مروجہ مالیاتی مفادات کی (لکی کمیٹیاں) شریعت کے آئینہ میں

in Tahaffuz, June 2014, علامہ مولانا مفتی ضمیر احمد مرتضائی

آج کل عموما موٹر سائیکل ٹریڈرز والے ’’لکی موٹر سائیکل کمیٹی‘‘، ’’ہنڈا کمیٹی‘‘ یا اس کے علاوہ ’’لکی کمیٹی‘‘ کے نام سے کمیٹیاں چلا رہے ہیں۔ ایسی تمام کمیٹیاں شریعت کے اصول تجارت کے منافی ہیں جن کو چلانا یا ان میں حصہ لینا قطعاً جائز نہیں، حرام ہے۔
ایسی کمیٹیوں میں وجہ حرمت کیا بنتی ہے؟ اس سے پہلے لکی کمیٹی کی چند مروجہ صورتیں آپ کے سامنے پیش کی جاتی ہیں۔
لکی کمیٹی کی مروجہ صورتیں
لکی کمیٹی کی رائج صورتوں میں ایک اہم شرط یہ ہوتی ہے کہ:
1… کمیٹی کے ارکان میں سے جس رکن کا موٹر سائیکل بذریعہ قرعہ اندازی نکل آتا ہے، اس سے باقی ماندہ اقساط ختم ہوجاتی ہیں۔
2… کمیٹی نہ آنے کی صورت میں قرعہ اندازی میں نام شامل نہیں کیا جاتا۔
3… کمیٹی توڑنے کی صورت میں جمع شدہ رقم ہرگز واپس نہ ہوگی۔
4… اس کمیٹی میں جتنے ممبر دیئے جائیں گے، اتنا نفع ممبر دینے والے کو مفت دیا جائے گا۔
صورت مسئولہ میںتو یہ سب شرائط پائی جارہی ہیں لیکن بعض لکی کمیٹیوں میں ہماری معلومات کے مطابق آخری شرط نمبر 4 کو اختیار کیا گیا ہے اور بعض جگہ ایسا نہیں ہے۔
ان شرائط کے بعد اس کمیٹی کی صورت یوں ہوتی ہے کہ:
الف… مثلا ہر ممبر کمیٹی6000 روپے ماہانہ قسط ادا کرتا ہے اور کمیٹی کا دورانیہ 12 ماہ ہے تو اس لحاظ سے جس شخص کی موٹر سائیکل پہلے مہینے کی قرعہ اندازی میں نکلے گی، اس کو موٹر سائیکل 6000 روپے میں پڑے گی اور باقی ماندہ قسطیں اس سے ساقط ہوجائیں گی اور جس آدمی کی موٹر سائیکل دوسرے مہینے نکلے گی اس کو موٹر سائیکل12000 روپے میں پڑے گی اور باقی قسطیں اس سے ختم ہوجائیں گی۔ جبکہ آخری آدمی کو وہی موٹر سائیکل تمام قسطوں کی ادائیگی کے بعد 72000 روپے میںپڑے گی۔
ب… اسی طرح اگر مدت کمیٹی 30 ماہ ہو اور ہر ممبر پر ماہانہ 1500 روپے قسط لازم ہو تو اس اعتبار سے جس آدمی کی موٹر سائیکل پہلے مہینے کی قرعہ اندازی میں نکلے گی اس کو موٹر سائیکل 1500 روپے میں پڑے گی۔ اسی طرح ہر ماہ 1500 روپے بڑھتا جائے گا حتی کہ آخری بندے کو وہی موٹر سائیکل دوسرے سے مہنگے داموں 45000 روپے میں پڑے گی۔
ج… اسی طرح اگر کمیٹی کی مدت 36 ماہ ہو اور ہر ممبر پر ماہانہ 2200 روپے قسط لازم ہو تو پہلے مہینے جس کی کمیٹی نکلے گی، اسے 2200 روپے میں موٹر سائیکل پڑے گی اور جو آخر میں بچ گئے، خواہ وہ پچاس ہوں یا سو آدمی ہوں، سب کو موٹر سائیکل 79200 روپے میں پڑے گی۔
د… اسی طرح اگر مدت کمیٹی 25 ماہ ہو اور ہر ممبر پر ماہانہ 2000 روپے قسط لازم ہو تو اس لحاظ سے جس آدمی کی موٹر سائیکل پہلے مہینے کی قرعہ اندازی میں نکلے گی اس کو موٹر سائیکل 2000 روپے میں پڑی اور دوسرے مہینے کی قرعہ اندازی میں نکلنے والی موٹر سائیکل 4000 روپے میں پڑے گی۔ سائل نے جو صورت بیان کی اور لکی کمیٹی کا لف پیپر بھی دکھایا، اس میں کل ممبر کی تعداد بھی واضح کی گئی ہے کہ ٹوٹل ممبر 150 ہیں۔ تو اس لحاظ سے 25 ماہ تک پچیس ممبران کو ہر ماہ 2000 روپے بڑھاتے ہوئے قرعہ اندازی کے ذریعہ موٹر سائیکل دی گئی۔ 25 ویں قرعہ اندازی کے بعد بقیہ تمام ممبران کو موٹر سائیکل دے دی جائے گی۔ یعنی 126 ممبران کو موٹر سائیکل پچاس ہزار کی پڑے گی۔
