ڈاکٹر فریدہ احمد صدیقی سے گفتگو

in Articles, Tahaffuz, June 2011, انٹرویوز

 ایک مورخ نے یہ حقیقت بجاطور پر درست لکھی ہے کہ ایک کامیاب مرد کی فتوحات کے پیش منظر میں ایک خاتون کارفرما ہوتی ہیں۔ یہ خاتون کبھی بیوی کی شکل میں ہوتی ہے، اور کبھی ہمشیرہ کی صورت میں۔ اس کی ایک بڑی مثال بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح علیہ الرحمہ کے ساتھ ہر قدم پر ان کی عظیم ہمشیرہ محترمہ فاطمہ جناح کے آثار ملتے ہیں جن کے بھرپور تعاون سے قائداعظم علیہ الرحمہ پاکستان بنانے میں کامیاب ہوگئے۔ دوسری بڑی اور ناقابل فراموش مثال عزت  مآب محترمہ ڈاکٹر فریدہ احمد صدیقی کی ہے جن کی ثابت قدمی نے مولانا شاہ احمد نورانی علیہ الرحمہ کی لیڈر شپ کو چار چاند لگادیئے۔ 1977ء کی تحریک نظام مصطفی کے دوران جب اس وقت کی حکومت نے تحریک کے ہیرو اور قائد مولانا شاہ احمد نورانی علیہ الرحمہ کو ان کی عوامی مقبولیت سے خوفزدہ ہوکر جیل میں بند کردیا تو یہ ڈاکٹر فریدہ ہی تھیں جو ، جون، جولائی کی شدید گرمی میں قومی اتحاد کے جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے اسلام دشمن عالمی سامراج اور نظام مصطفی کے دشمنوں کو للکارتی رہیں۔ انہوں نے نشتر پارک کراچی کے لاکھوں افراد کے جلسہ میں تاریخی جملہ کہا کہ حکمرانو! ڈرو اس وقت سے جب میر ابھائی جیل سے باہر آیا تو انقلاب آجائے گا۔ یہی ڈاکٹر فریدہ احمد صدیقی آج بھی امت کی خواتین کے لئے ایک برکت اور نصرت کے طور پر موجود ہیں اور سنی خواتین کی رہنمائی کررہی ہیں۔ تعلیم، انسان دوستی اور سماجی خدمت کے شعبوں میںان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ ہمارے لئے یہ اعزاز کی بات ہے کہ ہم ڈاکٹر فریدہ احمد صدیقی صاحبہ کا انٹرویو شائع کررہے ہیں۔

سوال: اپنے خاندانی پس منظر کے بارے میں کچھ بتائیں؟

جواب: ہمارے خاندان میں دینی اور علمی رجحان رہا ہے۔ میرے آبائو اجداد نے برصغیر کی سیاست میں اہم کارنامے انجام دیئے۔ میرے تایا نذیر احمد خوجندی اور دیگر نے تحریک خلافت میں بھرپور کردار ادا کیا۔ میرے والد نے قائدعظم علیہ الرحمہ کی درخواست پر اسلامی ممالک کا دورہ کرکے پاکستان کے قیام کے لئے راہ ہموار کی۔ میرے تایا نے قائداعظم علیہ الرحمہ کی بیوی رتن بائی کو مشرف بہ اسلام کرکے قائداعظم علیہ الرحمہ سے ان کا نکاح پڑھایا۔ ہندوستان کے مشہور شاعر مولانا اسماعیل میرٹھی میرے دادا کے سگے بھائی تھے۔ میرے دادا نے میرٹھ میں تعلیمی ادارے قائم کئے۔ جمعیت علماء پاکستان کے سربراہ مولانا شاہ احمد نورانی رحمتہ اﷲ علیہ میرے بھائی تھے۔ انہوں نے تحریک ختم نبوت میں انتہائی اہم کردار ادا کیا۔ 1974ء میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے لئے ان کی جدوجہد ایک ابدی نیکی کا کارنامہ ہے۔

سوال: تحریک پاکستان میں آپ نے کیا کردار ادا کیا؟

جواب: قیام پاکستان کے وقت میں آٹھویں کلاس میں تھی۔ میں تحریک پاکستان میں پیش پیش رہتی تھی۔ میرٹھ میں ایک لیڈیز پارک تھا۔ ام اردو بیگم شریف پاکستان کے قیام اور لوگوں کو پاکستان کا ہمنوا بنانے کے لئے اس میں خواتین کے جلسہ کا انعقاد کرتی تھیں۔ میں جلسوں میں نظمیں پڑھتی تھی۔ اس زمانہ میں لائوڈ اسپیکر کمیاب تھے۔ میری آواز اونچی اور تیز تھی تو ہر جلسہ میں میرا ہی انتخاب کیا جاتا تھا۔ اس طرح تشکیل پاکستان میں میری آواز بھی شامل ہے۔

