پوپ کا دورۂ فلسطین اور یہودیوں کا احتجاج

in Tahaffuz, July 2014, سید رفیق شاہ

کیتھولک عیسائی فرقے کے پوپ فرانس نے مشرق وسطی کا تین روزہ دورہ کیا۔ پوپ کے دورے کے کئی مقاصد ہیں جس میں مشرق وسطیٰ سے عیسائیوں کی مغرب ممالک کی جانب منتقلی، مسلمانوں اور عیسائیوں میں رواداری کا فروغ اور حضرت عیسٰی علیہ السلام سے منسوب مقامات مقدسہ کی زیارت اور 900 سال سے جاری آتھوڈکس فرقے کی صلح کے 50 سال مکمل ہونے پر مشترکہ عبادت کرنا شامل تھا۔
پوپ کے دورے کی یہودیوں کی جانب سے مخالفت کی گئی۔ کئی مظاہرے ہوئے۔ سینکڑوں انتہا پسند یہودیوں کو نظر بند اور گرفتار کرلیا گیا۔ تین روزہ دورے کے پہلے روز اردن پہنچے اور شاہ عبداﷲ ثانی سے ملاقات کی اور اردن میں عیسائیوں کو اسلامی احکامات کے مطابق سہولتوں کی فراہمی پر اطمینان کا اظہار کیا۔
مشرق وسطیٰ میں عیسائی آبادی تقریبا ایک کروڑ ہے جوکہ خطے کی کل آبادی کا 5 فیصد ہے جبکہ گزشتہ سالوں میں عیسائی آبادی خطے کی کل آبادی کا 20 فیصد تھی۔ جو اب مسلسل کم ہورہی ہے۔ عیسائی آبادی والے ممالک میں شام، اردن، عراق، لبنان اور مقبوضہ فلسطینی علاقے شامل ہیں۔ خطے کی صورتحال کے پیش نظر عیسائیوں کی بڑی تعداد تیزی سے مغربی ممالک کی جانب منتقل ہورہی ہے۔
پوپ نے فلسطین کا بھی دورہ کیا۔ فلسطینی صدر محمود عباس نے ان کا استقبال کیا۔ مشترکہ پریس کانفرنس کی اور یہودیوں کی کارستانیوں سے بھی آگاہ کیا۔ عیسائیت کی تاریخ کاپہلا واقعہ ہے کہ کئی پوپ نے قابض یہودی ریاست اسرائیل جانے کی بجائے پہلے فلسطین کے مغربی کنارے کا دورہ کیا جہاں بیت الحلم عیسائی عقیدے کے مطابق حضرت عیسٰی علیہ السلام کی جائے پیدائش ہے۔ پوپ نے مظلوم فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کیا۔ پوپ کی خواہش ہے کہ امریکہ، یورپ کو یہودیوں سے نجات دلائی جائے۔ پہلی مرتبہ عیسائیت کی اعلیٰ اتھارٹی نے آزاد فلسطینی ریاست کی حمایت کی ہے اور دورے کے چند روز بعد ہی مغرب نواز یاسر عرفات کی الفتح اور حماس کے درمیان مشترکہ اقتدار کا معاہدہ ہوا جس کا امریکہ نے بھی خیر مقدم کیا۔ دورے کے آخر میں وہ اسرائیل گئے۔
ایک ارب بیس کروڑ کیتھولک عیسائیوں کے 77 سالہ پوپ کے دورے کی روداد کا مقصد دورے کے دوران یہودیوں کا عیسائی مخالف رویہ جس کی کسی بھی مغربی ممالک نے نہ تو مذمت کی اور نہ ہی افسوس کیا اور حد تو یہاں تک ہوگئی کہ مقبوضہ بیت المقدس میں ایک انتہا پسند یہودی نے مقدس کتاب اور چرچ نذر آتش کردیا اس پر بھی امریکہ، یورپ سمیت کسی کی بھی اظہار مذمت و افسوس کی ایک چھوٹی سی بھی خبر نہیں آئی اور نہ ہی پوپ سے ہمدردی کا اظہار کیا گیا۔
اگر کوئی مسلمان، مغرب اور امریکہ کے اسلام دشمن رویہ کے ردعمل میں ایسی کوئی حرکت کرتا تو امریکہ اور مغربی سامراج اس فرد اور اس کے ملک کے خلاف محاذ قائم کرچکے ہوتے اور اس فرد کے لئے زمین تنگ کردی جاتی۔ یہودیوں کی عیسائی مخالف مہم اور مقدس کتاب اور چرچ کو نذر آتش کرنے کے باوجود اہل کلیساء کی سرد مہری قابل افسوس و مذمت ہے۔ مسلمان دنیا کی ایک بڑی طاقت ہونے کے باوجود گروہوں، فرقوں اور عرب و عجم و دیگر لسانی گروہوں میں تقسیم ہیں جس کا استعماری طاقتیں خوب فائدہ اٹھا رہی ہیں۔ مسلم دنیا میں حکمران سامراجی طاقتوں کی رضامندی سے بنائے جاتے ہیں اور ان ہی کی مرہون منت رہتے ہیں جس میں عرب دنیا کے رنگیلے بادشاہ اور حجاز مقدس پر آل سعود شامل ہے۔
ہمیں بحیثیت مسلم بیداری امت مہم چلاکر مسلم کی یکجہتی و طاقت کے لئے کوششیں کرنا ہوگی۔ مصطفی کریمﷺ اور خلفائے راشدین سے اپنے آپ کو غیر مشروط طور پر جھنجھوڑنا ہوگا۔