روزے کا بیان

in Tahaffuz, July 2014

ہر چیز کی زکوٰۃ ہے جسم کی زکوٰۃ روزہ ہے
حدیث شریف: ابو دائود میں ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ عنہا سے روایت ہے کہ سرکار اعظمﷺ شعبان کا اس قدر تحفظ کرتے کہ اتنا اور کسی ماہ کا نہ کرتے پھر رمضان کا چاند نظر آتا دیکھ کر روزہ رکھتے اور اگر ابر ہوتا تو تیس دن پورے کرکے روزہ رکھتے۔
انسان کے جسم میں پانچ چیزیں ایسی ہیں جن کے ذریعے سے کوئی چیز بدن کے اندر داخل ہو تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔
1… منہ یعنی حلق کے ذریعے سے کوئی چیز اندر داخل ہوجائے تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔
2… ناک کے ذریعے سے کوئی چیز اندر چلی جائے تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔
3… کان کے ذریعے سے کوئی چیز اندر چلی جائے تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔
4… پیشاب کے مقام سے کوئی چیز اندر داخل ہوجائے تو روزہ ٹوٹ جائے گا (اس میں مرد کا استثناء ہے)
5… پاخانے کے مقام سے کوئی چیز اندر داخل ہوجائے تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔
مسئلہ: اگر کسی نے جان بوجھ کر روزہ توڑا تو اس کا کفارہ پے درپے ساٹھ روزوں کا رکھنا ہے اور ایک روزہ اس کی قضا کا اور باقی ساٹھ روزے کافارے کے ٹوٹل 61 روزے رکھے گا۔
مسئلہ: روزہ ٹوٹنے یا توڑنے کی صورت میں وہ پورا دن روزے کا سا گزارے گا، رمضان کا احترام کرے گا۔
مسئلہ: ایسی بیماری ہے کہ روزہ توڑنا ضروری ہے تو ایسی صورت میں صحت یاب ہونے کے بعد وہ ایک روزہ رکھ کر اس کی صرف قضا کرے گا۔
مسئلہ: منہ میں کوئی زخم ایسا آیا جس سے خون نکلا اور آپ کو غالب گمان ہے کہ خون کو نگل لیا گیا ہے تو ایسی صورت میں روزہ ٹوٹ جائے گا اور یہ ساری ٹوٹنے کی صورتیں ایسی ہیں کہ جن میں صرف ایک روزے کی قضا واجب آئے گی۔
مسئلہ: دانت میں کوئی چیز پھنسی ہوئی تھی، اس کی مقدار علماء نے سمجھانے کے لئے چنا برابر لکھا چنے کے برابر کوئی چیز دانت میں پھنسی ہے یا منہ میں رہ گئی اور اسے جان کر کے نگل گیا تو ایسی صورت میں بھی روزہ ٹوٹ جائے گا۔ باریک کوئی چیز نگل گئے تو روزہ نہیں جائے گا بلکہ چنے کے برابر کوئی چیز حلق سے نیچے اتر جائے تو بھی روزہ ٹوٹ جائے گا۔
مسئلہ: ذرہ کتنا ہی چھوٹا ہو، اسے منہ سے باہر نکال کر پھر دوبارہ منہ میں ڈال کر نگل لے گا، روزہ ٹوٹ جائے گا۔
مسئلہ: اگربتی جل رہی تھی یہ جاننے کے لئے کہ خوشبو کیسی ہے اس نے جان بوجھ کر دھوئیں کو کھینچا اور وہ اس کے حلق میں چلا گیا تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔
مسئلہ: راستے سے گزر رہا تھا گاڑی وغیرہ کا دھواں نادانستہ طور پر حلق میں چلا گیا اس سے روزہ نہیں ٹوٹے گا جان بوجھ کر اگر کھینچے گا روزہ ٹوٹ جائے گا یہی حکم کھانے پکانے والوں کا بھی ہے،روزے کی حالت میں لوبان اور اگربتی جلانے سے پرہیز کریں۔ فقیر قسم کے لوگ جو دکانوں پر لوبان کی دھونی دیتے پھرتے ہیں انہیں سختی سے منع کیا جائے۔
مسئلہ: عطر لگانے سے روزہ نہیں ٹوٹے گا کیونکہ عطر کے سونگھنے سے اس کے کوئی اجزاء پیٹ میں نہیں پہنچتے
مسئلہ: ایک شخص نہا رہا ہے نہانے کے دوران ناک میں پانی چڑھایا یا وضو میں ناک میں پانی چڑھانے میں پانی حلق کے نیچے یا دماغ میں پہنچ گیا دونوں حالتوں میں روزہ ٹوٹ جائے گا، دماغ میں پانی پہنچنے کی علامت یہ ہے کہ ایک تلخی دماغ میں محسوس ہوتی ہے جس سے معلوم ہوجاتا ہے کہ پانی دماغ میں پہنچ گیا ہے، اس طرح روزہ ٹوٹنے پر صرف ایک روزہ قضا کرنا ہوگا۔
مسئلہ: آپ سو رہے تھے احتلام ہوگیا روزہ نہیں ٹوٹے گا خدانخواستہ بدنگاہی سے احتلام ہوگیا اب بھی روزہ نہیں ٹوٹے گا عموما بندہ رات میں ناپاک ہوتا ہے تو اسے چاہئے کہ سحری کرنے سے پہلے غسل کرلے تاکہ غرغرہ بھی صحیح ہوجائے اور ناک میں پانی بھی صحیح پہنچ جائے، فرض کریں کہ ایک شخص پر غسل فرض ہوگیا اور جب سحری کے لئے اٹھا تو روزہ بند ہونے میں چند منٹ باقی بچے، اب اگر وہ غسل کرے گا تو سحری کا وقت ختم ہوجائے گا۔ ایسی صورت میں وہ دو منٹ کے اندر کلی کرے اور غرغرہ کرلے۔ اس کے بعد ناک میں پانی اچھی طرح چڑھالے پھر جلدی سے سحری کرنے کے بعد اب وہ پورے بدن پر پانی ڈال لے کہ کوئی بال برابر جگہ سوکھی نہ رہے تو غسل ہوجائے گا۔
مسئلہ: اگر کان میں پانی ڈالا جائے تو روزہ نہیں ٹوٹے گا مثلا آپ نہا رہے تھے، نہانے میں اگر کان میں پانی آپ نے خود ڈالا یا نادانستہ طور پر چلا گیا۔ دونوں صورتوں میں روزہ نہیں ٹوٹے گا۔
مسئلہ: پانی کے علاوہ جان بوجھ کر اگر کان میں دوا یا تیل ڈالا جائے تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔
مسئلہ: روزے کی حالت میں آپ بیت الخلاء گئے اور پاخانہ کیا پاخانہ کرے کے بعد عموماً پاخانے کے مقام کو زور دے کر استنجاء کرتے ہیں جس کی وجہ سے پاخانے کے اندر کا مقام باہر آجاتا ہے۔ اس طرح اگر آپ نے پانی استعمال کیا تو ظاہر ہے اس اندر کے مقام والے راستے سے پانی اوپر چلا جائے گا جس سے روزہ ٹوٹ جائے گا۔
مسئلہ: پیٹ کے درد کی وجہ سے مریض کے پاخانے کے مقام سے ایک مادہ داخل کیا جاتا ہے جس سے مریض کو دست ہوجاتے ہیں ایسی صورت میں روزہ ٹوٹ جائے گا۔
مسئلہ: ہمارے یہاں بیماری یہ نکل آئی ریڈیو، ٹی وی ہونے کے باوجود ہم جب تک اذان نہ سن لیں یا جب تک اذان ختم نہ ہوجائے اس وقت تک کھانے کی کارروائی جاری رکھتے ہیں۔ ہمیں چاہئے کہ سحری کا جو وقت ختم ہونے کا ہے۔ اس سے پانچ منٹ پہلے روزہ بند کرلیں تاکہ اگر گھڑی آگے پیچھے ہو تو روزہ ضائع نہ ہوجائے اذان کا انتظار نہ کریں کیونکہ اذان روزہ بند کرنے کے لئے نہیں ہوتی بلکہ نماز کے لئے ہوتی ہے اور اذان کا وقت سحری کا وقت ختم ہونے کے بعد شروع ہوتا ہے۔