یہ وہ صورتیں ہیں جو مختلف مقامات سے ہم تک پہنچی ہیں۔ اس کے علاوہ کئی ایک صورتیں رائج ہیں۔ ہوتا یہ ہے کہ کمیٹی کے مالکان لوگوں کو رغبت دینے کے لئے پہلی کمیٹی میں بڑا انعام رکھتے ہیں۔ اسی طرح پہلی پانچ یا دس کمیٹیوں میں بعد میں نکلنے والی کمیٹیوں سے زیادہ انعام رکھتے ہیں۔ یہ سب ان مالکان کمیٹی کا لوگوں کا مائل کرنے اور زیادہ نفع میں کثیر تعداد کے ساتھ موٹر سائیکل بیچنے کا ایک انوکھا راستہ ہے لیکن یہ راستہ شریعت کے راستوں سے دور لے جانے والا ہے۔
صورت مسئولہ کے مطابق موجودہ ’’لکی کمیٹی‘‘ میں چھ ناجائز خرابیاں پائی جاتی ہیں۔
1۔قمار (جوائ) 2۔ غرر (دھوکہ) 3۔ ربو (سود) 4۔ شرطفا سد 5۔ تعزیر بالمال (جرمانہ) 6۔ حرام اجرت
لکی کمیٹی میں جواء کا وجود
میر سید شریف جرجانی علیہ الرحمہ جواء کی تعریف لکھتے ہیں۔
ترجمہ: ہر وہ کھیل جس میں یہ شرط لگائی جائے کہ مغلوب کی کوئی چیز غالب کو دی جائے گی (التعریف للجرجانی ص 26، مطبوعہ دارالمنار للطباعۃ والنشر)
اس تعریف سے معلوم ہوا کہ جواء کاروبار کے اندر ہو یا کھیل کے اندر لگایا جائے، یہ ایک خود کھیل ہے جس میں شرط لگا کر اس بات کی تعین کی جاتی ہے کہ ہارنے والے کی کوئی چیز غالب آنے والے کو دی جائے گی۔
علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمہ ’’جوائ‘‘ کی تعریف اور حکم واضح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
ترجمہ: ’’یعنی کا لفظ، قمر (چاند) سے لیا گیا ہے۔ چونکہ چاند بھی کبھی بڑھتا ہے اور کبھی کم ہوتا ہے اور قمار (جوائ) کو قمار بھی اسی لئے کہتے ہیں کہ جواء لگانے والے فریقین میں ہر ایک کے بارے میں احتمال کہ ایک فریق کا مال دوسرا لے جائے اور دوسرا فریق پہلے کا مال حاصل کرلے (جس سے ہر فریق کے مال کا کم اور زیادہ ہونے کا احتمال ہوتا ہے) اور یہ عمل نص قطعی کی وجہ سے شرعاً حرام ہے‘‘ (فتاویٰ شامی جلد 9، ص 665، المکتبۃ الحقانیہ، پشاور)
اس کے علاوہ بھی فقہاء کرام نے جواء کی تعریفیں لکھی ہیں۔ تمام تعریفات کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہمارے سامنے جواء کی یہ تعریف آئی ہے کہ جواء کہتے ہیں فریقین میں سے ہر ایک کا دوسرے کے ساتھ اپنے مال کو کسی غیر یقینی واقعے پر بغیر کسی عوض کے دائو پر لگانے کا معاہدہ کرنا، جس میں غالب، مغلوب کا مال لے جاتا ہے۔ جواء کی اس تعریف میں چار امور قابل توجہ ہیں۔
1… معاہدہ دو یا دو سے زیادہ فریقوں کے درمیان طے ہو۔ اگر ایک طرف سے کچھ دینے کا عہد ہوگیا ہو اور دوسری طرف سے کچھ دینے کا وعدہ نہ ہوا ہو تو وہ ’’جوائ‘‘ نہیں۔ کیونکہ ہم نے تعریف میں فریقین کے معاملہ کی بات کی ہے۔
2… اسی طرح اگر دو فریقوں کی بجائے تیسرا شخص جو اس معاہدہ میں شریک نہ ہو وہ اپنا مال دو فریقوں میں سے غالب آنے والے کو دیتا ہے تو وہ جوا نہیں، جیسے آج کل جیتنے والی ٹیم کو حکومت کا انعام وغیرہ دینا۔
3… معاہدہ میں ایک دوسرے کے ساتھ اپنے مال کو کسی غیر یقینی واقعہ پر موقوف رکھنا قرار پایا ہو یعنی جس کام کے ہونے یا نہ ہونے کا احتمال و شک ہو۔ لہذا اگر دوسرے کے مال کا حصول کسی یقینی اور قطعی واقعہ پر موقوف ہوجائے تو جواء نہیں مثلا کوئی شخص دن کے وقت شرط لگائے کہ اگر آج رات ہوگئی تو تم مجھے ایک لاکھ روپے دو گے اور اگر رات نہ ہوئی تو میں تم کو ایک لاکھ روپے دوں گا۔ اسی طرح سورج کے طلوع ہونے یا غروب ہونے پر شرط رکھنا جواء نہیں۔ کیونکہ یہ کام دستور خداوندی کے مطابق ایک قطعی اور یقینی امر ہے۔ جس کا ہونا ضروری ہے، کیونکہ یہ معاملہ نظروں سے اوجھل نہیں اور نہ ہی اس میں رسک لیا جارہا ہے۔
