حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ (گزشتہ سے پیوستہ)

in Tahaffuz, August-September 2014, خان آصف, شخصیات

غیاث پور میں ایک بوڑھی عورت بھی حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کی ہمسایہ تھی اور آپ سے بے حد عقیدت رکھتی تھی۔ اس بوڑھی عورت کا یہ کام تھا کہ صبح سے شام تک رسی بنتی اور پھر دوسرے دن قریب کی آبادی میں جاکر اس رسی کو فروخت کردیتی۔ پھر چار پیسے جو حاصل ہوتے ان سے جو کا آٹا اور تھوڑی سی ترکاری خرید لاتی۔ اس کے بعد چند روٹیاں پکاکر حضرت محبوب الٰہی علیہ الرحمہ کی خدمت میں پیش کردیتی۔ پہلی بار جب ان ضعیف خاتون نے اس طرح اپنی عقیدت کا مظاہرہ کیا تو حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ نے یہ کہہ کر وہ روٹیاں قبول کرنے سے انکار کردیا۔
’’اس غذا سے تو خود تمہارا پیٹ بھی نہیں بھر سکتا۔ پھر ہم لوگ تمہارے ناتواں کاندھوں پر اپنے رزق کا بوجھ کیوں ڈالیں؟ ہم اﷲ کے لئے عبادت کررہے ہیں تو پھر اﷲ ہی ہمارا رازق بھی ہے اور دوسری ضروریات کا کفیل بھی‘‘
حضرت محبوب الٰہی علیہ الرحمہ کا جواب سن کر بوڑھی عورت گریہ وزاری کرنے لگی ’’مجھے اپنی خدمت سے محروم نہ فرمایئے۔ میرے نامۂ اعمال میں اس کے سوا کچھ بھی نہیں‘‘
ضعیف خاتون کے لہجے میں اس قدر خلوص اور گداز تھا کہ حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ انکار نہ کرسکے اور جو کی پکی ہوئی روٹیاں قبول فرمالیں۔
اب یہ اتفاق تھا یا قدرت کی کوئی مصلحت کہ وہ خاتون کئی دن سے رسیاں تیار کررہی تھیں مگر کوئی خریدار نہیں ملتا تھا۔ حضرت محبوب الٰہی علیہ الرحمہ اور دوسرے درویشوں کی طرح وہ خاتون خود بھی چار دن سے بھوکی تھیں۔ حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ سے عقیدت کا یہ حال تھا کہ وہ اپنی تکلیف کو بھول گئی تھیں اور ہمہ وقت اس فکر میں غرق رہتی تھیں کہ رازق دوعالم کسی طرح چند روٹیوں کا انتظام کردے اور یہ مردان خدا ان روٹیوں سے روزہ کشائی کرلیں۔
بالاخر پانچویں روز کسی شخص نے ان خاتون سے ایک رسی خرید لی۔ خاتون بہت خوش تھیں کہ آج فاقہ کشی کا یہ تسلسل ٹوٹ جائے گا۔ رسی فروخت کرنے سے جو رقم حاصل ہوئی تھی وہ محض اتنی تھی کہ اس سے ایک سیر جو کا آٹا خریدا جاسکتا تھا۔ خاتون نے یہی کیا اور جب عصر کا وقت آیا تو انہوں نے وہی سیر بھر آٹا حضرت محبوب الٰہی کی خدمت میں پیش کردیا۔
حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کچھ دیر تک سوچتے رہے۔ پھر مولانا کمال الدین یعقوب علیہ الرحمہ کو حکم دیتے ہوئے فرمایا ’’یہ نذر خلوص ہے اسے قبول کرلو اور آٹے کو دیگ میں ڈال کر پکنے کے لئے رکھ دو‘‘
حضرت شیخ کمال الدین یعقوب علیہ الرحمہ نے پیرومرشد کے حکم پر عمل کرتے ہوئے جو کے آٹے کو دیگ میں ڈال دیا اور پھر زیادہ مقدار میں پانی بھر دیا۔ اس کے بعد آگ دہکادی گئی۔ ایسا کرنے سے حضرت محبوب الٰہی علیہ الرحمہ کا مقصد یہ تھا کہ اگر آٹے کے علاوہ غیب سے کچھ اور حاصل ہو تو اسے بھی دیگ میں ڈال کر پکالیا جائے۔ اس طرح غذا کی مقدار بڑھ جاتی ورنہ اگر روٹیاں پکائی جائیں تو ایک دو نوالوں سے زیادہ خوراک کسی درویش کے حصے میں نہ آتی۔
