tiens کمپنی کی رکنیت ناجائز ہے

in Tahaffuz, June 2014, مفتی محمّد ہاشم خان

استفتائ: کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک کمپنی جس کا نام Tiens ہے۔ یہ کمپنی 1992ء سے کام کررہی ہے۔ کمپنی کے 1000 کے قریب پروڈکٹس ہیں جو پوری دنیا میں فروخت کرتی ہے۔ اب اس نے Direct Saling کا سہارا لیا ہے۔ مقصد کمپنی کی پروڈکٹ فروخت کرنا ہے، مگر عوام کے ذریعے یہ کام کروا کر اسے بجٹ بطور Reward کے دیا جاتا ہے۔ کمپنی کا طریقہ کار کچھ یوں ہے کہ مثلا زید تقریبا 1100 روپے کمپنی میں جمع کروا کر اپنی رجسٹریشن کرواتا ہے اور یوں وہ کمپنی کا ممبر بن جاتا ہے اس کے بعد مزید 500 روپے دیتا ہے جس کے بدلے میں کمپنی زید کو مارکیٹنگ کی ٹریننگ دیتی ہے۔ جب زید 100 ڈالر کی اشیاء کمپنی سے خریدتا ہے تو کمپنی اسے ایک عہدہ بنام ’’2اسٹار‘‘ دیتی ہے۔ اب اگر زید کمپنی کی پراڈکٹ کو لوگوں تک متعارف کروائے تو اس محنت کے بدلے میں کمپنی اس شخص کو کمیشن دیتی ہے۔ (یہ کمیشن اسی صورت میں زید کو مل سکتا ہے جبکہ زید نے 100 ڈالرز کی خریداری کی ہو ورنہ نہیں یعنی کمیشن کے لئے یہ خریداری شرط ہے) کمیشن ملنے کا طریقہ کار یہ ہے کہ زید اگر چار بندوں کو کمپنی کی چیز بکوائے تو زید کو 20% کمیشن ملے گا یعنی ہر گروپ سے 5%، اب زید ان چاروں کو مزید ٹریننگ دے گا اور پھر ان میں سے ہر ایک آگے چار چار افراد کو چیزیں متعارف کروائیں گے۔ ان چاروں کو زید کی طرح 20% کمیشن ملے گا یعنی ہر گروپ سے 5% لیکن چونکہ ان چاروں میں زید کی محنت بھی شامل ہے اس لئے اس کو بھی کمیشن ملے گا، مگر اب زید کا کمیشن 5% کے بجائے 4% ہوگا کیونکہ اب زید نے Indirect محنت کی ہے اور بقیہ چار نے Direct محنت کی ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ ڈائریکٹ کمیشن زیادہ اور ان ڈائریکٹ کمیشن کم ہوتا ہے۔ کیا مذکورہ کمپنی میںپارٹنر شپ حاصل کرکے کمیشن حاصل کرنا جائز ہے؟ (سائل محمد عمر عطاری ،میرپور آزاد کشمیر)
بسم اﷲ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الوہاب اللھم ہدایۃ الحق والصواب
اس کمپنی کی اشیاء خریدنا یا اس میں ممبر بن کر کمیشن حاصل کرنا ناجائز ہے، ناجائز ہونے کی درج ذیل وجوہات ہیں:
1… کمپنی سے ممبر شپ حاصل کرنے یا دوسرے الفاظ میں عقد اجارہ کرنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ کمپنی سے 100 ڈالرز کی خریداری کی جائے بغیر اس کے کمپنی کوئی کمیشن نہیں دیتی۔ یعنی کمپنی کی طرف سے کام کرنے اور لوگوں کو ممبر بنانے کا جو اجارہ ہے وہ عقد بیع (کمپنی سے خریداری کے ساتھ مشروط ہے اور اجارے میں اس طرح کی خلاف متقاضائے عقد شرط لگانے سے اجارہ فاسد ہوجاتا ہے اور ایسا اجارہ ناجائز و گناہ ہے۔
تنویر الابصار میں ہے:
تفسد الاجارۃ بالشروط المخالفۃ لمقتضی العقد
متقاضائے عقد کے خلاف شرائط لگانے سے اجارہ فاسد ہوجاتا ہے (تنویر الابصار مع در مختار ورد المحتار، کتاب الاجارہ باب الاجارۃ الفاسد جلد 6، ص 46، دارالفکر بیروت)
کنزالدقائق و بحر الرائق میں ہے:
ترجمہ: اجارہ شرط لگانے سے فاسد ہوجاتا ہے یعنی ان شرائط فاسدہ سے جو متقاضائے عقد میں نہیں ہوتی جن کا بیان باب البیع گزرا ہے (بحر الرائق، کتاب الاجارہ، باب الاجارۃ الفاسدۃ، جلد 7، ص 311، دارالکتاب الاسلامی بیروت)
2… پھر اگر کمپنی سے اشیاء کی خریداری کو دیکھا جائے تو اس بیع (خریداری) کی طرف سے شرط فاسد پائی جاتی ہے کیونکہ خریدار کمپنی سے چیز اسی شرط پر خریدتا ہے کہ کمپنی مجھے اپنا ممبر بنائے گی اور ایسی بیع جس میں شرط فاسد لگائی گئی ہو، وہ ناجائز و گناہ ہوتی ہے۔ رسول اﷲﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے۔ چنانچہ حضرت عمرو بن شعیب رضی اﷲ عنہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں۔