4… مال کو دائو پر لگانا کسی عوض کے بغیرہو تو جواء ہوگا ورنہ جواء نہیں ہوگا۔ جیسے کوئی شخص اپنے سامان کی اصل قیمت کے ساتھ ’’انعامی کوپن‘‘ کی اسکیم چلالیتا ہے تاکہ لوگوں کو اس سامان کے خریدنے کی رغبت پیدا ہو۔ مثلا ایک بسکٹ کا پیکٹ 15 روپے کا ملتا ہے اور وہی بسکٹ کا پیکٹ ’’انعامی اسکیم‘‘ کے ساتھ 15 روپے میں ملے تو جائز ہے جواء نہیں اور اگر انعامی اسکیم کے ساتھ بسکٹ کا پیکٹ 15 روپے کی بجائے 20 روپے میں ملتا ہے اور انعامی اسکیم کے بغیر 15 روپے میں ملتا ہے تو 20 روپے میں اس پیکٹ کو خریدنا جواء ہے۔ کیونکہ اس میں انعامی اسکیم کے ذریعہ 5 روپے کو دائو پر لگایا گیا ہے اور پانچ روپے کے عوض کوئی چیز نہیں ہے۔
لہذا ان وضاحتوں کے مطابق تمام لاٹریاں، معمہ وغیرہ خالصتاً جواء ہیں۔ جواء کی تعریف واضح ہونے کے بعد اب ذرا ’’لکی کمیٹی‘‘ کی صورت کو ایک نظر دیکھئے اور اپنے دل سے پوچھئے کہ لکی کمیٹی جواء ہے یا نہیں؟ لکی کمیٹی میں ممبر کمیٹی اپنی رقم کو دیتے وقت اس تمنا میں ہوتا ہے کہ اس کی پہلی کمیٹی نکل آئے یا پہلی پانچ کمیٹیوں کے اندر اندر کمیٹی نکل آئے اور ہر کمیٹی ممبر دوسرے ممبر کا فریق ہوتا ہے تو یہاں فریقین میں سے ہر فریق (ممبر) تمنا کرتا ہے اور اسی امید پر وہ لکی کمیٹی میں حصہ لیتا ہے کہ میری کمیٹی دوسرے سے پہلے نکل آئے۔ اب جس کی کمیٹی دوسرے سے پِہلے نکل آئے گی وہ دوسرے شخص کا مال لے جائے گا۔ کیونکہ جتنے ممبر کمیٹی میں ہوتے ہیں، موٹر سائیکل ان سب کے پیسوں سے لی جاتی ہے اور قرعہ اندازی میں جو غالب آجائے اسے وہ موٹر سائیکل دے دی جاتی ہے۔ اسی کو جواء کہتے ہیں۔
خیال رہے کہ یہاں فریقین اپنے مال کوغیر یقینی امر میں دائو پر لگا رہے ہیں کیونکہ کسی کو یہ یقین حاصل نہیں ہوتا کہ اس کی پہلی کمیٹی نکلتی ہے یا دوسری یا تیسری۔ اسی طرح یہ معاہدہ بغیر عوض کے مال کو دائو پر لگانا ہوا۔ گزشتہ مثال میں 15 روپے والے بسکٹ کو ’’انعامی اسکیم‘‘ کی وجہ سے 20 روپے میں بیچنا ناجائز اور جواء اس لئے ٹھہرا تھا کہ اس میں پانچ روپے کو دائو پر بغیر کسی عوض کے لگایا جارہا ہے اور لکی کمیٹی میں مکمل کمیٹی ہی بغیر عوض کے دائو پر لگائی جارہی ہے۔ یہاں تک کہ ہمارے سامنے لکی کمیٹی میں جواء کے وجود کی وضاحت آگئی کہ لکی کمیٹی میں ہر ممبر دوسرے ممبر کا فریق ہوتا ہے اور دونوں فریقوں میں سے ہر ممبر لکی کمیٹی میں حصہ لے کر ایک دوسرے کے ساتھ اپنے مال کو، ایک غیر یقینی معاملہ میں کسی عوض کے بغیر دائو پر لگاتے ہیں جس میں پہلی کمیٹی پانے والا غالب ہوجاتا ہے اور وہ بقیہ مغلوب ممبران کا مال لے جاتا ہے، اسی طرح دوسری، تیسری اور آخر تک جس کی کمیٹی نکل آئی، وہ غالب ہے جو بقیہ مغلوب ممبران کا مال لے جاتا ہے‘‘
