حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ

in Tahaffuz, July 2014, خان آصف

جلال الدین خلجی سلاطین ہند میں پہلا حکمران تھا جس نے حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کے نیاز حاصل کرنے کی کوشش کی تھی۔ اس واقعہ کی تفصیل یہ ہے کہ ایک دن سلطان جلال الدین خلجی کے چند باہوش مصاحبوں نے اپنے فرمانروا سے کہا۔
’’آپ دیگر اہل فن اور علماء پر اپنے الطاف و کرم کی بارش کرتے رہتے ہیں مگر پھر بھی کچھ مستحق لوگ آپ کی نظر التفات سے محروم ہیں‘‘
’’آخر وہ کون لوگ ہیں؟‘‘ سلطان جلال الدین خلجی نے تعجب سے پوچھا۔
’’شیخ نظام الدین اور ان کے کچھ ساتھی غیاث پور میں نہایت غربت و افلاس کی زندگی بسر کررہے ہیں‘‘
مصاحبین نے عرض کیا ’’اگر آپ ان درویشوں کی کفالت کریںتو یہ بات حکومت ہند کے لئے انتہائی سعادت کا باعث ہوگی۔ شیخ نظام الدین ایک باکمال بزرگ ہیں‘‘
سلطان جلال الدین خلجی خود بھی علم دوست حکمران تھا۔ اس لئے وہ اپنے مصاحبین خاص کے مشورے پر فورا عمل پیرا ہوا۔ کاتب سلطانی نے فرمانروائے ہند کے حکم کے مطابق مندرجہ ذیل عبارت تحریر کی۔
’’اگر آپ پسند کریں تو میں آپ کے لئے اور آپ کے ساتھی درویشوں کے لئے کچھ گائوں (جاگیر) وقف کردوں‘‘
سلطان جلال الدین کے مکتوب کو حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ نے بغور پڑھا۔ شاہی قاصد کا خیال تھا کہ غیاث پورکے ایک گوشے میں فاقہ کشی کی زندگی گزارنے والا یہ درویش عطیہ سلطانی کو فورا قبول کرلے گا۔ مگر شاہی قاصد اس وقت حیران رہ گیا جب حضرت محبوب الٰہی علیہ الرحمہ نے مکتوب سلطانی واپس کرتے ہوئے فرمایا۔
’’سلطان کو اس فقیر کی جانب سے سلام پیش کرنا اور کہہ دینا کہ اﷲ انہیں جزائے خیر دے۔ میرے لئے یہی پرسش کافی ہے کہ ایک حکمراں کو ان لوگوں کاخیال تو آیا جو دربار سلطانی سے بہت دور، ایک گوشے میں اپنی زیست بسر کررہے ہیں‘‘
شاہی قاصد کچھ دیر تک حیرت و سکوت کے عالم میں حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کے چہرۂ مبارک کی طرف دیکھتا رہا۔ اس نے اپنی پوری زندگی میں پہلی بار کسی ضرورت مند شخص کی بے نیازی کا یہ انداز دیکھا تھا۔
یہ حضرت محبوب الٰہی علیہ الرحمہ کی تواضع تھی کہ آپ نے سلطان جلال الدین خلجی کے محبت نامے کا جواب دعائوں سے دیا… اور یہ آپ کی غیرت تھی کہ ایسی بڑی جاگیر کو ادائے بے نیازی کے ساتھ ٹھکرا دیا۔
پھر جب سلطان کا قاصد واپس جانے لگا تو حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ نے اسے مخاطب کرتے ہوئے فرمایا ’’یہ تو میرا فیصلہ تھا کہ میں شاہی عطیات کو پسند نہیں کرتا مگر ممکن ہے کہ میرے دیگر ساتھی ضرورت مند ہوں۔ تمہارے سلطان نے اپنے مکتوب میں ایک میرا ہی نہیں، دوسرے درویشوں کا بھی ذکر کیاہے۔ اس لئے مجھے لازم ہے کہ میں ان کی رائے بھی معلوم کرلوں‘‘
اس کے بعد حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ نے سلطان جلال الدین خلجی کا وہ خط اپنے مریدوں اور دوسرے خدمت گاروں کے پاس بھیج دیا۔
سیرالاولیاء میں سید امیر خورد علیہ الرحمہ کی روایت ہے کہ جب دوسرے مریدوں اور خدمت گاروں نے سلطان جلال الدین خلجی کا خط دیکھا تو وہ لوگ جو بھوک کے عذاب سے گزر رہے تھے، حضرت محبوب الٰہی علیہ الرحمہ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کرنے لگے۔
’’شیخ! اگر یہ جاگیر مل جائے تو ہمارے دن پھر جائیں۔ آپ کے صبر و استقامت کا یہ عالم ہے کہ پانی تک نہیں پیتے مگر ہم لوگ اتنی قوت برداشت کہاں سے لائیں؟ ہماری حالت بہت شکستہ ہے۔ فاقے کرتے کرتے تھک چکے ہیں۔ خدا کے لئے اس عطیہ سلطانی کو قبول فرمالیجئے‘‘
حضرت محبوب الٰہی نے اپنے خدمت گاروں کی درخواست کو سنا جو بہت عاجزانہ تھی۔ آپ کہہ سکتے تھے کہ جو لوگ سلوک کے راستے میں سختیاں برداشت نہیں کرسکتے۔ وہ خانقاہ سے چلے جائیں… مگر آپ نے رسم دلداری ادا فرمائی اور ان لوگوں کے جواب سے خفا نہیں ہوئے جو کم ہمتی کا مظاہرہ کررہے تھے
