ISIS داعش سامراجی قوتوں کی آلہ کار

in Tahaffuz, August-September 2014, سید رفیق شاہ, متفرقا ت

عرب دنیا میں تین سال قبل 2011ء میں تیونس سے تبدیلی کی جو لہر چلی تھی جسے عرب بہار کا نام دیا گیا جس نے تیونس کے ساتھ ساتھ مصر، قطر، شام، لیبیاء اور جزوی طور پر سعودی عرب کو متاثر کیا تھا۔ تیونس میں انتخابات اور قابض حکمرانوں کی جلاوطنی کے بعد حالات پرسکون ہوگئے۔ اسی طرح مصر میں حسنی مبارک کی حکومت کے خاتمے اور انتخابات میں اخوان المسلمون کی کامیابی کے بعد حالات بہتری کی جانب گامزن تھے کہ امریکہ اور سعودی عرب کی وجہ سے اخوان المسلمون کی حکومت کے خاتمے اور نام نہاد انتخابات کے ذریعے فوجی جنرل کو مصر کے اختیارات کا کل مالک بنادیا۔ قطر اور سعودی عرب میں حالات فی الحال پرسکون ہیں مگر لیبیاء اور شام میں حالات بدستور کشیدہ اور خانہ جنگی جاری ہے۔ عراق صدام حکومت کے خاتمے کے بعد سے ہی حالات جنگ میں ہے۔ شام میں خانہ جنگی طول پکڑ رہی ہے۔ داخلی سے زیادہ خارجی جنگ بن چکی ہے۔ ابتداء میں امریکہ اسد حکومت کے خاتمے میں دلچسپی لے رہا تھا مگر ایران سے امریکی تعلقات بحال ہونے کے بعد امریکہ شام میں تبدیلی کے مطالبے سے دستبردار ہوگیا۔ جس پر سعودی حکومت نے امریکہ سے سخت ناراضگی کا اظہار بھی کیا۔ ان دنوں القاعدہ سے علیحدہ ہونے والا گروہ اسلامک اسٹیٹ آف عراق اینڈ شام نے پوری دنیا میں غیر معمولی شہرت حاصل کرلی۔ یہ تنظیم جس کو عربی داعش اور انگریزی میں مختصراً ISIS کہا جاتا ہے۔
اس تنظیم پر چار ماہ قبل سعودی حکومت نے دیگر چار تنظیموں سمیت پابندی عائد کردی تھی۔ ان کی اخلاقی و مالی امداد کو سعودی مفتی اعظم نے ناجائز اور اس گروہ کو گمراہ قرار دیا تھا۔ تفصیلات ماہنامہ تحفظ جون 2014ء کے شمارے میں ’’کل کے جہادی اور آج کے دہشت گرد‘‘ کے عنوان سے پڑھا جاسکتا ہے۔
ISIS نے شام میں کارروائیوں کے بعد حلب سے پسپائی کے نتیجے میں عراق کی جانب پیش قدمی کرتے ہوئے عراق کے دوسرے شہر موصل اور اس کے اطراف کے علاقوں پر قبضہ کرلیا۔ یہ علاقے تیل کی دولت سے مالا مال ہیں۔ داعش کا بنیادی نعرہ خلافت اسلامیہ کا قیام ہے۔ گزشتہ کئی سالوں سے جدوجہد کررہی ہے اور اپنے آپ کو سنی کہلواتے ہیں مگر عملا وہابی نظریات سے وابستہ ہیں اور سخت گیر نظریات کی بنیاد پر سعودی حکومت نے انہیں ناپسندیدہ قرار دیا ہے جبکہ داعش آل سعود کی حکومت کو غیر اسلامی قرار دیتے ہیں۔ ISIS کی سربراہی ابوبکر البغدادی کررہا ہے۔ خلافت اسلامیہ کی بحالی کی مسلح جدوجہد کررہے ہیں۔ 29 جون کو وسطی عراق میں اپنی خلافت کے قیام کا اعلان کردیا ہے۔ بعد ازاں اپنی خلافت کا نقشہ بھی جاری کیا جس میں افریقہ، یورپ، عرب دنیا اور پاکستان کو شامل کیا گیاہے حالانکہ خلافت عثمانیہ کے سقوط کے وقت پاکستان کا تو وجود ہی نہیں تھا۔ پاکستان دنیا کا واحد اسلامی ملک ہے جہاں قرآن و سنت کو آئینی طور پر سپریم اتھارٹی قرار دیا گیا ہے۔ الغرض عراقی فوج جس کی عسکری تربیت امریکہ نے کی ہے، ان جنگجوئوں جن کی تعداد 15 سے 20 ہزار ہے، روکنے میں ناکام رہی۔ شام میں جاری خانہ جنگی نے جہاں پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، پڑوسی ممالک بھی اس جنگ سے محفوظ نہیں رہ سکے۔ عراق کی صورتحال کا اندازہ باآسانی لگایا جاسکتا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عالمی طاقتوں نے اس کے حل کے لئے سنجیدہ کوششیں نہیں کیں جس کی وجہ سے پورے خطے میں کشیدگی اپنے عروج پر ہے۔ عراق میں ISIS کی کامیابیوں کو مبصرین عراق وزیر نور المالکی کی نااہلی قرار دیتے ہیں جنہوں نے عراق میں قیام امن اور شیعہ سنی فرقوں کو ساتھ چلانے کی بجائے اپنی آمرانہ طرز حکومت اور ذاتی و مسلکی مفادات پر عراق کو دائو پر لگادیا۔ جس کا یہ نتیجہ نکلا کہ عراق فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم کے قریب ہے۔ حکمرانوں کے ستائے سادہ لوح سنی عوام کی ہمدردیاں داعش کی جانب سے ہورہی ہے۔ حقیقت میں یہ ایک دھوکہ ہے۔ ایران جس نے حزب اﷲ اور شیعہ ملیشیا کو عسکری طاقت کے طور پر خطے میں رکھا ہو ا ہے، اب شیعہ مخالف ISIS کو سنیوں کی عسکری طاقت سمجھنے لگے۔ افسوس کہ یہ بات ذہن نشین رہے کہ 2011ء میں عراق سے امریکی فوج کے انخلاء سے قبل عراق میں القاعدہ اور اس طرز کے گروپوں سے مقابلے کے لئے سنی کونسل تشکیل دی گئی تھی اور اس میں خدمات انجام دینے والوں کے لئے اعزازیہ بھی مقرر کیا گیا تھا جس سے القاعدہ کا کافی حد تک اثرورسوخ ختم ہوچکا تھا مگر شیعہ وزیراعظم نورالمالکی نے اس کونسل کو غیر فعال کردیا اور ان کا اعزازیہ بھی کم اور ادائیگی میں غیر معمولی تاخیر کی جاتی رہی۔ صدام دور حکومت میں عراقی فوج میں شامل سات لاکھ سنیوں کو بھی فوج سے خارج کردیا گیا جس کا یہ نتیجہ نکلا کہ غیر سنی وہابی نظریات رکھنے والے ISIS ایک طاقتور عسکری گروپ کی صورت میں عراق میں فعال ہوچکے ہیں۔ عالمی طاقتوں کا عرب دنیا میں جاری کشیدگی و خانہ جنگی پر خاموشی ایک نئے ایجنڈے کی شروعات ہے۔ عالمی طاقتوں نے موجودہ مسلم دنیا کے جغرافیوں کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا کے نقشے پر نمودار ہونے والے نوآبادیاتی ممالک جن کی جغرافیائی تقسیم اور سرحدوں کا تعین بھی ان ہی عالمی طاقتوں نے کیا تھا جس میں پاکستان، سعودی عرب، مراکش، مصر، تیونس، شام، لبنان، اردن، عراق اور دیگر شامل ہیں۔ ایک بار پھر اپنے مفادات اور منصوبوں کی بنیاد پر قائم کردہ ممالک میں مفادات کی بنیاد پر دوبارہ جغرافیائی تقسیم اور سرحدوں کا تعین اپنی ضرورتوں کے تحت کرنے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ پانچ مسلم ممالک کو 14 مسلم ممالک میں تقسیم کیا جارہا ہے۔ شام اور عراق سے اس کا آغاز ہوچکا ہے۔ ISIS داعش اس تقسیم میں بنیادی کردار ادا کرے گی۔ عراق میں ISISکے بڑھتے ہوئے اثرات ایران اور عرب ممالک کسی طور پر قبول نہیں کریں گے۔ اس طرح خطے میں خانہ جنگی پروان چڑھے گی۔ آپس کی خانہ جنگی میں ایران اور عرب ممالک کمزور ہوں گے۔ سامراجی طاقتیں تیل کی تنصیبات کے تحفظ اور قیام امن کے نام پر خطے میں اپنا ڈیرہ جمالیں گے۔ اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم کو تحفظ حاصل ہوگا۔ مسلم دنیا تقسیم اور محکمانہ زندگی گزارے گی۔
معروف صحافی حامد میر کے کالم کے مطابق ISIS داعش کے اثرات سے پاکستان بھی متاثر ہوگا۔ کئی مسلم ممالک کے نوجوان داعش میں شامل ہیں جس میں پاکستان بھی شامل ہے۔ پاکستان بلوچستان میں شیعہ مخالف کارروائیوں میں ان کے ملوث ہونے کے امکانات کو مسترد نہیں کیا جاسکتا۔ بحیثیت پاکستانی دفاع وطن کے لئے پاک فوج کے ساتھ غیر مشروط طور پر قدم سے قدم ملاکر چلنا ہوگا۔