مسئلہ: غروب آفتاب کا وقت معین ہے اس میں بھی دو چار منٹ تاخیر میں کوئی حرج نہیں۔
کن چیزوں سے روزہ نہیں ٹوٹتا
مسئلہ: قے یعنی الٹی منہ بھر بھی آجائے تو روزہ نہیں ٹوٹے گا روزہ اس وقت ٹوٹے گا جب آپ نے جان بوجھ کر انگلی ڈالی ہو۔
مسئلہ: تھوک کو نگلنے سے بھی روزہ نہیں ٹوٹتا، مگر تھوک کو جمع کرکے ایک ساتھ نگلنا برا ہے۔
مسئلہ: کھانسی آئی اور بلغم بھی آگیا تو بلغم تھوک دے۔ اگر حالت نماز میں بلغم آگیا تو نگل جائے کیونکہ بلغم کے نگلنے سے بھی روزہ نہیں ٹوٹتا۔
مسئلہ: قے آئی تو قے کا کچھ حصہ آپ نے نگل لیا تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔
مسئلہ: حالت روزہ میں انجکشن لگانے میں دو رائے ہیں۔ اگر دوائی والا لگائیں تو نہیں ٹوٹے گا اور غذا والا لگائیں تو ٹوٹ جائے گا۔ اس سلسلے میں مشورہ یہی ہے کہ حالت روزہ میں انجکشن کوئی بھی نہ لگایا جائے۔ سحری سے پہلے لگالیں یا افطاری کے بعد لگالیں۔
روزہ نہ رکھ سکیں تو کیا احکامات ہیں
کوئی شخص بیمار ہے، روزہ نہیں رکھ سکتا۔ ایسا شخص جتنے روزے پالے، وہ رکھ لے، جو رہ جائیں، صحت یابی کے بعد اس کی قضا کرے۔ مسافر پر روزے کی وقتی طور پر چھوٹ ہے۔
مسئلہ: ایک شخص کی مسافری میں تین دن کے روزے رہ گئے، مثلا تیسواں چاند تھا۔ ستائیس روزے اس نے رکھے، تین رہ گئے تو کوشش کرے کہ وہ عید کے بعد فورا رکھ لے۔
مسئلہ: عورت کے یہاں بچہ پیدا ہوا۔ وہ ناپاک ہے۔ نفاس والی ہے۔ وہ روزہ نہیں رکھے گی اسی طرح کسی عورت کو حیض آتا ہو، وہ بھی روزہ نہیں رکھے گی لیکن یہاں کچھ ابہام ہے کہ عورت کو جتنے دن حیض آئے، اگر اسے عادت مسلسل سات دن کی ہے اور چھ دن میں حیض بند ہوجائے تو وہ ساتویں دن کا بھی انتظار کرے، اپنی عادت پوری کرے۔
مسئلہ: نفاس کی مدت چالیس دن نہیں جیسا کہ عورتوں میں مشہور ہے۔ بچے کی ولادت کے ایک ہفتہ بعد عورت مطمئن ہوگئی کہ خون بند ہوگیاہے۔ اس کے بعد وہ روزے بھی رکھے اور نمازیں بھی پڑھے۔ اگر بیس دن کے بعد مطمئن ہوجائے کہ اب خون نہیں آرہا تو وہ بیس دن کے بعد غسل کرکے نمازیں بھی پڑھے اور روزے بھی رکھے۔
مسئلہ: چالیس دن کے بعد بھی اگر عورت کو خون آئے تو اب اس کو نفاس نہیں کہیں گے بلکہ اس کا نام فقہاء نے استحاضہ رکھا ہے استحاضہ اصل میں بیماری ہے۔
مسئلہ: کینسر جب ایسی حد کو چھو جائے کہ اب مریض کی صحت یابی ممکن نہیں یعنی مریض اب پوری زندگی روزے نہیں رکھ سکے گا ایسی صورت میں ایسا مریض فدیہ دے گا۔
مسئلہ: ایک شخص شوگر میں مبتلا ہے اس مرض میں بھوکا رہنا شوگر کو بڑھاتا ہے۔ ایسی صورت میں بھی وہ فدیہ دے گا۔
