تبلیغی جماعت کا تعارف اور انکے مقاصد

in Tahaffuz, July 2014, محمد طفیل احمد رضوی

الحمدللہ !
اسلام و احد مذہب ہے جس نے تمام انسانوں کیلئے علم حاصل کر نے کو فرض قرار دیا اسی علم کا سرچشمہ ذات باری تعالیٰ ہے ۔اور کائنات کے مسائل، اشیاء پر عقلی اور ذہنی سطح پر غوروفکر کر نے کا جوانداز فلسفہ کہلا تے ہیں اسی انداز میں اس کی اہمیت اوس کی توجہہہ اور حقیقت کا اندازہ لگا نے کی کوشش کر تے ہیں۔تا کہ اس تصور کا مقصد ہم حاصل کر سکیں۔
اسلام فرمانبرداری اور اخلاق کے ایک ضابطے کا نام ہے یہ ایسا نظام ہے جو نہ صرف عملی پہلو ئوں بلکہ فکری تربیتی اور عملی سب پہلوئوں کا حامل ہے ۔جس کا نصب العین رضائے الہٰی کا حصول ہے ۔اللہ کے ایک ہو نے ،محمد ﷺ کے اللہ کے بندے اور رسول ہو نے کی گواہی دینا،نماز قائم کر نا، زکوٰۃ ادا کر نا، حج کر نا اور رمضان کے روزے کو اس کی بنیاد قرار دیا گیا ہے ۔چنانچہ :حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ سے روایت ہے :
قال رسول اللّٰہ ﷺ نبی اسلالسلام علی خمس شھادۃ ان لا الہ الا اللّٰہ وان محمد عبدالہ ورسول و اقامہ الصلوٰۃ و ابتاء الزکوٰۃ و حج البیت و صوم رمضان
ترجمہ: رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے اللہ تعالیٰ کے ایک ہو نے اور محمد (ﷺ)کے اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہو نے کی گواہی دینا،نماز قائم کر نا، زکوٰۃ دینا، بیت اللہ کا حج کر نا اور رمضان کے روزے رکھان۔
یعنی خود کو اللہ تعالیٰ کی مرضی اور مشیت کے حوالے کر دینے کا نام ہی اسلام ہے اسلام ایک مکمل الہامی دین ہے ۔جس کی تعلیمات ہمہ گیر اور جامع ہیں جو زندگی کے عقائد سے لے کر عمل تک انفرادی اور اجتماعی زندگی کے ہر طرح سے رہنمائی فرما تا ہے ۔دنیا میں اسلام کے علا وہ کوئی مذہب ایسا نہیں جو پوری انسانیت کے لیے ہو اور ہر نسل کے لوگوں کیلئے یکساں احکام لیے ہوئے ہو اسلام کے عالمگیر اور آفاقی ہو نے کے بارے میں قرآن مجید میں فرمایا گیا:
وما ارسلنک الاکافۃ للناس بشیر اونذیراً
اسلام جہاں زندگی کے ہر معاملے میں رہنمائی رکھتا ہے وہی افراد کی اصلاح اور نشو نما اور تعلیم جیسے امر کی بھی تلقین کر تا ہے جیسے اسلام کی بنیاد ہی لفظ ’’اقرا‘‘سے رکھی گئی ہو اس سے زیادہ کون سی دلیل اس کی اہمیت کیلئے اس سے زیادہ قوی ثابت ہو سکتی ہے ۔اس دین شریعت کی ابتداء ہی لفظ پڑھ سے رکھی گئی ہے جس کے حصول کو عبادت کہا گیا ہے کہیں اس کو حاصل کر نے والے (علمائ)کو انبیاء کا جانشین کہا گیا ہے کہیں اس علم کی روشائی کو شہید کے لہد سے مقدس ترین قرار دیا گیا۔اس کے حصول کو اللہ کی حمد قرار دیا گیا ہے۔غرض کہ مختلف مقامات پر مختلف فضائل ذکر کئے گئے ہیں اب ضرورت اس بات کبھی لیے کہ ہم اس کی حکمت کو سمجھنے کی کوشش کریں کہ آیا کیوں اس بات پر اسقدر زور دیا گیا ہے ۔اس بات کو سمجھنے کیلئے ہمیں سب سے پہلے اس لفظ تعلیم کو سمجھنا ہو گا’’تعلیم‘‘عربی زبان کا لفظ ہے اس کا مادہ ’’علم‘‘ہے اب علم کی تعریف مختلف انداز میں پیش کی گئی ہے ۔
