شادی کی رسومات اور خرافات

in Tahaffuz, July 2014, مو لا نا شہز ا د قا د ری تر ا بی

بسم اﷲ الرحمن الرحیم
اسلام ایک آفاقی نظام حیات اور عالمی دستور زندگی ہے جس میں مہد (جھولے) سے لحد (قبر) تک تمام مسائل حیات کا کامل (مکمل) حل موجود ہے کیونکہ ہمارے آقا و مولیٰﷺ کو پوری دنیا کے لئے ہادی و رہبر بناکر مبعوث کیا گیا۔
انسانی زندگی کا کوئی ایسا گوشہ نہیں جسے اس دین نے بیان نہ کیا ہو۔ اس دین میں ہر شے کا واضح بیان موجود ہے۔ انسانی زندگی کی ضروریات میں سے ایک اہم ضرورت نکاح ہے۔ نکاح اور رشتہ ازدواج کی رسم بنی نوع انسان کی بنیادی اور فطری ضرورت ہے۔ اسی لئے ہر طبقہ انسانی میں یہ کسی نہ کسی شکل میں موجود ہے اور تقریبا دنیا کے تمام مذاہب نے اس کے لئے کچھ نہ کچھ دستور اور قوانین وضع کئے ہیں، لیکن تقریبا سبھی نے اسے صرف ایک رسمی ضرورت اور تفریح سے زیادہ نہ تو سمجھا،نہ سمجھنے کی کوشش کی اور نہ ہی اس کے دیرپا اور دور رس نظریہ کو پیش نظر رکھا۔ مگر اسلام دنیا کا وہ واحد مذہب ہے جس نے نکاح اور رشتہ ازدواج کے احکام کو نہ صرف بیان کیا بلکہ اسے ایک عبادت اور سبب قرب الٰہی کے درجہ سے بھی سرفراز کیا۔
صد افسوس! آج مسلمان اپنے دین سے دور ہوگئے۔ غیروں کی طرح ہم نے بھی شادی کو تفریح اور رسم و رواج کا ذریعہ سمجھ لیا۔ اگر کسی کے پاس رقم کم ہے تو وہ شادی میں صرف فلمی گانوں کی ریکارڈنگ پر گزارا کرتا ہے اور جس کے پاس رقم کچھ زیادہ ہے تو وہ شادی کی بے حیائی سے بھرپور تقاریب کی مووی بھی بنواتا ہے اور اس سے زیادہ رقم والا بہت بڑے فنکشن کا اہتمام کرتا ہے جس میں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں موسیقی کی دھنوں اور ڈھولک کے شور میں بے ڈھنکے پن سے ناچتے اور گاتے ہیں۔ تماشائی خوب اودھم مچاتے، بے ہودہ فقرے کستے، مزید اس پر ہنستے، قہقہے لگاتے اور زور زور سے تالیاں اور سیٹیاں بجاتے ہیں۔ اس قسم کی حرکتوں سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ گویا شرم و حیاء بالکل ختم ہوچکی ہے۔
اب آیئے موجودہ دور کی شادیوں میں ہونے والی غیر ضروری اور غیر اسلامی رسومات کا جائزہ لیتے ہیں۔
شادی کی رسومات
بعض لوگ ان رسومات کی اس قدر پابندی کرتے ہیں کہ ناجائز فعل بھی کرنا پڑے تو کریں گے مگر رسموں کا چھوڑنا گوارا نہیں مثلا لڑکی جوان ہے اور رسوم ادا کرنے کے لئے رقم نہیں تو یہ نہ ہوگا کہ رسومات چھوڑ دیں اور نکاح کروادیں، نہیں بلکہ ان رسومات کو پورا کرنے کے لئے والدین کو چاہے بھیک مانگی پڑے یا قرض لینا پڑے مگر رسومات ضرور انجام دیں گے اور مالداروں کی رسومات کے تو کیا کہنے! وہ تو پانی کی طرح لاکھوں روپے بہا دیتے ہیں۔ بیس بیس لاکھ کا ایک ایک فنکشن کرتے ہیں۔
رسمِ حنا
آج کل جس شایان شان طریقے سے یہ رسم ادا کی جارہی ہے، اس پر جتنا رویا جائے، وہ کم ہے اور یہ کھلم کھلا رب تعالیٰ کے غضب کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ اس رسم کو خاص الخاص نوجوان لڑکیوں سے مختص کردیا گیا ہے۔ وہ اس طرح کہ بارات سے ایک دن پہلے نوجوان لڑکیاں اور پھر ساتھ بینڈ باجے والا اور نوجوان وغیرہ دولہا کے گھر جاتے ہیں۔ تمام راستے میں نوجوان لڑکیاں جو اپنے والد کی غیرت کا خون سرخی کے طور پر اپنے ہونٹوں پر سجاکر اور بے پردہ ہوکر اور جذبات بھڑکانے والے لباس پہن کر ہاتھ میں پلیٹیں وغیرہ پکڑ کر تمام غیر محرموں کے سامنے سے گزرتی ہیں، دولہا کو مہندی لگائی جاتی ہے۔ دلہن کی بہن دولہا کا ہاتھ پکڑ لیتی ہے، جوتے چھپائے جاتے ہیں، بعض دفعہ ان بے ہودہ مناظر کو دیکھ کر سر شرم سے جھک جاتے ہیں۔ اس طریقے سے اس رسم کے ساتھ مسلمانوں کی غیرت کا جنازہ خود مسلمانوں کی اولاد اپنے ہاتھوں سے نکالتی ہے۔
