حضرت علامہ مولانا محمد حسن قلندرانی علیہ الرحمہ وصال فرماگئے

in Tahaffuz, June 2014

نام: محمد حسن قلندرانی (بچپن میں محمد جان کے نام سے پکارے جاتے تھے)
ولدیت: حاجی غلام محمد قلندرانی
پیدائشِ: قیام پاکستان سے قبل علاقہ توتک ضلع خضدار بلوچستان میں پیدا ہوئے۔
آپ کی بنیادی تعلیم و تربیت آپ کی والدہ ماجدہ نے فرمائی۔ قرآن کی تعلیم والدہ ماجدہ سے پائی۔ آپ کی والدہ ماجدہ جنت بی بی تہجد گزار ہمیشہ قرآن حکیم کی تلاوت کرنے والی، کثرت سے روزہ رکھنے والی اور شبہات والی چیزوں سے پرہیز کرنے والی خاتون تھیں۔ والدہ ماجدہ بلوچستان کے سخت سرد ترین راتوں میں بھی آپ کو تہجد کی نماز کے لئے بیدار کرتیں تو دادا حضور فرماتے کہ یہ بچہ ہے اس پر نماز بھی فرض نہیں، سردی سخت ہے۔ اس کے ہاتھ بھی موسم کی سختی سے پھٹ گئے ہیں۔ اسے مت اٹھائو تو آپ کی والدہ فرماتی کہ میں چاہتی ہوں کہ اسے ابھی سے تہجد کی عادت ہوجائے۔ یہ اسی تربیت کا نتیجہ تھا کہ آپ نے فرائض تو اپنی جگہ تہجد کی نماز بھی بنا کسی مجبوری کے ترک نہیں فرمائی۔ آپ تہجد گزار، ہمیشہ باوضو رہنے والے اور رسول اﷲﷺ کے سنت کے کاربند بالخصوص عمامہ شریف سے محبت فرماتے تھے اور اسے لازماً باندھتے تھے۔ آپ کی شخصیت پرکشش چہرہ نورانی اور رعب دار تھا۔
اساتذہ کرام
قرأت کی تعلیم نصیر آباد ضلع لاڑکانہ میں استاد القرأ حضرت قاری خان محمد صاحب سے حاصل کی جو حضرت شیخ القرأ قاری محمد صاحب میھڑ والے کے شاگرد تھے۔ فارسی کی تعلیم حضرت علامہ محمد رفیق خوشنویس خارانی سے درگاہ صدیقی کے مدرسہ حلیمہ میں حاصل کی، پھر مختلف مدارس میں حضرت علامہ ہدایت عاریجوی، حضرت علامہ عطاء محمد صاحب نصیر آباد حضرت وڈیرہ حاجی حمید اﷲ انڑ، پٹھان گوٹھ حضرت علامہ مفتی محمد حسین قادری سکھروالے اور آخر میں حضرت خلیل العلماء مفتی محمد خلیل خان قادری برکاتی سے حاصل کی اور دستار بندی بھی حضرت کے مدرسہ احسن البرکات سے ہوئی۔ حضرت علامہ قاری عبدالرزاق کشمیری علیہ الرحمہ اور حضرت جامع المعقول والمنقول علامہ سید محمد ہاشم فاضل شمسی علیہ الرحمہ سے اسباق پڑھے، آپ نے سندھ یونیورسٹی سے ایم اے عربی اور اسلامیات کی تکمیل فرمائی، دورۂ تفسیر حضرت قبلہ فیض احمد اویسی سے سراج الفقہاء حضرت علامہ سراج احمد صاحب، خان پور کٹورہ کے مدرسہ میں حاصل کی اور حضرت سے زیارت رسول اﷲﷺ کی دعا حاصل کی۔
بیعت