آگ کے شعلے بھڑکتے رہے اور پانی ابلتا رہا۔ اسی اثناء میں ایک گدڑی پوش فقیر کہیں سے گھومتا ہوا آیا اور نعرہ زنی کرنے لگا۔
’’اگر کسی کے پاس کچھ ہے تو وہ اسے فقیر کے سامنے پیش کرے۔ آج فقیر بہت بھوکا ہے، جلدی کرو اور اس کی بھوک مٹادو‘‘
درویش نعرہ زنی کرتا ہوا کمال الدین یعقوب علیہ الرحمہ کے پاس آیا۔ مولانا اس وقت دیگ کے قریب بیٹھے ہوئے تھے۔ نزدیک آکر درویش نے پھر صدا لگائی۔
’’اگر کچھ ہے تو کھانے کو دے۔ دیگ کو بند کیوں کر رکھا ہے۔ اس کا منہ کھول دے‘‘
حضرت مولانا کمال الدین یعقوب علیہ الرحمہ نے غور سے اس گدڑی پوش کی طرف دیکھا۔ درویش کا لباس دریدہ بھی تھا اور میلا بھی۔ اس کی داڑھی بے ترتیب تھی اور بال پریشان تھے۔ وہ اپنی ظاہری حالت سے کوئی مجذوب معلوم ہوتا تھا۔ مولانا کمال الدین یعقوب علیہ الرحمہ جس منزل کے مسافر تھے، وہ یکسر ہوش کی منزل تھی۔ وہاں کسی انتشار اور جذب و مستی کو دخل نہیں تھا۔ مولانا نے گدڑی پوش کو ایک نظر دیکھا اور اٹھ کر حضرت نظام الدین علیہ الرحمہ کی بارگاہ میں حاضر ہوگئے۔ حضرت محبوب الٰہی علیہ الرحمہ اس وقت کچھ پڑھ رہے تھے۔ مولانا کمال الدین یعقوب علیہ الرحمہ کو اپنے سامنے دست بستہ کھڑے دیکھ کر آپ نے ان سے آنے کا سبب دریافت کیا۔
’’ایک مرد درویش بہت بھوکا ہے‘‘ مولانا کمال الدین یعقوب علیہ الرحمہ نے عرض کیا ’’اندازہ ہوتا ہے کہ وہ کچھ کھائے پئے بغیر نہیں جائے گا‘‘
’’مولانا! آپ کو اس میں کیا اعتراض ہے؟‘‘ حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ نے ایک عارفانہ تبسم کے ساتھ فرمایا۔ ’’اس میں تو اس درویش کا بھی حصہ شامل ہے۔ ہم تو محض منتظم ہیں۔ مخلوق خدا کو کھلانے ہی کے لئے بیٹھے ہیں۔ ان درویش سے بھی کہہ دو کہ ابھی کھانا پک رہا ہے۔ جیسے ہی تیار ہوگا، سب سے پہلے ان ہی کی خدمت میں پیش کیا جائے گا‘‘
پیرومرشد کا حکم سن کر مولانا کمال الدین یعقوب علیہ الرحمہ واپس تشریف لے گئے اور اجنبی درویش کے سامنے حضرت محبوب الٰہی علیہ الرحمہ کے الفاظ دہرا دیئے۔
گدڑی پوش فقیر بھوک سے بہت بے قرار تھا۔ شدید حالت اضطراب میں کہنے لگا۔ ’’میرے پاس وقت نہیں ہے۔ میں انتظار نہیں کرسکتا۔ اپنے شیخ سے کہہ کر کھانا جس حالت میں موجود ہے، بھیج دیں۔ بلکہ زیادہ بہتر یہ ہے کہ وہ خود ہی مجھے کھانا کھلائیں‘‘ یہ کہہ کر وہ گدڑی پوش فقیر وہاں سے ہٹا اور کچھ فاصلے پر جاکر بیٹھ گیا۔
مولانا کمال الدین کچھ دیر تک حیرت و سکوت کے عالم میں اس گدڑی پوش فقیر کو دیکھتے رہے۔ پھر جھجکتے ہوئے دوبارہ پیرومرشد کی خدمت میں حاضر ہوئے اور درویش کی خواہش من و عن بیان کردی۔