۱۔ علماء کے نزدیک علم کی مشہور تعریف یہ ہے ۔
حصول صورۃ الشیی العقل
کسی شے کی صورت کا عقل میں حاصل ہو نا
۲۔ متکلمین کے نزدیک علم کی مشہور تعریف یہ ہے
ھو صفتۃ یتجلی بعا المذکور لمن قامت ھی بہ
عالم کے ذہن میں کسی چیز کا انکشاف ’’علم‘‘ہے۔
۳۔ محدثین کی اصطلاح میں علم کی تعریف
ملا علی قاری لکھتے ہیں:
’’علم مومن کے قلب میں ایک نور ہے جو فانوس نبوت کے چراغ سے مستفاد ہو تا ہے یہ علم نبی کریم ﷺ کے اقوال،افعال،احوال کے ادراک کا نام ہے جس سے اللہ تعالیٰ کی ذات،صفات،افعال اور اسکے احکام کی ہدایت حاصل ہو تی ہے ۔‘‘
بحوالہ شرح صحیح مسلم جلد۔۷۔صفحہ ۔۳۶۲)
مفکرین کے نزدیک انسانی ذہن ایک آئینے کی مانند ہے جس پر سامنے آنے والی ہر شے نقش ہو تی چلی جا تی ہے نقش و نگاری کے اس عمل کو تعلیم کا نام دیا جا تا ہے امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ علم کی کچھ اس طرح تعریف کر تے ہیں کہ:
نفس انسانی کو مہکے عادتوں اور بری خصلتوں سے بچانا اور شدہ اخلاق سے مزین کر کے سعادت کی راہ پر ڈال دنے کا نام تعلیم ہے ۔
لہٰذا ان تمام تعریفات کی رو سے یہ بات ثابت ہو جا تی ہے کہ انسان کی بہترین تربیت ،خیر کو حاصل کر نے والی قوتوں کو تقویت اور شتر کو ضعف کر نے کے عمل کو تعلیم کہتے ہیں۔گویا کہ یہ لفظ ہی اپنے اندر جامعیت کا عنصر لیے ہوئے ہے جس کے گرد انسان کی پوری زندگی گزر جا تی ہے کیونکہ یہ نام ہے آگہی کا یہ نام ہے شعور کا یہی وہ فعل ہے جو اسے تمام مخلوق سے ممتاز کر دیتی ہے ۔اس لیے جگہ جگہ قرآن مجید میں اس کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے اور س کی فضیلت بنائی گئی ہے چنانچہ قرآن میں رب تعالیٰ ارشادفرماتا ہے :
یہ فع اللّٰہ الذین امنو امنکم والذین واتو العلمہ درجات
ترجمہ: تم میں سے جو کامل ایمان والے اور علم والے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے گا (مجادلہ۔۱۱)
دوسری جگہ رب تعالیٰ ارشادفرما تاہے :
انما یخشی اللّٰہ من عبادۃ العموٰ
ترجمہ:اللہ کے بندوں میں صرف علماء اللہ سے ڈرتے ہیں۔
(فاطر۔۲۸)
ایک اور جگہ اہل علم کے متعلق فرمایا:
بل ھوایات بیانات فی صدرالدین اوتو العلمہ
ترجمہ: بلکہ یہ ان لوگوں کے سینہ میں روشن آیتیں ہیںجنہیں علم دیا گیا۔
(عنکبوت:۴۹)
اس کے علا وہ بھی متعدد مقامات پر علم کی فضیلت کے متعلق آات موجود ہیں جس سے اس کی اہمیت کا اندازہ بھی ہو تا ہے
رسول کریم ﷺ نے فرمایا:
انما بعثت معلماً:ترجمہ: بے شک مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے ۔
امام ترمذی روایت کر تے ہیں جامع ترمذی میں
