مفتی اعظم سندھ مفتی محمد عبداللہ نعیمی شہید رحمت اللہ علیہ تاریخ کی ایک ناقابل فراموش شخصیت

in Tahaffuz, August-September 2014, حبیب اللہ جت نعیمی بدین سندھ, شخصیات

با ب الاسلام سندھ صدیوں سے علم و عرفان کا مرکز رہا ہے۔ سر زمین سندھ کے علما و صوفیا نے جو گرانقدر خدمات سرانجام دیں ہیں وہ پوری امت مسلمہ کیلئے ایک عظیم سرمایہ ہے۔ انہیں علماء و صوفیا میں مفتی اعظم سندھ مفتی محمد عبداللہ نعیمی شہید رحمت اللہ علیہ کا شمار ہوتا ہے۔ مفتی اعظم سندھ ظاہری و باطنی علوم کے جامع تھے ۔ آپ علم و عمل اور تقویٰ میں اسلاف کا نمونہ تھے۔
ولادت : ۱۳۴۴؁ھ بمطابق ۱۹۲۵؁ء ایران کے صوبے سیستان ضلع دشتیاری کے کارانی محلہ میں پیدا ہوئے ۔
آپ کے والد ماجد صوفی محمد رمضان بلوچ اپنے رشتے داروں کے ساتھ ایران سے ہجرت فرما کر پاکستان ملیر کراچی میں آباد ہوئے 
تعلیم و تربیت: مفتی صاحب رحمت اللہ علیہ نے ناظرہ قرآن مجید اپنے والد گرامی سے پڑھا جب ۲۱ سال کی عمر کو پہنچے تو آپکے والد ماجد نے آپکو میمن گوٹھ کے مشہور عالم دین حضرت مولانا الحاج حکیم اللہ بخش سندھی کے ہاں داخل کرایا۔ کافیہ تک ابتدائی کتب آپ سے پڑھیں۔ اسی دوران آپ کے والد ماجد کا انتقا ل ہوگیا اب آپکے کندھوں پر گھر کی پوری ذمہ داریاں عائد ہو گئیں تھیں۔ لیکن ان حالات میں بھی تعلیمی سفر کو جاری رکھا۔ دن رات محنت مزدوری کیا کرتے رات کو مکتب میں تعلیم حاصل کیا کرتے تھے۔
آپ نے منطق فلسفہ، مشکواۃ، جلالین شریف اور اصول کی کتابیں ملیر کینٹ میں حضرت مولانا حافظ محمد بخش جھلمی کے پاس پڑھیں، اور حضرت مولانا الحاج محمد عثمان مکرانی سے علم میراث کی تعلیم حاصل کی۔
مزید تعلیم حاصل کرنے کیلئے آرام باغ کراچی میں حضرت تاج العلماء مفتی محمد عمر نعیمی رحمت اللہ علیہ کے مدرسہ مخزن العلوم عربیہ میں داخل ہوئے۔ آپ نے دورہ حدیث کیا ، ۱۹۶۱؁ء میں آپ کی دستار فضیلت ہوئی آپ نے دوران تعلیم ۱۹۵۵؁ء میں صاحبداد گوٹھ ملیر میں تعلیم القرآن کے نام سے مدرسہ کا آغاز کیا جہاں آپ بچوں کو قرآن کی تعلیم دیا کرتے تھے۔
۱۹۶۱؁ء میں آپ نے اسی مدرسہ کو دارالعلوم مجددیہ نعیمیہ کا نام دیکر عالم اسلام کی دو عظیم شخصیات یعنی امام ربانی مجدد الف ثانی اور خلیفہ اعلیٰحضرت صدر الافاضل مفتی محمد نعیم الدین مراد آبادی رحمت اللہ علیھما کے نام منسوب کیا۔ دارالعلوم کا باقا عدہ افتتاح حضرت تاج العلماء مفتی محمد عمر نعیمی رحمت اللہ علیہ نے فرمایا۔
۱۹۶۱؁ء میں جب دارالعلوم تعمیر ہوا تو آپ نے مزدوروں کے ساتھ کام کیا اس سے آپ کے اخلاص اور تقویٰ کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے مفتی صاحب طلبہ کو اپنی جان سے عزیز سمجھتے تھے ۔ انکے ساتھ بیٹھ کرکھانا کھاتے تھے۔ ان کی دلداری میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے۔ وہ بیمار ہو جاتے تو خود بے چین ہوجاتے، آج یہ شفقت کہاں؟