آپ نے فقیہ وقت، شمس الاولیائ، مفتی اعظم، امام علم المیراث حضرت قبلہ پیر محمد قاسم مشوری قادری علیہ الرحمہ سے بیعت فرمائی اور ذکر قادری لیا۔ حضرت نے آپ کو خصوصی کرم سے نوازا۔ آپ اپنے اساتذہ کرام کی بے حد تعظیم فرماتے تھے اور ہمیشہ اپنے اساتذہ کرام کا تذکرہ اعلیٰ شان سے فرماتے تھے اور ان کی تعریف فرماتے۔ ان کے حالات قلمبند فرماتے۔ مرشد گرامی حضرت قبلہ مشوری سرکار سے آپ کو خاص محبت تھی اور حضرت کا نام سن کر رو پڑتے تھے۔
قصیدہ بردہ شریف
آپ قصیدہ بردہ شریف کے عامل تھے۔ اور کثرت سے قصیدہ شریف پڑھتے تھے۔ جب آپ قصیدہ شریف ریڈیو پر پڑھتے تھے تو لوگ کھڑے ہوکرمحبت سے اس سلام کو سنتے تھے۔ آپ حضرت قبلہ مفتی محمد حسین قادری صاحب علیہ الرحمہ (سکھر) کے قصیدہ شریف پڑھنے کے انداز کو پسند فرماتے تھے۔ خان پور کٹورہ میں قبلہ اویسی علیہ الرحمہ سے دورۂ تفسیر کے اوقات میں۔ حضرت سراج الفقہاء سراج احمد صاحب علیہ الرحمہ آپ سے شوق سے قصیدہ بردہ شریف سنتے تھے اور آپ کو خصوصی دعائوں سے نوازتے۔ حضرت والد رحمتہ اﷲ علیہ فرماتے ہیں۔ میں نے عرض کی حضور میرے لئے دعا فرمائیں کہ اﷲ تعالیٰ رسول اﷲﷺ کی زیارت نصیب فرمائے تو حضرت نے فرمایا: عاشق رسول قصیدہ شریف سنائو اﷲ تعالیٰ تمہیں حبیب کریمﷺ کی زیارت نصیب فرمائے گا۔ چنانچہ حضرت سراج الفقہاء کی دعائوں کا اثر تھا کہ دو مرتبہ اﷲ تعالیٰ نے آپ کو اس شرف سے مشرف فرمایا۔
مثنوی شریف مولانا روم علیہ الرحمۃ و الرضوان
آپ نے ایک عرصہ ریڈیو پاکستان حیدرآباد سے مثنوی شریف مولانا روم کی پڑھی۔ آپ کا یہ پروگرام بہت مقبول اور معروف پروگرام ہوتا اور آج تک مثنوی شریف آپ کی وجہ شہرت ہے۔ علماء و فضلاء مثنوی کے اس پروگرام کے منتظر رہتے اور جب یہ نشر ہوتاتو آپ کی میٹھی اور سریلی آواز کو سماعت فرماتے اور ایمان و حکمت سے دل لبریز کرتے۔ خوش ہوتے آپ مجمع میں، طلباء کے درمیان، محافل میں، کلاس روم میں مثنوی کے اشعار پڑھتے اور لوگ اور طلباء تازہ ایمان ہوتے، جھوم جاتے۔ مثنوی شریف کے اشعار آپ کو زبانی یاد تھے۔ آپ مثنوی اور حضرت مولاناروم سے بے حد محبت فرماتے آپ نے مثنوی شریف کے اقتباسات بھی تحریر فرمائے اور کتابی شکل میں جمع فرمائے۔ جس میں مثنوی شریف کی تشریح و توضیح فرماتے اوراشعار پر روشنی ڈالتے، غرض یہ کہ آپ مبلغ مثنوی مولانا روم علیہ الرحمہ تھے۔ آپ کے طلبہ آج تک اس آواز و انداز مثنوی کو یاد کرتے ہیں۔
ذکر شریف
