سورۃ الفیل مکہ میں نازل ہوئی اور اس میں پانچ آیات ہیں
بسم اﷲ الرحمن الرحیم
’’اﷲ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا (ہے)‘‘
’’اے محبوبﷺ! کیا تم نے نہ دیکھا تمہارے رب نے ان ہاتھی والوں کا کیا حال کیا۔ کیا ان کا دائو تباہی میں نہ ڈالا۔ اور ان پر پرندوں کی ٹکڑیاں (فوجیں) بھیجیں، کہ انہیں کنکر کے پتھروں سے مارتے۔ تو انہیں کر ڈالا جیسے کھائی کھیتی کی پتی (یعنی بھوسہ)‘‘ (کنزالایمان از امام احمد رضا محدث بریلوی علیہ الرحمہ)
ربط و مناسبت
سورۃ الھمزۃ میں برے لوگوں کا اخروی انجام مذکور تھا، اس سورت میں برے لوگوں کا دنیاوی انجام بیان ہوا۔ پچھلی سورت میں یہ بیان ہوا تھا کہ مذکورہ جرائم پر شدید عذاب ہوگا، اس سورت میں اصحاب الفیل پر عذاب کے ذکر سے ثابت کیا گیا کہ اﷲ تعالیٰ دنیا میں بھی گرفت کرسکتا ہے اور آخرت میں بھی۔
سابقہ سورت میں ان لوگوں کا اخروی انجام بیان کیا گیا جو عیب جوئی، غیبت اور طعنہ زنی کے ذریعے رسول معظمﷺ کے خلاف سازشیں کیا کرتے تھے۔ سورۃ الفیل میں ان کو تنبیہ کی گئی ہے کہ جس طرح بیت اﷲ کے خلاف ہاتھی والوں کی سازش ناکام ہوئی اور ان کو برباد کردیا گیا۔ تم رسول اﷲﷺ کے خلاف سازشیں کرنا چھوڑ دو کہ جن کی شان وعظمت اﷲ تعالیٰ کے نزدیک بیت اﷲ سے بدرجہا زیادہ ہے، ورنہ تم بھی برباد ہوجائو گے اور تمہارا کوئی نام لیوا بھی نہ ہوگا۔
سابقہ سورت میں کفار کا یہ باطل گمان بیان ہوا تھا کہ ان کا مال انہیں ہمیشہ رکھے گا اور انہیں موت سے بچالے گا، اس سورت میں اصحاب فیل کی تباہی کا حال بتا کر خبردار کردیا گیا کہ جب ابرہہ کی دولت و حکومت اس کو تباہی سے نہ بچاسکی تو پھر جان لو کہ کسی کافر کی دولت و سرداری اسے خدا کے عذاب سے نہیں بچا سکتی۔
شان نزول
ابرہہ یمن کا عیسائی بادشاہ تھا۔ اس نے صنعاء میں ایک کلیسا (عبادت خانہ) بنوایا اور وہ چاہتا تھا کہ عرب کے لوگ آئندہ خانہ کعبہ کے بجائے اس کلیسا کا حج اور طواف کیا کریں۔ عرب کے لوگوں کو یہ بات ناگوار گزری۔ قبیلہ بنی کنانہ کے ایک شخص نے موقع پاکر اس کلیسا میں قضائے حاجت کی اور اس کو نجاست سے آلودہ کردیا۔
اس پر ابرہہ کو بہت طیش آیا، اور اس نے خانہ کعبہ کو ڈھانے کی قسم کھائی، اس ناپاک ارادے سے وہ اپنا لشکر لے کر روانہ ہوا جس میں بہت سے ہاتھی تھے اور ان کا پیش رو ایک عظیم کوہ پیکر ہاتھی تھا جس کا نام محمود تھا۔
ابرہہ کے لشکر نے مکہ مکرمہ کے قریب پہنچ کر مکہ والوں کے جانور قید کرلئے۔ ان میں دو سو اونٹ حضرت عبدالمطلب کے بھی تھے۔ حضرت عبدالمطلب ابرہہ کے پاس آئے تو ابرہہ نے ان کی بہت تعظیم کی اور ان کے آنے کا مقصد پوچھا۔ آپ نے فرمایا۔ میں اس لئے آیا ہوں کہ میرے اونٹ واپس کئے جائیں۔
ابرہہ نے کہا، مجھے بہت تعجب ہے کہ میں خانہ کعبہ کو ڈھانے آیا ہوں اور وہ تمہارا اور تمہارے باپ دادا کا معظم و محترم مقام ہے۔ تم اس کے لئے تو کچھ نہیں کہتے اور اپنے اونٹوں کے لئے کہتے ہو۔ آپ نے فرمایا، میں اونٹوں کا مالک ہوں۔ اس لئے ان کے لئے کہتا ہوں اور کعبہ کا مالک اﷲ تعالیٰ ہے، وہ خود اس کی حفاظت فرمائے گا۔
حضرت عبدالمطلب کو ابرہہ نے اونٹ واپس کردیئے۔ آپ نے آکر قریش کو حال سنایا اور مشورہ دیا کہ مکہ سے نکل کر پہاڑوں کی گھاٹیوں میں پناہ گزین ہوں۔ قریش نے ایسا ہی کیا۔ آپ خود خانہ کعبہ میں گئے اور وہاں یہ دعا کی۔