بیعت:مفتی صاحب رحمت اللہ علیہ سلسلہ عالیہ قادریہ میں حضرت پیر طریقت الحاج سید عبدالخالق شاہ مکرانی سے شرف بیعت تھے، سلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں حضرت شیخ المشائخ الحاج محمد عبداللہ سولنگی سندھی رحمت اللہ علیہ سے شرف بیعت تھے، اور آپ سے خلافت بھی حاصل تھی مگر کسر نفسی کی وجہ سے مفتی صاحب نے بیعت سے احتراز فرمایا ، آخری عمر میں چند حضرات مثلاََ مفتی قاضی محمد احمد نعیمی، مولانا رحیم بخش نعیمی کو بیعت فرمایا تھا۔
دینی خدمات: مفتی صاحب رحمت اللہ علیہ درس و تدریس کے ساتھ عوام کی اصلاح و ترتیب کیلئے ہمیشہ کو شان رہتے اسی سلسلہ میں آپ نے ۱۹۷۷؁ع میں ایران کا ایک ماہ کا طویل تبلیغی دورہ کرکے مسلک حقہ اہل سنت و جماعت کی اشاعت کی، اسی دورہ کے دوران آپ نے پیغام حق کے نام سے کتاب لکھ کر دنیا ئے نجدیت کے ایوانوں میں زلزلہ بپا کیا، آ پ نے تحریک ختم نبوت اور تحریک نظام مصطفی میں بھرپور کردار ادا کیا۔
۱۹۷۷ء کی تحریک نظام مصطفی کے دوران آپکے علاقے کے مخالفین جان کے دشمن ہوگئے تھے۔ آپکی سخت مخالفت کی تھی اور طرح طرح کی اذیتیں پہنچائی۔ آپ پر سنگباری کی گئی، دارالعلوم پر پتھرائو کیا گیا، دارالعلوم کو مسمار کرنے ،اور آپکو قتل کرنے کی دھمکیاں دی گئیں، سوشل بائیکاٹ بھی کیا گیا، لیکن آپ ان تمام آلام و مصائب کے سامنے کوہ استقامت بنے ہوئے۔ تھے، ان تمام مشکلات کے باوجود آپ کے پایہ استقلال کو جنبش نہ آئی۔
تصنیفات:آپکو درس و تدریس اور دارالعلوم کی تعمیر و ترقی کے سبب تصنیف و تالیف کا وقت نہ مل سکا البتہ فتاوی کے علاوہ چند کتب آپکی یادگار ہیں،

(۱) فتاوی مجددیہ نعیمیہ ، جلد اول مرتب محقق اہلسنت مفتی محمد جان نعیمی (۲) تحفت الاخوان فی جواز صلواۃ والسلام قبل الاذان، (۳) تفیسر وما اھل بہ لغیر اللہ (۴) دعا میں ان اللہ و ملا ئکتہ یصلون علی النبی پڑھنا (۵) پیغام حق (فارسی) اس میں وہابیوں کے باطل عقائد کا بیان ہے) (۶) تعویذ گنڈا جائز ہے۔ (۷) نورانیت مصطفی ﷺ
آپ نے حج بیت اللہ کی سعادت مفتی اعظم ہند شہزادۂ اعلیٰحضرت حضرت شاہ محمد مصطفی رضا خان علیہ الرحمہ کی معیت میں حاصل کی۔ مفتی صاحب رحمت اللہ علیہ کتابوںکے بڑے عاشق تھے سندھ کے قدیمی کتب خاتون سے بڑے تگ و دوسے قلمی مخطوطات کی نقل یا اصل حاصل کرکے مخادیم سندھ کی نادرو نایاب قلمی علمی خزانہ کو آپنے محفوظ کیا، پروفیسر ڈاکٹر مسعود احمد مجددی رحمت اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ آپکا کتابوں سے بڑا شغف تھا اور اسی سفر میں شہید ہوئے۔