وہ لمحات بڑے عجیب تھے جب مولانا کمال الدین یعقوب علیہ الرحمہ نے حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کو اپنی نشست سے اٹھتے ہوئے دیکھا۔ حضرت شیخ علیہ الرحمہ نہایت جذب وشوق کے عالم میں فرما رہے تھے ’’میزبان کے لئے مہمان کی تواضع فرض ہے… مگر اس سے بھی بڑھ کر فرض یہ ہے کہ مہمان جس طرح بھی خوش ہو، اسے خوش کیا جائے…‘‘ یہ کہہ کر حضرت محبوب الٰہی علیہ الرحمہ اس جگہ تشریف لے گئے جہاں وہ گدڑی پوش کھانے کے انتظار میں بیٹھا تھا اور سامنے ہی وہ دیگ پک رہی تھی جس میں سیر بھر جوکے آٹے کے سوا کوئی دوسری جنس خوردنی شامل نہیں تھی۔
حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کو دیکھ کر وہ درویش کھڑا ہوا اور مسکرانے لگے… ’’شیخ! اﷲ تمہیں خوش رکھے۔ آج بہت بھوک لگی ہے۔ اس لئے تمہارے دروازے پر چلے آئے۔ اب تم اپنے ہاتھ سے اس فقیر کو کچھ کھلائو‘‘
حضرت محبوب الٰہی علیہ الرحمہ نے دیگ کے قریب جاکر دیکھا۔ پانی اس طرح ابل رہا تھا کہ اگر اس کا ایک قطرہ بھی انسانی جسم پر گر جاتا تو کھال جھلس کر رہ جاتی۔ اس صورتحال کے پیش نظر حضرت شیخ علیہ الرحمہ نے فرمایا… ’’آپ نے مجھ فقیر کو میزبانی کی سعادت بخشی مگر کھانا ابھی گرم ہے، تھوڑا سا انتظار کرلیں‘‘
’’شیخ! اب انتظار نہیں…‘‘ درویش بہت زیادہ مضطرب نظر آرہا تھا ’’تم اس آگ کی بات کررہے ہو، میرے شکم میں جو آگ لگی ہے، وہ اس سے بھی زیادہ فزوں تر ہے۔ بس تم دیگ اٹھا کر میرے سامنے لائو‘‘
حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ نے پھر کچھ نہیں فرمایا۔ آستینیں چڑھائیں اور ایک موٹے کپڑے سے دیگ کے دونوں کنارے پکڑ لئے۔ پیرومرشد کے اس عمل کو دیکھ کر مولانا کمال الدین یعقوب علیہ الرحمہ آگے بڑھے مگر حضرت محبوب الٰہی علیہ الرحمہ نے انہیں یہ کہہ کر روک دیا ’’میزبان کو مہمان کی مرضی کا لحاظ رکھنا چاہئے اور ہمارا مہمان یہی چاہتا ہے کہ میں اپنے ہاتھوں سے اس کی تواضع کروں‘‘
اس کے بعد حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ دیگ اٹھا کر اس درویش کے پاس لے گئے۔ مولانا کمال الدین یعقوب علیہ الرحمہ کو گدڑی پوش کی یہ ادا سخت ناگوار گزری تھی کہ اس نے اپنی جگہ سے حرکت تک نہ کی اور اس طرح بیٹھا رہا جیسے خانقاہ کے لوگ اس کے خدمت گار ہوں۔ اس کے ساتھ ہی مولانا یعقوب علیہ الرحمہ نے یہ بھی محسوس کیا کہ حضرت محبوب الٰہی علیہ الرحمہ کی پیشانی مبارک پر ناگواری کی شکن تک نہیں تھی بلکہ آپ دیگ اٹھاتے وقت بہت مسرور نظر آرہے تھے۔
باقی آئندہ شمارے میں ملاحظہ فرمائیں
جب حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ دیگ لے کر اس درویش کے قریب پہنچے تو وہ بھوک کی شدت سے اس قدر مضطرب ہوا کہ اس نے ابلتے ہوئے پانی میں بے جھجھک اپنا ہاتھ ڈال دیا۔ حضرت محبوب الٰہی علیہ الرحمہ اسے منع کرتے ہی رہ گئے… مگر درویش بار بار دیگ میں ہاتھ ڈالتا اور پھرف جو کے رقیق آٹے کو منہ میں رکھ لیتا… گدڑی پوش نے یہ عمل تین بار دہراہا۔ پھر اس نے دیگ کو اٹھا کر زمین پر ماردیا۔ وہ دیگ دراصل مٹی کا ایک بڑا مٹکا تھا جو زمین پر گرتے ہی ٹوٹ گیا۔
(باقی