اے اﷲ! ہر کوئی اپنے گھر کی حفاظت کرتا ہے، تو ان سے اپنے حرم کی حفاظت فرما۔ بے شک اس گھر کا دشمن تیرا دشمن ہے، انہیں اپنی بستی کو اجاڑنے سے روک دے۔
اس دعا کے بعد آپ بھی پہاڑوں کی طرف چلے گئے۔ اگلی صبح ابرہہ نے اپنی فوج کو حملہ کے لئے تیار کیا۔ اس نے اپنے دیوپیکر ہاتھی محمود کو اٹھانا چاہا مگر وہ نہ اٹھا اور کعبہ کی طرف نہ چلا۔ جب اس کا منہ دوسری طرف کیا جاتا تو وہ تیز چلنے لگتا لیکن جب اس کا رخ مکہ کی طرف کیا جاتا تو وہ پھر بیٹھ جاتا۔
اسی دوران اﷲ تعالیٰ نے سمندر کی جانب سے چھوٹے چھوٹے پرندے بھیجے۔ ہر پرندے کے پاس تین تین کنکریاں تھیں۔ پرندے وہ کنکریاں گرانے لگے۔ جس شخص پر وہ کنکریاں گرتیں، اس کے آہنی خود کو توڑ کر سر سے ہوتی ہوئی، جسم کو چیر کر ہاتھی میں سے گزر کر زمین میں دھنس جاتیں۔ اس طرح ابرہہ کا لشکر تباہ و برباد ہوگیا۔
جس سال یہ واقعہ ہوا، اسی سال اس واقعہ کے پچاس روز بعد سید عالم حبیب خدا حضرت محمدﷺ کی ولادت باسعادت ہوئی (خزائن العرفان)
الم تر کیف فعل
ارشاد ہوا ’’اے محبوبﷺ! کیا تم نے نہ دیکھا تمہارے رب نے ان ہاتھی والوں کا کیا حال کیا‘‘ (کنزالایمان)
مفسرین فرماتے ہیں کہ اس آیت میں خطاب نبی کریمﷺ سے ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ واقعہ تو نبی کریمﷺ کی ولادت مبارکہ سے پہلے کا ہے پھر ’’کیا تم نے نہ دیکھا‘‘ کیوں فرمایا گیا۔
ایک جواب یہ ہے کہ یہاں دیکھنے سے مراد رؤیت قلبی یعنی علم ہے۔ چونکہ یہ واقعہ تواتر سے ثابت اور عرب میں نہایت مشہور تھا اس لئے اس کا علم اتنا ہی یقینی ہے کہ گویا آنکھوں سے دیکھا ہے۔
دوسرا جواب یہ ہے کہ اگر اس کو رویت بصریہ یا مشاہدہ کے معنی میں لیا جائے توبھی درست ہے۔ سورۃ العلق کی تفسیر میں احادیث مبارکہ پہلے مذکور ہوچکیں کہ نبی کریمﷺ کا نور سب سے پہلے تخلیق ہوا اور آپ کو نبوت اس وقت عطا ہوئی جبکہ آدم علیہ السلام روح اور جسم کے درمیان تھے۔
پس نور محمدیﷺ بارگاہ الٰہیہ میں ذات باری تعالیٰ کی تجلیات کے مشاہدے بھی کرتا رہا اور ساتھ ہی کائنات میں رونما ہونے والے واقعات بھی دیکھتا رہا۔
ایک قول یہ ہے کہ اس آیت میں حضورﷺ کے واسطے سے تمام قریش مخاطب ہیں۔ ان سے کہا جارہا ہے کہ تم نے اس واقعہ پر غور نہیں کیا کہ تمہارے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا سلوک کیا؟ جس طرح تمہارے رب نے اپنے گھر کے دشمنوں کو نیست و نابود کردیا، ایسے ہی وہ اپنے محبوب رسولﷺ کے دشمنوں کو بھی تباہ و برباد کرسکتا ہے، پس تم اس سے عبرت حاصل کرو۔
ایک بصیرت افروز نکتہ یہ ہے کہ جب دو اشخاص میں مصاحبت ہوتی ہے تو کم درجہ والے شخص کو ’’صاحب اعلیٰ‘‘ کہا جاتا ہے کیونکہ عربی میں لفظ ’’اصحاب‘‘ کی نسبت جس ہستی کی طرف کی جاتی ہے وہ ان اصحاب سے اعلیٰ درجہ کا ہوتا ہے۔ اسی لئے رسول معظمﷺ کی صحبت میں بیٹھنے والوں کو ’’اصحاب رسول‘‘ کہا جاتا ہے۔
اس سورت میں اصحاب الفیل کے الفاظ یہ حقیقت واضح کررہے ہیں کہ یہ لوگ انسانیت کے درجہ سے گرچکے تھے بلکہ حال اور درجہ میں ہاتھیوں سے بھی کمتر اور گٹھیا تھے۔ ارشاد باری تعالیٰ (بل ہم اضل) ’’بلکہ یہ چوپایوں سے بڑھ کر گمراہ‘‘ سے بھی یہی مراد ہے۔
اس حقیقت کی مزید تائید اس بات سے ہوتی ہے کہ جب وہ ہاتھی کو کعبہ کی جانب چلانا چاہتے تو وہ بیٹھ جاتا اور جب دوسری جانب چلانا چاہتے تو وہ چلنے لگتا۔ اس بات سے بھی واضح ہوتا ہے کہ ان سے بہتر تھا۔
باقی آئندہ شمارے میں ملاحظہ فرمائیں