کراچی میں نئی دہشت گرد تنظیم ’’خروج‘‘ کا انکشاف

in Articles, Tahaffuz, June 2011, ا د ا ر یے, مو لا نا شہز ا د قا د ری تر ا بی

پچھلے چند سالوں سے وطن عزیز پاکستان سنگین بحرانوں کا شکار ہے۔ ان میں سب سے سخت بحران جس کا سامنا شدت کے ساتھ کرنا پڑرہا ہے۔ وہروز مرہ ہونے والے خودکش حملے ہیں جس کی وجہ سے ہر پاکستانی خوف زدہ اور پریشان رہتا ہے۔ اس مصیبت کی وجہ سے پورا ملک افراتفری کا شکار ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ کام مذہب کے نام پر کرائے جاتے ہیں۔ ان کاموں کے لئے بدعقیدہ اور بدمذہب عناصر اپنی مساجدوں اور مدارس کو استعمال کرتے ہیں تاکہ مذہب اور مذہبی کاموں کی آڑ میں دہشت گردی کو فروغ دیا جاسکے۔ یہ میں نہیں کہتا بلکہ کراچی کا ایک مقامی روزنامہ اخبار بروز ہفتہ، 2 جمادی الاولیٰ 1432ھ بمطابق 30 اپریل 2011ء کی اشاعت میں لکھتا ہے۔

جمعرات کے روز ایک تفصیلی رپورٹ سندھ پولیس نے ہوم سیکریٹری سندھ اور وفاقی وزیر داخلہ کو ارسال کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کالعدم مذہبی تنظیموں سپاہ صحابہ، لشکر جھنگوی، جیش محمد، حرکت الانصار، جماعت الدعوہ، حزب التحریر، تحریک طالبان پاکستان، حرکت الجہاد، تحریک الجہاد، تحریک جعفریہ پاکستان اور لشکر اسلام نے سندھ بھر میں خفیہ یا سرعام اپنی سرگرمیاں شروع کی ہیں۔ اس مقصد کے لئے انہوں نے سندھ بھر کی 94 مساجد کو اپنی آماجگاہ بنالیا ہے جہاں سے وہ دہشت گردی، تخریب کاری اور خودکش حملوں کے لئے لوگوں کو بھیجتے ہیں۔ ان میں کراچی ریجن کی 45، حیدرآباد ریجن کی 19 اور سکھر ریجن کی 30 مساجد شامل ہیں۔

یہ کون لوگ ہیں؟ ان کالعدم دہشت گرد جماعتوں کا تعلق کس فرقے اور گروہ سے ہے؟ ان کے ناپاک عزائم کی تکمیل کے لئے کون سے فرقوں کی مساجد اور مدارس استعمال ہورہے ہیں؟ ان کی کون مالی امداد کرتا ہے؟ ان کے پیچھے کون سے ہاتھ کارفرما ہیں؟

