ماہ رمضان کی فضیلت و اہمیت

in Tahaffuz, July 2014, مو لا نا شہز ا د قا د ری تر ا بی

اسلامی سال کا نواں مہینہ رمضان المبارک ہے۔ اس ماہ مبارک کی برکتوں کے تو کیا کہنے۔ جیسے ہی ماہ رمضان کا ہلال نظر آتا ہے۔ہر طرف نور ہی نور، ہوا، فضا اور موسم میں ایک عجیب سا کیف و سرور نظر آتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ سب کچھ بدل گیا ہے۔ آسمانوں سے رحمتوں کی بارش، زمین والوں پر ہر لمحہ نوازش، زمین پر معصوم ملائکہ کا نزول، عاصیوں کے لئے مغفرت کے پروانے تقسیم، نیکو کاروں کے لئے درجات میں بلندی کی بشارتیں، سحری کے ایمان افروز لمحات، افطار کی بابرکت گھڑیاں، دعائوں کی قبولیت کی ساعتیں، تراویح کی حلاوتیں، تہجد کی نماز کی چاشنی، تلاوت قرآن سے فضائوں کا گونجنا، نعت مصطفیﷺ سے مسلمانوں کا جھومنا، حالت روزہ میں دلوں کا جگمگانا، روزہ داروں کے پررونق چہرے، مساجد میں مسلمانوں کا جم غفیر، صدقات و خیرات و زکوٰۃ کا تقسیم ہونا، کوئی اشارہ مل رہا ہے، دل گواہی دے رہا ہے، خشوع و خضوع بڑھتا چلا جارہا ہے۔ عبادت کا ذوق و شوق بڑھتا چلا جارہا ہے۔ یقینا یقینا کریم مہینہ جلوہ افروز ہوچکا ہے۔ کریم پروردگار جل جلالہ کے در سے، کریم رسول ﷺ کے صدقے میں، رمضان کریم تشریف لایا ہے۔
اس کی لذت اہل عشق ہی محسوس کرسکتے ہیں۔ ہم جیسے ناتواں، کمزور، گنہگار، بدکار، سیاہ کار، عصیاں شعار، ہر طرح سے بے کار اور بے قدرے لوگ اس کی قدورمنزلت کیا جانیں؟ اہل دل ہی اس ماہ کا مقام و مرتبہ جان سکتے ہیں۔
اس ماہ کی سب سے بڑی فضیلت یہ ہے کہ اس ماہ میں قرآن مجید کا نزول ہوا، سورۂ بقرہ کے 23 ویں رکوع کی آیت 185 میں ارشاد ہوتا ہے۔
القرآن: شہر رمضان الذی انزل فیہ القرآن، ہدی للناس وبینٰت من الہدی والفرقان
ترجمہ: رمضان کا مہینہ، جس میں قرآن اترا، لوگوں کے لئے ہدایت اور رہنمائی اور فیصلہ کی روشن باتیں (سورۂ بقرہ،آیت 185، پارہ 2)
جب کلام الٰہی سب کلاموں کا سردار ہے تو جس ماہ مقدس میں اس کا نزول ہوا، وہ مہینہ دیگر مہینوں کا سردار کیونکر نہ ہو؟ قرآن مجید کے علاوہ اﷲ تعالیٰ کی اور کتابیں بھی اسی ماہ رمضان میں نازل ہوئی ہیں۔ چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے صحیفے یکم یا تین رمضان کو نازل ہوئے، حضرت موسیٰ علیہ السلام پر توریت چھ رمضان المبارک کو، حضرت عیسٰی علیہ السلام پر انجیل بارہ یا چودہ رمضان المبارک کو، حضرت دائود علیہ السلام پر زبور بارہ یا اٹھارہ رمضان المبارک کو نازل ہوئی اور قرآن مجید لیلۃ القدر (ستائیسویں شب) میں نازل ہوا۔ لہذا اس مہینے کو قرآن مجید سے خاص مناسبت ہے۔ اسی لئے حضور اکرم نور مجسمﷺ اس مہینے میں جبریل علیہ السلام کے ساتھ قرآن مجید کا دور فرماتے تھے اور آپ اس مہینے میں چھوٹی ہوئی تیز ہوائوں سے بھی زیادہ سخاوت فرماتے تھے۔
ماہ رمضان المبارک کے فضائل و برکات
حدیث شریف: حضرت ابو سعید خدری رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا جب ماہ رمضان کی پہلی رات آتی ہے تو آسمانوں اور جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور آخر رات تک بند نہیں ہوتے جو کوئی بندہ اس ماہ مبارک کی کسی بھی رات میں نماز پڑھتا ہے، تو اﷲ تعالیٰ اس کے ہر سجدہ کے عوض(یعنی بدلہ میں) اس کے لئے پندرہ سو نیکیاں لکھتا ہے اور اس کے لئے جنت میں سرخ یاقوت کا گھر بناتا ہے جس میں ساٹھ ہزار دروازے ہوں گے اور ہر دروازے کے پٹ سونے کے بنے ہوں گے جن میں یاقوت سرخ جڑے ہوں گے۔ پس جو کوئی ماہ رمضان کا پہلا روزہ رکھتا ہے تو اﷲ تعالیٰ مہینے کے آخر دن اس کے گناہ معاف فرما دیتا ہے اور اس کے لئے صبح سے شام تک ستر ہزار فرشتے دعائے مغفرت کرتے رہتے ہیں۔ رات اور دن میں جب بھی وہ سجدہ کرتا ہے اس ہر سجدہ کے عوض (یعنی بدلے) اسے (جنت میں) ایک ایسا درخت عطا کیا جاتا ہے کہ اس کے سائے میں گھوڑے سوار پانچ سو برس تک چلتا رہے (شعب الایمان جلد 3 صفحہ نمبر 314)
