محترم المقام محمّد مقصود نو شاہی اویسی کا دورہ پنجاب

in Tahaffuz, June 2014, محمّد مقصود نو شاہی اویسی

۳ جمادی الآخر بمطابق ۴ اپریل برو زجمعۃ المبارک احقر پنجاب کے دورے پر بہاولپور پہنچا۔ سب سے پہلے فیض ملت، مفسر اعظم پاکستان ابوالصالح حضرت علامہ محمد فیض احمد اویسی رضوی علیہ الرحمہ کے مزار اقدس پر حاضری دی اور فاتحہ خوانی کی۔ ۴ جمادی الآخر بروز ہفتہ احمد پور شرقیہ آیا۔ حضرت علامہ منظور احمد فیضی اور آپ کے والد گرامی حضرت علامہ محمد ظریف فیضی علیہم الرحمہ کے مزارات مقدسہ پر حاضری دی اور فاتحہ پڑھی۔ ۵ جمادی الآخر بروز اتوار اچ شریف حاضر ہوا اور یہاں کے تمام مقدس مزارات کی زیارت کی اور فاتحہ خوانی کی۔
بہاولپور سے احمد پور شرقیہ: ۵۰ کلومیٹر فاصلہ تقریبا (ایک گھنٹہ)
احمد پور شرقیہ سے اچ شریف: ۲۰ کلومیٹر فاصلہ تقریبا (آدھا گھنٹہ)
احقر نے اچ شریف میں جن مقدس مزارات کی زیارت کی اس کی تفصیل کچھ اس طرح ہے۔
حضر حامد شمس الدین گیلانی علیہ الرحمہ کے مزار اقدس پر حاضری دی۔ آپ کا سن وصال ۱۴ شعبان المعظم ۱۴۰۱ھ سنگ مرمر کے کتبے پر تحریر ہے۔
حضرت محمد غوث بندگی جیلانی اوچی علیہ الرحمہ
پیدائش حلب ۸۳۳ھ (شام) وصال ۹۲۳ھ
حضرت سید عبدالقادر ثانی پیر محبوب سبحانی
ولادت: ۸۶۲ھ وصال: ۱۸ ربیع الاول ۹۴۰ھ
سلسلہ عالیہ قادریہ غوثیہ، اچ شریف
دربار جلالیہ عالیہ حضرت صدر الدین راجن قتال بخاری علیہ الرحمہ
دربار عالیہ حضرت شیخ صلاح الدین المعروف ابو حنیفہ علیہ الرحمہ
حضرت فضل الدین لاڈلہ علیہ الرحمہ
زیارت گاہ مسجد حاجات، یہ مسجد حضرت محمد بن قاسم کے دور کی مسجد ہے۔ اس مسجد میں اولیائے کرام نوافل کی ادائیگی کے بعد جو بھی دعا فرماتے۔ وہ بارگاہ الٰہی میں قبول ہوتی تھی۔ اسی مسجد میں حضرت نصیر الدین روشن چراغ دہلوی علیہ الرحمہ نے چلہ فرمایا اور بہت سے اولیائے کرام نے اس مسجد میں اعتکاف بھی فرمایا۔
کنواں مبارک: حضرت بابا فرید الدین گنج شکر رحمتہ اﷲ علیہ نے یہاں چلہ کشی فرمائی۔
قدم مبارک: حضرت علی کرم اﷲ وجہ
دیوار مبارک: حضرت مخدوم جہانیاں جہاں گشت علیہ الرحمہ
مزار اقدس: حضرت مخدوم جہانیاں جہاں گشت علیہ الرحمہ
آپ کی ولادت باسعادت ۱۴ شعبان المعظم ۷۰۷ھ بمطابق ۱۹ جنوری ۱۳۰۸ء بروز جمعرات اچ شریف میں ہوئی۔ آپ آٹھویں صدی عیسوی کے مشہور عالم شیخ طریقت، سیاح معرفت سہروردیہ، جلالیہ، اویسیہ سلسلہ کے نامور علماء و سلاطین میں سے تھے۔ پیر سید مخدوم جہانیاں جہاں گشت کی علمی، روحانی اور اصلاحی سرگرمیوں سے نہ صرف برصغیر بلکہ ان کے علوم و افکار کے اثرات بیرون ہند بھی پہنچے۔ حضرت شیخ جمالی علیہ الرحمہ نے مکہ مکرمہ،مدینہ منورہ اور بغداد میں مقدس مقامات پر حضرت مخدوم جہانیاں جہاں گشت کے متبرک حجرے دیکھے اور ہر جگہ مجاور، جاروب کش موجود ہیں، چراغ جلاتے ہیں۔ حضرت مخدوم نے دو بار روئے زمین کی سیر کی۔ ۳۶ بار پاپیادہ حج کئے، جن میں ۶ حج اکبر ہیں۔ حضرت مخدوم نے دہلی کے سات بادشاہوں کا دور حکومت دیکھا جن میں علائو الدین خلجی، شہاب الدین غوری، شہاب الدین خلجی، قطب الدین مبارک شاہ، ناصر الدین خسرو، غیاث الدین تغلق اور فیروز شاہ تغلق ہیں۔ حضرت سید صدر الدین راجن قتال علیہ الرحمہ کا فرمان اقدس ہے کہ آپ نے ۳۶۰ اہل کمال علماء و صلحاء اولیاء اﷲ سے دین محمدی میں کمال حاصل کیا۔ تارک السلطنت حضرت سید اشرف جہانگیر سمنانی علیہ الرحمہرقم طراز ہیں ’’بہت سے اہل اﷲ نے علم دین کے لئے سیاحت کی لیکن حضرت مخدوم پاک نے جس طرح سفر فرمایا۔ اس طرح کسی اور نہیں کیا۔ عالم باعمل، مورخ اسلام حضرت علامہ شیخ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ کا فرمان اقدس ہے کہ حضرت مخدوم جہانیاں جہاں گشت نے مصر، خراساں، عراق، بلخ و بخارا کا سفر کیا۔ بہت سے نامور اولیائے کرام و مشائخ عظام سے مل کر اپنی علمی پیاس بجھائی اور علمی دولت کو سمیٹا۔ منقول ہے کہ حضرت مخدوم جہانیاں جہاں گشت کو جہانیاں کا لقب روضۂ رسولﷺ سے حاصل ہوا۔ روایت کچھ یوں ہے کہ ایک مرتبہ حضرت مخدوم آقائے دوجہاں حضور رحمت عالم نور مجسمﷺ کے مزار پر انوار کی زیارت کے لئے تشریف لے گئے، لیکن مجاور روضہ نے لمبے بالوں کے سبب آپ کو اندر داخل ہونے سے منع کردیا۔ آپ نے فرمایا ’’میں زلف تراشی غیر سید سے نہیں کروانا چاہتا‘‘ مجاور نے کہا۔ آپ کہاں کے سید ہو تو حضرت مخدوم پاک نے فرمایا ’’میں ہند سے آیا ہوں‘‘ تو مجاور نے تصدیق کرنے کے لئے کہا کہ ہند میں سید کہاں آگئے؟ تو حضرت مخدوم نے فرمایا کہ میں آقائے دوجہاںﷺ کی خدمت میں ہدیۂ سلام پیش کروں اور وہ جواب دیں تو پھر مانوگے؟ مجاور نے اثبات میں سر ہلایا۔ حضرت مخدوم پاک نے سلام کیا ’’السلام علیکم یاجدی‘‘ اے نانا جان سلام ہو۔
آقائے نامدار، مدنی سرکار، ساقی کوثرﷺ نے سلام کا جواب دیا ’’وعلیکم السلام یا ولدی، یا اہل بیتی و قرۃ عینی‘‘ تو وہاں موجود تمام سامعین ششدر رہ گئے۔ روضہ پاک کا مجاور آپ کا معتقد ہوگیا اور آپ کو مخدوم جہانیاں کے لقب سے نوازا۔ یوں آپ مخدوم جہانیاں مشہور ہوئے۔حضرت مخدوم جہانیاں جہاں گشت کا اصل نام نامی اسم گرامی سید جلال الدین حسین تھا۔ آپ کا وصال مبارک ۱۰ ذوالحجہ ۷۸۵ھ بمطابق ۳ فروری ۱۳۸۴ء چہار شنبہ کو ہوا۔ آپ کا عرس مبارک عیدالاضحی کے دن شروع