اہل حق ضرب عضب کے ساتھ باطل کے خلاف ضرب عضب

in Tahaffuz, August-September 2014, سید رفیق شاہ, متفرقا ت

موجودہ زمانے کے خارجی گروہ کالعدم تحریک طالبان کے خلاف آپریشن کا آغاز ضرب عضب کے عنوان سے ہوچکا ہے۔ عضب یہ لفظ عربی زبان کا ہے۔ جس کے معنی تیز یا کاٹنے والا ہے۔ یہ مصطفی کریم خاتم النبیین ﷺ کی تلوار کا نام ہے۔ غزوہ بدر واحد میں یہ مصطفی کریم خاتم النبیینﷺ کے استعمال میں رہی۔ بعد ازاں صحابہ کرام رضوان اﷲ اجمعین کے ہاتھوں کفار و مشرکین کا قلع قمع کرتی رہی۔ اب یہ مصر قاہرہ میں جامعہ حسین رضی اﷲ عنہ کے عجائب گھر میں محفوظ ہے۔ آپریشن کا نام انتہائی تفکر و تدبر کے ساتھ رکھا گیا ہے۔ حکومت پاکستان گزشتہ کئی ماہ سے خارجیوں سے مذاکرات کررہی تھی۔ اگرچہ یہ مذاکرات سعودی حکومت کے دبائو پر شروع ہوئے تھے۔ حکومت پاکستان کی نیک نیتی اور خلوص کے باوجود غیر ریاستی اور خارجی گروہ طالبان نے دہشت گردی کی کارروائیاں بند نہیں کی جس میں سب سے بڑا واقعہ 8 جون کو کراچی ایئرپورٹ پر حملہ ہے جس میں 30 پاکستانی مسلمان شہید ہوگئے جس کی ذمہ داری فوری طور پر طالبان نے قبول کی۔
طالبان کے ملا فضل اﷲ گروپ کی جانب سے حملے کی ذمہ داری قبول کئے جانے کے فورا بعد طالبان کے ایک اور گروپ اسلامک موومنٹ آف ازبک نے نہ صرف ذمہ داری قبول کی بلکہ حملے کے پلان سے بھی آگاہ کیا۔ یہ تنظیم کالعدم طالبان کے باہمی انتشار اور تصادم کے نتیجے میں طاقتور ہوئی ہے۔ طالبان کے چھوٹے چھوٹے گروپ کراچی حملے کے بعد اس میں شامل ہونے لگے۔
یہ گروہ ایک طرح کا حزب التحریر کا جنگجو گروپ ہے۔ حزب التحریر خلافت اسلامیہ کی بحالی کی تحریک کی دعویٰ دار ہے۔ گزشتہ سالوں پاکستان کے اعلیٰ فوجی افسر کا حزب التحریر سے روابط ثابت ہونے پر ان کا کورٹ مارشل ہوچکا ہے۔ اس وقت حزب التحریر کے ترجمان نے دعویٰ کیا تھا کہ پاک فوج کے کئی افسران ہماری تحریک کا حصہ بن چکے ہیں۔ ازبک طالبان، اسلامک موومنٹ آف ازبک افغانستان کی اس وقت سب سے فعال تنظیم ہے۔ کئی علاقوں پر ان کا کنٹرول بتایا جاتا ہے۔ افغانستان میں ازبک قوم بڑی تعداد میں آباد ہے۔ دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث افراد کارروائیاں کرنے کے بعد ان آبادیوں میں روپوش ہوجاتے ہیں جہاں انہیں تلاش کرنا مشکل ہے۔
سانحہ کراچی کے نتیجے میں سول و عسکری قیادت نے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا جو کامیابی سے جاری ہے۔ اس آپریشن کی امریکہ سمیت جماعت اسلامی، جمعیت علمائے اسلام (ف)، (س) نے شدید مخالفت کی ہے۔ بعد ازاں امریکہ نے آپریشن پر حمایت کے ساتھ شرارت بھی شروع کردی ہے کہ ڈرون حملوں کا سلسلہ شروع کردیا جس سے یہ تاثر دیا جائے کہ آپریشن میں امریکہ کا کردار شامل ہے۔ دیوبندی فرقے اور ان کی سیاسی و مذہبی جماعتوں کو اس آپریشن سے شدید دھچکا پہنچا ہے۔ یہ طالبان ان کی عسکری طاقت ہے جس کے بل بوتے پر پاکستان کو اپنے خود ساختہ نظریات کی بھینٹ چڑھانا چاہتے ہیں۔ مساجد، مدارس کی آڑ میں طالبان کے لئے پناہ گاہیں بنائی گئیں اور دوسری جانب جمعیت علمائے اسلام کے پلیٹ فارم سے سیاسی جدوجہد کے نام پر ان کی اہانت و مدد کی جاتی رہی۔ حکومتی ایوانوں میں بیٹھ کر ان کو شیلٹر فراہم کرتے اور ان کے خلاف ہونے والی کارروائیوں کی مخالفت کرتے۔