حدیث شریف: حضرت عبداﷲ ابن عباس رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ حضورﷺ کا فرمان ہے کہ اﷲ تعالیٰ ماہ رمضان میں روزانہ افطار کے وقت دس لاکھ ایسے گنہ گاروں کو جہنم سے آزاد فرماتا ہے جن پر گناہوں کی وجہ سے جہنم واجب ہوچکا تھا، نیز شب جمعہ اور روز جمعہ (یعنی جمعرات کو غروب آفتاب سے لے کر جمعہ کو غروب آفتاب تک) کی ہر ہر گھڑی میں ایسے دس دس لاکھ گنہ گاروں کو جہنم سے آزاد کیا جاتا ہے جو عذاب کے حقدار قرار دیئے جاچکے ہوتے ہیں ۔
(کنزالعمال جلد 8 صفحہ نمبر 223)
حدیث شریف: حضرت ضمرہ رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے کہ سید عالمﷺ کا فرمان ہے کہ ماہ رمضان میں گھر والوں کے خرچ میں کشادگی کرو کیونکہ ماہ رمضان میں خرچ کرنا اﷲ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کی طرح ہیں (کنزالعمال جلد 8، صفحہ نمبر 216)
حدیث شریف: حضرت جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ حضورﷺ کا فرمان ہے کہ میری امت کو ماہ رمضان میں پانچ چیزیں ایسی عطا کی گئیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی علیہ السلام کو نہ ملیں۔
1۔ پہلی یہ کہ جب رمضان المبارک کی پہلی رات ہوتی ہے تو اﷲ تعالیٰ ان کی طرف رحمت کی نظر فرماتا ہے اور جس کی طرف اﷲ تعالیٰ نظر رحمت فرمائے اسے کبھی بھی عذاب نہ دے گا۔
2۔ دوسری یہ کہ شام کے وقت ان کے منہ کی بو (جو بھوک کی وجہ سے ہوتی ہے) اﷲ تعالیٰ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بھی بہتر ہے۔
3۔ تیسرے یہ کہ فرشتے ہر رات اور دن ان کے لئے مغفرت کی دعائیں کرتے رہتے ہیں۔
4۔ چوتھے یہ کہ اﷲ تعالیٰ جنت کو حکم دیتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے ’’میرے (نیک) بندوںکے لئے مزین (یعنی آراستہ) ہوجا عنقریب وہ دنیا کی مشقت سے میرے گھر اور کرم میں راحت پائیں گے‘‘
5۔ پانچواں یہ کہ جب ماہ رمضان کی آخری رات آتی ہے تو اﷲ تعالیٰ سب کی مغفرت فرمادیتا ہے۔
قوم میں سے ایک شخص کھڑا ہوا اور عرض کی، یارسول اﷲﷺ کیا یہ لیلۃ القدر ہے؟ ارشاد فرمایا نہیں۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ مزدور جب اپنے کاموں سے فارغ ہوجاتے ہیں تو انہیں اجرت دی جاتی ہے (الترغیب والترہیب جلد دوم صفحہ نمبر 20)
محترم حضرات! آپ نے ماہ رمضان شریف کے فضائل و مناقب احادیث کی روشنی میں ملاحظہ فرمائیں۔ حقیقت میں کیاشان ہے ماہ رحمت و مغفرت کی۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ مہینہ اﷲ تعالیٰ کی جانب سے ہر صورت ہماری مغفرت کروانے کے لئے تشریف لاتا ہے۔ جنت کے پروانے تقسیم کرنے کے لئے تشریف لاتا ہے۔
٭ حضرت فاروق اعظم رضی اﷲ عنہ فرمایا کرتے ’’اس مہینہ کو خوش آمدید ہے جو ہمیں پاک کرنے والا ہے۔ پورا رمضان خیر ہی خیر ہے۔ دن کا روزہ ہو یا رات کا قیام۔ اس مہینہ میں خرچ کرنا جہاد میں خرچ کرنے کا درجہ رکھتا ہے‘‘ (تنبیہ الغافلین صفحہ نمبر 321)
٭ حضرت مولیٰ علی شیر خدا کرم اﷲ وجہہ الکریم فرماتے ہیں ’’اگر اﷲ تعالیٰ کو امت محمدیﷺ پر عذاب کرنا مقصود ہوتا تو ان کو رمضان اور سورۂ اخلاص ہرگز عنایت نہ فرماتا‘‘ (نزہۃ المجالس، جلد اول صفحہ نمبر 163)
