حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ

in Tahaffuz, June 2014, خان آصف

دوسرے یہ کہ غیاث الدین بلبن علم دوست ضرور تھا مگر اس کے دماغ میں بوئے سلطانی موجود تھی۔ وہ ایسے علماء کو نوازتا تھا جو اس کے دربار میں حاضری دیا کرتے تھے اور اس کی شان میں قصیدے لکھا کرتے تھے۔ سلطان کو درویشوں سے کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی۔ اور حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ ایسے درویش تھے جو قصر سلطانی کی طرف دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتے تھے۔ پھر دونوں میں کس طرح قربت کے رشتے قائم ہوئے؟
آخر سلطان غیاث الدین بلبن شدید محرومی کے عالم میں دنیا سے رخصت ہوگیا۔ اس کا لائق ترین بیٹا سلطان محمد مغلوں کے ہاتھوں شہید ہوگیا۔ بغرا خان عیش و عشرت میں مبتلا تھا۔ مجبوراً بلبن نے خان شہید کے بیٹے کنیحسرو کے نام وصیت کی۔ ملک فخر الدین کوتوال بلبن کا ایک طاقتور امیر تھا۔ شہزادہ خان شہید اپنی زندگی میں ملک فخر الدین کوتوال کو ناپسند کرتا تھا۔ نتیجتاً اس نے خان شہید کی روح سے انتقام لینے کے لئے اس کے بیٹے کے بجائے بغرا خان کے لڑکے معز الدین کیقباد کو ہندوستان کے تحت پر بٹھادیا۔ اگرچہ بلبن نے کیقباد کو نامور اساتذہ سے تعلیم دلائی تھی اور خود بھی اسے عیش و عشرت کی فضائوں سے دور رکھا تھا… مگر اٹھارہ سال کی عمر میں تاج سلطانی سر پر رکھتے ہی اس کے قدم لڑکھڑا گئے۔ پھر معز الدین کیقباد گناہوں کی پستی میں ایسا گرا کہ اسے کچھ ہوش ہی نہیں رہا۔ وہ کون سی رنگینی تھی جو معز الدین کیقباد نے مہنگے داموں نہیں خریدی… اور وہ کون سی بدمستی تھی جو اس کے حلقہ اختیار میں نہیں تھی… ساغر وصراحی، رقص و نشاط تھا جس کے سہارے معز الدین کیقباد کی زندگی بسر ہورہی تھی۔ آخر اکیس سال کی عمر میں وہ فالج کا شکار ہوکر بستر علالت پر دراز ہوگیا۔
معز الدین کیقباد نے ایک ویران علاقے کیلوکھڑی کو آباد کیا۔ یہ وہی مقام ہے جہاں حضرت قطب الدین بختیار کاکی علیہ الرحمہ نے قیام فرمایا تھا۔ بعد میں آپ سلطان شمس الدین التمش کی درخواست پر ’’مہرولی‘‘ تشریف لے آئے تھے۔ کیقباد نے کیلوکھڑی میں شاہی قلعے کی بنیاد رکھی، ایک دلکش جامع مسجد تعمیر کرائی اور سرکاری دفاتر دہلی سے یہاں منتقل کرادیئے۔ نتیجتاً یہ سنسان جگہ امراء اور سرکاری ملازمتوں کی پرہجوم بستی میں تبدیل ہوگئی۔
کیلوکھڑی سے دو تین میل کے فاصلے پر ’’غیاث پور‘‘ ہے جہاں حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ ذکر الٰہی میں مشغول تھے۔ یہی وہ زمانہ تھا جب سرکاری کارندوں کا ہجوم دیکھ کر حضرت محبوب الٰہی علیہ الرحمہ کسی اور جگہ تشریف لے جانا چاہتے تھے۔