یہاںایک بات پیش نظر رکھیں کہ بغیر لکی کمیٹی والے لکی کمیٹی کو جائز کرنے کے لئے ایک حیلہ کرتے ہیں کہ ہر ممبر کمیٹی کو ہر دفعہ کوئی چیز دے دیتے ہیں۔ مثلا ڈنر سیٹ، کبھی واٹر سیٹ، پنکھا، استری وغیرہ۔ چھوٹی چھوٹی چیزوں کو بھی قرعہ اندازی کردیتے ہیں اور کبھی اس سے بھی چھوٹی چیز جس کی مالیت ماہانہ کمیٹی کی دسویں حصے کو بہ مشکل پہنچتی ہے۔ یہ دونوں طریقے بھی ناجائز ہیں۔ پہلا اس لئے کہ اس میں بھی موٹر سائیکل کی طرح قرعہ اندازی کرکے غیر یقینی امر میں بغیر عوض کے مال کو دائو پر لگایا جارہا ہے اور یہ ناجائز ہے۔ دوسرا طریقہ اس واسطے ناجائز ہے کہ اس میں لکی کمیٹی کی طرف رغبت دینے کے لئے یہ چیزیں اس واسطے دی جاتی ہیں تاکہ لکی کمیٹی کے ممبران کی تعداد کم نہ ہو اور ممبر کمیٹی ان چیزوں کو لکی کمیٹی کی وجہ سے اپنی ماہانہ کمیٹی کے بدلے میں قبول کررہا ہوتا ہے ورنہ ماہانہ کمیٹی کی مالیت کے عوض ایسی چھوٹی چھوٹی چیزیں ممبر کمیٹی کبھی قبول نہ کرے۔ جیسے 15 روپے والے بسکٹ 20 روپے میں انعامی اسکیم کی تمنا سے ہی لیا جاتا ہے۔ اگرچہ اس میں سے بطور انعام ایک روپیہ نکلے یا وہ بھی نہ نکلے۔ لیکن انعامی اسکیم کے بغیر کبھی 15 روپے کا بسکٹ 20 روپے میں نہیں خریدے گا اور شریعت میں یہ قانون واضح ہے کہ حرام کا ذریعہ اور واسطہ بھی حرام ہوتا ہے اور یہ چھوٹے چھوٹے انعامات بھی لکی کمیٹی کو بحال رکھنے کے ذرائع ہیں۔ جب لکی کمیٹی حرام ہے تو اس کے یہ ذرائع بھی حرام ٹھہرے۔ سو ہمارے سامنے لکی کمیٹی کے بارے میں حکم شرعی واضح طور پر آگیا کہ یہ لکی کمیٹی نہیں بلکہ جواء کمیٹی ہے جو قطعی طور پر حرام ہے اور جواء کی مذمت بیان کرتے ہوئے ارشاد خداوندی ہے۔
1… ترجمہ: ’’لوگ آپ سے سوال کرتے ہیں کہ شراب اور جوئے کا کیا حکم ہے؟ آپ کہئے ان دونوں چیزوں میں بڑا گناہ ہے اور کچھ اس میں (دنیاوی) منافع بھی ہیں لیکن ان دونوں کا گناہ ان کے نفع سے بہت برا ہے‘‘ (بقرہ : ۲۱۹)
2… ترجمہ: ’’اے ایمان والو! شراب، جواء بت اور پانسے (فال نکالنے والے تیر) یہ سب گندے شیطانی کام ہیں، ان سے بچو، تاکہ تم فلاح پائو‘‘ (مائدہ: ۹۰)
3… ترجمہ: ’’شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعے تمہارے درمیان عداوت اور بغض ڈال دے اور تمہیں اﷲ تعالیٰ کے ذکر اور نماز سے روک دے۔ کیا تم ان چیزوں سے باز آنے والے ہو؟‘‘ (مائدہ: ۹۱)
مسند احمد بن حنبل میں اس آیتِ کریمہ کے شان نزول کے متعلق حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرمﷺ مدینہ طیبہ تشریف لائے تو اس وقت شراب پینے اور جواء کھیلنے کی رخصت تھی۔ صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم نے حضورﷺ سے اس بابت دریافت کیا تو اس وقت یہ آیت کریمہ نازل ہوئی (جس سے شراب اور جواء تاقیامت حرام ہوگئے۔ (مسند احمد جلد2، ص 351، مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت)
امام دائود علیہ الرحمہ اپنی سند کے ساتھ ’’جواء کی حرمت کے متعلق‘‘ فرماتے ہیں:
ترجمہ: ’’حضرت عبداﷲ ابن عمر سے مروی ہے کہ رسول اکرمﷺ نے انگور کی شراب، جوئے، طبل اور جوار کی شراب سے منع فرمایا ہے‘‘ (ابو دائود جلد 2، ص 163، مطبوعہ مطبع مجتبائی پاکستان لاہور)
توجہ فرمایئے! جواء کا ذکر قرآن مجید میں شراب اور بت پرستی ایسے بڑے بڑے گناہوں کے ساتھ ہورہا ہے۔
2۔ لکی کمیٹی میں غرر (دھوکہ) کا وجود
غرر کا معنی دھوکہ آتا ہے۔
