’’علامہ‘‘ کے فرمودات اور اقدامات

in Tahaffuz, July 2014

لندن میں نواز حکومت کے خلاف طاہر القادری اور چوہدری برادران نے ملاقات کرکے لندن پلان مرتب کرنے کی کوششیں شروع کردی ہیں۔ اس پلان یا منصوبے کو محب وطن حلقے پاکستان، اس کے آئین اور نظام حکومت کے خلاف سازش قرار دے رہے ہیں۔ واضح رہے کہ انگریزوں کی ہندوستان پر حکومت کے دور سے لندن اپنے ہی ہم وطن ہندوستانیوں بالخصوص مسلمانوں کے خلاف سازشوں کا مرکز رہا ہے۔ ایسی ہر سازش کو لندن پلان کا نام دیا گیا، جو خطے کی تاریخ میں محفوظ ہوگی۔ا طاہر القادری کی نفسیاتی الجھن یہ ہے کہ انہیں عالم دین مان کر ان کے مواعظ سننے کے لئے جو ہجوم ہوجاتا ہے، اسے وہ اپنی عوامی قوت سمجھتے ہیں اور اس بنیاد پر وہ پاکستان کے آئین اور جمہوری نظام کو (وہ خواہ کیسا بھی ہے) تتر بتر کرنے کے درپے ہیں جبکہ ان کی ملک میں مقبولیت کا عالم یہ ہے کہ وہ کینیڈا کی شہریت چھوڑ کراپنے لوگوں میں آنے کے لئے تیار نہیںہیں۔ گزشتہ انتخابات سے قبل انہوں نے جمہوری نظام کو تلپٹ کرنے کے لئے اسلام آباد میں اپنے مدرسوں کے طلبائ، اساتذہ اور پیروکاروں کو اکھٹا کرکے جو ڈراما رچایا تھا، اس کے بعد سنجیدہ، فہمیدہ افراد کی بڑی تعداد ان سے بدظن ہوگئی۔ اس دھرنے کی یہ بات لوگوں کو آج تک یاد ہے کہ موصوف اپنی زندگی اور صحت کو بچانے کے لئے بم پروف کنٹینر میں براجمان رہے، جبکہ دھرنے کے شرکاء تین روز تک ٹھٹھرتی سردی اور بارش میں شیر خوار بچوں سمیت سڑکوں پر تھر تھر کانپتے رہے۔ اس دوران طاہر القادری نے سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کا اعلان سنتے ہی بچوں کی طرح لہرا لہرا کر چیخنا شروع کردیا کہ ہم آدھی جنگ جیت گئے۔ باقی آدھی جنگ کل جیت جائیں گے اور اگلے دن ساری دنیا نے یہ تماشا دیکھا کہ جس حکومت اور نظام کے خلاف وہ نکلے تھے، اسی حکومت سے کسی خفیہ یا اعلانیہ معاہدے کے بعد دھرنا ختم کرنے کا اعلان کردیا۔ سب کو ان کے حال پر چھوڑ کر ان کی سواری دوبارہ وہیں کینیڈا پہنچ گئی، جہاں سے آئی تھی۔ کینیڈا میں بیٹھ کر وہ بھی متحدہ کے قائد الطاف حسین کی طرح ویڈیو خطاب فرمانے لگے ہیں۔ اتنے بڑے ’’علامہ‘‘ کو اندازہ ہی نہیں کہ تبدیلی دو میں سے کسی ایک راستے سے آسکتی ہے۔ اول مروجہ جمہوریت اور اس کے انتخابی نظام میں شریک ہوکر، دوم انقلاب کے ذریعے جو موجودہ حالات میں نہایت خونی ہی ہوسکتا ہے اور جسے برپا کرنے کی طاہر القادری میں ہمت ہے، نہ صلاحیت اور نہ پاکستان کے عوام ان کے سر پر تاج سجانے کے لئے اپنی جانیں قربان کرنے کو تیار ہں۔
