سورۃ النحل، آیت 43)
تو اے لوگو! علم والوں سے پوچھو، اگر تمہیں علم نہیں (ترجمہ کنزالایمان)
صدر الافاضل حضرت علامہ مولانا سید محمد نعیم الدین مراد آبادی خزائن العرفان میں اس آیت مبارکہ کے تحت لکھتے ہیں:
حدیث شریف میں ہے: بیماری جہل کی شفاء علماء سے دریافت کرنا ہے لہذا علماء سے دریافت کرو وہ تمہیں بتادیں گے۔ سنت الہیہ یونہی جاری رہی کہ اس نے مردوں کو رسول بناکر بھیجا۔
حضرت علامہ مولانا مفتی محمد جلال الدین احمد امجدی علیہ رحمتہ اﷲ القوی فتاویٰ فیض الرسول حصہ دوم ص 663 پر تفسیر روح البیان جلد 5ص 38 کے حوالے سے تحریر فرماتے ہیں۔
آیت مبارکہ میں اس جانب اشارہ ہے کہ جو مسئلہ نہیں جانتے اس کے بارے میں علماء دین کی طرف رجوع کرنا واجب ہے۔
یا اﷲ تمام علماء و مشائخ اہلسنت بالخصوص امیر اہلسنت دامت برکاتہم العالیہ ،حضرت علامہ مولانا سید شاہ تراب الحق قادری دامت برکاتہم العالیہ کا سایہ عاطفت ہم پر دراز فرما اور ان کے علم و عمل و عمر میں خوب برکتیں عطا فرما۔ آمین