سلسلہ عالیہ قادریہ راشدیہ قاسمیہ کے آپ ذاکر تھے۔ حضرت مشوری قدس سرہ سے حاصل کردہ اس ذکر کی سختی سے پابندی فرماتے اور لوگوں کو ذکر شریف کراتے اورذکر شریف کی اجازت دیتے اور تیار کرکے لوگوں کو حضرت مشوری سرکاری کی بارگاہ میں پیش کرتے۔ ذکر شریف قادری پر ایک کتاب ’’فضیلت ذکر الٰہی اور اس کاطریقہ‘‘ آپ نے تحریر فرمائی اور شائع کرکے تقسیم فرمائی۔
سخاوت و فیاضی
آپ بہت سخاوت فرماتے ہر ایک کو فائدہ پہنچانے اور مدد کرنے کی کوشش کرتے، غرباء اور یتیموں کا خاص خیال رکھتے تھے۔ آپ کی مسجد شریف کا حجرہ جس میں آپ نے تقریباً ساری زندگی قیام فرمایا۔ جس میں آپ کی لائبریری بھی تھی۔ علماء و مشائخ و سادات کرام کا مسکن ہوتا، سندھ اور بلوچستان غرض پاکستان بھر سے علماء آپ کے پاس آتے اور یہیں قیام فرماتے تھے۔ علمی گفتگو ہوتی، صالحین کا ذکر خیر ہوتا، کتابوں پر تبصرہ ہوتا۔ آپ کا دستر خوان علماء و مشائخ کے لئے خوب کشادہ ہوتا۔ آپ ان کے لئے خصوصی اہتمام فرماتے اور خوش ہوتے اور یہ رونق ہمیشہ ہمیشہ رہتی تھی۔ آپ حجرہ میں آنے والے ہر شخص سے کشادہ دلی اور خندہ پیشانی سے ملتے اور ان کے کام کرکے خوش ہوتے۔
مسجدشریف
آپ اپنی جوانی میں حیدرآباد تشریف لائے اور صدیق اکبر پارک مسجد میں امامت و خطابت پر فائز ہوئے اورآخر وفات کے وقت تک مسجد شریف سے وابستہ رہے۔ تقریبا 48 سال تک آپ اس منصب پر فائز رہے۔ آپ کی آخرت کا سفر بھی اسی مسجد سے ہوا اور آپ کی نماز جنازہ یہیں مسجد کے سامنے ادا ہوئی۔
تصانیف
آپ نے اپنی زندگی کا اکثر حصہ اسی مسجد شریف کے حجرہ میں لائبریری میں کتابوں کی ورق گردانی کرتے گزاری۔ آپ دنیاوی آرائشوں سے دور رہ کر اسی حجرہ میں کتب کی تصنیف و تالیف اور تراجم میں گزارتے تھے۔ آپ نے تقریبا 70 تک کتب و رسائل تصنیف و تالیف فرمائیں۔ جس میں مختلف موضوعات پر کتابیں شامل ہیں، کچھ مطبوعہ ہیں اور کچھ غیر مطبوعہ، فہرست میں نام درج ہیں، تصانیف 5 زبانوں میں ہیں۔
قیام مدارس و خدمت خلق
آپ کے شاگردوں کا حلقہ بہت وسیع ہے۔ آپ کے ایک بیٹے مفتی ایک عالم اور ایک حاظ ہیں۔ آپ کی فیملی میں 7 جید علماء کرام موجود ہیں جو سب آپ کے شاگرد ہیں۔ آپ نے مدارس و مساجد قائم فرمائے۔
1… جامعہ عربیہ جنت العلوم حیدرآباد
2… جامع مسجد قاسمیہ حیدرآباد
3… جامعہ قادریہ قاسمیہ بلبل توتک خضدار بلوچستان
4… دارالعلوم قاسمیہ خضدار بلوچستان
5… جامع نورانی مسجد خضدار بلوچستان
اور بہت سے مکاتب، آپ کی یادگار ہیں۔ آپ نے بلوچستان جیسے پسماندہ علاقوں میں جہاں دور دور تک پانی نہیں ملتا، لوگوں کے لئے کئی کنویں کھدوائے اور ان کا پانی لوگوں کے لئے وقف کردیا۔
ہم مکتب و ہم عصر علماء
آپ کے ہم مکتب علماء میں حضرت مفتی اعظم بلوچستان حضرت علامہ مفتی غلام محمد قادری قاسمی علیہ الرحمہ کوئٹہ، حضرت علامہ مفتی محمد وارث قلندرانی قاسمی مدظلہ مفتی اعظم خضدار۔
حضرت علامہ مفتی محمد سعید احمد قادری علیہ الرحمہ حیدرآباد، حضرت علامہ الحاج محمد رمضان چشتی المعروف ملنگ بابا علیہ الرحمہ حیدرآباد، حضرت علامہ سید افسر علی شاہ صاحب علیہ الرحمہ حیدرآباد، حضرت علامہ سید حسین شاہ صاحب قاسمی مدظلہ، مورو سندھ، حضرت علامہ مولانا محمد حسین قلندرانی صاحب مدظلہ حیدرآباد (آپ کے برادر اصغر) حضرت علامہ مولانا فتح محمد باروزئی مدظلہ صاحب (سبی)، حضرت علامہ حاجی قادر بخش قاسمی مدظلہ خضدار، حضرت خطیب اعظم مولانا علامہ حبیب احمد نقشبندی مدظلہ کوئٹہ شامل ہیں
وفات
آپ نے مختصر عدالت کے بعد 23جمادی الآخرہ 1435ھ بمطابق 24 اپریل 2014ء بروز جمعرات شام 5:50 منٹ پر جبکہ نماز عصر ادا ہورہی تھی، داعی اجل کو لبیک کہا۔
نماز جنازہ
آپ کی نماز جنازہ بعد نماز جمعہ جامع مسجد صدیق اکبرکے باہر ادا کی گئی۔ آپ کے صاحبزادہ علامہ مفتی محمد نور الحسن قلندرانی مدظلہ نے نماز جنازہ پڑھائی۔ چونکہ آپ کا حلقہ ارادت وسیع تھا اور علماء سے مراسم اور شاگردوں کا بڑا حلقہ تھا لہذا نماز جنازہ میں علماء و مشائخ کی کثیر تعداد شامل تھی۔ عوام کا ایک ہجوم تھا۔ آپ کے عقیدت مند آنسوئوں اور سسکیوں میں آپ کی نماز جنازہ ادا کررہے تھے۔ ہر دل مضطرب تھا۔ ایک روحانی اور ایمانی منظرتھا۔ عوام اہلسنت اپنے اس عظیم عالم و رہبر کو کندھا دینے کے لئے کوششیں کررہے تھے۔ آپ کا جنازہ حیدرآباد شہر کے بڑے جنازوں میں سے ایک تھا۔ جنازہ میں ایک خلقت تھی۔ ہر ایک آپ کے جنازہ کو چھونا اور برکت حاصل کرنا چاہتا تھا۔ سخت گرمی کے اس موسم میں اﷲ کا کرم اور حضرت قلندرانی علیہ الرحمہ کی یہ کرامت ہوئی کہ بادل کے ایک ٹکڑے نے آپ کے جنازہ کو گھیر لیا اور ابر کرم کے سایہ میںآپ کی نماز ادا ہوئی۔
آخری آرام گاہ
آپ کو آپ کی وصیت کے مطابق آپ کے قائم کردہ مدرسہ جامعہ عربیہ، جنت العلوم اور جامع مسجد قاسمیہ کے درمیان رکھا گیا۔ اس شان کے ساتھ کہ جب خاک شریف برابر کرکے پھول ڈالے جارہے تھے اور دعا کی تیاری تھی، آسمان صاف ہونے کے باوجود وہی ابر کا ٹکڑااچانک قبر انور کے بالکل اوپر آیا اور برسنا شروع ہوگیا اور چھما چھم رحمت کی برسات شروع ہوگئی۔ یہ منظر دیکھ کر ایک روحانی و جذباتی کیفیت بیدار ہوئی اور عوام نے نعرہ تکبیر،نعرۂ رسالت اور آپ کے مرشد گرامی کے نعرہ بھیج مشورن وارا سائیں لگانا شروع کردیئے۔