ماہنامہ تحفظ کے گزشتہ چار ماہ کے شماروں کو یکجا کرکے پڑھا جائے تو کالعدم تحریک طالبان اور دنیا بھر میں ہونے والی انتہا پسندی اور مذہبی دہشت گردی کو سمجھنا مشکل نہیں ہوگا۔ رہی بات جماعت اسلامی کی تو روزنامہ جنگ کے کالم نگار محمد سعید اظہر کا 18 جون 2014ء کا مضمون پڑھیئے۔ لکھتے ہیں کہ تاریخ کے اس موڑ میں صرف جماعت اسلامی ایک ایسی جماعت تھی جس کی قیادت نے طالبان کے ساتھ اس جنگ میں اپنی جانیں جاں آفریں کے سپرد کرنے والے پاکستانی فوجیوں اور دیگر ریاستی اداروں اور عوام کو شہید قرار دینے سے انکار کیا۔ اس انکار پر للکارنے کے انداز میں اصرار کیا۔ آج جبکہ پاک فوج اور عوام ایک ہوکر اپنے وطن اور معاشرے کی سلامتی کے لئے میدان میں اترچکے ہیں۔ یہ واحد جماعت ہے جس نے خود کو ملک کے دفاعی ادارے اور عوام سے متوازی مقام پر رکھتے ہوئے اس فوجی آپریشن کے معاملے میں علیحدگی پسندانہ تحفظات کا اعلان کیا ہے۔
خدانخواستہ یہ جنگ پاکستان کے گلی کوچوں میں پھیلنے پر یہ جماعت اس کے کارکن اپنے ہی ہم وطنوں کے خلاف طالبان کے ساتھ شامل ہوسکتے ہیں۔ اس بات میں کوئی شبہ نہیں ہونا چاہئے کہ پوری پاکستانی قوم دہشت گردی کے خاتمے اور خارجی گروہ اور دیگر شدت پسندوں کے خلاف یک آواز ہے۔
تاہم اس موقع پر بعض طالبان کے لئے نرم گوشہ رکھنے والے بھی میڈیا کے لبادے میں سرگرم ہوچکے ہیں۔ روزنامہ جنگ کے تجزیہ کار سلیم صافی نے لکھا کہ آپریشن سے مطلوبہ نتائج نہیں مل سکیں گے۔ حکومت اچانک آپریشن سے قبل آل پارٹیز کانفرنس بلاتی، مختلف مکاتب فکر کے لوگوں سے مشاورت کرتی۔ اس موقع پر سلیم صافی اجلاسز کی لمحہ بہ لمحہ رپورٹ طالبان تک پہنچاتے رہتے اور انہیں مکمل طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کا موقع مل جاتا۔
سلیم صافی کے خیال میں آپریشن سے عوام کی املاک اور جانوں کو زیادہ نقصان پہنچے گا۔ آپریشن کا فیصلہ غلط وقت میں غلط موقع پر کیا گیا ہے۔ کتنی افسوس کی بات ہے کہ گزشتہ بارہ سالوں میں ،خودکش دھماکوں اور فائرنگ میں ہزاروں پاکستانی جاں بحق ہوئے۔ اس پر انہیں کوئی ملال نہیں۔
معروف صحافی عرفان صدیقی نے کہا کہ آپریشن پوری قوم کا فیصلہ ہے۔ ہم نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات کے لئے آگے بڑھے۔ صرف مذاکرات کے دوران دہشت گردی کے 100 واقعات ہوئے۔ اب جان لینا چاہئے کہ دہشت گردی اور مکالمہ ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔
یہ آپریشن پاکستانی قوم بالخصوم عوام اہلسنت کا مطالبہ تھا۔ سب سے زیادہ متاثر بھی اہلسنت ہی ہوئے ہیں۔ سینکڑوں کی تعداد میں علماء و مشائخ اہلسنت کو شہید کیا گیا۔ مساجد، مزارات، مدارس و خانقاہوں پر دھماکے کئے گئے۔ پاکستان علماء اہلسنت کی جدوجہد کا ثمر ہے۔ حصول پاکستان کی تحریک میں ہر اول دستے کا کردار ادا کیا۔ پاکستان کو بچائیں گے بھی یہی۔ اگر حکومت یہ چاہتی ہے کہ مستقبل میں ایسے خارجی اور دہشت گرد گروہ دوبارہ پیدا نہ ہوں تو سول اور عسکری قیادت کو مل کر ایسا مربوط نظام بنانا ہوگا جس میں پاکستان کی جغرافیائی سرحدوں کے ساتھ ساتھ اس کی نظریاتی سرحدوں کا تحفظ ہو۔
عالمی سامراجی طاقتوں نے مسلم دنیا کی تقسیم کا فارمولا بنالیا ہے۔ نوآبادیات مسلم دنیا کی جغرافیائی سرحدوں کو دوبارہ اپنے مفادات کے تحت تقسیم کیا جارہا ہے۔ عراق اور شام سمیت پانچ مسلم ممالک کو 14 ممالک میں تقسیم کیا جارہا ہے۔ ایسی بین الاقوامی سازشوں کے بے نقاب ہوجانے کے بعد ہمیں اپنے وطن اور اس کے جغرافیہ کی حفاظت کے لئے پاک فوج کے ساتھ غیر مشروط طور پر کھڑا ہوکر اپنا فریضہ ادا کرنا ہوگا۔