سوال: آپ کا بچپن میرٹھ میں گزرا جس محلے میںآپ رہتی تھیں وہاں مسلمانوں کی تعداد کثیر تھی یا غیر مسلموں کی؟

جواب: میرٹھ میں زیادہ تعداد مسلمانوں کی تھی۔ قیام پاکستان کے وقت دہلی سے میرٹھ تک مسلمان سوچ رہے تھے کہ ان علاقوں کو پاکستان میں شامل کیا جائے گا مگر افسوس ایسا نہ ہوسکا۔

سوال: پاکستان میں آکر تعلیمی سلسلہ کہاں سے شروع کیا؟

جواب: ہم جب ہجرت کرکے کراچی آئے تو جٹ لائن میں ہمارے ایک رشتہ دار تھے، ان کے یہاں قیام کیا۔ میرے والد نے صدر میں کچھی میمن مسجد سے متصل ایک فلیٹ لیا۔ ہم وہاں منتقل ہوگئے اور ساری زندگی وہیں گزاری۔ ہم نے جیکب لائنز گرلز اسکول میں داخلہ لیا میٹرک کاسمو پولیٹن گرلز سیکنڈری اسکول سے کیا جس کو بعد ازاں میں نے خود لے لیا۔ نارتھ ناظم آباد میں پانچ ایکڑ زمین پر اسکول کی ایک عمارت تعمیر کروائی جس میں چار اسکول چل رہے تھے۔ جب کراچی میں لڑکیوں کے لئے فرید روڈ پر سب سے پہلا کالج قائم ہوا تو میں نے وہیں سے بی اے کیا۔ میں نے عربی لٹریچر میں کراچی یونیورسٹی سے ایم اے کیا۔ ہومیوپیتھک کا بھی چار سالہ کورس کیا لیکن پریکٹس نہیں کی۔

سوال: تبلیغی مشن کی طرف کیسے آئیں؟

جواب: میرے والد ’’مبلغ اعظم‘‘ کے نام سے مشہور تھے، ان کے ہاتھوں ساٹھ ہزار غیر مسلموں نے اسلام قبول کیا جس میں ماریشس کے گورنر جنرل، ماریطانیہ کی شہزادی اور روس کا سائنسدان اناٹوف مشہور ہیں۔ میرے والد کی خواہش تھی کہ جس طرح وہ مردوں میں تبلیغ کرتے ہیں۔ میں عورتوں میں تبلیغ کروں چنانچہ اپنے والد کے مشن کو جاری رکھنے کے لئے میں نے خواتین اسلامک مشن کی داغ بیل ڈالی اور میں اﷲ کا شکر ادا کرتی ہوں کہ میں اپنے والد کی تمنائوں، آرزوئوں اور خواہشات کو پورا کرنے میں کامیاب ہوئی ہوں۔

سوال: قومی اسمبلی، سندھ زکوٰۃ کونسل اور جامعہ کراچی کی سینڈیکٹ کی ممبر کی حیثیت سے آپ نے کیا کردار ادا کیا؟

