کل کے جہادی آج کے دہشت گرد

in Tahaffuz, June 2014, سید رفیق شاہ

سعودی عرب نے پانچ مسلح جدوجہدکرنے والی تنظیموں و گروہوں پرپابندی عائد کردی۔ سعودی وزارت داخلہ کے جاری کردہ شاہی فرمان کے مطابق دہشت گرد قرار دی گئی تنظیمات میں مصر کی سب سے بڑی مذہبی سیاسی جماعت اخوان المسلمون، شام میں بشار الاسد حکومت کے خلاف برسر پیکر القاعدہ گروپ کا انصرۃ فرنٹ القاعدہ کا متحارب گروپ القاعدہ ان دی اسلامک اسٹیٹ آف عراق اینڈ یونٹ (شام و عراق میں القاعدہ) سعودی عرب میں سرگرم حزب اﷲ اور یمن کا باغی گروپ الحوثی شامل ہیں، شاہی فرمان کے مطابق ملک اور بیرون ملک ان مذکورہ گروپوں کی رکنیت اختیار کرنے ان کی مالی معاونت اور ان کی حمایت کرنے والوں کو فوجداری مقدمات کا سامنا کرنا پڑے گا جبکہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پران گروہوں کے حق میں نعروں پر پابندی ہوگی اور خلاف ورزی کرنے والوں کو 3 سال سے 20 سال تک قید کی سزا ہوسکتی ہے۔ ساتھ ہی غیر مجاز مفتیوں کے فتوے جاری کرنے کو غیر قانونی قرار دے دیا گیا۔ اس کے علاوہ شورش زدہ ممالک میں لڑنے یا جانے کے لئے اکسانے والے بھی سزاوار ہوں گے۔ خلیج تعاون کونسل میں شامل دو اہم ممالک بحرین اور عرب امارات نے سعودی فیصلوں کی حمایت کردی ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق اس وقت سیکڑوں سعودی شہریوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ القاعدہ کے گروپوں کے ساتھ مل کر شام میں شامی حکومت کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ سعودی حکومت ان کی واپسی کو ملک کے لئے خطرہ تصور کررہی ہے کہ یہ جنگجوئوں کہیں سعودی عرب میں اسلامی نظام حکومت کا مطالبہ نہ کردے۔ اگرچہ سعودی عرب اسلامی ملک ہے مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ اور دیگر مقامات مقدسہ کی وجہ سے عالم اسلام میں انتہائی مقدس ہیں۔ مگر آہنی و دستوری طور پر مملکت کا نظام شاہ سعود کے وضع کردہ قوانین پر ہے۔ سرکاری طور پر ریاست کا نام مملکت سعودی العربیہ ہے۔ 1925ء میں شیخ سعود نے برطانیہ کی مدد سے حجاز مقدس پر قبضہ کرکے حکومت قائم کی تھی۔ سعودی عرب، بحرین اور متحدہ عرب امارات نے قطر سے اپنے سفیروں کو واپس بلالیا ہے۔ قطر پر الزام ہے کہ وہ خلیج تعاون کونسل کے اجلاس منعقدہ ریاض 23 نومبر 2013ء میں طے کئے گئے۔ سیکورٹی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مصر میں اخوان المسلمون کی حمایت کررہا ہے۔ قطری حکام نے اخوان المسلمون کی حمایت جاری رکھنے کا اعادہ کرتے ہوئے ردعمل میں ماسوائے قطر، کویت اور اومان کے شہری لندن میں قائم 20 ہزار اسکوائر میٹر پر محیط سات منزلہ 330 ڈپارٹمنٹ پر مشتمل شاپنگ سینٹر میں داخلے پر پابندی عائد کردی۔ یہ ایک بے عزتی ہے جو کوئی دولت مند عرب شیخ یا امیر معمولی نہیں سمجھے گا۔ اس وقت تکبر اور مفادات کی جنگ بھی شروع ہوچکی ہے۔ العربیہ اخبار مصر کے مطابق قطر اخوان المسلمون کی حمایت کررہا ہے۔ امیر ٹیم کی جانب سے اقتدار کی منتقلی کے بعد سے خلیج تعاون کونسل کے ممالک کو ناراض کرتے ہوئے اخوان کے مفادات کا تحفظ کررہا ہے اور اخوان المسلمون کے ادارے قطر میں آزادانہ طور پر کام کررہے ہیں۔ قطر حکومت نے ان مصریوں کو بھی خاموش کرانے سے انکار کردیا جو سعودی عرب اور عرب امارات پر اعلانیہ تنقید کرتے ہیں۔ علماء کے خطابات میں سعودی عرب اور دیگر عرب ریاستوں کا غیر اسلامی ہونے کا الزام عائد کیا جاتاہے۔ ان الزامات اور تقریروں سے سعودی اور امارات کے حکمراں سخت ناراض ہے جبکہ دوسری جانب عراق کے وزیراعظم نوری المالکی نے بھی سعودی عرب پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ عراق میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کررہا ہے اور باغیوں کی حمایت اور مالی مدد کررہا ہے۔ عراق وزیراعظم نے سعودی عرب پر عالمی دہشت گردی کی حمایت کا بھی الزام لگایا۔