مسئلہ: آج کل ہلکا سا بخار ہوجائے، ڈاکٹر نماز روزے کا منع کردیتے ہیں۔ ان ڈاکٹروں کی بات نہیں مانی جائے گی۔ شرعی اعتبار سے ڈاکٹروں کا دیندار ہونا ضروری ہے کیونکہ دیندار ڈاکٹر ہلکی پھلکی بیماری میں نماز، روزہ چھوڑنے کی اجازت نہیں دے گا۔
فدیہ کی رقم
فدیہ کتنا ہے علماء نے اس کی مقدار سوا دو سیر آٹے کی قیمت بتائی۔ اس زمانے میں جو دو کلو اور کچھ اوپر بنتا ہے۔ آپ ایک روزے کا فدیہ دو کلو اور دو سو گرام آٹا یا اس کی قیمت دے دیں۔ یہ ایک روزے کا فدیہ ہے۔
مسئلہ: فدیہ کی رقم نقدی کی شکل میں بھی دے سکتے ہیں اسی طرح تیس روزے کا فدیہ بھی ایک ہی شخص کو دے سکتے ہیں۔
مسئلہ: فدیہ صحیح العقیدہ سنی مسلمان کو دیں بدمذہبوں کو دینے سے فدیہ ادا نہ ہوگا۔
مسئلہ: فدیہ شرعی فقیر کو دیں۔شرعی فقیر کو جو زکوٰۃ کا مستحق ہو، اس کو فدیہ دیا جاسکتا ہے۔
مسئلہ: ماں باپ اگر بہت زیادہ ضعیف ہیں، کہ ان میں وزہ رکھنے کی طاقت نہیں اور نہ ہی آئندہ طاقت آنے کی امید ہے تو ان کو اجازت ان کی نیت شامل کرکے اولاد ان کی طرف سے فدیہ دے سکتی ہے پھر اگر طاقت آگئی تو ان کو سارے روزے قضا کرنے ہوں گے۔
روزے کی قسمیں
فرض کی دو قسمیں ہیں۔
(1) فرض معین
(2) فرض غیر معین
واجب کی دو قسمیں ہیں
(1) واجب معین
(2) واجب غیر معین
رمضان کے روزے فرض معین ہیں۔ ان کی قضا غیر معین ہے۔ اگر کسی نے یہ کہا کہ میرا فلاں کام ہوگیا تو پیر کے دن روزہ رکھوں گا یہ واجب معین ہے
اگر کسی نے یہ کہا کہ میرا یہ کام ہوگیاتو میں تین روزے رکھوں گا یہ واجب غیر معین ہے۔
مسئلہ: ذی الحجہ کی دس، گیارہ، بارہ، تیرہ تاریخ اور ایک عید الفطر کے دن یہ پانچ روزے رکھنا حرام ہے۔
مسئلہ: جھوٹ، غیبت، چغلی، گالی دینا، بے ہودہ باتیںکرنا، کسی کو تکلیف دینا یہ چیزیں ویسے بھی ناجائز و حرام ہیں۔روزہ میں اور زیادہ حرام اور ان کی وجہ سے روزہ بھی مکروہ ہوتا ہے۔
مسئلہ: روزہ دار کو بلا عذر کسی چیز کا چکھنا یا چبانا مکروہ ہے۔ چکھنے کے لئے عذر یہ ہے کہ مثلا شوہریا آقا بدمزاج ہے، نمک کم و بیش ہوگا تو اس کی ناراضگی کا باعث ہوگا تو اس وجہ سے چکھنے میں حرج نہیں، چبانے کے لئے یہ عذر ہے کہ اتناچھوٹا بچہ ہے کہ روٹی نہیں کھا سکتا اور کوئی نرم غذا نہیں، جو سے کھلائی جائے نہ اور کوئی ایسا ہے جو اسے چبا کردے تو بچہ کوکھلانے کے لئے روٹی وغیرہ چبانا مکروہ نہیں ۔ (در مختار)
چکھنے کے معنی وہ نہیں جو آج کل بولا جاتا ہے، کہ کسی کا مزہ معلوم کرنے کے لئے اس میں سے تھوڑا سا کھالیا کہ ایسے چکھنے سے مکروہ ہونا تو درکنار روزہ ہی جاتا رہے گا بلکہ اگر کفارہ کے شرائط پائے جائیںتو کفارہ بھی لازم ہوگا بلکہ چکھنے سے مراد یہ ہے کہ زبان پر رکھ کر مزہ پہچان لیں اور اسے تھوک دیں۔ اس میں سے حلق میں کچھ جانے نہ پائے ورنہ روزہ ٹوٹ جائے گا۔