جواب: میں پارلیمنٹ کی حقوق نسواں اور تعلیمی کمیٹی کی ممبر تھی۔ تعلیمی کمیٹی میں نصاب کا جو بل پیش کیا گیا تھا وہ اسلام کے تقاضوں کے منافی تھا۔ جن جن درسی کتابوں میں غیر اسلامی غیر اخلاقی اور غیر معیاری مواد تھا، ان سب کو ختم کرانے کی جدوجہد کی۔ قومی اسمبلی میں ’’حدود آرڈیننس‘‘ کو تبدیل کرکے ’’تحفظ حقوق نسواں‘‘ کا بل پیش کیا گیا۔ مجھے حیرت ہے کہ اسمبلی کے بیشتر ارکان ’’حدود آرڈیننس‘‘ سے ناواقف تھے لہذا فوری طور پر میں نے ایک کتاب ’’اﷲ کے قانون کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا‘‘ تمام ممبران میں تقسیم کروائی جس دن حدود آرڈیننس کی جگہ ’’تحفظ حقوق نسواں‘‘ کا بل لایا گیا۔ اسی دن میں نے پارلیمنٹ میں کہا تھا کہ یہ بل لاکر پرویز مشرف اﷲ کے غضب کو دعوت دے رہے ہیں۔ میں نے حدود آرڈیننس میں جو سفارشات پیش کی تھیں وہ عورتوں کے لئے بہترین تھیں مثلا ایک عورت جگہ جگہ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاتی پھرتی ہے، بجائے اس کے ایک عدالت میں اپیل کرے اور فیصلے کے بعد عورت پر تہمت لگانے والے کو بلاتاخیر سزا دی جائے۔ پھر کوئی اگر عورت پر یہ الزام لگائے کہ اس نے عورت کو زنا کاری کرتے ہوئے دیکھا ہے تو اس کو یک دم پکڑ کر جیل میں ڈالنے کے بجائے جرم ثابت ہونے کے بعد جیل میں ڈالا جائے۔ میری تجاویز میں سے دو تجاویز مانی گئیں اور اب ان پر عمل بھی ہورہا ہے۔ سندھ زکوٰۃ کونسل کی چھ سالہ ممبر شپ کے دوران زکوٰۃ فنڈ دیئے جانے والی زکوٰۃ فی گھر تین سو روپیہ ماہانہ سے بڑھوا کر پانچ سو روپیہ ماہانہ کرایا اور جہیز کی رقم جو پانچ ہزار دی جاتی تھی، اسے دس ہزار روپیہ فی کس کروایا۔ کراچی یونیورسٹی کی سنڈیکٹ کی ممبر ہونے پر میں نے تجویز پیش کی کہ پروفیسر اور اساتذہ کو مکان بنانے کے لئے جو قرض دیا جائے اس پر سود نہ لیا جائے۔ الحمدﷲ! میری تجویز کو پذیرائی حاصل ہوئی۔

سوال: آپ کے خیال میں دنیا کی عورت اس وقت کس مقام پر کھڑی ہے؟

جواب: یورپی اور مغربی خواتین مشین کا ایک پرزہ بنی ہوئی ہیں، نہ ان کی اپنی کوئی زندگی ہے اور نہ ہی کوئی فیملی لائف۔ کنواری مائوں کی تعداد میں کثرت سے اضافہ ہورہا ہے جبکہ مشرقی ممالک کی خواتین تو بہت آرام کی زندگی گزار رہی ہیں۔ وراثت میں بھی ان کو حصہ دیا جاتا ہے۔ البتہ دیہاتی عورتوں کو تکلیف ضرور ہے۔ وہ وڈیروں کی غلام بنی ہوئی ہیں، وراثت سے محروم کردی جاتی ہیں۔ کاروکاری اور قرآن سے شادی جیسی غیر اسلامی اور غیر اخلاقی رسومات ختم ہونی چاہئے۔

سوال: اتنی مصروفیات میں گھریلو زندگی کو کیسے توازن کے ساتھ چلایا؟

جواب: اﷲ تعالیٰ کی مہربانی سے سب کام ہوجاتے ہیں۔ نیک کام کرنے کے لئے اﷲ تعالیٰ کی طرف سے قوت ملتی ہے۔ میرے شوہر پروفیسر محمد احمد صدیقی پہلے مقامی کالج میں لیکچرار کی حیثیت سے کام کرتے تھے۔ سعودی عربین ایئرلائنز میں ایگزیکٹیو آفیسر کو مینجمنٹ پڑھاتے رہے ہیں۔ اب وہ میرے ساتھ اسکول اور یونیورسٹی کی نگرانی کرتے ہیں۔ میرے تمام کاموں میں ان کا مشورہ ہوتا ہے۔ وہ مولانا شاہ احمد نورانی کے ساتھ سیاست میں بڑے سرگرم تھے۔ لندن میں چارٹر آف ڈیماکریسی کی منعقدہ اجلاس میں وہ مرکزی جمعیت علماء پاکستان کی طرف سے شریک ہوئے اور تقریبا چھ تجاویز پیش کی جس کو محترمہ بے نظیر بھٹو نے چارٹر آف ڈیماکریسی کے مسودے میں شامل کرایا۔ وہ جمعیت علماء پاکستان کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات رہے۔ مولانا شاہ احمد نورانی کے انتقال کے بعد انہوں نے سیاست چھوڑ دی۔

٭٭٭