عن انس بن مالک قال قال رسول اللہ ﷺ من خرج فی طلب العلمہ فھو فی سبیل اللہ حتی یرجع ھٰذا
ترجمہ: حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کر تے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’جو شخص علم کی طلب میں نکلے وہ لوٹ کر آئے مگر اللہ کے رستے میں ہے۔‘‘
ایک اور جگہ امام ترمذی روایت کر تے ہیں:
عن شجرہ عن النبی ﷺ قال من طلب العلمہ کان کفارہ لما مضی
حضرت سنجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی کریم ﷺ سے روایت کر تے ہیں۔
’’جو شخص علم کو طلب کر ے وہ اس کے پچھلے گناہوں کا کفارہ ہو جا تا ہے ‘‘
مسلم شریف میں ابو ہریرہ سے روایت ہے :
کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’جو آدمی علم کی تلاش کر نے کیلئے کسی راستے پر چلے اللہ تعالیٰ اس کیلئے جنت کا راستہ آسان کر دیتا ہے ۔‘‘
یہ وہ دلائل ہیں جس سے باخوبی اس کی اہمیت اور فضیلت واضح ہو جا تی ہے اس کے علا وہ بھی لاتعداد مکانات پر قرآن میں اور احادیث میں فضائل بیان کیے گئے اور اس کو حاصل کر نے کو خوشنودی کا ذریعہ کہا گیا ہے علم ہی وہ واسطہ ہے جس کے ذریعے بندہ اپنے رب کی صفات اور اس کائنات کا مقصد اور اصل زندگی کا تعین کر تا ہے ۔
مگر یہ افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑرہا ہے کہ آج ہم نے اس کو صرف اور صرف دنیا کمانے اور عصری علوم کی حد تک مخصوص کر لیا ہے بدا ہی حرکی ہو تا ہے جب ایک مقرر بڑے پرزور انداز میں ۔۔۔۔
رسول اللہ ﷺ کی حدیث:
’’علم حاصل کرو اگر چہ تمہیں اس کے لئے چین ہی کیوں نہ جا نا پڑے‘‘۔
علم کو صرف عصری علام کے حصول کی دلیل کے طور پر پیش کر تا ہے حالانہ اس حدیث سے مراد وہ علم ہے جو فرض قرار دیا گیا ہے ان مقررین کو تویہ بھی معلوم نہیں ہو تا کہ فرض علم کو ن کون سے ہیں مغربی افکار کے کے تصور علم جو کہ صرف اور ددنیا وی حصول کی سیا؟؟؟رضا گیا ہے کہ قائل نظر آنے ہیں اور بھول جا تے ہیں کہ وہ امتیاز جو انہیں دوسری اقوام سے منفرد کردیتا ہے وہ اسلامی تصورات تعلیم ہی ہے جس کے اندر زندگی کے ہر ہر شعبے کی اہمیت اُجاگر کی گئی اور ساتھ تعلیم بھی دی گئی یہ تصور تعلیم صرف دنیا وی فوائد کا حامل نہیں بلکہ بیک وقت دنیاوی اور اخروی فوائد کا سبب بنتا ہے اس علم کی ہزاروں شاخیں ہیں اور ان میں سے بعض کی فرضت و عدم فرضت بہ اختلاف حالات ہر شخص پر عائد ہو تی مثلا ارکان اسلام کا علم،فرائض کا جاننا ،عاقل بالغ مدرد عورت،آزاد غلام پر فرض ہے کسی حال میں بھی انہیں اس فرضیت سے چھٹکارا نہیں مل سکتا۔
امام شادفعی رحمۃ اللہ علیہ نے علم کی تقسیم 2طرح سے کی ہے
1…عوام کا علم
2… خواص کا علم
عوام کا علم:ـ
عوام کیلئے یہ جاننا ضروری ہے کہ پانچ نمازیں فرض ہیں رمضان کے روزے کے متعلق ،حج بیت اللہ کی زیارت اگر ستطاعت رکھتا ہو تو یہ فرض ہے اس کا علم ساتھ ہی زکوٰۃ کے متعلق علم ،زنا،قتل،چوری،شراب نوشی کے حرام ہو نے کے متعلق علم اور اس طرح کے احکامات جن کا وہ معکف ہے اس کا جاننا نہایت ضروری ہے ۔
خواص کا علم:
سے مراد احکام شرعیہ کی تمام فروعات کا علم حاصل کر نا ،قرآن مجید کی صریح عبادات دلالت،استارت،اقتصاء تصوص کو جاننا اسی طرح احادیث اور آثار کا علم حاصل کر نا قیاس کی شرائط کو جاننا اور ایسی صلاحیت حاصل کر نا کہ ہر پیش آمدہ مسئلہ کا حل کتاب و سنت سے اخذ کیا جا سکے۔
(شرح صحیح مسلم۔جلد۔۷،صفہ۳۶۴)
ان تمام باتوں کا علم ہر ایک کیلئے ضروری نہیں بلکہ اس کے متعلق بھی احکام قرآن مجید میں واضح انداز میں موجود ہے قرآن مجید میں ہے:
وما کان المومنون لینقرو کا فۃ فلو لا نفرمن کل فرخۃ منھم طائفۃ لیقفقو ھوا فی الدین ولنذررو قومھم اذا رجعو الیم لعلھم یحذرون (توبہ: ۱۲۲)
ترجمہ:

مذکورہ آیت میں نہایت ہی صاف انداز میں اس بات کو واضح کر دیا گیا کہ ہر گروہ اور ہر قوم میں سے ایک کیلئے یہ علم حاصل کر نا واج ہے ۔
یہاں بہت سی آیات اور احادیث سے ہمیں علم کی فضیلت کا اندازہ ؟؟؟؟؟

عباسی خلفاء نے دنیا کے ہر حصے میں آدمی بھیجے جو کتابوں کے انبار لے کر واپس آئے تھے علماء اور حکماء دربار خلافت میں طلب ہوئے اور تصنیف و ترجمہ پر مامور ہوئے۔علماء کے ساتھ یعض امرا،وزراء سلاطین بھی کتب خانوں اور رصدگاہوں میں جا بیٹھے ۔حکمت یونان کو جسے دنیا بھول چکی تھی پھر زندہ کیا قرطبہ سے سمر قند تک ہزاروں درس گاہیں قائم کیں ان میں طلبہ کی کثرت کا یہ عالم تھا کہ بقول ایک مغربی دل ڈیوران جو کہ اپنی کتاب ’’دی ایچ آف فیتھ‘‘میں اس بات کا اظہار کیا ہے ’’جغرافیہ دانوں،مورخوں،منجموں فقہوں ،محدثوں،طبیبوں اور حکیموں کے ہجوم سے سڑکوں پر چلنا مشکل تھا‘‘یہ اسلام عالم کا اسلامی تعلیمات سے دوستی کا منہ بولتا ثبوت تھا جامعہ قرطبہ عربوں کی قدیم ترین یونیورسٹیز تھی جس کی بنیاد عبدالرحمن سوم نے (96/-912)نے ڈالی تھی اس میں یورپ،افریقہ،ایشیاء سے طلبہ آتے تھے اس کی لائبریری میں چھ لاکھ کتابیں تھیں۔اس کی فہرست چوالیس جلدوں میں تیار ہوئی تھی(بحوالہ ضیاء النبی جلد ششم)
اس کے علا وہ اسلامی یونیورسٹی انتظامیہ کے نام سے 1066ء میں نیشا پور میں قائم ہوئی۔جس کے وائس چانسلر امام الحرمین اور پہل اعظیم طالب علم امام غزالی (رحمۃ اللہ علیہ )تھے جہاں فلسفہ،ادب،شاعری،فنون،سائنس کی تعلیم دی جا تی تھی جہاں سے کوہ عظیم مفکر تیار ہوئے جو دینی علو م میں امام کا درجہ رکھتے ہیں فلسفیانہ علوم میں ماہر کا مل تھے انہوں نے بعض فلسفیانہ مخالطوں کا رد کیا اور فلسفے کے مثبت پہلوئوں کو اُجاگر بھی کیا علم وحی کے مقابلے میں علم فلسفہ کی تنگ دامانی کی وضاحت ان کا ممتاز کار نا مہ ہے آپ ایک عملی مدرس ثابت ہوئی ایک ماہر تعلیم اور مفکر کی حیثیت سے اہل مغرب بھی ان کو لوہا مانتے ہیں گیارہویں صدی کا نصف آخر اور بارہویں صدی کا پہلی دہائی غزالی کی مرہون منت ہے انہوں نے اصولی تصورات سے تعلیم کے مقاصد واضح کیے ان کے نزدیک تعلیم کا مقصد آخرت کی معرفت کا حصول،معرفت الہٰی، رضائے الہٰی،فکر آخرت کی نشو و نما اور اعلیٰ کردار کی تعمیر جیسے اصول تھے ۔ان کے نزدیک استاد دنیا وی ،معاشی اغراض کی بجائے آخر کے اجر یہ منظر رکھتے ہوئے تعلیم کا فریضہ انجام دیں۔
جب سائنس کی بات کر تے ہیں تو اس میں سرفہرست مسلمان میں جب علم ریاضی کی بات کر تے ہیں تو اس میں بھی مسلمانوں کا نام نمایا نظر آتا ہے اور جب علم کیمیا کا ذکر آتا ہے تو وہاں بھی مسلمان سرفہرست ہے۔غرض کہ ماضی پر جب نظر کر تے ہیں تو تعلیم دو مختلف حصوں میں نظر نہیں آتی جیسا کہ موجودہ دور میں نظر آتی ہے۔جہاں دینی علوم اور عصری علوم کو الگ الگ تقسیم کر دیا گیا ہے اور جہاں بیک وقت یہ دونوں تعلیمات میسر ہیں بھی تو وہاں معیار کی بہت زیادہ کمی ہے مثلا اگر کالج کے اندر اور یونیورسٹی کے اندر اگر اسلامک تعلیم دی بھی جا تی ہے تو وہاں کے شاگردوں کا موازنہ جب مدارس کے طلباء سے کر ا یا جائے تو بہت بڑا تعلیمی فرق نظر آتا ہے اسی طرح جن مدارس میں عصری تعلیم دی جا رہی ہے وہاں کے طلباء کا اگر کام دنیاوی تعلیم کے مراکز کے طلباء سے موازنہ کیا جائے تو وہاں مدارس کے بچے قدر پیچھے نظر آتے ہیں۔حالانکہ ماضی میں ایسا بالکل نظر نہیں آتا ۔سائنس قرآن سے ہی وجود میں آئی تمام علوم قرآن ہی کے ذریعے وجود میں آئے مگر افسوس کہ ہم اصل ماخذ یعنی قرآن مجید کو چھوڑ کر اس سے نکلنے والے جذبات کے حصول میں مصروف عمل نظر آتے ہیں اور یہی سے ناکامی کا دور شروع ہو تا ہے ۔
جب ہم اصل سے منہ موڑ لینگے تو فلاح کیسے حاصل ہو گی ہمارا مقصد بناء حقیقت کا علم حاصل کیے کیسے پورا ہو سکتا ہے آج ہم مغربی اقدام کی صرف پیروی ہی کر نے کو کامیابی کی ضمانت قرار دیتے ہیں اور وہ مغربی اقدام جن کے مفکرین،ماہرین،مورخ خود مسلمانوں کی تعلیمات سے استفادہ حاصل کر نے چلے آئے ہیں اور تعلیم میں مسلمان مفکر بن ،ماہر ین کو استاد تسلیم کر تے میں جن کا ذکر بار ہا اپنی مختلف کتابوں میں وہ آتے چلے آئے ہیں مگر آج ہم صرف دنیا وی حصول اور کامیابی کے حصول میں مصروف عمل نظر آتے ہیں ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اسلامی فلسفہ تعلیم کو صحیح معنوں میں پہنانے اور ان پر اپنی فرضیت کا تعین کر کے اس کے حصول کے لیے کوشش کریں اسی میں دنیا اور آخرت کی بھلائی ہے اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں اسلامی تعلیمات کو حاصل کر نے اور پھر ان کے ذریعے اس دین کے فروغ کے لیے کوشش کر نے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین) ام علقمہ