بوکو حرام …افریقی طالبان

in Tahaffuz, July 2014, سید رفیق شاہ

افریقی ملک نائیجیریا کے ایک قصبے پی بوک میں 14 اور 15اپریل کی درمیانی شب گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول سے 329 طالبات کو اغواء کرلیا گیا جس میں سے 53 طالبات کسی طرح اپنی جان بچانے میں کامیاب ہوگئیں جبکہ 276 طالبات بوکو حرام نامی تنظیم کی قید میں ہیں۔ بوکو حرام کالعدم تحریک طالبان کی طرز پر کارروائیاں کرتا ہے۔ یہ گروہ ایسے سخت گیر نظریے کی پیروی کرتا ہے جو مسلمانوں کو کسی بھی قسم کی مغربی طرز سیاست، معاشرت، معیشت میں حصہ لینے اور تعلیم حاصل کرنا بھی منع ہے۔ لباس میں ٹی شرٹ پہننا بھی قابل جرم ہے۔ ان کی یہ کارروائیاں سو سال سے بھی زیادہ پرانی ہے۔ 19 ویں صدی عیسوی میں شمالی نائیجیریا، نائیجیریا اور جنوبی کیمرون پر سوٹو کو خلافت کی حکومت تھی۔ 1903ء میں برطانیہ نے سوٹو کی خلافت کو شکست دے کر ان علاقوں پر اپنا تسلط قائم کردیا۔ بوکو حرام یعنی مغربی طرز تعلیم کے خلاف مہم جاری ہے۔ بہت سے مسلمان اپنے بچوں کو مغربی طرز کے تعلیمی اداروں میں نہیں بھیجتے۔ ان حالات ایک مسلم مذہبی رہنما محمد یوسف نے میدو گیری شہر میں 2002ء میں بوکو حرام کی بنیاد رکھی جس کے لفظی معنی مغربی تعلیم حرام ہے۔ انہوں نے ایک مسجد بنائی جس کے احاطے میں مدرسہ بھی قائم کیا۔ نائیجیریا اور ہمسایہ ممالک کے بہت سے غریب خاندانوں کے بچے اس مدرسے میں تعلیم حاصل کررہے ہیں لیکن بوکو حرام کی دلچسپی صرف تعلیم تک محدود نہیں تھی۔ ان کا سیاسی ایجنڈا بھی ہے جس کے تحت اسلامی ریاست کا قیام ہے۔ یہ مدرسہ حکومت کے خلاف لڑنے کے لئے جہادیوں کو بھرتی کرنے کا بھی مرکز بن چکا ہے۔ 2009ء میں بوکو حرام نے میدو گیری شہر میں پولیس اسٹیشنوں اور سرکاری عمارتوں پر حملے کئے۔ یہاں ہنگامے ہونے لگے۔ بوکو حرام کے سیکڑوں حمایتی ہلاک ہوگئے جبکہ ہزاروں شہری شہر چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ بوکو حرام کے قتل و غارت گری کے خلاف حکومتی فوج نے ان کے مراکز پر قبضہ کرکے ان کے جنگجوئوں کو گرفتار اور کئی کو ہلاک کردیا۔ سربراہ محمد یوسف بھی ہلاک ہوگیا۔ اس موقع پر حکومت نے تنظیم بوکو حرام کے خاتمے کا بھی اعلان کردیا۔ پھر کچھ عرصے کے بعد بوکو حرام کے بچے کھچے جنگجو ایک نئے سربراہ ابوبکر شیکائو کی قیادت میں جمع ہونے لگے اور 2010ء میں میدو گری جیل پر حملہ کرکے اپنے گرفتار سیکڑوںساتھیوں کو چھڑا لیا۔ الغرض بوکو حرام کی قید میں 276 طالبات کو گورنمنٹ اسکول سے اغوا کرکے لڑکوں کے ذریعے اپنے علاقوں میں لے جایا گیا ہے۔ ان طالبات کی زبردستی بوکو حرام کے جنگجوئوں سے 12 ڈالر حق مہر کے عوض میں شادیاں کروائی جارہی ہے۔ ان میں سے بعض طالبات کو پڑوسی ممالک چاڈ اور کیمرون میں فروخت کردیاگیا ہے۔ اس گروہ کا سربراہ بڑے فخریہ انداز میں انہیں کنیزیں کہتا ہے اور دعویٰ کرتا ہے کہ اس کے مذہب میں غلامی جائز ہے اور وہ غلام بناتا اور فروخت کرتا رہے گا جبکہ میرے کریم آقا حضرت محمدﷺ نے انسانوں کو انسانوں کی غلامی سے نجات دلائی۔
بوکو حرام کے اس عمل کا دین محمدی سے کوئی تعلق نہیں۔ دنیا بھر میں ان کی مذمت کی گئی ہے۔ علماء اور مسلم اسکالرز نے بوکو حرام کے عمل کو گمراہ کن اور اسلام کو داغ دار کرنے کے مترادف قرار دیا ہے۔ طالبان، القاعدہ، جماعۃ الدعوہ یا دنیا بھر میں جہاد اور مسلمان ملکوں میں حکومتوں کے قیام اور خود ساختہ نظریات کے مطابق ریاستی قوانین بنانے اور عوام پر مسلط کرنے کے پیچھے استعماری قوتیں کارفرما ہیں۔ ان گروہ کو سرمایہ، افرادی قوت اور ان کی تشہیر کرنے کا مقصد بھی صرف اسلام کی اصل روح کو مسخ کرکے دنیا کے سامنے پیش کرنا، غیر مسلم اقوام میں مسلمانوں کو جاہل، جنگجو اور دہشت گرد کے طور پر پیش کرنا، ان کی پالیسیوں کا حصہ ہے۔ لارنس آف عریبیہ، ہمفرے کے
اعتراضات، جنگوں کے سوداگر اور دیگر کتب کے مطالعہ سے استعماری سازشوں سے باآسانی آگاہی حاصل کی جاسکتی ہے۔ پاکستان میں طالبان اور جہادی گروپ امریکہ اور سعودی عرب کی سرپرستی میں قائم ہوئے تھے اور آج پس پردہ انہیں ان کی مدد و معاونت حاصل ہے۔ پاکستان کے پہاڑی علاقے جہاں بجلی میسر نہیں، ان طالبان کو جدید ٹیکنالوجی اور سیٹلائٹ سسٹم کی سہولت حاصل ہے۔ آئے روز پاکستان میں ایف بی آئی کے ایجنٹ گرفتار ہوتے ہیں اور وی آئی پی پروٹوکول میں رہنے کے بعد رہا ہوجاتے ہیں۔ ذرائع ابلاغ میں بہت کچھ لکھا جارہا ہے۔ ہمیں صرف بیدار قوم کا ثبوت دینا ہوگا اور ایسی تمام کارروائیوں سے بیزاری کا اظہار کرنا ہوگا جو اسلام اور شریعت کے نام پر اسلامی تعلیمات کے خلاف ہوں۔
آخری اطلاعات کے مطابق 15,14 اپریل کو ہونے والے واقعہ کو ماہ جون کا درمیان آگیا مگر طالبات ان ہی کے قید میں ہیں اور بوکو حرام کی کارروائیاں اور بڑھ گئی ہیں۔ اقوام متحدہ نے بوکو حرام پرپابندی عائد کرتے ہوئے اسے دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرلیا ہے۔