٭ منقول ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے حضرت عیسٰی علیہ السلام سے فرمایا کہ میں نے امت محمدیہﷺ کو دو نور عطا کئے ہیں تاکہ وہ دو اندھیروں کے ضرر (یعنی نقصان) سے محفوظ رہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کی یااﷲ جل جلالہ! وہ کون کون سے نور ہیں؟ ارشاد ہوا نور رمضان اور نور قرآن۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کی دو اندھیرے کون کون سے ہیں، فرمایا! ایک قبر کا اور دوسرا قیامت کا (درۃ الناصحین ص 11)
رمضان المبارک میں گناہ کرنے والوں کا انجام
حدیث شریف: سیدہ ام ہانی رضی اﷲ عنہا سے روایت ہے کہ حضور اکرم نور مجسمﷺ نے ارشاد فرمایا ’’میری امت ذلیل و رسوا نہ ہوگی جب تک ماہ رمضان کے حق کو ادا کرتی رہے گی۔‘‘ عرض کی گئی یارسول اﷲﷺ! رمضان کے حق کو ضائع کرنے میں ان کا ذلیل و رسوا ہونا کیا ہے؟ فرمایا اس ماہ میں ان کا حرام کاموں کا کرنا، پھر ارشاد فرمایا جس نے اس ماہ میں زنا کیا، یا شراب پی تو اگلے رمضان تک اﷲ تعالیٰ اور جتنے آسمانی فرشتے ہیں سب اس پر لعنت کرتے ہیں۔ پس اگر یہ شخص اگلے ماہ رمضان کو پانے سے پہلے ہی مرگیا تو اس کے پاس کوئی ایسی نیکی نہ ہوگی جو اسے جہنم کی آگ سے بچا سکے۔ پس تم ماہ رمضان کے معاملے میں ڈرو کیونکہ جس طرح اس ماہ میں اور مہینوں کے مقابلے میں نیکیاں بڑھا دی جاتی ہیں، اسی طرح گناہوں کا بھی معاملہ ہے (طبرانی معجم صغیر جلد اول صفحہ نمبر 248)
٭ ایک بار حضرت علی رضی اﷲ عنہ زیارت قبور کے لئے کوفہ کے قبرستان تشریف لے گئے۔ وہاں ایک تازہ قبر پر نظر پڑی۔ آپ کو اس کے حالات معلوم کرنے کی خواہش ہوئی۔ چنانچہ بارگاہ خداوندی میں عرض گزار ہوئے۔ یااﷲ جل جلالہ! اس میت کے حالات مجھ پر منکشف (یعنی ظاہر) فرما۔ فورا اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں آپ کی التجا مسموع ہوئی (یعنی سنی گئی) اور دیکھتے ہی دیکھتے آپ کے اور اس مردے کے درمیان جتنے پردے تھے، تمام اٹھا دیئے گئے۔ اب ایک ہیبت ناک منظر آپ کے سامنے تھا۔ کیا دیکھتے ہیں کہ مردہ آگ کی لپیٹ میں ہے اور رو رو کر اس طرح آپ سے فریاد کررہاہے۔ اے علی رضی اﷲ عنہ میں آگ میں جل رہا ہوں۔ قبر کے دہشت ناک منظر اور مردہ کی چیخ و پکار اور دردناک فریاد نے حضرت علی رضی اﷲ عنہ کو بے قرار کردیا۔ آپ نے اپنے رحمت والے رب جل جلالہ کے دربار میں ہاتھ اٹھا دیئے اور نہایت ہی عاجزی کے ساتھ اس میت کی بخشش کی درخواست پیش کی۔ غیب سے آواز آئی ’’اے علی رضی اﷲ عنہ! آپ اس کی سفارش نہ ہی فرمائیں کیونکہ روزے رکھنے کے باوجود یہ شخص رمضان المبارک کی بے حرمتی کرتا، رمضان میں بھی گناہوں سے باز نہ آتا تھا۔ دن کو روزے تو رکھ لیتا مگر راتوں کو گناہوں میں مبتلا رہتا تھا۔‘‘ مولیٰ علی رضی اﷲ عنہ یہ سن کر اور بھی رنجیدہ ہوگئے اور سجدے میں گر کر رو رو کر عرض کرنے لگے یااﷲ جل جلالہ! میری لاج تیرے ہاتھ میں ہے۔ اس بندے نے بڑی امید کے ساتھ مجھے پکارا ہے میرے مالک! تو مجھے اس کے آگے رسوا نہ فرمانا۔ اس کی بے بسی پر رحم فرمادے اور اس بے چارے کو بخش دے۔ حضرت علی رضی اﷲ عنہ رو رو کر مناجات کررہے تھے۔ اﷲ تعالیٰ کی رحمت کا دریا جوش میں آگیا اور ندا آئی، اے علی رضی اﷲ عنہ! ہم نے تمہاری شکستہ دلی کے سبب اسے بخش دیا چنانچہ اس مردے پر سے عذاب اٹھالیا گیا (انیس الواعظین صفحہ نمبر 25)
محترم حضرات! جہاں ماہ رمضان کے فضائل و برکات ہیں وہاں اس ماہ کی تعظیم و توقیر نہ کرنے والوں کے لئے بہت شدید عذاب کی وعید ہے لہذا ہم سے جس قدر ہوسکے، اس ماہ مقدس کی تعظیم و توقیر کرنی چاہئے۔ ہم ناتواں ہیں۔ اگر عبادت زیادہ نہیں کرسکتے تو نہ کریں مگر گناہوں سے ہر ممکن بچنے کی کوشش کریں۔
ماہ رمضان کے روزے فرض ہیں
القرآن: یاایھا الذین امنوا کتب علیکم الصیام، کما کتب علی الذین من قبلکم لعلکم تتقون (سورۂ بقرہ آیت 183، پارہ 2)
ترجمہ: اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کئے گئے جیسے اگلوں پر فرض ہوئے تھے کہ کہیں تمہیں پرہیزگاری ملے
اس آیت مبارکہ میں ماہ رمضان کے روزوں کی فرضیت کا ذکر ہوا توحید و رسالت کا اقرار کرنے اور تمام ضروریات دین پر ایمان لانے کے بعد جس طرح ہر مسلمان پر نماز فرض قرار دی گئی ہے اسی طرح رمضان المبارک کے روزے بھی ہر مسلمان (مرد و عورت) عاقل و بالغ پر فرض ہیں۔ درمختار علی مع رد المحتار جلد سوم صفحہ نمبر 330 پر درج ہے کہ روزے دس شعبان المعظم 2ھ کو فرض ہوئے۔
ماہ رمضان کے روزوں کی فضیلت
حدیث شریف: حضرت ابو سعید خدری رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ حضورﷺ فرماتے ہیں کہ جس نے رمضان کا روزہ رکھا اور اس کی حدود کو پہچانا اور جس چیز سے بچنا چاہئے اس سے بچا تو جو (کچھ گناہ) پہلے کرچکا ہے اس کا کفارہ ہوگیا (صحیح ابن حبان جلد 5 صفحہ نمبر 183)
حدیث شریف: حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ حضورﷺ فرماتے ہیں آدمی کے ہر نیک کام کا بدلہ دس سے سات سو گناہ تک دیاجاتا ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا۔ سوائے روزے کے روزہ میرے لئے ہے اور اس کی جزا میں دوں گا۔ اﷲ تعالیٰ کا مزید ارشاد ہے بندہ اپنی خواہش اور کھانے کو صرف میری وجہ سے ترک کرتا ہے۔ روزہ دار کے لئے دو خوشیاں ہیں۔ ایک افطار کے وقت اور ایک اپنے رب جل جلالہ سے ملنے کے وقت۔ روزہ دار کے منہ کی بو اﷲ کے نزدیک مشک سے زیادہ پاکیزہ ہے ۔(صحیح مسلم جلد اول صفحہ نمبر 363)
حدیث شریف: حضرت سہل بن عبداﷲ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ حضورﷺ کا ارشاد ہے کہ بے شک جنت میں ایک دروازہ ہے جس کو ریّان کہا جاتا ہے اس سے قیامت کے دن روزہ دار داخل ہوں گے۔ اس کے علاوہ کوئی داخل نہ ہوگا۔کہا جائے گا روزے دار کہاں ہیں؟ پس یہ لوگ کھڑے ہوں گے ان کے علاوہ کوئی اور اس دروازے سے داخل نہ ہوگا۔ جب یہ داخل ہوجائیں گے تو دروازہ بند کردیاجائے گا پس پھر کوئی اور اس دروازے سے داخل نہ ہوگا (صحیح بخاری، جلد 2، ص 277)
حدیث شریف: حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے کہ حضور کریمﷺ نے ارشاد فرمایا جس نے ماہ رمضان کا ایک روزہ بھی خاموشی اور سکون سے رکھا اس کے لئے جنت میں ایک گھر سرخ یاقوت یا سبز زمرو کا بنایا جائے گا۔ (مجمع الزوائد جلد سوم، صفحہ نمبر 346)
حدیث شریف: حضرت عبداﷲ بن ابی اوفیٰ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ سید عالمﷺ کا فرمان ہے کہ روزہ دار کا سونا عبادت اور اس کی خاموشی تسبیح کرنا اور اس کی دعا قبول اور اس کا عمل مقبول ہوتا ہے (شعب الایمان جلد 2 صفحہ نمبر 415)
روزہ چھ چیزوں کا
علماء فرماتے ہیں کہ روزہ چھ چیزوں کا ہے۔
(1) آنکھ کا بدنظری اور تاک جھانک سے بچے (2) کانوں کا کہ جھوٹ، غیبت اور گانے بجانے کے سننے سے بچائے (3) زبان کا کہ جھوٹ، غیبت، گالیوں، فضول اور بے ہودہ بکواس سے بچائے (4) باقی بدن کا کہ ہاتھوں سے چوری اور ظلم نہ کرے اور پیروں سے چل کر کسی بری اور گناہ کی جگہ نہ جائے (5) حرام غذا کا کہ اس سے پرہیز کرے اور حلال بھی جہاں تک ہو، کم کھائے تاکہ روزے کے انوار اور برکات حاصل ہوں (6) پھر ڈرتا رہے کہ خدا جانے یہ روزہ قبول بھی ہوگا یا نہیں کہ شاید کوئی غلطی ہوگئی ہو مگر اس ڈر کے ساتھ کریم پروردگار کے کرم کے بھروسہ پر امید بھی رکھے۔
اور خاص بندوں کے لئے ان چھ کے ساتھ ایک ساتویں چیز اور ہے کہ حق تعالیٰ کے سوا ہر چیز کی طرف سے دل کو ہٹالے یہاں تک کہ افطاری کا سامان بھی نہ کرے۔
احیاء کی شرح میں بعض بزرگوں کا قصہ آیا ہے کہ اگر کہیں سے افطاری آجاتی تو اس کو خیرات کر ڈالتے تاکہ دل اس میں مشغول نہ رہے۔
مفسرین لکھتے ہیں کہ کتب علیکم الصیام میں انسان کی ہر چیز پر روزہ فرض کیا گیا ہے۔ پس زبان کا روزہ، جھوٹ اور غیبت سے بچنا ہے اور کان کا روزہ ناجائز چیزوں کے سننے سے پرہیز ہے اور آنکھوں کا روزہ کھیل تماشے سے بچنا ہے اور نفس کا روزہ حرص اور خواہشوں سے اور دل کا روزہ دنیا کی محبت سے بچنا ہے اور روح کا روزہ یہ ہے کہ آخرت کی لذتوں کی بھی خواہش نہ ہو اور سر خاص کا روزہ یہ ہے کہ حق تعالیٰ کے سوا کسی پر بھی نظر نہ ہو۔
شب قدر ملنے کی وجہ
امام مالک رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ نے جب پہلی امتوں کے لوگوں کی عمروں پر توجہ فرمائی تو آپ کو اپنی اُمّت کے لوگوں کی عمریں کم معلوم ہوئیں۔ آپﷺ نے یہ خیال فرمایا کہ جب گزشتہ لوگوں کے مقابلے میں ان کی عمریں کم ہیں تو ان کی نیکیاں بھی کم رہیں گی۔ اس پر اﷲ تعالیٰ نے آپ کو شب قدر عطا فرمائی جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے (موطا امام مالک ص 260)
حضرت مجاہد رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور کریمﷺ نے بنی اسرائیل کے ایک نیک شخص کا ذکر فرمایا جس نے ایک ہزار ماہ تک راہ خدا کے لئے ہتھیار اٹھائے رکھے۔ صحابہ کرام علیہم الرضوان کو اس پر تعجب ہوا تو اﷲ تعالیٰ نے یہ سورت نازل فرمائی اور ایک رات یعنی شب قدر کی عبادت کو اس مجاہد کی ہزار مہینوں کی عبادت سے بہتر قرار دیا (سنن الکبریٰ، بیہقی جلد 4، ص 306، تفسیر ابن جریر)
شب قدر کی فضیلت احادیث کی روشنی میں
حدیث شریف: حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ حضورﷺ نے ارشاد فرمایا۔ جب شب قدر ہوتی ہے، جبرئیل امین علیہ السلام ملائکہ کی جماعت میں اترتے ہیں اور ہر قیام و قعود کرنے والے بندے پر جو خدا تعالیٰ کے ذکر و عبادت میں مشغول ہو (اس کے لئے) دعا کرتے ہیں (بیہقی)
حدیث شریف: جس شخص نے ایمان اور اخلاص کے ساتھ ثواب کے حصول کی غرض سے شب قدر میں قیام کیا (عبادت کی) تو اس کے سارے پچھلے گناہ بخش دیئے جائیں گے (بخاری شریف و مسلم شریف)
شب قدر کو کن راتوں میں تلاش کریں؟
حدیث شریف: حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں کہ سرور کائناتﷺ کا فرمان ہے کہ شب قدر کو رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو (بخاری، مشکوٰۃ)
حدیث شریف: حضرت عبادہ بن صامت رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ تاجدار کائناتﷺ نے فرمایا۔ شب قدر رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں یعنی 21، 23، 25، 27 اور 29 کی رات میں ہے۔ جو شخص ثواب کی نیت سے ان رات میں عبادت کرتا ہے اﷲ تعالیٰ اس کے سابقہ تمام گناہ بخش دیتا ہے۔ اسی رات کی علامتوں میں سے یہ ہے کہ یہ رات کھلی ہوئی اور چمکدار ہوتی ہے۔ صاف و شفاف گویا انوار کی کثرت کے باعث چاند کھلا ہوا ہے۔ یہ زیادہ گرم نہ زیادہ ٹھنڈی بلکہ معتدل اس رات میں صبح تک آسمان کے ستارے شیاطین کو نہیں مارتے جاتے۔ اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ اس کے بعد صبح کو سورج بغیر شعاع کے طلوع ہوتا ہے۔ بالکل ہموار ٹکیہ کی طرح جیسا کہ چودھویں کا چاند کیونکہ شیطان کے لئے یہ روا نہیں کہ وہ اس دن سورج کے ساتھ نکلے (مسند احمد، جلد 5ص 324، مجمع الزوائد)
شب قدر کو پوشیدہ رکھنے میں حکمتیں
لوگ اکثر یہ سوال پوچھتے ہیں کہ شب قدر کو پوشیدہ رکھنے میں کیا حکمتیں ہیں؟ جواب یہ ہے کہ اصل حکمتیں تو اﷲ تعالیٰ اور اس کا رسولﷺ ہی بہتر جانتے ہیں۔ یہ وہ جواب ہے جو صحابہ کرام علیہم الرضوان بارگاہ نبوی میں اس وقت دیا کرتے جب انہیں کسی سوال کے جواب کا قطعی علم نہ ہوتا۔ وہ فرماتے اﷲ و رسولہ اعلم (بخاری، مسلم، مشکوٰۃ، کتاب الایمان)
حضورﷺ کے روحانی فیوض و برکات سے اکتساب فیض کرتے ہوئے علمائے کرام نے شب قدر کے پوشیدہ ہونے کی بعض حکمتیں بیان فرمائی ہیں جو درج ذیل ہیں۔
1… اگر شب قدر کو ظاہر کردیا جاتا تو کوتاہ ہمت لوگ اسی رات کی عبادت پر اکتفا کرلیتے اور دیگر راتوں میں عبادات کا اہتمام نہ کرتے اب لوگ آخری عشرے کی پانچ راتوں میں عبادت کی سعادت حاصل کرلیتے ہیں۔
2… شب قدر ظاہر کردینے کی صورت میں اگر کسی سے یہ شب چھوٹ جاتی تو اسے بہت زیادہ حزن و ملال ہوتا اور دیگر راتوں میں وہ دلجمعی سے عبادت نہ کرپاتا۔ اب رمضان کی پانچ طاق راتوں میں سے دو تین راتیں اکثر لوگوں کو نصیب ہو ہی جاتی ہیں۔
3… اگر شب قدر کو ظاہر کردیا جاتا تو جس طرح اس رات میں عبادت کا ثواب ہزار ماہ کی عبادت سے زیادہ ہے، اسی طرح اس رات میں گناہ بھی ہزار درجہ زیادہ ہوتا۔ لہذا اﷲ تعالیٰ نے اس رات کو پوشیدہ رکھا تاکہ اس شب میں عبادت کریں وہ ہزار ماہ کی عبادت سے زیادہ اجروثواب پائیں اور اپنی جہالت وہ کم نصیبی سے اس شب میں بھی گناہ سے باز نہ آئیں تو انہیں شب قدر کی توہین کرنے کا گناہ نہ ہو۔
4…جیسا کہ نزول ملائکہ کی حکمتوں میں ذکر کیا گیا ہے کہ اﷲ تعالیٰ فرشتوں کی عظمت بتانے کے لئے زمین پر نازل فرماتا ہے اور اپنے عبادت گزار بندوں پر فخر کرتا ہے۔ شب قدر ظاہر نہ کرنے کی صورت میں فکر کرنے کا زیادہ موقع ہے کہ اے ملائکہ دیکھو! میرے بندے معلوم نہ ہونے کے باوجود محض احتمال کی بناء پر عبادت و اطاعت میں اتنی محنت و سعی کررہے ہیں۔ اگر انہیں بتادیا جاتا کہ یہی شب قدر ہے تو ان کی عبادت و نیازمندی کا کیا حال ہوتا۔
5… شب قدر کا پوشیدہ رکھنا اسی طرح سمجھ لیجئے جیسے موت کا وقت نہ بتانا۔ کیونکہ اگر موت کا وقت بتا دیا جاتا تو لوگ ساری عمر نفسانی خواہشات کی پیروی میں گناہ کرتے اور موت سے عین پہلے توبہ کرلیتے۔ اس لئے موت کا وقت پوشیدہ رکھا گیا تاکہ انسان ہر لمحہ موت کا خوف کرے اور ہر وقت گناہوں سے دور اور نیکی میں مصروف رہے۔ اسی طرح آخری عشرے کی ہر طاقت رات میں بندوں کو یہی سوچ کر عبادت کرنی چاہئے کہ شاید یہی شب قدر ہو۔ اسی طرح شب قدر کی جستجو میں برکت والی پانچ راتیں عبادت الٰہی میں گزارنے کی سعادت نصیب ہوتی ہے۔
اﷲ تعالیٰ نے بے شمار حکمتوں اور مصلحتوں کی باعث بہت سی اہم چیزوں کو پوشیدہ رکھا ہے۔ امام رازی علیہ الرحمہ تفسیر کبیر میں فرماتے ہیں کہ :
1… اﷲ تعالیٰ نے اپنی رضا کو عبادت و اطاعت میں پوشیدہ رکھا ہے تاکہ لوگ تمام امور میں اﷲ تعالیٰ کی اطاعت کریں۔
2… اس نے اپنے غصہ کو گناہوں میں مخفی (پوشیدہ) رکھا ہے تاکہ لوگ ہر قسم کے گناہوں سے بچیں۔
3…اپنے اولیاء کو مومنوں میں پوشیدہ رکھا ہے تاکہ لوگ سب ایمان والوں کی تعظیم کریں۔
4… دعا کی قبولیت کو پوشیدہ رکھا تاکہ لوگ اﷲ تعالیٰ کے ہر نام مبارکہ کی تعظیم کریں۔
5… اسم اعظم کو پوشیدہ رکھا تاکہ لوگ اﷲ تعالیٰ کے ہر نام مبارک کی تعظیم کریں۔
6… صلوٰۃ الوسطیٰ (درمیانی نماز) کو پوشیدہ رکھا تاکہ لوگ سب نمازوں کی حفاظت کریں۔
7… موت کے وقت کو پوشیدہ رکھا تاکہ لوگ ہر وقت خدا سے ڈرتے رہیں۔
8… توبہ کی قبولیت کو پوشیدہ رکھا تاکہ لوگ جس طرح ممکن ہو، توبہ کرتے رہیں۔
9… ایسے ہی شب قدر کو پوشیدہ رکھا تاکہ لوگ رمضان کی تمام راتوں کی تعظیم کریں۔
اﷲ تعالیٰ کا کروڑہا کروڑ احسان ہے کہ رب کریم جل جلالہ نے اپنے حبیبﷺ کے صدقے وطفیل ہمیں شب قدر جیسی نعمت سے نوازا ہے۔ ہمیں اس رات کی قدر کرنی چاہئے اور اپنے رب کے حضور سچی توبہ کرنی چاہئے تاکہ ہمیں بھی مغفرت کا پروانہ نصیب ہو۔
شب قدر کے نوافل
٭ چار رکعت نفل پڑھے۔ ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد سورۂ تکاثر ایک اور اس کے بعد سورۂ اخلاص تین مرتبہ پڑھے تو موت کی سختیوں سے آسانی ہوگی اور عذاب قبر سے محفوظ رہے گا (بحوالہ: نزہۃ المجالس، جلد اول، ص 129، فضائل الایام والشہور، ص 441، مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ، فیصل آباد پنجاب)
٭ دو رکعت نفل پڑھے کہ ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد سورۂ اخلاص سات مرتبہ پڑھے۔ سلام پھیرنے کے بعد سات مرتبہ ’’استغفر اﷲ‘‘ پڑھے تو اپنی جگہ سے اٹھے گا کہ اس پر اور اس کے والدین پر رحمت خدا برسنی شروع ہوجائے گی۔ (تفسیر یعقوب چرخی، فضائل الایام والشہور، ص 441، مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ، فیصل آباد کراچی)
٭ چار رکعت نفل اس طرح پڑھے کہ ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد سورۂ قدر ایک مرتبہ اور سورۂ اخلاص ستائیس مرتبہ پڑھے تو یہ شخص گناہوں سے ایسا پاک ہوجاتا ہے کہ گویا آج ہی اپنی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہے اور اس کو اﷲ تعالیٰ جنت میں ہزار محل عنایت فرمائے گا (بحوالہ: فضائل الایام والشہور، ص441، مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد پنجاب)
٭ دو رکعت نفل پڑھے کہ ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد سورۂ قدر ایک مرتبہ اور سورۂ اخلاص تین مرتبہ پڑھے تو اﷲ تعالیٰ اس کو شب قدر کا ثواب عطا کرے گا اور اس کے نفل قبول فرمائے گا اور اس کو حضرت ادریس، حضرت شعیب، حضرت دائود، حضرت ایوب اور حضرات نوح علیہم السلام کا ثواب عطاء فرمائے گا اور اس کو جنت میں مشرق سے مغرب تک ایک شہر عنایت فرمائے گا (بحوالہ: فضائل الایام والشہور، ص442، مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ، فیصل آباد، پنجاب)
٭ چار رکعت نفل اس طرح پڑھے کہ ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد سورۂ قدر تین مرتبہ اور سورۂ اخلاص پچاس مرتبہ پڑھے پھر اس نماز بعد سجدہ میں جاکر ایک دفعہ سبحان اﷲ والحمد ﷲ ولا الہ الا اﷲ واﷲ اکبر پڑھے پھر اس کے بعد جو دعا مانگے قبول ہوگی اور اسے اﷲ تعالیٰ بے شمار نعمتیں عطا فرمائے گا اور اس کے سبب اس کے سب گناہ بخش دے گا (بحوالہ: فضائل الایام والشہور، ص 442، مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد پنجاب)
ماہ رمضان المبارک میں بزرگانِ دین کے اعراس
1 رمضان المبارک
حضرت سیدنا امام رضا علیہ الرحمہ
علامہ ہدایت اﷲ رامپوری علیہ الرحمہ
حضرت پیر محمد قاسم مشوری علیہ الرحمہ
سید حسین علی ادیب رائے پوری علیہ الرحمہ
2 رمضان المبارک
حضرت سید ظہور الحسنین شاہ قادری علیہ الرحمہ
حضرت خواجہ عبدالحق جامی علیہ الرحمہ
حضرت اسماعیل چشتی اکبر آبادی علیہ الرحمہ
3 رمضان المبارک
حضرت سیدہ فاطمۃ الزہراء رضی اﷲ عنہا
ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اﷲ عنہا
حضرت سید میر عبدالواحد بلگرامی علیہ الرحمہ
حضرت مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ
4 رمضان المبارک
حضرت شاہ عبدالہادی صابری علیہ الرحمہ
حضرت شاہ نبی بخش رامپوری علیہ الرحمہ