ایک بار فقیر جامع مسجد مکلی (ٹھٹھہ) میں نماز مغرب سے فارغ ہوا تو چند عقیدت مندوں کی جھر مٹ میں ایک نورانی پیکر دیکھا جس کے چہرے سے وہ عالمانہ وقار عیاں تھا جو فقیر نے اپنے والد ماجد مفتی اعظم شاہ مظہر اللہ اور صدرالافاضل حضرت مولانا نعیم الدین مراد آبادی رحمت اللہ علیھما کے مبارک چہروں پر دیکھا، جب جامع مسجد میں حضرت مفتی صاحب رحمت اللہ علیہ سے فقیر کی پہلی اور آخری ملاقات ہوئی تو عرض کیا کہ تھوڑی دیر کیلئے غریب خانے پر تشریف لے چلیں۔
ـحضرت نے فرمایا، ایک شادی میں سجاول جار رہا ہوں ان شااللہ پھر آئوں گا، اتفاق سے اسی زمانے میں فتاوی رضویہ کی ایک غیر مطبوعہ جلد چھپ کر ہندوستان سے آئی تھی فقیر نے چلتے چلتے باتوں باتوں میں اس کا ذکر کیا تو سنتے ہی غریب خانے پر چلنے کیلئے تیا ہو گئے۔ تشریف لائے اور بڑے ذوق و شوق سے اس جلد کا مطالعہ فر مایا۔ پھر فرمایا مجھے عنایت فرمادیں، مطالعہ کے بعد واپس بھیج دی جائے گی، چونکہ فقیر نے مطالعہ نہیں کیا تھا اس لئے عرض کیا، مطالعہ کے بعد پیش کر دی جائے گی ایسا محسوس ہوا کہ حضرت مفتی صاحب کو دھچکا سا لگا ہے، فوراََ فرمایا جب میں مرجائوں گا، فقیر نے یہ کلمات سنتے ہی فتاویٰ رضویہ کی جلد پیش کردی، بہت خوش ہوئے پھر ایک دو ماہ کے بعد اس کی جلد بنوا کر واپس کردی، آج کل یہ امانت داری کہاں؟ کچھ عرصہ نہ گذرا تھا کہ اخبار میں خبر پڑھی مفتی صاحب اپنی کار میں تلاش علم جارہے تھے ایک حادثہ میں شہید ہوگئے، خبر پڑھتے ہی حضرت مفتی صاحب کے وہ الفاظ یاد آگئے جب میں مرجائوں گا؟ واقعی اگر پہلی ملاقات میں فقیر فتاوی رضویہ نہ دیتا تو کبھی نہ دے پاتا ہائے کیا کیا نہ ہوا ہم کو خبر ہونے تک۔
وصال: ۱۰ شوال المکرم ۱۴۰۲؁ھ ۳۰ جولائی ۱۹۸۲؁ء آپ سیون شریف سندھ جارہے تھے اچانک گاڑی کادروازہ کھل گیا آپ چلتی گاڑی سے نیچے گرے اور شدید زخمی ہوئے۔ سیون سے حیدرآباد منتقل کردیا گیا۔ طبی امداد کا سلسلہ جاری تھا۔ کہ ڈاکٹرز نے تجویز دیا کہ خون چڑھایا جائے ۔ جب آپ نے سنا فوراََ فرمایا میرے جسم میں پلید خون مت چڑھائو سبحا ن اللہ
آہ: وہ عجز و انکساری ، تقوی، حلم ، بردباری اور اتباع سنت کا حسین پیکر ۱۰ شوال المکرم ۱۴۰۲؁ھ ۳۰ جولائی ۱۹۸۲؁ء رات ۳ بجکر ۱۵منٹ پر کلمہ طیبہ پڑھ کر گل حیات سے خوشبو کی طرح چلے گئے۔
روح قفس عنصری سے پرواز ہونے کے باوجود قلب ذکر الہٰی میں ۲۰ منٹ تک مستغرق رہا دیکھ کر ڈاکٹرز بھی حیران رہ گئے۔
اگلے روز محفوظ اسٹیڈیم ملیر کے وسیع گرائونڈ میں حضرت علامہ عبدالمصطفیٰ الازھری کی امامت میں علماء و مشائخ کے علاوہ عوام کے ٹھاٹھیں مارتے سمندر نے نماز جنازہ ادا کی۔ شام کے وقت درورد و سلام کی برسات میں عاشق صادق کو محبوب حقیقی سے ملاقات کیلئے حجرئہ خلد کی آغوش میں دے دیا گیا۔