شہر رمضان الذی انزل فیہ القرآن
رئیس المتکلمین حضرت علامہ مولانا نقی علی خان رحمتہ اﷲ علیہ نے اپنی کتاب ’’اصول الرشاد لقمع مبانی الفساد‘‘ میں ایک اصول ذکر فرمایا۔ ملخصاً پیش کرتا ہوں۔
زمان و مکان کو کسی چیز کی طرف نسبت دی جائے تو اس نسبت دینے کی وجہ سے اس جگہ یا چیز یا وقت کو شرافت و عظمت و بزرگی حاصل ہوتی ہے اور اس وقت اور جگہ میں عبادت کرنا زیادہ فائدہ دیتا ہے۔ اس میں برکتیں زیادہ ملتی ہیں۔ اس میں انوار زیادہ ہوتے ہیں اور نیک کام ان انبیاء کی موجودگی میں یا اولیاء عظام کی حاضری میں بہت اچھا اثر رکھتے ہیں۔ اسی طرح سے ان کی حاضری کے مقامات پر اور ان کے بعد ان کے مزارات پر عمدہ اثر رکھتے ہیں۔ یہی حکم ان ساری نسبت کردہ چیزوں پر بھی جاری ہوتا ہے۔
جس طرح سے حرمین شریفین کی نسبت اﷲ تعالیٰ جل جلالہ و حضور اکرمﷺ کی جانب ہونے کی وجہ سے نمازوں کا ثواب ایک لاکھ و پچاس ہزار تک پہنچتا ہے اور یہ کسی بھی وقت کم نہیں ہوتا۔ اسی طرح حضور علیہ السلام کا زمانہ مبارکہ سب زمانوں میں بہترین شمار ہوتا ہے۔ آقائے نامدار شفیع روز شمارﷺ خود ارشاد فرماتے ہیں۔
’’سب سے بہترین زمانہ میرا زمانہ ہے، پھر اس سے جو ملا ہوا ہے‘‘ تو زمانے کی نسبت حضور علیہ السلام سے ہونے کی وجہ سے بہترین زمانہ ہوا۔
حضور علیہ السلام کے دربار اقدس پر حاضری کے متعلق قرآن مجید میں ارشاد فرمایا کہ ’’ولو انھم اذ ظلموا انفسہم جاؤک… الخ (سورہ نساء آیت 64، پارہ 5)
ترجمہ: اور اگر جب وہ اپنی جانوں پر ظلم کریں تو اے محبوب تمہارے حضور حاضر ہوں اور پھر اﷲ سے معافی چاہیں اور رسول بھی ان کی شفاعت فرمائے تو ضرور اﷲ کو بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں۔
اس آیت میں ایک لفظ ’’جائوک‘‘ (وہ آئیں تیرے پاس) یہ اشارہ کرتا ہے کہ حضور اقدس میں حاضرہونا اور وہاں توبہ و استغفار کرنا اس کی قبولیت اثر میں اور مقام رکھتی ہے۔
قرآن مجید فرقان حمید میں ایک مقام پر ارشاد فرمایا۔
واتخذوا من مقام ابراہیم مصلی (البقرہ 125)
ترجمہ: اور ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ کو نماز کا مقام بنائو۔
دیکھو اس پتھر کے پاس جس پر جناب ابراہیم علیہ السلام نے کھڑے ہوکر کعبہ بنایا اور حج کی اذان دی اور لوگوں کو حج کے لئے بلایا۔ اس پر ان کے قدم شریف کا نقش ہوگیا۔ اس پر کھڑے ہوکر نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا۔شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمتہ اﷲ علیہ اپنی مایہ ناز تفسیر المعروف ’’تفسیر عزیزی‘‘ میں لکھتے ہیں کہ ’’اس پتھر کے پاس کھڑے ہونا اور عبادت الٰہی کرنا گویا کہ ابراہیم علیہ السلام کے پاس حاضر ہونا ہے اور ان کے (قرب میں) سامنے کھڑے رہ کر اﷲ کی عبادت کرنا ہے‘‘
اسی طرح سے ان الصفا والمروۃ من شعائر اﷲ کے ضمن میں لکھا کہ صفا و مروہ کا اﷲ کی نشانیاں ہونا صرف حضرت حاجرہ رضی اﷲ عنہا کی برکت سے ہے کہ ان دو پہاڑوں کے درمیان اﷲ تعالیٰ کا قرب انہیں ملا اور ان کی مشکل بھی حل ہوئی۔