5 رمضان المبارک
حضرت پیر جمیل شاہ داتار علیہ الرحمہ
حضرت پیر سید مزمل حسین شاہ جیلانی علیہ الرحمہ
6 رمضان المبارک
حضرت سید صبغت اﷲ شاہ اول علیہ الرحمہ
حضرت سید عبدالباری اویسی علیہ الرحمہ
7 رمضان المبارک
حضرت دائود علیہ السلام
حضرت مولانا بدر الدین قادری علیہ الرحمہ
8 رمضان المبارک
حضرت شیخ عماد الدین رفیقی علیہ الرحمہ (کشمیر)
حضرت بیدم شاہ وارثی علیہ الرحمہ
9 رمضان المبارک
حضرت شیخ حبیب عجمی علیہ الرحمہ
حضرت شاہ شرف الدین بوعلی قلندر علیہ الرحمہ
10 رمضان المبارک
ام المومنین سیدہ خدیجۃ الکبریٰ رضی اﷲ عنہا
حضرت سید گل بابا میاں علیہ الرحمہ
11 رمضان المبارک
حضرت مادھو لال حسین علیہ الرحمہ (لاہور)
حضرت پیر سید انور حسین شاہ جماعتی علیہ الرحمہ
مفتی محمد حسین قادری علیہ الرحمہ (سکھر)
12 رمضان المبارک
حاجی لعل محمد علیہ الرحمہ
حضرت شاہ قدرت اﷲ نیشا پوری علیہ الرحمہ
13 رمضان المبارک
حضرت سری سقطی علیہ الرحمہ
حضرت شیخ ابو دائود مدنی علیہ الرحمہ
شاہ محمد نور اﷲ فریدی علیہ الرحمہ
14 رمضان المبارک
حضرت بایزید بسطامی علیہ الرحمہ
حضرت سچل سرمست علیہ الرحمہ
حضرت شاہ حمزہ علیہ الرحمہ
حضرت علامہ عبدالقادر رضوی علیہ الرحمہ (فیصل آباد)
15 رمضان المبارک
حضرت محمد غوث گوالیاری علیہ الرحمہ
مفتی فیض احمد اویسی علیہ الرحمہ
16 رمضان المبارک
حضرت سید عقیل کوکانی علیہ الرحمہ
حضرت سید آل محمد علیہ الرحمہ
17 رمضان المبارک
یوم شہادت اصحاب بدر رضی اﷲ عنہم
ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا
حضرت خواجہ قمر الدین سیالوی علیہ الرحمہ
18 رمضان المبارک
حضرت خواجہ نصیر الدین چراغ دہلوی علیہ الرحمہ
حضرت سید سخی سائیں سہیلی سرکار علیہ الرحمہ
حضرت خواجہ نور احمد مہاروی علیہ الرحمہ
حضرت علامہ مولانا ریحان رضا خان علیہ الرحمہ
19 رمضان المبارک
حضرت شاہ عمر کابلی علیہ الرحمہ
شیخ محمد حسن امروہی علیہ الرحمہ
20 رمضان المبارک
شیخ قطب الدین چشتی جونپوری علیہ الرحمہ
حضرت مفتی ظفر علی نعمانی علیہ الرحمہ
21 رمضان المبارک
یوم شہادت حضرت مولیٰ علی شیر خدا کرم اﷲ وجہہ الکریم
حضرت علامہ مفتی محمد صالح اویسی علیہ الرحمہ
22 رمضان المبارک
حضرت شیخ ابوالقاسم محمد سراجی حلّہ علیہ الرحمہ
حضرت مولانا حسن رضا خان علیہ الرحمہ (برادرِ اعلیٰ حضرت)
23 رمضان المبارک
حضرت مولانا سید زوار حسین شاہ علیہ الرحمہ
24 رمضان المبارک
حضرت سید یحییٰ زاہد بغدادی علیہ الرحمہ
مفتی سعد اﷲ رامپوری علیہ الرحمہ
25 رمضان المبارک
حضرت سیدہ ام کلثوم بنت محمد رسول اﷲﷺ
حضرت قاضی سید عبدالملک شاہ علیہ الرحمہ
حضرت صوفی محمد اﷲ دتہ علیہ الرحمہ
غزالیٔ زماں حضرت علامہ سید سعید احمد کاظمی علیہ الرحمہ
26 رمضان المبارک
حضرت شاہ آل برکات ستھرے میاں علیہ الرحمہ
مولانا سید ایوب علی رضوی علیہ الرحمہ
حضرت سید مقبول الرحمن شاہ علیہ الرحمہ
27 رمضان المبارک
حضرت امام ابن ماجہ رضی اﷲ عنہ
حضرت محمد اسماعیل کرمانوالہ علیہ الرحمہ
حضرت خیر الدین شاہ جیلانی علیہ الرحمہ
حضرت خواجہ خدا بخش خیر پوری علیہ الرحمہ
حضرت خواجہ عزیزان علی رامیشنی علیہ الرحمہ
حضرت علامہ مولانا محمد سلیم عباس نقشبندی علیہ الرحمہ
28 رمضان المبارک
مفتی خلیل خاں برکاتی علیہ الرحمہ
مفتی سید ریاض الحسن ریاض جیلانی علیہ الرحمہ
سید مقبول الرحمن شاہ علیہ الرحمہ (لاہور)
29 رمضان المبارک
حضرت سلیم چشتی علیہ الرحمہ (فتح پور سیکری)
حضرت خواجہ خدا بخش نقشبندی علیہ الرحمہ
30 رمضان المبارک
حضرت سری سقطی علیہ الرحمہ
حضرت شیخ جمال اولیاء علیہ الرحمہ