شریعت میں غرر کی وضاحت کرتے ہوئے شمس الائمہ امام سرخسی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: غرر اسی شے کو کہتے ہیں جس کا انجام پوشیدہ ہو (المبسوط جلد 12، ص 94، مطبوعہ دارالاالمعرفۃ بیروت 1414ھ ء 1993ئ)
امام کاسانی علیہ الرحمہ ’’بدائع الصنائع‘‘ میں فرماتے ہیں:
ترجمہ ’’غرر وہ خطر پر مبنی ایسے معاملے کو کہتے ہیں جس میں وجود عدم کی دونوں طرفیں شک کے درجہ کی طرح برابر ہوں ‘‘ (بدائع الصنائع جلد 4، ص 366، مطبوعہ مکتبہ رشیدیہ سرکی روڈ، کوئٹہ)
جب غرر کی وضاحت سامنے آگئی تو لکی کمیٹی میں غرر کا عنصر ملاحظہ کیجئے۔ لکی کمیٹی میں ہر ممبر، کمیٹی کی ادائیگی کیو قت جو معاملہ کرتا ہے اس معاملہ کا انجام اس شخص پر پوشیدہ ہوتا ہے اور یہ معاملہ چونکہ خطرے پر مبنی ہوتا ہے کہ نقصان ہونے یا نہ ہونے، نفع ہونے یا نہ ہونے میں برابر کا شک پایا جاتا ہے۔ یہاں یہ بات پیش نظر رہے کہ تجارت میں نفع و نقصان کی حیثیت اور ہے کہ تجارت میں مال تجارت کا وجود پہلے ہوتا ہے اور اس مال تجارت پر نفع و نقصان بعد کی بات ہوتی ہے۔ جبکہ غرر و خطر میں بعینہ مال ہی وجود عدم میں مشکوک ٹھہرا ہوا ہوتا ہے اور اس مال کا انجام پوشیدہ ہے کہ کسی ایک ممبر کو یہ مال زیادہ مل جائے تو اسے نفع ہوجائے اور دوسرے کو نقصان ہوجائے۔ چونکہ لکی کمیٹی میں مال کا انجام پوشیدہ ہوتا ہے لہذا یہ معاملہ غرر (دھوکہ) پرمبنی ہوا اور غرر کے بارے میں ارشاد خداوندی ہے۔
ترجمہ: ’’اور آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق طریقے سے نہ کھائو‘‘ (البقرۃ : 188)
علامہ ابن عربی اور علامہ قرطبی علیہ الرحمہ ’’اکل باطل‘‘ کے تحت کئی ایک ناجائز معاملات گنوانے کے بعد فرماتے ہیں:
ترجمہ: ’’اور یہ تمام ناجائز معاملات کی اقسام، تین قسموں سے باہر نہیں ہیں اور وہ تین قسمیں ہیں۔
1۔ سود، 2۔ ناحق طریقے سے کھانا، 3۔ دھوکہ
تحقیقی بات یہی ہے کہ غرر بھی ’’اکل باطل‘‘ یعنی ناحق طریقے سے مال کو کھانے کی قسم میں داخل ہے تو اس طرح کل ناجائز معاملات کی دوقسمیں ہوگئیں۔
1۔ سود، 2۔ ناحق طریقے سے مال کھانا
امام قرطبی بھی ناجائز معاملات کا ذکر ’’اکل باطل‘‘ کے تحت کرنے کے بعد فرماتے ہیں۔
ترجمہ: کیونکہ ان ناجائز معاملات میں قمار، غرر اور خطر کی خرابی پائی جاتی ہے (احکام القرآن، للقرطبی، جلد 5، ص 15، مطبوعہ دارالکتب المصریۃ القاہرہ)
سو معلوم ہوا کہ قرآن مجید میں ’’غرر‘‘ کی ممانعت وارد ہوئی ہے جس کو مفسرین نے ناحق طریقے سے مال کھانے کے تحت بیان فرمایا اور اس کی حرمت کو واضح فرمایا۔ غرر کے متعلق مختلف احادیث مبارکہ میں ممانعت وارد ہوئی ہے۔ اختصاراً حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ کی روایت پیش کی جاتی ہے۔
ترجمہ:حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے کہ آپ فرماتے ہیں۔ رسول اکرمﷺ نے کنکری مار کر بیع کرنے اور غرر کی بیع سے منع فرمایا (صحیح مسلم، کتاب البیوع، رقم الحدیث 3691، مطبوعہ المکتبۃ الاسلامیہ، استنبول) (سنن ابو دائود، باب فی بیع الغرر، رقم الحدیث 1233، مطبوعہ دارحیاء السنۃ النبویۃ، بیروت) (جامع الترمذی، البیوع رقم الحدیث 1233، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی، بیروت) (سنن ماجہ کتاب التجارات رقم الحدیث 2194، مطبوعہ شرکۃ الطباعۃ العربیہ، الریاض)
(3‘ 4) لکی کمیٹی میں سود اور شرط فاسد