مسلمانو! یہ ہندوانہ رسم ہے۔ اس سے ہمارا کوئی تعلق نہیں۔ مسلمانوں کو اس سے بچنا چاہئے۔
آتش بازی
آج کل شادی بیاہ کے موقع پر آتش بازی کی رسم بہت زور پکڑ رہی ہے بلکہ اب تو اندھا دھند فائرنگ کی جاتی ہے۔ اس وقت ہم اتنے جوش میں ہوتے ہیں کہ آنکھیں بند کرکے اپنے ہاتھوں کو ہوا میں لہرا کر خوب ہوائی فائرنگ کرتے ہیں۔ اس فضول اور گناہ کے کام کے تین نقصانات ہیں۔
پہلا نقصان یہ ہوتا ہے کہ آس پاس موجود بوڑھے اور بچے اس کی آواز سے لرز اٹھتے ہیں، ان کو سخت اذیت ہوتی ہے۔
دوسرا نقصان یہ ہوتا ہے کہ آتش بازی میں مال ضائع ہوتا ہے۔ اس کا کوئی حاصل حصول نہیں، فقط ایک تماشا بنانے کے سوا کچھ نہیں۔
تیسرا اور بڑا نقصان یہ ہوتا ہے اور اس کے گواہ اخبارات اور میڈیا ہیں کہ جب ہوائی فائرنگ کی جاتی ہے تو عمارتوں میں موجود رہائشی اپنی گیلریوں میں نکل آتے ہیں اور وہ اس ہوائی فائرنگ کی زد میں آکر بعض ہلاک اور بعض زخمی ہوجاتے ہیں۔
جب ہوائی فائرنگ ہوتی ہے تو بندوق سے نکلنے والی گولی اوپر سے نیچے کی طرف آتی ہے اور دیکھا گیا ہے کہ وہ دوبارہ لوٹنے والی گولی کسی اور کے سر یا کسی کے جسم کو شدید نقصان پہنچاتی ہے۔
میرے مسلمانو! شادی کا موقع شکر کا موقع ہے۔ یہی مال غریبوں میں خیرات کرکے ان کی دعائیں لینے کا موقع ہے۔
شادی کی تقریب
پہلے دور میں شادی کی تقریبات میں دو شامیانے لگائے جاتے تھے۔ ایک مردوں کے لئے دوسرا عورتوں کے لئے۔
دور ترقی کرتا گیا، یوں سمجھ لیجئے کہ بربادی کی طرف بڑھتے گئے۔ اس کے بعد ایک شامیانہ باندھا جانے لگا اور درمیان میں ایک قنات لگادی گئی، یہاں تک بھی خیر تھی۔
مگر دور مزید ترقی کرتا گیا۔ ہم تیزی سے تباہی کی طرف بڑھتے گئے۔ ایک شامیانہ لگایا جانے لگا، درمیان سے قنات ہٹا دی گئی۔ اب بڑے بڑے شادی لانز ہم بک کروانے لگے۔ اس میں بھی پہلے دو پورشن ہوتے تھے۔ اب یہ بھی ختم ہوگئے۔ اب تو شرم و حیاء کا جنازہ اس طرح نکل چکا ہے کہ اب کوئی رکاوٹ نہیں۔ مرد جہاں چاہے بیٹھے، عورت جہاں چاہے بیٹھے۔ آپ کھانا کھا رہے ہیں۔ آپ کے برابر میں آکر عورت بیٹھ جائے، کوئی کہنے والا نہیں۔ آپ شرماجائیں مگر عورت نہیں شرماتی، کیونکہ وہ اس کو عیب ہی نہیں سمجھتی۔
ایسی تقریب منعقد کرنے والوں کو سوچنا چاہئے اور اپنے رسولﷺ کے اس ارشاد پر غور کرنا چاہئے۔
حدیث شریف: نبی پاکﷺ نے فرمایا۔ تین شخص ہیں جن پر اﷲ تعالیٰ نے جنت حرام فرمادی ہے۔ ایک تو وہ شخص جو ہمیشہ شراب پئے، دوسرا وہ شخص جو اپنے ماں باپ کی نافرمانی کرے اور تیسرا وہ دَیُّوث (یعنی بے حیا) کہ جو اپنے گھر والوں میں بے غیرتی کے کاموں کو برقرار رکھے (مسند امام احمد بن حنبل، جلد 2، حدیث 5372، ص 351، مطبوعہ دارالفکر، بیروت)
دَیُّوث کسے کہتے ہیں؟
مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ جو اپنی بیوی بچوں کو زنا یا بے حیائی، بے پردگی، اجنبی مردوں سے اختلاط، بازاروں میں زینت سے پھرنا، بے حیائی کے گانے ناچ وغیرہ دیکھ کر باوجود قدرت کے نہ روکے، وہ بے حیاء دَیُّوث ہے (مراۃ جلد 5، ص 337)