مسئلہ: کوئی چیز خریدی اور اس کا چکھنا ضروری ہے اگر نہ چکھا تو نقصان ہوگا تو چکھنے میں حرج نہیں (در محتار)
مسئلہ: منہ میں تھوک اکھٹا کرکے نگل جانا بغیر روزہ کے بھی درست نہیں، اور روزے کی حالت میں ایسا کرنا مکروہ ہے (عالمگیری)
مسئلہ: ایک آدمی دن بھر روزہ رکھنے کے بعد وہ یہ سمجھ کر کہ جتنی تکلیف زیادہ ہوگی ثواب اس قدر زیادہ ملے گا تو وہ افطار کے وقت نہ افطار کرے اور نہ سحری کے وقت سحری کرے اور جان بوجھ کر دوسرے دن روزہ رکھ لے، اس کو علماء نے مکروہ تنزیہی لکھا۔
مسئلہ: اگر کسی شخص نے اپنی بیوی سے یہ کہہ دیا کہ تو میری ماں جیسی ہے یہ الفاظ اگر طلاق کی نیت سے کہے تو طلاق واقع ہوجائے گی۔ یہ الفاظ اگر غصے میں اپنی بیوی سے کہہ دیئے تو علماء نے اس کا نام ظہار رکھا۔ ظہار کے معنی یہ ہیں کہاگر کسی نے اپنی بیوی کو ماں کہہ دیا تو اس پر اس کی بیوی حلال نہیں۔ایسے شخص کو اب ساٹھ روزے پے درپے رکھنے ہوں گے۔ساٹھ روزے رکھنے کے بعد اب اس کی بیوی اس کے لئے حلال ہوگی۔ اگر اس نے انسٹھ روزے رکھے اور ایک روزہ چھوڑ دیا تو پھر شروع سے دوبارہ ساٹھ روزے رکھے گا۔
نیت کا وقت
مسئلہ: ایک آدمی اگر رات میں یہ نیت کرلے کہ میںصبح کا روزہ رکھوں گا۔ اس نے سحری نہیں کی اس کی نیت ہوگئی۔
مسئلہ: ایک شخص سوگیا۔ اس نے سحری نہیں کی اس کی آنکھ صبح دس بجے کھلی۔ اب وہ نیت کرلے تو روزہ ہوجائے گا۔
مسئلہ: نیت دل کے ارادے کا نام ہے۔ زبان سے کہہ لینا بہتر ہے۔ ایک شخص رات کو روزے کی نیت کرکے سوگیا۔ وہ سحری کے وقت نہ اٹھا اور صبح دس بجے آنکھ کھلی تو اب نیت بھی کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ رات کو وہ نیت کرکے سویا تھا۔ اس کا روزہ ہوگیا۔
مسئلہ: سحری کا کرنا بھی روزے کی نیت ہی ہے کیونکہ سحری روزے کے لئے ہی کی جاتی ہے۔ کیا کوئی شخص رات میں اٹھ کر اہتمام سے کھانا کھاتا ہے۔
مسئلہ: ایک آدمی کی آنکھ سحری کا وقت ختم ہونے سے دس منٹ پہلے کھلی وہ ناپاک بھی ہے۔ ایسی صورت میں وہ شخص کلی بھی کرے، وضو کرے اور سحری بھی کرے۔ اب سحری کرنے کے بعد روزے کا وقت شروع ہوگیا۔ اب وہ نماز فجر کی ادائیگی کے لئے غسل کرے اور نماز ادا کرلے۔ مطلب یہ کہ ناپاکی کی حالت میں بھی روزے کی نیت بھی ہوجائے گی اور روزہ بھی ہوجائے گا۔
مسئلہ: ایک شخص کی آنکھ صبح دس گیارہ بجے کھلی۔ اب اس شخص نے یہ نیت کی کہ میں اب سے روزہ دار ہوں۔ اس نیت سے روزہ فاسد ہوجائے گا کیونکہ گیارہ بجے سے روزہ نہیں ہوتا۔ روزہ اس وقت ہوگا جب یہ نیت کی جائے کہ میں آج کے روزے کی نیت کرتا ہوں۔ یہ نیت صحیح ہے۔ اب روزہ ہوجائے گا۔
مسئلہ: روزے کی حالت میں مسواک کرنا جائز ہے۔
مسئلہ: روزے کی حالت میں ٹوٹھ پیسٹ اور منجن استعمال نہ کیا جائے کیونکہ اس میں غالب گمان ہے کہ کہیں اس کے ذرات حلق سے نیچے نہ اتر جائیں جس سے روزے ٹوٹ جائے گا۔