پھر آپ نے اپنے پیر بھائی سید محمد کرمانی علیہ الرحمہ اور چند دوسرے لوگوں کو طلب کرکے فرمایا ’’اس ملک کا حکمراں درویشوں کے لئے ایک جاگیر وقف کرناچاہتا ہے۔ اس سلسلے میں تمہاری کیا رائے ہے؟‘‘
سید محمد کرمانی اور دوسرے دوستوں نے عرض کیا ’’مولانا نظام الدین! ہم تمہارے یہاں وقتاً فوقتاً کھانا کھا لیتے ہیں۔ اگر یہ جاگیر مقرر ہوگئی تو پھر ہم تمہارے گھر کا پانی بھی نہیں پئیں گے‘‘
حضرت نظام الدین اولیاء دوستوں کے جواب سے بہت خوش ہوئے اور فرمایا ’’میں دوسروں کی پرواہ نہیں کرتا۔ میرا مقصود صرف تمہاری صحبت ہے۔ میں تمہارے جواب سے مطمئن ہوں۔ الحمدﷲ! تم دین کے کاموں میں میری مدد کرتے رہو۔ دوستوں کو ایسا ہی کرنا چاہئے‘‘
اس کے بعد حضرت محبوب الٰہی علیہ الرحمہ نے اپنے مریدان خاص حضرت برہان الدین غریب علیہ الرحمہ اور حضرت شیخ کمال الدین یعقوب علیہ الرحمہ کو طلب کرکے سلطان جلال الدین خلجی کا خط ان کے سامنے رکھدیا۔
دونوں مریدوں نے مکتوب سلطانی پڑھا اور بصد احترام عرض کیا۔ ’’شیخ عالی مقام نے کیا پسند کیا؟‘‘
’’کوئی جواب نہیں!‘‘ حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ نے فرمایا۔
’’تو پھر یہ خادم بھی اپنے سینے میں کسی جاگیر کی طلب نہیں رکھتے‘‘ حضرت برہان الدین غریب علیہ الرحمہ اور حضرت شیخ کمال الدین یعقوب علیہ الرحمہ نے بیک زبان عرض کیا ’’ہمیں تو صرف اپنے شاہ کی غلامی منظور ہے‘‘
حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ نے اپنے مریدان خاص کا جواب سن کر نہایت پرسوز لہجے میں فرمایا ’’اﷲ تمہیں اس حسن نیت کا صلہ دے اور خارزار حیات میں مزید استقامت بخشے‘‘
اس کے بعد حضرت محبوب الٰہی علیہ الرحمہ نے شاہی قاصد کو طلب کیا اور خط واپس کرتے ہوئے فرمایا ’’میں نے اپنے ایک ایک ساتھی سے پوچھا مگر کسی کو بھی اس جاگیر کی حاجت نہیں۔ مجھے اپنے غمگساروں سے یہی امیدتھی۔ اب تم سلطان سے یہ کہہ دینا کہ غیاث پور میں رہنے والوں کو ان کا اﷲ کافی ہے‘‘
شاہی قاصد ناکام و نامراد واپس چلا گیا۔ پھر حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ نے ان خدمت گاروں کو جو فاقہ کشی سے تنگ آکر جاگیر سلطانی قبول کرنے کے خواہاں تھے طلب کرکے فرمایا ’’تم لوگ صبر کرو۔ عنقریب تمہارے لئے رزق کثیر کے دروازے کھلنے والے ہیں‘‘
سلطان جلال الدین خلجی نے حضرت محبوب لٰہی علیہ الرحمہ کا حرف انکار سنا اور حکومت کے ہنگاموں میں گم ہوگیا۔ دراصل سلطان کی پیشکش میں خلوص نہیں تھا۔ اگر اس کے دل میں درویشوں کے لئے تڑپ ہوتی تو وہ بار بار درخواست کرتا… بلکہ جاگیر کے کاغذات لے کر خود حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کی خدمت میں حاضر ہوتا۔ وہ تو عنایت شاہی کا ایک انداز تھا، ایک رسمی کارروائی تھی پھر حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ جیسا مرد قلندر اسے کیسے قبول کرتا؟ آپ تو خود رسم شکن تھے۔ پھر زمانے کی یہ حقیر رسمیں آپ کی بارگاہ جلال میں کیسے داخل ہوسکتی تھیں؟
جب بھی کوئی امیرشرف بازیابی چاہتا تو حضرت محبوب الٰہی علیہ الرحمہ ناگوار لہجے میں فرماتے ’’ان امراء کو کیا ہوگیا ہے؟ درویش کا وقت برباد کرنے کے لئے یہاں کیوں آنا چاہتے ہیں؟‘‘
سلطان جلال الدین خلجی کاعطیہ شکریے کے ساتھ لوٹا دیا گیا تھا… اور اب پھر غیاث پور کے درویش کی خانقاہ میں چار وقت کا فاقہ تھا۔ حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ ممنوعہ ایام کے علاوہ ہمیشہ روزے سے رہا کرتے تھے۔ اگر غذا میسر آجاتی تو جو کی ایک روٹی سے افطار فرماتے… اور دوسری روٹی سے سحری کا اہتمام کرتے۔ کل دو روٹیاں آپ کی خوراک تھی۔ اکثر روایتوں میں درج ہے کہ حضرت محبوب الٰہی علیہ الرحمہ نے برسوں نمک کے پانی سے جوکی روٹی استعمال کی۔ یعنی لذت کام و دہن سے آپ اتنے ہی دور تھے جتنی یہ زمین، آسمان ہے۔
(باقی آئندہ شمارے میں ملاحظہ فرمائیں)