گزشتہ عام انتخابات میں موصوف کو اپنی ذاتی اور عوامی تحریک کی مقبولیت کا اندازہ ہوگیا تھا کہ ان کا ایک امیدوار بھی کامیاب نہ ہوسکے گا، چنانچہ انہوں نے الیکشن کا بائیکاٹ کرنے ہی میں عافیت جانی، بلاشبہ موجودہ انتخابی نظام میں اقتدار و اختیارات، وڈیرہ شاہی، دولت کی ریل پیل، دھونس، دھاندلی کے عوامل بہت حد تک کارما ہوتے ہیں۔ تاہم اس میں تبدیلی کے لئے اسی نظام سے ہوکر گزرنا ہوگا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ طاہر القادری کے خیال میں موجودہ حکمرانوں کا اقتدار میں رہنا غیر آئین،ی غیر اخلاقی اور غیر جمہوری ہے۔ کبھی وہ آئین کو ماننے کی بات کرتے ہیں تو کبھی اسے یکسر مسترد کرتے نظر آتے ہیں۔ان کے جھوٹے سچے خوابوں سے لے کر متضاد بیانات،دعوئوں اور انداز تخاطب کو دیکھ کر کوئی بھی ذی فہم شخص انہیں عالم باعمل تو کیا عام سطح کا شہری بھی تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہوگا۔ ان کی تحریروں اور مذہبی تقریروں کا جو بھی معیار ہو، سیاسی زندگی کے لئے انہیں فٹ یا نارمل قرار نہیں دیا جاسکتا۔ سونے پہ سہاگہ یہ کہ عوام کی جانب سے پچھلے الیکشن میں بری طرح ٹھکرائے جانے والے مسلم لیگ (ق) نے ان سے ہمرکابی کا فیصلہ کیا ہے جو پرویز مشرف جیسے کسی آمر کے سہارے ہی زندہ رہ سکتی ہے۔ چوہدری شجاعت حسین نے طاہر القادری کے ساتھ گٹھ جوڑ کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجدہ حکمراوں کو عوام کی کوئی پرواہ نہیں، چور کے بجائے چور کی ماں کوپکڑنا چاہئے۔ معلوم نہیں ان کی نظروں میں چور کون ہے اور چور کی ماں کون؟ ان کی ماضی قریب کی تاریخ تو چوروں کے باپ کی پرستش کرتی دکھائی دیتی ہے جس کو ان کے کزن چوہدری پرویز الٰہی 10 سال تک یا زندگی بھر قوم پر مسلط دیکھنا چاہتے تھے۔ طاہر القادری کو عمران خان اور الطاف حسین کی حمایت بھی مطلوب ہے۔ انہوں نے اور چوہدری برادران نے عمران خان سے ملاقات کے لئے تین چار بار رابطہ کیا لیکن عمران خان نے ملاقات کا وقت دینے سے انکار کردیا۔ تحریک انصاف کا موقف ہے کہ ملک کے تمام فیصلے اور ملاقاتیں ملک کے اندر ہی ہونی چاہئیں۔ حقیقت یہ ہے کہ طاہر القادری وطن عزیز کی خاطر کسی مثبت جذبے کے تحت کام نہیں کررہے ہیں۔ ان کا ایجنڈا کینیڈا میں رہ کر پاکستان میں انتشار پھیلانا ہے۔ اسی لئے واقفان حال کا خیال ہے کہ یہ ان کا اپنا نہیں، کسی اور کا ایجنڈا ہے جو انہیں بیرون ملک تھمایا گیا ہے۔ وہ اس امر سے بے پرواہ ہوکر کہ موجودہ حالات میں پاکستان کو فتنہ فساد کی نہیں، امن کی ضرورت ہے، پورے ملک اور اس کے نظام کو دائو پر لگانا چاہتے ہیں۔ عام انتخابات کے ایک سال بعد وہ ہوش میں آئے ہیں اور انتخابات میں دھاندلی کو بنیاد بناکر سارا نظام الٹ دینا چاہتے ہیں۔ اسے نواز حکومت کی مصلحت قرار دیا جائے یا اعلیٰ ظرفی کہ وہ ’’علامہ‘‘ کے فرمودات اور اقدامات کو پرکاہ کے برابر بھی اہمیت نہیں دیتی۔