ہماری پولیس اور چائے پانی

in Tahaffuz, June 2014, محمد عمران میمن

مملکت خداداد پاکستان جوکہ ہم نے اسلام کے نام پر حاصل کیا تھا مگر افسوس کہ اس ملک کے تمام سرکاری اداروں میں اسلامی تعلیمات کا نام و نشان تک نہیں۔ سرکاری اداروں میں سے ایک بہت اہم ادارہ اور محکمہ، پولیس کا محکمہ ہے۔ اس محکمہ میں جتنی کرپشن ہے، شاید ہی کسی ادارے میں ہوگی۔ سرعام رشوت لینا، قاتلوں کی سرپرستی کرنا، بے قصوروں پر زیادتیاں کرکرکے ان سے مال بٹورنا، سیاسی جماعتوں سے بھتہ وصول کرنا، مجرموں کو بھاری رقوم کے عوض رہا کروانا، بھتے کے عوض شراب خانوں اور جوے کے اڈوں کی سرپرستی کرنا الغرض کہ آپ کو جتنا بھی بڑا جرم کرنا ہو، پولیس والوں پر نوٹوں کی بارش کردو، آپ کو اس ملک میں کوئی ہاتھ بھی نہیں لگائے گا۔ یہاں ایک بات یاد رہے کہ تمام پولیس والے کرپٹ نہیں بلکہ ان کی بھاری اکثریت رشوت کے لین دین میں ملوث ہے چند اچھے لوگ ہیں جن کو کرپٹ اہلکار آگے نہیں آنے دیتے۔
آج ہم آپ کے سامنے محکمہ پولیس کے بہت اہم ادارے سینٹرل جیل کراچی کی بات کریں گے۔ چند روز قبل میرا سینٹرل جیل کراچی جانے کا اتفاق ہوا۔ پولیس والوں کی تعریف تو میں نے بہت سنی تھی مگر جو منظر میں نے اپنی آنکھوں سے وہاں دیکھا۔ وہ آپ کو بیان کرتا ہوں۔
جب میں سینٹرل جیل (کراچی) کے مرکزی دروازے سے اندر داخل ہوا تو میں نے دیکھا کہ چیکنگ کی جاتی ہے۔ مردوں کو مرد پولیس اہلکار اور عورتوں کو خواتین پولیس اہلکار منہ میں پان اور گٹکا دبائے عورتوں کی چیکنگ کرتی ہیں۔ چیکنگ کے بعد پولیس والوں کی جانب سے آواز آتی ہے۔ چائے، پانی…
چائے، پانی کے پیسے جب تک آپ نہیں دیں گے، آپ آگے نہیں بڑھ سکتے… دوسرا مرحلہ موبائل فون جمع کروانے کا ہے، جہاں آپ کو موبائل فون جمع کروانا پڑتا ہے۔ موبائل فون جمع کروانے پر آپ کو پولیس اہلکار ایک ٹوکن دے گا، ٹوکن دینے کے بعد پولیس اہلکار پھر آواز لگائے گا چائے، پانی… چائے، پانی دیئے بغیر آپ آگے نہیں بڑھ سکتے۔
تیسرے مرحلے میں انٹری کروانی پڑتی ہے۔ انٹری کروانے کے بعد پھر پولیس اہلکار کی جانب سے آواز آتی ہے چائے، پانی… چائے پانی دیئے بغیر آپ آگے نہیں بڑھ سکتے۔
چوتھے مرحلے میں انتظار گاہ کے دروازے پر پہنچا، وہاں تیسری مرتبہ سیکورٹی کے نام پر چیکنگ کی گئی۔ چیکنگ کے بعد پولیس اہلکار ڈھٹائی کے ساتھ اپنا حصہ چائے، پانی کی صورت میں مانگتے ہیں۔ انتظار گاہ میں پہنچنے کے بعد ایک بہت ہی تکلیف دہ مرحلہ شروع ہوجاتا ہے، جوکہ انتظار کا ہے۔ لوگوں کو اپنے پیاروں سے ملنے کے لئے گھنٹوں انتظار کرنا پڑتاہے۔ وہاں پہنچ کر ایک کھڑکی سے آپ کو نمبر لینا پڑتا ہے جوکہ ملاقات کا نمبر ہوتا ہے اور جو صاحب نمبر دیتے ہیں، وہ بھی نمبر دے کر یہ صدا لگاتے ہیں، چائے، پانی…
اب نمبر لے کر میں بیٹھ گیا۔ انتظار کرتا رہا، کرتا رہا۔ گھنٹوں گزر گئے۔ بعد میں یہ راز فاش ہوا کہ ان مردہ ضمیر رشوت خور اہلکاروں کو اگر زیادہ چائے پانی دے دیا جائے تو وہ گھنٹوں تک بٹھانے کے بجائے جلد ازجلد آپ کی ملاقات کروادیں گے۔ لہذا میرے سامنے یہ بات واضح ہوئی کہ نمبر لیتے وقت اگر چائے پانی زیادہ دی جائے تو شارٹ لسٹ میں آپ کا نام لکھ دیا جاتا ہے اور جلدی آپ کی ملاقات کروادی جاتی ہے۔
ملاقات کے بعد آپ اگر اپنے قیدی کو کچھ رقم دینا چاہیں، تو وہ پولیس اہلکار کے ذریعہ دینی پڑتی ہے۔ وہ پولیس اہلکار اس رقم میں سے پہلے اپنا حصہ نکالتا ہے۔ پھر بقیہ رقم قیدی تک پہنچاتا ہے۔ اس کے علاوہ اگر کچھ کھانے، پینے کا سامان، کپڑے وغیرہ قیدی کو پہنچانے ہوں تو ایک پولیس اہلکار اس سامان کی لسٹ پر مہر لگاتا ہے اور پھر یہ آواز لگاتا ہے، چائے، پانی…
اب یہ سامان کائونٹر پر جمع کروانا پڑتا ہے۔ کائونٹر پر موجود اہلکار جو یہ سامان وصول کرتا ہے، سامان وصول کرنے کے بعد وہ بھی یہی آواز لگاتا نظر آتا ہے، چائے، پانی…
سب سے انوکھی بات جو میں نے دیکھی، وہ یہ تھی کہ اگر آپ کو الگ کمرے میں بیٹھ کر ملاقات کرنی ہو تو اس کے لئے بھاری بھرکم چائے پانی دینا پڑتا ہے اور اگر آپ نے ان کی مٹھی گرم نہ کی تو آپ کو اپنے عزیز سے ملنے کے لئے چار چار پانچ پانچ گھنٹے انتظار کی تکلیف اٹھانی پڑے گی۔
وہاں میری ملاقات ان لوگوں سے بھی ہوئی، جو چار ماہ اور چھ ماہ بعد اپنے پیاروں سے ملنے آئے تھے۔ تاخیر کی وجہ صرف یہ تھی کہ ان کے پاس ضمیر فروش پولیس اہلکاروں کو دینے کے لئے رقم نہیں تھی۔ جب چار یا چھ ماہ میں رقم جمع ہوئی تو وہ ملنے آئے۔ سینٹرل جیل (کراچی) میں ہر شخص پریشان تھا اور ہاتھ اٹھا کر پولیس اہلکاروں کو بددعائیں دے رہا تھا۔
شاید یہ ظالم، جابر، رشوت خور اور ضمیر فروش پولیس اہلکار اپنی موت کو بھول چکے ہیں۔ یہ لوگ نہیں جانتے کہ وہ اپنی اولاد اور اپنے گھر والوں کا پیٹ حرام سے بھر رہے ہیں اور حرام سے پلا بڑا وجود کبھی وفادار نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا جانتی ہے کہ ان کی اولاد ان کے ساتھ آج کیا سلوک کررہی ہے۔ یہ تو صرف دنیا میں ہے۔ حساب و کتاب کا اصل مرحلہ تو مرنے کے بعد شروع ہوگا۔ وہاں یہ کیا جواب دیں گے؟
محترم قارئین کرام! یہ تو صرف سینٹرل جیل (کراچی) کے احوال ہیں جوکہ میں نے آپ کے سامنے پیش کئے، یقینا آپ کو شدید رنج پہنچا ہوگا اور کیوں نہ پہنچے کہ ہر زندہ دل انسان ایسی داستان پڑھ کر ضرور دکھی ہوگا۔ یاد رہے کہ یہ جو کچھ ہورہاہے، اس کے بارے میں قیامت کے دن عیاش حکمرانوںسے پوچھا جائے گا کہ تمہارے دور حکومت میں یہ کیا ہورہا تھا؟
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکمران بیدار ہوں اور اس بڑھتی ہوئی رشوت اور چور بازاری کو روکیں۔ یہ بات میں آپ کو وثوق کے ساتھ کہہ رہا ہوں کہ یہ جو کچھ ہورہا ہے، سب حکمرانوں کے علم میں ہے لہذا ان کو اس کی مکمل روک تھام کرنی چاہئے اور اس ظلم کے خلاف ایکشن لینا چاہئے۔