’’لکی کمیٹی‘‘ میں بعض نے یہ شرط لگائی ہے کہ ’’مسلسل دو کمیٹیاں ادا نہ کرنے کی صورت میں وصول شدہ رقم ضبط کرلی جائے گی۔ جس کو ممبر کمیٹی چیلنج نہیں کرسکتا‘‘ اور بعض مالکان کمیٹی نے اس شراط کو دوسرے طریقے سے اسی طرح لگایا ہے کہ ’’کمیٹی توڑنے کی صورت میں جمع شدہ رقم ہرگز واپس نہ ہوگی‘‘ اس بات کا خیال رکھیں کہ کوئی بھی کمیٹی ہو عام پرچی والی ہویا بولی والی کمیٹی ہو یا لکی کمیٹی ہو، کمیٹی ڈالنے کے بعد توڑنا کسی مجبوری کے باعث ہو یا جان بوجھ کر کمیٹی توڑ دے تو اس توڑنے کی سزاء میں آپ اس ممبرکی گزشتہ کمیٹیاں ضبط نہیں کرسکتے۔
عام پرچی والی کمیٹی جائز ہے لیکن اس میں بھی اس بات کا لحاظ رکھیں کہ اگر کوئی ممبر کمیٹی توڑتا ہے تو اس کی جمع شدہ رقم واپس کردیں۔ اگر کمیٹی واپس نہ کی تو سب ممبر اس جرم میں برابر کے شریک ہوں گے۔ مگر یہ کہ کوئی ممبر اپنے حصے کے روپے کمیٹی توڑنے والے کو واپس کردے تو یہ بری الذمہ ہو جائے گا۔ لیکن باقی خرابیاں اس میں باقی رہیں گی۔ اس قدر خیال رکھنا اس لئے ضروری ہے کہ مال جمع کرکے کمیٹی کی صورت میں معاونت کرنا جائز ہے لیکن یہ تمام پیسے سبھی ممبران کے مشترکہ ہوتے ہیں اور ہر ممبر پرچی کے ذریعے نکلنے والی کمیٹی میں ایک دوسرے کی معاونت کرتے ہیں۔ یہ معاملہ معاونت کی حد تک تو جائز ہوا لیکن کمیٹی چھوڑنے والے کے مال کو ضبط کرنے کا ہمیں کس نے اختیار دیا ہے؟ ایک تو مال دے کر ہماری معاونت کررہا ہے اور دوسرا ہم اس معاونت والے مال پر غاصب بن کر بیٹھ جائیں تو یہ کہاں کا انصاف ہوگا؟ اگرچہ اس نے آخری کمیٹی تک معاونت کا وعدہ کیا ہے۔ اگر تو وہ جان بوجھ کر توڑ رہا ہے تو اس کی گردن پر خلاف ورزی کا گناہ ہے کسی اور پر نہیں اور اگر مجبوری کے باعث ہے تو اﷲ تعالیٰ اسے زیادہ بہتر جانتا ہے۔ لیکن ہمیں اس کی وعدہ خلافی پر یہ حق نہیں پہنچتا کہ اس کا مال غصب کریں۔ کیونکہ یہ وعدہ معاونت و مدد کا ہے۔ کسی فرض کی ادائیگی کا نہیں ہے۔ لہذا معلوم ہوا کہ معاملہ اس کے اندر ایسی شرط لگانا ناجائز اور فاسد ہے اور ’’ہر وہ شرط جو معاملہ میں ناجائز و فاسد ہو اسے باقی رکھنا حرام ہے اور توڑنا ضروری ہے۔ کیونکہ ایسے معاملہ کو بیع فاسد کہتے ہیں۔ اگر بیع کا وقوع ہوجائے ورنہ یہ بیع باطل ہے‘‘ (فتاویٰ رضویہ جلد 17، ص 141,115، مطبوعہ رضا فائونڈیشن جامعہ نظامیہ لاہور)
جبکہ لکی کمیٹی میں اس ناجائز شرط کو باقی رکھا جاتا ہے۔ لکی کمیٹی میں ناجائز شرط لگنے سے ایک اور شرعی خرابی یہ لازم آتی ہے کہ اس میں سود کا عنصر بھی پایا جاتا ہے۔ کیونکہ سود کہتے ہیں:
ترجمہ ’’یعنی ہر وہ قرض جو نفع کھینچے وہ سود ہے‘‘ (کنزالعمال رقم الحدیث 5516 جلد 3، ص 238، مطبوعہ مؤسسۃ الرسالہ بیروت)
لکی کمیٹی میں تمام ممبران جو روپے معاونت کے طور پر دیتے ہیں یہ روپے قرض ہوتا ہے اور یہ قرض ہر ممبر کی طرف سے کمیٹی نکلنے والے ممبر پر مشترکہ طور پر ہوتا ہے۔ اب جس کی کمیٹی نکلی ہے اس کا حق بنتا ہے کہ اس قرض کی ادائیگی کرے۔ لیکن لکی کمیٹی میں یہ طے شدہ معاملہ ہوتا ہے کہ جس کی کمیٹی نکل گئی وہ باقی کمیٹیاں نہیں دے گا۔