آیت کریمہ شہر رمضان الذی انزل فیہ القرآن کے تحت امام رازی علیہ رحمتہ الباری اپنی تفسیر کبیر میں فرماتے ہیں کہ ’’اﷲ تعالیٰ نے اپنی ربوبیت کی بڑی نشانیوں کے لئے اس ماہ کوخاص فرمایا۔ تو یہ بھی بعید نہیں کہ عبودیت کی عظیم نشانیوں کے لئے بھی خاص فرمائے۔‘‘ مزید فرمایا کہ روزہ اور قرآن مجید کے نازل کرنے میں ایک بڑی مناسبت ہے تو قرآن کے نزول کے ساتھ یہ مہینہ خاص ہے تو واجب ہے کہ روزہ کے لئے بھی خاص ہو۔
حدیث پاک میں آیا کہ رمضان المبارک وہ مہینہ ہے جس میں جبریل امین علیہ السلام سید المرسلینﷺ سے ہر رات ملاقات فرماتے اور قرآن مجید کا دور کرتے اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام ان ایام میں سب سے زیادہ سخاوت کی طرف متوجہ ہوتے۔
سورۃ القدر کی تفسیر کے تحت شیخ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمتہ اﷲ علیہ فرماتے ہیں کہ اس سورۃ مبارکہ کے مضمون سے معلوم ہوتا ہے کہ عبادات و طاعات کو نیک اوقات کے سبب سے اور متبرک مکانات کے سبب سے و حضور و اجتماع صالحین کی وجہ سے ثواب و برکات میں زیادتی حاصل ہوتی ہے (بحوالہ: تفسیر فتح العزیز المعروف تفسیر عزیزی)
اسی طرح شب قدر کی خصوصیات میں مزید فرماتے ہیں:
’’یہ رات چند جہات سے شرف رکھتی ہے‘‘ تیسرے مقام پر فرمایا کہ ’’نزول قرآن اس رات میں ہوا اور یہ ایسا شرف ہے کہ نہایت نہیں رکھتا‘‘ (یعنی اس کی انتہا نہیں) اور چوتھے مقام پر فرمایا ’’فرشتوں کی پیدائش بھی اس رات میں ہے‘‘
قرآن مجید کی بے شمار آیات سے اس اصول کی وضاحت ہوتی ہے۔ چند احادیث سے بھی اس اصول کی تائید حاصل کرتے ہوئے تبرکاً چند احادیث ذکرکرتے ہیں۔
حدیث پاک میں فرمایا (باب ذکر فضل یوم الجمعۃ)
خیر یوم طلعت فیہ الشمس یوم الجمعۃ فیہ خلق آدم
(سنن نسائی جزء 3، حدیث 1369)
بہترین دن جن میں سورج طلوع ہوتا ہے جمعہ کادن ہے کہ اس میں آدم علیہ السلام کو پیدا کیا (آدم علیہ السلام پیدا ہوئے)
اس سے یہ بات بھی ظاہر ہوئی کہ انبیاء کی ولادت بڑے عظیم واقعات سے ہے اور اس وقت میں پیدا کیا جانا کوئی خاص وجہ سے ہے تو اس زمانہ کو خاصیت اور دوسروں سے امتیاز حاصل ہے اور وہ خاصیت جس جمعہ کو تھی وہ ہر جمعہ کو باقی رہتی ہے جس کی وجہ سے اس دن عبادت کرنا اور نیکی کرنا زیادہ فائدہ مند ہے۔
ایک اور حدیث پاک میں فرمایا:
فیہ ولدت وفیہ انزل علی (صحیح مسلم باب استحباب صیام ثلاثۃ ایام من کل شہر و صوم یوم عرفۃ وعاشوراء الاثنین والخمیس ص 478، حدیث نمبر 2750)
پیر کا روزہ اس لئے رکھتا ہوں کہ اس دن میں پیدا ہوا اور اسی دن مجھ پر قرآن کا نزول ہوا۔
اس حدیث کے تحت حضرت علی بن سلطان القاری المعروف ملا علی القاری علیہ رحمتہ اﷲ الباری فرماتے ہیں:
’’حدیث سے یہ بات دلالت ہوتی ہے کہ زمانہ کبھی اس لئے شرف پاتا ہے کہ اس میں کوئی چیز واقع ہوئی اسی طرح سے مکان بھی (وقوع پذیر چیز کی وجہ سے مشرف ہوتا ہے) اسی وجہ سے کہا گیا کہ مکان کا شرف مکین کی وجہ سے ہے (ملخصاً مرقات المفاتیح لمشکاۃ المصابیح)