کراچی کا مقامی روزنامہ اخبار بدھ 11 مئی 2011ء کی اشاعت میں یہ خبر شائع کرتا ہے کہ کراچی میں دہشت گردوں کی جانب سے ’’خروج‘‘ نامی نئی دہشت گرد تنظیم قائم کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔ انتہا پسندوں کی اس نئی تنظیم میں بین الاقوامی طور پر دہشت گردی کرنے والی تنظیموں کے اراکین بھی شامل ہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق تنظیم نے الگ الگ چھوٹے گروپ تشکیل دے دیئے ہیں جن میں گریجویٹ لڑکے بھی شامل ہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق خروج نامی دہشت گرد تنظیم میں القاعدہ، طالبان اور مقامی دہشت گرد عناصر شامل ہیں۔ ایک پولیس افسر کے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ حال ہی میں دو نوجوانوں کو حراست میں لے کر تفتیش کی تو انکشاف ہوا کہ نئی دہشت گرد تنظیم خروج انتہائی منصوبہ بندی کے ذریعے اپنے گروپ میں پڑھے لکھے نوجوانوں کو شامل کررہی ہے۔ انہیں باقاعدہ ٹریننگ دی جاتی ہے۔ دوران ٹریننگ انہیں موبائل فون پر کسی سے رابطہ کرنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ تنظیم میں شامل ہونے والوں کو اسلحہ، بم بنانے، اردگرد کے افراد پر نظر رکھنے کی تربیت دی جاتی ہے۔ پولیس افسر نے مزید بتایا کہ تاہم دہشت گردوں کی نئی حکمت عملی انتہائی خطرناک ہے۔ دہشت گرد پسماندہ علاقوں میں رہنے کی بجائے اب پوش علاقوں میں رہنے لگے ہیں۔ دہشت گردوں نے اپنے حلییبھی تبدیل کرلئے ہیں۔ دہشت گردوں کے گروپ میں گریجویٹ لڑکوں کی شمولیت تشویشناک ہے۔ ان دہشت گردوں کی شناخت دشوار ہے کیونکہ ان کی حرکات و سکنات اور لباس عام نوجوانوں جیسا ہے۔ یہ انتہا پسند اپنے گھروں سے نوکری پر جانے کا بہانہ کرکے اپنے گروپ سے ملاقاتیں کرتے ہیں، ہدایات لیتے ہیں اور سورج غروب ہونے سے پہلے گھر آجاتے ہیں جبکہ گھر والوں کو مہینے کی تنخواہ بھی دیتے ہیں۔ اس ضمن میں شہر بھر کی پولیس کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں گھومنے والے مشکوک افراد خاص طور پر پڑھے لکھے نظر آنے والے نوجوانوں کی نگرانی کریں اور ان کے کوائف جمع کریں۔

قارئین کرام! آپ نے دو نئے انکشافات ملاحظہ فرمائے جس کو سامنے رکھا جائے، تو یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ مذہبی انتہا پسند رہنما کس کس طریقے سے دہشت گردی کے منصوبے بنا رہے ہیں۔ وہ اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل کے لئے اپنے حربے کو استعمال کرتے ہوئے پڑھے لکھے نوجوانوں کا انتخاب کیا ہے تاکہ ان کے نوجوانوں کی آڑ میں دہشت گردی کو فروغ دیا جاسکے۔

یہ وہی خروج گروپ ہے جو ’’خارجیوں‘‘ کا گروہ ہے۔ آج یہ گروہ ’’خروج‘‘ کے نام سے اٹھا ہے۔ کل یہ گروہ ’’خارجی‘‘ گروہ کے نام سے ہر سمت نظر آئے گا، یہ وہی خوارج ہیں جو اپنے سوا سب کو کافر سمجھتے ہیں۔ اولیاء اور مزارات اولیاء کے خلاف ان کے دل و دماغ میں عداوت و نفرت کی آگ ہے۔ یہ وہی خارجی ہیں جو مزارات پر جانے والے مسلمانوں کو اپنے امریکی بھائیوں سے بڑے کافر سمجھتے ہیں۔ منبر پر بیٹھ کر مسلمانوں پر شرک و بدعت کے فتوے لگاتے ہیں۔

حکومت، اعلیٰ حکام، سیکورٹی ادارے، آئی ایس آئی اور چیف جسٹس آف پاکستان اگر پاکستان کا اچھا مستقبل دیکھنا چاہتے ہیں تو بلا تفریق پورے ملک میں آپریشن کریں، سارا اسلحہ ضبط کیا جائے، کالعدم جماعتوں کے سربراہان اور عہدیداروں کے اکائونٹس کی تحقیقات کرائی جائیں کہ ان کے پاس اربوں روپے کہاں سے آتے ہیں اور یہ کہاں خرچ کرتے ہیں۔ اگر یہ کام جلد از جلد ہوجائے تو انشاء اﷲ پاکستان حقیقی معنوں میں اسلامی جمہوریہ پاکستان بن جائے گا۔