ایک تو یہ کہ جس ممبر کی کمیٹی نکل آتی ہے اس کی گردن پر مرتے دم تک قرض باقی رہے گا۔ دوسرا اس میں سود اس طرح پایا گیا کہ تمام ممبران کمیٹی جو اپنی کمیٹی دیتے ہیں یہ کمیٹی بطور قرض دی جاتی ہے۔ اس واسطے تمام ممبران کمیٹی اپنی کمیٹی (جوکہ قرض ہے) کے ذریعے نطع لینے کی امید رکھتے ہیں کہ ہماری کمیٹی نکل آئے اور ہم سے باقی کمیٹیاں معاف ہوجائین، جبکہ ہر قرض جس سے نفع لینا مقصود ہو وہ حرام اور سود ہوتا ہے اور لکی کمیٹی میں قرض پر نفع لیا بھی جاتا ہے لہذا ان کی کمیٹی میں سود بھی پایا جاتا ہے۔
سود کے متعلق ارشاد خداوندی ہے:
ترجمہ ’’جو لوگ سود کھاتے ہیں وہ قیامت کے دن (گنہ گاروں کی صف میں) اس شخص کی طرح ہی کھڑے ہوں گے جس کو شیطان نے چھو کر دیوانہ کردیا ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے کہاتھا کہ خرید و فروخت اور سود ایک جیسے ہیں اور اﷲ تعالیٰ نے خریدوفروخت کو حلال رکھا ہے اور سود کو حرام قرار دیا ہے۔ جس شخص کے پاس اس کے رب کی طرف سے نصیحت آگئی پھر وہ (سود) سے باز آگیا اور اس کا معاملہ اﷲ تعالیٰ کے حوالے سے ہے اور جس نے دوبارہ سود کو لیا تو وہی لوگ جہنمی ہیں۔اس میں ہمیشہ رہیں گے (یاد رکھو!) اﷲ تعالیٰ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے اور اﷲ تعالیٰ کسی ناشکرے گنہ گار کو پسند نہیں فرماتا‘‘
اس سے ذرا آگے اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے:
ترجمہ ’’اے ایمان والو! اﷲ سے ڈرو اور باقی بچے ہوئے سود کو چھوڑ دو (اور سچی توبہ کرلو) اگر تم مومن ہو‘‘
ترجمہ ’’پس اگر تم ایسا نہ کرو (یعنی سود لینے سے باز نہ آئو) تو اﷲ تعالیٰ اور اس کے رسول کریمﷺ کی طرف سے اعلان جنگ سن لو اور اگرتم توبہ کرلو تو تمہارے اصل مال تمہارا حق ہے نہ تم ظلم کرو اور نہ ظلم کئے جائو‘‘
سود کی احادیث میں بڑی مذمت آئی ہے۔
’’امام مسلم اور امام بیہقی حضرت جابر رضی اﷲ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ نے سود کھانے والے، سود کھلانے والے، سود کے معاملہ کی گواہی دینے والے اور سود کے لکھنے والے پر لعنت فرمائی ہے اور فرمایا یہ سب برابر ہیں‘‘ (صحیح مسلم، باب الربا جلد 2، ص 27، مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی) (ابو دائود کتاب البیوع، جلد 2، ص 17، مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور)
امام طبرانی نے حضرت عبداﷲ ابن سلام رضی اﷲ عنہ کی روایت بیان کی کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا:
’’انسان سود کا جو ایک درہم وصول کرتا ہے وہ اﷲ کے نزدیک اسلام میں 33 بار زنا کرنے سے زیادہ سخت ہے‘‘ (مسند احمد بن حنبل حدیث عبداﷲ ابن حنظلۃ جلد 5، ص 225، مطبوعہ دارالفکر بیروت) (الدر المنثور جلد 1، ص 367، مطبوعہ مکتبہ آیۃ اﷲ العظمی ایران)
امام ابن ماجہ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرمﷺ نے فرمایا:
’’جس رات مجھے معراج کرائی گئی مجھے ایک ایسی قوم کے پاس سے گزارا گیا جن کے پیٹ کوٹھڑیوں کی طرح تھے۔ ان کے پیٹوں میں باہر سے سانپ دکھائی دے رہے تھے۔ میں نے پوچھا اے جبریل! یہ کون ہیں؟ عرض کی یہ لوگ سود کھانے والے ہیں‘‘
حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ سے ایک اور روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا:
’’سود کے ستر گناہ ہیں اور ان میں سب سے ہلکا یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی ماں کے ساتھ زنا کرے‘‘ (سنن ابن ماجہ، ص 165,164، مطبوعہ نور احمد اصح المطابع کراچی)