پردے کے بارے میں خواتین کو جو حکم دیاگیا، وہ انہیں کے فائدے کے لئے ہے۔ اگر وہ سوچیں اور غوروفکر کریں۔ سورۂ نور اور سورۂ احزاب میں خواتین کے پردے سے متعلق جن احکام کا ذکر کیا گیا ہے، وہ ہماری توجہ کے مستحق ہیں۔
القرآن (ترجمہ): اپنے اپنے گھروں میں رہیں، دور جاہلیت کی طرح بے پردہ نہ پھریں (سورۂ احزاب آیت 33)
القرآن (ترجمہ): دوپٹے اپنے گریبانوں میں ڈالی رہیں اور غیر مردوں کو اپنا سنگھار نہ دکھائیں (سورٔ نور آیت 31)
القرآن (ترجمہ): مسلمان عورتوں کو بھی حکم دیا جائے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں (سورۂ نور آیت 31)
اے اجنبی مردوں سے بے تکلف ہونے والیو! اے اپنا بنائو سنگھار اجنبی مردوں کو دکھانے والیو! اے گلے میں دوپٹہ ڈال کر فخر کے ساتھ بازاروں میں گھومنے والیو! دیکھو اﷲ تعالیٰ کا کلام تم سے کس شرم و حیاء اور غیرت و حمیت کا تقاضا کرتا ہے۔
تمہارا خوب پرفیوم اور خوشبو لگا کر گھومنا پھرنا کہیں تمہیں تباہ نہ کردے۔
حدیث شریف: نبی پاکﷺ نے فرمایا جو عورت خوشبو لگا کر گھر سے نکلی پھر اس غرض سے لوگوں کے پاس سے گزری کہ وہ اس کی خوشبو سونگیں، وہ زانیہ ہے اور جنہوں نے اسے دیکھا، ان میں سے ایک ایک کی آنکھ زانیہ ہے
عورتیں وہ خوشبو لگائیں جس کی مہک صرف ان کو آئے دوسروں کو نہ آئے، ورنہ زانی یعنی بدکار عورت کہلائے گی۔ دور جدید میں عورت کی بے پردگی نے اس کو اس حد تک رسوا کیا ہے کہ وہ اخبارات و رسائل اور اشتہارات کی زینت بن کر نفع اندوزی کا ایک وسیلہ بن کر رہ گئی ہے۔
دعوتوں میں اسراف
شادی کی تقریبات کے اختتام پر مہمانوں کو کھانا کھلایا جاتا ہے، جہاں بٹھا کر آپ کی میز پر آپ کو کھانا پیش کیا جاتا ہے وہاں تو پھر بھی خیر ہے مگر جہاں بوفے سسٹم جو آج کل عام رواج ہے، وہاں بہت اسراف ہوتا ہے۔ دوبارہ نہ ملنے کی سوچ یا بار بار اٹھنا نہ پڑے کے خیال کی بناء پر پلیٹیں کھچا کھچ بھرلی جاتی ہیں۔ تقریبا مہمانوں کا یہی حال ہوتا ہے، بالاخر جب مہمان کھانا کھا کر جاتے ہیں تو آپ خود سروے کر لیجئے گا کہ آدھی آدھی پلیٹوں میں کھانا بچا ہوا رکھا ہوتا ہے۔
خدا بھلا کرے ہمارے مالداروں کا کہ وہ بیس اور پچیس ڈشوں کا اہتمام کرکے مہمانوں کو آزمائش میں ڈال دیتے ہیں۔ آدھے سے زیادہ کھانا ضائع ہوتا ہے، مہمان سب چیزیں نکال لیتا ہے مگر اسے نہیں کھا پاتا۔
اخباری سروے کے مطابق صرف کراچی میں شادی ہالز سے لاکھوں روپے کا کھانا پھینکا جاتا ہے۔ ہم نے رزق کی قدر کرنی چھوڑ دی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج کل ہر ایک بے برکتی اور تنگ دستی کا رونا رو رہا ہے۔
حدیث شریف: سیدہ عائشہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی پاکﷺ مکان میں تشریف لائے، روٹی کا ٹکڑا پڑا ہوا دیکھا تو اس کو لے کر پونچھا پھر کھالیا اور فرمایا عائشہ! اچھی چیز کا احترام کرو کہ یہ چیز (یعنی روٹی) جب کسی قوم سے بھاگی ہے تو لوٹ کر نہیں آئی (ابن ماجہ، حدیث 3353)
اے میرے بھائیو! اب تک جتنا بھی اسراف کیا ہے، برائے مہربانی اس سے توبہ کرلیجئے۔ آئندہ کھانے کے ایک بھی دانے اور شوربے کے ایک بھی قطرے کا اسراف نہ ہو، اس کا عہد کرلیجئے کیونکہ قیامت کے دن ذرہ ذرہ کا حساب ہونا ہے۔
اﷲ تعالیٰ ہم سب کو عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین