جبکہ اس کے مقابل انسان کو دیکھئے کہ جس کا خالق و مالک اﷲ تعالیٰ ہے جس نے اسے ماں کے پیٹ میں غذا دی، پھر اس کی پیدائش سے لے کر ساری عمر اسے رزق دیا، اسے کثیر نعمتیں عطا کیں اور اس پر بے شماراحسانات فرمائے۔

ارشاد ہوا۔

وان تعدو نعمۃ اﷲ لا تحصوہا

(النحل: 18)

’’اور اگر اﷲ کی نعمتیں گنو تو انہیں شمار نہ کرسکو گے‘

‘ (کنزالایمان)

اس قدر کثیر نعتمیں پانے کے باوجود انسان اپنے رب کا نافرمان اور ناشکرا رہتا ہے۔ وہ مصائب و مشکلات کا شکوہ تو کرتا رہتا ہے مگر اس کی نعمتوں کا شکر گزار نہیں ہوتا۔ ایسے شخص کو ’’کنود‘‘ کہتے ہیں۔ وہ نہ صرف اپنے رب کا احسان فراموش اور ناشکرا رہتا ہے بلکہ اپنے رب کے احکامات اور اس کے رسولﷺ کی تعلیمات سے منہ موڑ کر شیطان اور نفس کی غلامی وبندگی کاشکار ہوجاتاہے۔

ایک قول یہ ہیکہ ’’کنود‘‘ کے معنی ہیں ’’بہت ناشکرا‘‘ اس کے ایک معنی نافرمان کے ہیں اور ایک معنی کنجوس کے بھی ہیں۔ ایک اور قول یہ ہے کہ ’’کنود‘‘ وہ شخصےجو خدا کی نعمتوں کو اس کی نافرمانی میں استعمال کرے۔ ایک قول یہ ہے کہ وہ کینہ پرور اور حسد کرنے والا ہے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ وہ خود غرض اور کمینہ ہے۔

اگر غور کیا جائے تو یہ تمام معانی و مفاہیم ایک دوسرے کے خلاف نہیں کیونکہ ناشکری مختلف طریقوں سے ہوتی ہے۔ رب تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ انسان کو اﷲ تعالیٰ نے جو نعمتیں اور صلاحیتیں عطا فرمائی ہیں، ان کا حق ادا کیا جائے، ان نعمتوں اور صلاحیتوں کو رب کریم کی رضا کے لئے استعمال کیا جائے اور اس کے بندوں کو ان صلاحیتوں سے نفع پہنچایا جائے۔

وانہ علی ذلک لشہید

رب تعالیٰ نے جن تین باتوں پر قسم ارشاد فرمائی۔ ان میں شے ایک یہ بیان ہوئی کہ بے شک آدمی اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے۔ اور دوسری بات یہ فرمائی گئی ہے کہ

’’بے شک وہ اس پر خود گواہ ہے‘‘

ایک قول یہ ہے کہ ’’انہ‘‘ کی ضمیر رب تعالیٰ کی طرف لوٹتی ہے۔ اس لئے مفہوم یہ ہوگا کہ رب تعالیٰ بندوں کے ناشکرے ہونے پر گواہ ہے۔ اور دوسرا قول یہ ہے کہ انسان اپنے ناشکرے ہونے پر خود گواہ ہے۔ اگر اس سورت کی ابتدائی آیات کے ساتھ ربط دیکھا جائے تو مفہوم یہ ہوگا:

گھوڑے اپنے مالک کی اطاعت میں اس قدر مشقت اٹھائیں اور انسان اپنے خالق و مالک اک نافرمان رہے؟ ایسے نافرمان انسان کا پورا وجود اس بات کا گواہ ہے کہ وہ اپنے رب کا بڑا ناشکراہے۔

انسان اس بے زبان جانور کی جاں نثاریاں دیکھتا ہے۔ اس کی قربانیوں سے فائدہ اٹھاتا ہے، لیکن اسے یہ سوچنے کی توفیق نہیں ہوتی کہ وہ عقل و شعور کا پیکر، اپنے رب کا بندہ اور رسول کریمﷺ کا غلام و امتی ہے۔ اس پر بھی یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ اپنے رب کی اطاعت اور آقا و مولیٰﷺ کی فرمانبرداری میں مستعد اور سرگرم عمل رہے۔
مقام غور ہے کہ گھوڑا جانور ہوکر اپنے مجازی مالک کا حق سمجھے اور اس کی اطاعت کرے اور انسان اشرف المخلوقات ہوکر بھی اپنے حقیقی مالک کا حق نہ سمجھے اور اس کی اطاعت نہ کرے تو یہ جانور سے بھی نچلے درجے میں چلا گیا۔ ایسا انسان اپنے عمل سے گواہی دیتا ہے کہ وہ اپنے رب کا ناشکرا اور احسان فراموش ہے۔

اپنے مالک حقیقی کے حق بندگی سے غافل انسانوں کے متعلق ارشاد باری ہے۔

لہم قلوب لایفقہون بہا ولہم اعین لایبصرون بہا ولہم اذان لا یسمعون بہا اولٰئک کالانعام بل ہم اضل اولٰئک ہم الغٰفلون

