حضور تو آپ رحمت ہیں ہر بشر کے لئے

کشادہ آپ کا دامن ہے درگزر کے لئے

حضور آپ کی چشم کرم کی فیاضی

میری نجات کا ساماں ہے اس سفر کے لئے

انہیں کی ذات تو مشکل کشائے عالم ہے

انہیں کا نام بھی سپر ہے ہر خطر کے لئے

ہوا ہے مجھ کو یہ یستفتحون سے معلوم

وہی وسیلہ نصرت بھی ہے ظفر کے لئے

غمِ فراق نے بے حال کردیا مجھ کو

ہے بے قرار جبیں اب تو سنگ در کے لئے

ہوئے ہیں شمس و قمر ان کے نور سے روشن

وہی ہیں باعث تخلیق خشک و تر کے لئے

دل بلال میں بھڑکی ہے جو بھی چنگاری

ترس رہا ہے میرا دل اسی شرر کے لئے

تمہاری ذات کے جلوئوں میں کھو کے رہ جائے

یہ افتخار کوئی کم نہیں بشر کے لئے

جمال گنبد خضرا کبھی نہ ہو اوجھل

میرا نصیب زیارت ہو عمر بھر کے لئے

حضور مشہدی ہے نیم جاں سوالی ہے

تمہاری ایک محبت بھری نظر کے لئے