ایشیائی ممالک میں وہابیت کا فروغ اور سعودی حکومت کا کردار

in Tahaffuz, June 2014, سید رفیق شاہ

سعودی حکومت نے ایشیاء میں وہابی ازم کے فروغ کے لئے جنوبی ایشیاء کے ملک مالدیپ میں اپنے پنجے گاڑنا شروع کردیئے ہیں۔ مالدیپ جس کی کل آبادی تین لاکھ تیس ہزار پر مشتمل ہے۔ اکثریت سنی عقائد مسلمانوں کی ہے، مالدیپ کی ملکی معیشت کا 70 فیصد دارومدار سیاحت پر اور دوسرے نمبر پر ماہی گیری کی صنعت کو درجہ حاصل ہے۔ سعودی عرب کے وزیر دفاع سلمان بن عبدالعزیز سرکاری دورے پر مالدیپ پہنچے جہاں دونوں ممالک کے درمیان کئی معاہدے ہوئے۔ گزشتہ سال 2013ء میں سابق صدر مامون عبدالقیوم کے حکومت میں 303 ملین ڈالر کا قرض پانچ سال کی مدت کے لئے نرم شرائط پر فراہم کیا تھا۔ دونوں ممالک کے درمیان فضائی رابطوں میں اضافہ ہورہا ہے۔
مالدیپ سے سعودی عرب کے لئے ماہانہ 14 پروازیں شروع کی جارہی ہے۔ سعودی کمپنی مالدیپ میں سیاحت کے فروغ کے لئے 100 ملین ڈالر تفریحی مقامات پر خرچ کرے گی۔ ان میں سب سے بڑا معاہدہ و تعاون مذہبی امور میں ہوا ہے۔ سعودی حکومت مالدیپ میں10 بہترین مساجد تعمیر کرے گی جس میں سے 7 مساجد اسی سال مکمل ہوجائے گی۔ اس کے علاوہ سعودی علماء اور مذہبی اسکالرز اسلامی تعلیم کے فروغ کے لئے اپنا کردار ادا کریں گے۔ ایک لاکھ ڈالر مذہبی تعلیم کے لئے مختص کیا گیا ہے۔ سالانہ 50 طلبہ اسکالرز شپ کی بنیاد پر سعودی عرب میں تعلیم حاصل کرنے جائیں گے۔ اس کے علاوہ سعودی حکومت 300 ملین ڈالر آسان شرائط پر مزید فراہم کررہا ہے۔ مالدیپ میں بڑھتے ہوئے سعودی اثرات پر غیر جانبدار تجزیہ کاروں کی رائے ہے کہ اس عمل سے ایشیاء میں سعودیہ کو اپنے وہابی نظریات کے فروغ کے لئے ایک مضبوط و محفوظ ٹھکانہ مل جائے گا جس کے اثرات بالخصوص پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش پر مرتب ہوں گے اور فرقہ وارانہ تصادم میں بھی اضافہ ہوگا۔ سعودی حکومت پاکستان میں پہلے ہی اپنے خود ساختہ نظریات کے فروغ کے لئے ایک طویل عرصے سے کوششیں کررہی ہے۔ وہابیوں کا غیر مقلد گروہ (اہل حدیث) اسی کے نظریات کو فروغ دے رہا ہے۔ پاکستان کے موجودہ شریف حکمران جنرل مشرف کے دور حکومت میں سعودی عرب میں جلا وطنی کے دن گزار چکے ہیں جوکہ وہابی نظریات سے متاثر نظر آتے ہیں۔ طالبان، لشکر جھنگوی، کالعدم سپاہ صحابہ، جماعت الدعوہ (سابقہ لشکر طیبہ) سے متعلق ان کی پالیسیاں ریاستی پالیسیوں سے متصادم ہے۔
گزشتہ دنوں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹر فرحت اﷲ بابر نے انکشاف کیا کہ پنجاب کی شہباز حکومت نے جماعت الدعوہ کو 2 کروڑ روپے فنڈ میں دیئے جس کا پنجاب حکومت نے تو کوئی جواب نہیں دیا، البتہ جماعت الدعوہ کے ترجمان نے کہا کہ حکومت پنجاب نے انہیں یہ رقم فلاحی کاموں اور مساجد کی تعمیر کے لئے دی تھی۔ ان کا یہ جواب تمام قومی اخبارات کی سرخیاں بن چکا ہے۔
جماعت الدعوہ اہل حدیث فرقے کی مسلح تنظیم ہے۔ پارٹی پرچم پر کلمہ طیبہ کے ساتھ تلوار کو بھی نمایاں طور پر پرنٹ کیا گیا ہے۔ ان کا عزم ہے کہ وہ اپنے نظریات کے فروغ کے لئے مسلح جدوجہد کریں گے۔ سابق وفاقی وزیر صاحبزادہ سید حامد سعید کاظمی نے گزشتہ دنوں کراچی آمد پر ایک ملاقاتی نشست میں بتایا کہ لاہور کے ضلعی کمشنر نے انہیں بتایا کہ جماعت الدعوہ (کالعدم لشکر طیبہ) ایک عسکری طاقت بن گئی ہے۔ مزارات، خانقاہوں، مدارس اور علماء و مشائخ کو ختم کرنا ان کے لئے کوئی مشکل کام نہیں۔ مسئلہ صرف ان کے لئے یہ ہے کہ پاکستان کی اکثریتی عوام اہلسنت ہے۔ عوامی ردعمل سے بچنے کے لئے اپنی ساری توجہ تبلیغ اور عوام کی ذہن سازی پر رکھی ہوئی ہے۔ جب بھی سول یا فوجی ذرائع سے حکومت حاصل ہوئی تو وہ سعودی طرز حکومت پر اپنا نظام قائم کرکے تمام مزارات، خانقاہوں اور مدارس اہلسنت کو تباہ اور ختم کردیں گے۔
الغرض وہابی ازم کے فروغ کے لئے سعودی حکومت کے یہ اقدامات مستقبل میں سنی عقائد اور امام اعظم ابو حنیفہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے پیروکاروں پر مشتمل ایشیائی ممالک میں فرقہ وارانہ تصادم میں اضافے کا سبب بنیں گے۔ علماء اہلسنت پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ فرقہ وارانہ خونی تصادم سے بچنے اور وہابی ازم کے فروغ، ریاستی اور سرکاری اقدامات کے خلاف آواز حق بلند کریں، وہی ان سازشوں سے بھی پردہ اٹھائیں اور بالخصوص نواز شریف سے ملاقات کرکے انہیں ان کے اقدامات سے باز رکھنے کے لئے کوششیں کریں، وہیں فلاحی کاموں کی آڑ میں جماعت الدعوہ (اہل حدیث) کے فروغ وہابیت کے مشن سے بھی عوام کو آگاہ کریں۔