’’وہ دل رکھتے ہیں جن میں سمجھ نہیں اور وہ آنکھیں جن سے دیکھتے نہیں، اور وہ کان جن سی سنتے نہیں۔ وہ چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بڑھ کر گمراہ، وہی غفلت میں پڑے ہیں‘

‘ (الاعراف: 179، کنزالایمان)

کیونکہ چوپایہ بھی اپنے نفع کی طرف بڑھتا ہے اور ضرر سے بچتا اور اس سے پیچھے ہٹتا ہے جبکہ کافر جہنم کی راہ چل کر اپنا ضرر اختیار کرتا ہے تو اس سے بدتر ہوا۔
صدر الافاضل مولانا سید نعیم الدین مراد آبادی رحمتہ اﷲ رقم طرازہیں۔ چوپائے بھی اپنے رب کی تسبیح کرتے ہیں اور جو انہیں کھانے کو دے، اس کے مطیع رہتے ہیں اور احسان کرنے والے کو پہچانتے ہیں اور تکلیف دینے والے سے گھبراتے ہیں۔ یہ کفار ان سے بھی بدتر ہیں کیونکہ نہ رب کی اطاعت کرتے ہیں، نہ اس کے احسان کو پہچانتے ہیں۔ نہ شیطان جیسے دشمن کی ضرر رسانی کو سمجھتے ہیں، نہ ثواب جیسی عظیم نفع والی چیز کے طالب ہیں اور نہ عذاب جیسی سخت مضر مہلک چیز سے بچتے ہیں

‘‘ (خزائن العرفان)

اگر کلمہ پڑھنے کے باوجود مسلمان بھی کافروں جیسی غفلت والی زندگی گزارے اور ان کے طور طریقے اپناکر اﷲ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کے احکامات کو فراموش کردے تو یہ کس قدر احسان فراموشی ہے۔ گویا انسان اپنے اعمال کی بناء پر اس زندگی میں خود اپنے خلاف ناشکرا ہونے کی گواہی دے رہا ہے اور قیامت میں بھییہ اپنے خلاف گواہی دے گا۔

قرآن مجید میں ہے کہ اس دن مجرم اپنے ناشکرے پن کا یوں اقرار کریں گے:

لم نک من المصلین O ولم نک نطعم المسکین O وکنا نخوض مع الخآئضین O وکنا نکذب بیوم الدین O حتی اتنا الیقین

’’ہم نماز نہ پڑھتے تھے، اور مسکین کو کھانا نہ دیتے تھے اور بے ہودہ فکر والوں کے ساتھ بے ہودہ فکریں کرتے تھے اور ہم انصاف کے دن کو جھٹلاتے رہے

یہاں تک کہ ہمیں موتی آئی‘‘ (المدثر: 43 تا 47، کنزالایمان)

قرآن عظیم میں ایک اور مقام پر فرمایاگیا۔

ینبؤا الانسان یومئذ بما قدم واخر O بل الانسان علیٰ نفسہ بصیرۃ O ولو القیٰ معاذیرہ (القیامۃ 15-13)

’’اس دن آدمی کو اس کا سب اگلا پچھلا جتا دیا جائے گا بلکہ آدمی خود ہی اپنے حال پر پوری نگاہ رکھتا ہے اور اگرچہ اس کے پاس جتنے بہانے ہوں، سب لا ڈالے‘‘

یعنی قیامت کے دن بھی اگر انسان اپنی عادت و طبیعت کی وجہ سے گناہوں پر حیلے بہانے تراشے مگر وہ اپنے دل میں خوب جانتا ہوگا کہ وہ جھوٹا ہے کیونکہ وہ خود

اپنے احوال پر گواہ ہوگا۔

وانہ لحب الخیر لشدید

تیسری بات جس پر قسم ارشاد فرمائی گئی وہ یہ ہے کہ ’’بے شک وہ مال کی محبت میں شدید ہے‘‘ یہاں مال کے لئے ’’خیر‘‘ کا لفظ آیاہے۔ قرآن کریم میں بعض اور

مقامات پر بھی ’’خیر‘‘ کے لفظ سے مال مراد لیا گیاہے۔ مثلا ارشاد ہوا۔

واذ مسہ الخیر منوعاً

’’اور جب اس کو مال ملے تو روک رکھنے والے ہے‘‘ (المعارج: 21)

قرآن عظیم میں دوسری جگہ فرمایاگیا:

کتب علیکم اذا حضر احدکم الموت ان ترک خیرا الوصیۃ

’تم پر فرض ہوا کہ جب تم میں کسی کو موت آئے، اگر کچھ مال چھوڑے تو وصیت کرجائے

‘‘ (البقرۃ 180، کنزالایمان)

مال کے لئے خیر کا لفظ استعمال ہونے میں ایک حکمت یہ سمجھ میں آتی ہے کہ انسان سب سے زیادہ اپنی ذات سے محبت کرتا ہے اور اپنی ذات کی بھلائی کو ہر چیز

پر فوقیت دیتا ہے۔ وہ یہ سمجھتا ہے کہ اس کی ساری خیر یعنی بھلائی مال و متاع میں ہے اس لئے مال کو خیر سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے۔

باقی آئندہ شمارے میں ملاحظہ فرمائیں