الغرض سعودی عرب اور خلیج تعاون کونسل پر مغرب نواز ہونے کا بھی الزام ہے۔ ان کے حالیہ فیصلوں پر دو طرح کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ ایک طبقے کا خیال ہے کہ ان پابندیوں کا مقصد اپنے مخالفین کے خلاف انتقامی کارروائیاں کرنا ہے جبکہ دوسرے مکتبہ فکر کا خیال ہے کہ ان اقدامات سے دنیا بھی بالخصوص مسلم دنیا میں امن وامان کی صورتحال میں بہتری آئے گی۔ مسلم ممالک اپنے وسائل ایک دوسرے کے خلاف استعمال کرنے کی بجائے اپنی عوام کی فلاح و بہبود اور غریب مسلم ممالک کی امداد میں خرچ کریں گے۔ یہ تو وقت ہی بتائے گا کیونکہ سعودی حکمرانوں کے بارے میں مسلم دنیا میں یہ رائے عام ہے کہ وہ اسلام اور مسلمانوں کے بجائے عرب ازم کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ سعودی حکومت کے حالیہ اقدامات کی ایک وجہ امریکہ اور مغربی طاقتوں کاایران کو غیر معمولی اہمیت دینا اور شام میں حکومتی تبدیلی میں عدم دلچسپی اور سب سے بڑھ کر عالمی اخبارات میں سعودی طرز حکومت پر سخت تنقید قابل ذکر ہے۔ ایسی بھی خبریں اخبارات کی زینت بنی کہ سعودی حکومت و بادشاہت کا مستقبل مخدوش ہے۔ ایک ایرانی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ برطانوی ایجنسیاں اپنی حکومت کو یہ رپورٹ پیش کرچکی ہے کہ یمن میں بیٹھے انقلابی بہت جلد سعودی بادشاہت کا تختہ الٹ دیں گے۔ اس متنازعہ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سعودی عرب میں موجود بہت سے علاقے ایسے ہیں جن میں سعودی حکومت کے لئے ذرہ برابر بھی ہمدردی نہیں۔ بہرحال یہ امکان موجود ہے کہ دیگر عرب ممالک کی طرح سعودی عرب میں بھی حکومت مخالف تحریکیں سر اٹھا سکتی ہیں۔ جبکہ ذرائع ابلاغ یہ بھی بتا رہے ہیں کہ سعودی عرب میں جانشینی کی جنگ کا آغاز ہوچکا ہے۔ اس وقت سعودی عرب کو سماجی، معاشی، سیاسی مشکلات کا سامنا ہے۔ اس کے قائدین مشرقی وسطی اور شمالی افریقہ میں2011ء کے عرب انقلاب کے اثرات سے ابھی تک سنبھل نہیں سکے۔ نئی صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ تکفیری گروہوں اور دہشت گرد عناصر جن میں سے کچھ کا تعلق شام، یمن اور افغانستان میں موجود القاعدہ کے حامیوں میں سے ہے، سعودی حمایت و امداد کا دور ختم ہوتا جارہا ہے۔ دوسری جانب مفتی اعظم سعودی عرب شیخ عبدالعزیز آل شیخ نے سعودی فرمان کی حمایت میں کیا ہے کہ دہشت گرد قرار دی گئی جماعتوں و گروہوں سے ہمدردی کرنا ان کے لئے دعاگو ہونا سنگین غلطی ہے۔ سعودی اخبار کو انٹرویو میں سعودی مفتی اعظم نے کہا کہ مسلمانوں کو چاہئے کہ ایسے لوگوں سے ہمدردی کی بجائے انہیں ان کی غلطیوں کا احساس دلاتے ہوئے اصلاح کا کہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزارت داخلہ کے اقدامات سے عوام کو ان جماعتوں کی فتنہ پروری و شر انگیزیوں سے آگاہی ہوگی جو لوگوں کو گمراہ اور غلط راہ پر ڈال رہی تھی۔