یہ بڑی عجیب بات ہے کہ ’’کیلوکھڑی‘‘ میں جشن کیف ونشاط جاری تھا… اور بمشکل دو تین میل کے فاصلے پر ’’غیاث پور‘‘ میں درویشوں کی ایک جماعت فاقہ کشی کے دور سے گزر رہی تھی۔ جہالت پر دنیاوی نعمتوں اور آسائشوں کی بارش ہورہی تھی اور اہل علم کے پیٹ پر پتھر بندھے ہوئے تھے… یہ درویشوں کی کم نصیبی نہیں، خود معزالدین کیقباد کی بدبختی تھی کہ وہ حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کے پڑوس میں رہتے ہوئے بھی آپ کی دعائوں سے محروم رہا۔
حضرت محبوب الٰہی علیہ الرحمہ کو تو اپنی بے سروسامانی کا خیال تک نہ آتا کہ آپ اس مرد جلیل کے تربیت یافتہ تھے جس نے قرض لئے ہوئے نمک کا سالن کھانے سے انکار کرتے ہوئے فرمایا تھا۔
’’نظام الدین محمد! درویش کو بھوک کی شدت سے مرجانا قبول ہے مگر قرض کی ذلت گوارا نہیں‘‘
حضرت بابا فرید علیہ الرحمہ کی اسی تعلیم اور فیض صحبت نے محبوب الٰہی علیہ الرحمہ کو صبر وتحمل کی آگ میں اس قدر جلایا تھا کہ آپ نوعمری ہی میں اکسیر بن گئے تھے … مگر ساتھی درویشوں کی تکلیف ہروقت پیش نظر رہتی تھی۔
اسی زمانے میں حضرت برہان الدین غریب علیہ الرحمہ اور حضرت شیخ کمال الدین یعقوب علیہ الرحمہ جیسے عظیم بزرگ حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کی زیر نگرانی معرفت کی ابتدائی منزلیں طے کررہے تھے جب مسلسل کئی دن تک فاقے ہونے لگتے تو محبوب الٰہی علیہ الرحمہ اپنے مریدان خاص سے مخاطب ہوکر فرماتے۔
’’میں جانتا ہوں کہ تم لوگ میری خاطر یہ مصائب برداشت کررہے ہو اور اس ویرانے میں پڑے ہو جہاں زندگی کی کوئی آسائش تو کجا ایک وقت کی سوکھی روٹی بھی میسر نہیں۔ تمہیں خبر ہونی چاہئے کہ اﷲ کی زمین تنگ نہیں ہے۔ میں رزق حرام کی بات نہیں کرتا۔ اﷲ کی آباد کی ہوئی بستیوں میں حلال کی روزی بھی بکثرت موجود ہے۔ تم لوگ شریعت کے دائرے میں رہ کر بھی دنیا کی نعمتوں سے لطف اندوز ہوسکتے ہو۔ ناہموار زمین پر سوتے سوتے یقینا تمہارے جسم دکھنے لگے ہوں گے۔ میں تمہیں خوشی سے اجازت دیتا ہوں کہ تم اپنی پشت کے لئے نرم بستر تلاش کرو کہ یہ سب کچھ جائز ہے… میری طرف نہ دیکھو کہ مجھے تو ویرانے میں رہنے کی عادت سی پڑ گئی ہے… اور میں تمہیں اس بات کی بھی اجازت دیتا ہوں کہ اپنے شکم کو فاقہ کشی کی آگ سے بچالو کہ اﷲ نے تمہاے لئے بے شمار چیزیں حلال کی ہیں۔ میرے بھوکا رہنے پر نہ جائو کہ میرا بچپن اسی بے سروسامانی میں گزرا ہے۔ میں تم سے بہت خوش ہوں اور رضا ورغبت سے یہ بات کہہ رہا ہوں کہ میری خاطر اتنے آزار نہ اٹھائو۔ مجھے تمہاری بھوک اور ناآسودہ زندگی کا خیال بہت پریشان کرتا ہے۔ میں تمہارے ظاہری سکون کے لئے اﷲ سے شب و روز دعا کرتا ہوں مگر ابھی اس کا وقت نہیں آیا ہے‘‘
حضرت برہان الدین غریب علیہ الرحمہ اور مولانا کمال الدین یعقوب علیہ الرحمہ اپنی زندگی سنوارنے کے لئے تکلیفیں برداشت کررہے تھے۔ مگر یہ حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کی اعلیٰ ظرفی تھی کہ اپنی ذات کو مریدوں کے آزار کا سبب قرار دیا۔ پیرومرشد کی یہ باتیں سن کر حضرت برہان الدین غریب علیہ الرحمہ اور مولانا کمال الدین یعقوب علیہ الرحمہ بے قرار ہوگئے اور حضرت محبوب الٰہی علیہ الرحمہ کے سامنے گریہ و زاری کرنے لگے۔
’’شیخ! ہم تو اس در پر آپڑے۔ اب اور کہاں جائیں گے؟ آپ کی محبتوں کے سوا ہمارا کوئی ٹھکانا نہیں۔ خدمت شیخ میں گزرنے والا فاقہ کشی کا ایک دن ہمارے لئے زندگی بھر کی نعمتوں سے زیادہ ہے۔ اگر ہمیں حکومت ہند بھی دے دی جائے تو ہم اس کے بدلے میں آپ کی قربت کے ایک لمحے کو بھی فروخت نہیں کریں گے۔ ہمیں یہ شرف کافی ہے کہ ہمارے پائوں میں شاہ کی زنجیر غلامی پڑی ہے۔ آزاد کردیئے تو اپنی ہوس کے غلام ہوجائیں گے اور یہ غلامی ہمیں منظور نہیں‘‘
حضرت برہان الدین غریب علیہ الرحمہ اور شیخ کمال الدین یعقوب علیہ الرحمہ کی یہ التجائیں اس قدر رقت آمیز ہوتیں کہ حضرت محبوب الٰہی علیہ الرحمہ خود بھی آبدیدہ ہوجاتے اور پھر اپنے دونوں مریدوں کی تالیف قلب کے لئے فرماتے۔ ’’اﷲ کی رحمت ہمیشہ تمہارے سروں پر سایہ فگن رہے۔ اگر تم نے اﷲ کی رضا کے لئے اپنے جسم کو بھوک کی آگ میں جلا ڈالا اور شعلہ عشق کی تپش سے نفس کو خاکستر بنادیا تو پھر تم پر آتش دوزخ حرام ہوجائے گی۔ اس کائنات میں ایفائے عہد ہی سب کچھ ہے جو لوگ اپنا عہد توڑ دیتے ہیں، انہیں دنیا تو شاید حاصل ہوجائے مگر آخرت میں ان کے لئے شدید عذاب ہے۔ ناقابل بیان ذلت و رسوائی ہے اور بدترین محرومی و ناکامی ہے۔
٭…٭…٭
معز الدین کیقباد بستر مرگ پر پڑا ایڑیاں رگڑ رہا تھا اور دوسری طرف سلطان غیاث الدین بلبن کا ایک ترک سردار جلال الدین خلجی حکومت کے خواب دیکھ رہا تھا۔ آخر ایک دن خلجی نے ترک سپاہیوں کے ذریعے معز الدین کیقباد کا فسانۂ حیات انجام تک پہنچادیا۔ جو محافظ تھے، وہی قاتل بن گئے۔ ترک سپاہیوں نے معز الدین کیقباد کو گلا گھونٹ کر ہلاک کردیا اور اس کے مردہ جسم کو ریشمی بستر میںلپیٹ کر دریائے جمنا کی موجوں کے حوالے کردیا۔سلطان معز الدین کیقباد کے قتل کے بعد جلال الدین خلجی نے اس کے چھ سالہ بیٹے کیومرث کو شمس الدین کا لقب دے کر ہندوستان کے تخت پر بٹھا دیا۔اگرچہ سلطنت کی پوری باگ ڈور جلال الدین خلجی کے ہاتھوں میں تھی لیکن پھر بھی وہ دنیا کو دکھانے کے لئے سلطان بلبن کے خاندان کی وفاداریوں کا دم بھرتا تھا۔ پھر ایک دن یہ مصلحت بھی ختم ہوگئی۔ جلال الدین خلجی نے کیقباد کے چھ سالہ بچے کو قتل کراکے اپنے مطلق العنان حکمرانی کا اعلان کردیا۔ سلطان جلال الدین خلجی پراپنے دو آقا زادوں کا قتل ثابت ہے مگر پھر بھی مورخین اسے ایک نیک سیرت فرمانرو اقرار دیتے ہیں۔ یہ کیسا عجیب مذاق ہے۔
(باقی آئندہ شمارے میں ملاحظہ فرمائیں)