قرآنی آیات اور احادیث سے ہمیں سود کی جس قدر حرمت اور سزاء کا علم ہوا۔ اﷲ تعالیٰ ہمیں اس سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ لکی کمیٹی کے علاوہ جو بھی سودی نظام پر مشتمل کاروبار ہیں مثلا بینکاری نظام، انشورنس وغیرہ ان میں شرکت کرنا، ملازمت کرنا حرام ہے۔ کیونکہ جو کام حرام ہوتا ہے اس میں معاونت بھی حرام ہے اور اجرت بھی حرام ہوتی ہے۔
5۔ مالی جرمانہ
لکی کمیٹی میں مالی جرمانہ کی خرابی بھی پائی جاتی ہے کہ جو بندہ دو کمیٹیاں مسلسل نہ دے گا اس کو بطور جرمانہ گزشتہ کمیٹیاں ضبط کرنے کی سزا دی جاتی ہے یا مثلا 20 تاریخ کے بعد 100 روپے یومیہ جرمانہ کے ساتھ کمیٹی وصول کی جائے گی، کا کہنا یہ سب ناجائز ہے۔
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں بریلوی علیہ الرحمہ اس بارے میں رقم طراز ہیں:
’’وہ نوٹ لکھوانا یا روپیہ جمع کراکر ضبط کرنا یا گناہ پر مالی جرمانہ ڈالنا یہ سب حرام ہے‘‘
اﷲ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
ترجمہ ’’لوگو! اپنے مال آپس میں ناجائز طورپر نہ کھائو‘‘ مالی جرمانہ منسوخ ہوگیا اور منسوخ پر عمل حرام ہے۔
6۔ حرام اجرت
جب لکی کمیٹی کا کئی وجوہ سے حرام ہونا ثابت ہوگیا تو یہ بات واضح ہوگئی کہ صورت مسئولہ میں جو یہ کہا گیا کہ’’اور خصوصیات میں شامل ہے کہ جتنے ممبر دیئے جائیں گے اتنا نفع ممبر دینے والے کو مفت دیا جائے گا‘‘ کے بارے میں حکم شرعی یہ ہے کہ ممبر تیار کرکے آگے دینا اور اس کے بدلے نفع لینا یہ اجرت ہے اور حرام کام پر اجرت بھی حرام ہوتی ہے جیسے داڑھی منڈوانا حرام ہے تو اس کی اجرت دینا اور لینا حرام ہے۔ لہذا ان کی کمیٹی میں یہ صورت بھی حرام ہے‘‘
اس قدر کثیر دلائل کی موجودگی میں اگر پھر بھی ہم اس حرام کام کرنے والے کو ’’خوش نصیب‘‘ کہیں تو شریعت کے ساتھ مذاق کرنا ہوگا جوکہ جائز نہیں۔ لکی کمیٹی کے کئی ایک پمفلٹ پر ’’خوشخبری‘‘ اور ’’جس خوش نصیب کی کمیٹی نکل آئے گی وہ آئندہ کمیٹی نہیں ادا کرے گا‘‘ ایسے الفاظ لکھے ہوتے ہیں اور ایک پمفلٹ پر لکھا ہوا تھا ’’پہلی قرعہ اندازی 25جنوری کو ان شاء اﷲ ہوگی‘‘ جب یہ بات ہم پر واضح ہوگئی ہے کہ لکی کمیٹی ایک نہایت حرام کام ہے تو اس کے لئے ’’خوشخبری‘‘ ’’خوش نصیب‘‘ اور ’’ان شاء اﷲ‘‘ ایسے الفاظ بولنا حرام ہے اور کوئی ان الفاظ کو جائز سمجھ کر لکھے یا پڑھے باوجود اس کے کہ وہ اسے حرام ہونا جانتا ہو تو وہ شخص دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ کیونکہ شریعت کے حرام کو حلال سمجھنا کفر ہے اور اگر وہ شادی شدہ ہے تو اس کی بیوی اس کے نکاح سے نکل جائے گی۔ اس واسطے ایسے تمام امور سے بچیں۔
میں آخر میں اپنے مسلمان بھائیوں سے التجا کروں گا کہ خدارا! ایسے حرام کاموں کو معمولی نہ سمجھیں۔ انہیں کاموں سے کاروبار میں بے برکتی، چہروں کی رونق کا ختم ہونا، بچوں کی بیماری، گھروں میں ناچاقی، دل کی بے اطمینانی، سب کچھ ہمارے اپنے اعمال سے رونما ہوتا ہے۔
اﷲ تعالیٰ ہمیں حلال رزق کھانے اور کھلانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ سید المرسلین… ہذا ماعندی واﷲ اعلم بالصواب۔
(بشکریہ: سہ ماہی ’’البرہان‘‘)