صحیح مسلم شریف میں ایک حدیث عتبان بن مالک سے مروی ہے فرمایا کہ ’’میری آنکھ میں کچھ عذر واقع ہوگیا تو میں نے حضور پرنورﷺ کی بارگاہ میںایک قاصدبھیجا کہ میں چاہتا ہوں کہ آپﷺ میرے گھر تشریف لے آئیں اورمیرے گھر میں کسی جگہ نماز ادا فرمائیں تو میں اس کو نماز کی جگہ (یعنی مصلّٰی) بنالوں (صحیح مسلم، کتاب الایمان، ص 38، حدیث 149)
اس حدیث کے تحت امام نووی علیہ رحمتہ اﷲ القوی فرماتے ہیں۔
صالحین اور ان کے آثار سے تبرک ان کی نماز پڑھنے کی جگہ پر نماز پڑھنا اس حدیث کے فوائد سے ہے۔
صحابہ کرام رضوان اﷲ علیہم اجمعین کے طریقوں میں آثار مصطفی کریمﷺ سے تبرک حاصل کرنا عام معمول کی بات تھی۔ صحیح بخاری شریف

میں ہے کہ سالم بن عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہم بعض خاص مقامات پر نماز پڑھنے کے لئے جدوجہد و کوشش کرتے اور فرماتے کہ میرے والد عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما بھی ان مقامات مقدسہ پر نماز پڑھتے، جہاں حضور علیہ السلام کو نماز پڑھتے دیکھا۔
عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری میں علامہ امام عینی رحمتہ اﷲ علیہ فرماتے ہیں کہ ابن عمر کا ان مقامات پر نماز ادا کرنا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ وہ اس بات کو بہت اچھا جانتے تھے کہ حضور علیہ السلام کے آثار کی پیروی میں برکت ہے تو صالحین کے آثار سے لوگ ہمیشہ تبرک حاصل کرتے رہے ہیں۔
مسند امام احمد میں حدیث ہے کہ جابر بن عبداﷲ سے روایت ہے۔
حضور علیہ السلام نے مسجد فتح میں تین روز دعا فرمائی۔ پیر، منگل اور بدھ اور بدھ کو دعا مستجاب ہوئی۔ دو نمازوں کے بیچ میں تو حضور علیہ السلام کے چہرہ انور پر بشاشت کے آثار نمودار ہوئے۔ وہ وقت زوال کے بعد عصر سے قبل قبول ہوئی۔ شعب الایمان میں امام بیہقی لکھتے ہیں کہ حضرت جابر اپنے اہم کاموں میں کوشش کرتے کہ اسی وقت میں دعا کریں اور فرماتے ہیں کہ کوئی اہم کام مجھے درپیش ہوتا تو میں اس وقت کا انتظار کرتا اور دعا کرتا تو اس کو قبول ہوتا ہوا پاتا اور وہ پورا ہوجاتا تو مناسب ہے کہ ہم درس و تدریس بدھ کے روز شروع کریں (ملخصاً حدیث 14036، مسند امام احمد بن حنبل و شعب الایمان و حاشیۃ الطحطاوی علی الدر)
معلوم ہوا کہ دعا کی قبولیت کا وقت بدھ کا دن زوال سے عصر تک کے درمیان ہے اور حضرت جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ عنہ کا وقت کا انتظار کرنا اور ان مہمات میں قبولیت پانا مجربات صحابہ سے ہے۔ اس کے علاوہ زمزم شریف کا پانی کھڑے ہوکر پینا تعظیم کی وجہ سے ہے کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کے قدم مبارک لگے ہیں۔ سرزمین مکہ پر چاہ زمزم موجود ہے۔ دیگر یہ کہ حضور اکرمﷺ کے قلب و لب اقدس سے مس کیا جانا اس کی عظمت کی وجوہات سے ہے۔ اسی طرح وضو کے پانی میں تعظیم کی وجہ سے حالت قیام میں پینے کا حکم ہے اور ایسی بیشتر بیماریوں کا علاج جس کا بندہ کو گمان بھی نہیں ہوسکتا۔ شفایاب ہوتا ہے تو بڑی راتوں اور عظمت والی راتوں میںعبادت کرنا اور بزرگوں کے اعراس کے دن محافل منعقد کرنا اسی قاعدہ سے ثابت ہے۔ طوالت کے خوف سے مزید نہیں لکھا۔ یہ فوائد اعلیٰ حضرت کے والد گرامی مولانا نقی علی خان صاحب کے قلم فیض رساں سے جاری ہوئے۔