ترجمہ: نبی اکرمﷺ نے خریداری اور شرط سے منع فرمایا ہے (المعجم الاوسط للطبرانی، باب العین من اسمہ عبداﷲ، جلد 4، ص 335، مطبوعہ دارالحرمین قاہرہ)
علامہ زیلعی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:
ترجمہ: ہر وہ شرط جس کا نہ تو عقد تقاضا کررہا ہو اور وہ عقد کے مناسب بھی نہ ہو، شرع سے اس کا جواز بھی ثابت نہ ہو اور اس پر تعامل بھی نہ ہو اور اس میں اہل استحقاق میں سے کسی ایک کا نفع ہے تو ایسی شرط بیع (خریداری) کو فاسد کردیتی ہے (تبیین، کتاب البیع، باب بیع فاسد، جلد 4، ص 57، دارالکتاب الاسلامی)
بیع میں اگر اجارہ مشروط ہو تو بیع فاسد ہوجاتی ہے چنانچہ عقد معاوضہ میں بلا عوض ملنے والی زیادتی کو سود کہتے ہیں اور بیع (خریداری) یا اس کی مثل معاملات میں اگر شرط فاسدلگائی جائے تو اس سے بھی ایک ایسی ہی زیادتی یا نفع حاصل ہوتا ہے جس ے عوض کچھ معین نہیں ہوتا لہذا یہ من جملہ سود ہے۔
علامہ کاسانی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:
ترجمہ: ان میں کچھ شرائط تو وہ ہیں کہ جن میں عاقدین یا ان کے علاوہ کسی کا نفع پایا جاتا ہے اور نفع کی ایسی زیادتی اگر عقد بیع میں مشروط ہو تو وہ سود ہوتی ہے اور سود حرام ہے۔ اور جس بیع میں سود پایا جائے وہ بیع فاسد ہوتی ہے (بدائع، کتاب البیوع، فصل فی شرائط الصحۃ، جلد 5، ص 175، دارالکتب العلمیہ بیروت)
نیز یہ بھی واضح رہے کہ خریدار صراحتاً یا لفظاً اگرچہ یہ شرط ذکر نہ کرے تب بھی یہ بیع فاسد ہی ہے کیونکہ عرفاً کمپنی اور خریداری کے درمیان یہ طے ہوتا ہے اور ہر ایک کو معلوم ہوتا ہے کہ ممبر بننے کے لئے ہی یہ چیز خریدی جارہی ہے۔ اگر کمپنی خریداری کے باوجود بھی ممبر نہ بنانے کا اختیار رکھتی ہو تو کوئی بھی کمپنی کی پروڈکٹ نہیں خریدے گا کیونکہ خریداروں کا اصل مقصود تو ممبر شپ حاصل کرنا ہوتا ہے نہ کہ چیز کی خریداری۔ بہرحال ایسی صورت حال میں ممبر شپ کے حصول کاتذکرہ کرنا یا نہ کرنا دونوں برابر ہے۔ شریعت مطہرہ کا قاعدہ ہے کہ:
’’المعہود عرفا کالمشروط شرعا‘‘
’’جو بات بوجہ عرف معلوم ہو وہ شرعاً مشروط کی ہوتی ہے‘‘ (الاشباہ والنظائر، الفن الاول، المبحث الثالث، العادۃ المطردۃ، جلد 1، ص 84 دارالکتب العلمیہ، بیروت)
3… ناجائز ہونے کی ایک اور وجہ کمپنی کے کمیشن دینے کا طریقہ کار ہے کہ یہ اجارہ کے فقہی قوانین کے خلاف ہے کیونکہ اسلامی اصولوں کے مطابق مزدور یا کام کرنے والے کو اس کی اجرت پوری پوری وقت معین پر دی جانی چاہئے کیونکہ جو کام کسی نے نہ کیا ہو، اس کو لینے کا اسے حق نہیں اور نہ ہی وہ اس کا تقاضا کرسکتا ہے، جبکہ اگر کمپنی کے طریقہ کار کود یکھا جائے تو وہ اس کے خلاف ہے کیونکہ ممبر مثلا زید جب چار افراد کو تیار کرتا ہے، ان پر تو وہ براہ راست محنت کرتا ہے جس کا کمیشن وہ کمپنی سے لے سکتا ہے جبکہ وہ پروڈکٹ خریدنے کے لئے اس کے ساتھ چل کر بھی جائے لیکن اس کے بعد مذکورہ چار افراد میں ہر ایک جب آگے مختلف افراد کوتیار کرتے ہیں تو کمپنی آگے والے تمام افراد کی کمیشن بھی زید کو دیتی ہے حالانکہ زید نے ان افراد پر کوئی محنت نہیں کی ہوتی تو زید کا آگے والے افراد کا کمیشن لینا جائز نہیں کیونکہ کمیشن یا اجرت کام کرنے، محنت و مشقت کرنے کی ہوتی ہے، جو کام نہ کیا ہو، اس کی اجرت نہیں لی جاسکتی حتی کہ علماء فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے چند باتیں کرکے ذہن بنادیایا مشورہ دیا کہ چیز خرید لو اچھی ہے، تو اس صورت میں بھی اجرت نہیں لے سکتا۔ چنانچہ ردالمحتار میں ہے!
ترجمہ: محض بتانا اور اشارہ کرنا ایسا عمل نہیں ہے جس پر وہ اجرت کا مستحق ہو۔ اگر کسی نے ایک خاص شخص کو کہا گر تو مجھے فلاں چیز پر رہنمائی کرے تو اتنا اجر دوں گا، اگر وہ شخص چل کر رہنمائی کرے تو وہ اس چل کر جانے کی وجہ سے اجرت مثل کا مستحق ہوگا کیونکہ چلنا ایسا عمل ہے جس پر عقد اجارہ میں اجرت کا مستحق ہوتا ہے۔ (ردالمحتار، کتاب الاجارۃ، مطلب ضل لہ شئی، جلد 6، ص 95، دارالفکر، بیروت)
امام اہل سنت احمد رضا خان علیہ الرحمہ الرحمان اسی طرح کے ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں:
’’اگر کارندہ نے اس بارے میں جو محنت و کوشش کی وہ اپنے آقا کی طرف سے تھی، بائع کے لئے کوئی دوادوش نہ کی، اگرچہ بعض زبانی باتیں اسکی طرف سے بھی کی ہوں، مثلا آقا کو مشورہ دیا کہ یہ چیز اچھی ہے، خرید لینی چاہئے یا اس میں آپ کا نقصان نہیں اور مجھے اتنے روپے مل جائیں گے اس نے خرید لی، جب تو یہ شخص عمر و بائع سے کسی اجرت کا مستحق نہیں کہ اجرت آنے جانے، محنت کرنے کی ہوتی ہے، نہ بیٹھے بیٹھے دو چار باتیں کہنے صلاح بتانے، مشورہ دینے کی‘‘ (فتاویٰ رضویہ، جلد 17، ص 453، رضا فائونڈیشن لاہور)
سوال: زید صرف اپنے چار افراد پر محنت نہیں کرتا بلکہ آگے آنے والے افراد پر بھی محنت کرتا اور وقت صرف کرتا ہے یعنی ان کو ٹریننگ دیتا ہے، اس لئے بقیہ افراد کا کمیشن بھی اس کے لئے درست ہونا چاہئے۔
جواب: کمپنی اپنی چیز کے بکنے پر کمیشن دیتی ہے، محض ٹریننگ دینے یا اجرت یا کمیشن نہیں دیتی۔ یہی وجہ ہے کہ اگر کوئی آدمی لاکھوں افراد کو بھی ٹریننگ دے لیکن ان میں سے کوئی بھی چیز نہ خریدے تو کمپنی اس ٹریننگ کا کچھ بھی نہیں دے گی تو جب کمپنی چیز بکنے پر کمیشن دیتی ہے تو اس کے بارے میں ہم حکم بیان کرچکے ہیں کہ جن لوگوں پر یہ خود محنت کرتا ہے اور ان کو تیار کرکے پروڈکٹ خریدنے کے لئے لے کر جاتا ہے تو ان کا کمیشن لے سکتا ہے اس کے علاوہ نہیں۔
سوال: اس کمیشن کو انعام کیوں نہیں قرار دیا جاسکتا؟
جواب: انعام ایک تبرع و احسان ہوتا ہے یعنی بغیر کسی عوض کے دیا جاتا ہے اوراس میں دینے والا بااختیار ہوتا ہے چاہے دے یا نہ دے، لینے والا اس سے تقاضا نہیں کرسکتا کہ مجھے انعام دو۔ اس کے برخلاف اگر کمپنی اور اس کے ممبران کو دیکھا جائے تو یہاں دینے والے کو بھی پتا ہے کہ مجھے کچھ دینا پڑے گا اور لینے والے کو بھی پتا ہوتا ہے کہ مجھے ضرور ملے گا اور جب معاملہ ایسا ہو تو اس کا اجارہ ہونا متعین ہے خواہ مخواہ انعام پر محمول نہیں کیا جاسکتا۔ سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ الرحمن ارشاد فرماتے ہیں ’’جبکہ عادات و رواج کے مطابق قاری کو معلوم ہے کہ ملے گا اور اسے معلوم ہے کہ دینا ہوگا تو ضرور اجرت میں داخل ہے۔ فان المعروف کالمشروط (جو بات لوگوں میں معروف و مشہور ہو وہ مشروط کی طرح ہوتی ہے)
(فتاویٰ رضویہ، جلد 9، ص 646، رضا فائونڈیشن لاہور)
٭٭٭