اصلاحِ مساجد اور امام احمد رضا خان

in Tahaffuz, June 2014, مولانا محمد مجاہد حسین حبیبی

امام عشق و محبت مجدد دین و ملت، اعلیٰ حضرت الحاج الشاہ امام احمد رضا خاں علیہ الرحمہ والرضوان کی ذات گرامی آج دنیائے اسلام کے لئے محتاج تعارف نہیں۔ آپ ایسے عالم ربانی تھے جو بہ یک وقت محدث و مفسر، فقیہ اور محتاط عالم ہونے کے ساتھ ساتھ امت مسلمہ کے عظیم مصلح اور داعی بھی تھے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ آپ کی پوری زندگی سنت و شریعت کی آئینہ دار اور عشق رسول کی جیتی جاگتی تصویر تھی۔ آپ نے خلق خدا کی رشد و ہدایت کے لئے سو سے زائد علوم و فنون پر گیارہ سو سے زائد کتابیں تحریر فرمائیں اور دو سو سے زائد کتابوں کے شروح و حواشی تحریر کئے۔ جن سے آج ایک جہاں فیض یاب ہورہا ہے۔ ذلک فضل اﷲ یوتیہ من یشاء بہ ایں وجہ اکابر و معاصرین نے آپ کی خدمات جلیلیہ کا نہ صرف اعتراف کیا بلکہ آیۃ من آیات اﷲ اور چودھویں صدی ہجری کا مجدد تسلیم کیا۔
ایں سعادت بزور بازو نیست
تانہ بخشد خدائے بخشندہ
آپ نے جہاں اپنے زمانے میں پنپنے والی تمام عملی و نظریاتی خرابیوں کے سدباب کی کوشش فرمائی وہیں مساجد کی اصلاح پر بھی خاصا زور دیا جس پر آپ کی تحریریں اور فتاویٰ شاہد عدل ہیں۔ مگر افسوس آج مسلمان ان سے یکسر غافل ہیں۔ اس لئے ذیل میں ہم مختلف عنوانات کے تحت اصلاح مساجد کے تعلق سے اعلیٰ حضرت کی تحریریں درج کررہے ہیں تاکہ منتظمین، ائمہ نیز دیگر وابستگان مساجد اکتساب فیض کے ساتھ ساتھ اپنے احوال کی اصلاح کرسکیں۔
مسجد بہ ہر صورت بانی کے نام رہے گی
ہمارے علم میں شہر کلکتہ میں بہت سی ایسی مسجدیں ہیں جن کے نام تعمیر جدید کے بعد لوگوں نے بانیان مساجد کا نام بدل کر دوسرا کردیا ہے۔ حالانکہ یہ جائز نہیں۔ اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں: مسجد قیامت تک اصل بانی کے نام سے رہے گی اگرچہ اس کی شکست و ریخت یا شہید ہوجانے کے بعد دوبارہ تعمیر اور لوگ کریں ثواب ان کے لئے بھی ہے مگر بنا بانی وقف کے واسطے خاص ہے۔
فان اصل المسجد الارض والعمارۃ وصف ولایکون من اعاد الوصف کمن احدث الاصل
کیونکہ اصل مسجد توزمین ہے اور عمارت وصف ہے۔ چنانچہ جس نے وصف کا اعادہ کیا وہ موجد اصل کی مانند نہیں ہوسکتا ۔
(فتاویٰ رضویہ، مترجم جلد 24، ص 257)
مسجد میں کارخیر کیلئے چندہ کرنا اور عالم کا وعظ کہنا جائز ہے
کچھ لوگوں کے ذہن میں یہ غلط نظریہ راسخ ہوچکا ہے کہ چونکہ مسجد میں کسی غریب کا سوال کرنا جائز نہیں، اس لئے مدرسہ کے لئے چندہ کرنا یا اس کے لئے اعلان کرنا بھی درست نہیں۔ اسی طرح امام کے ہوتے ہوئے کسی دوسرے عالم کا وعظ کہنا درست نہیں۔ اگرچہ امام تقریر کرنے کی قدرت نہ رکھتا ہو۔ جبکہ یہ صحیح نہیں ہے۔ دیکھئے اعلیٰ حضرت کیا فرماتے ہیں۔
مسجد میں کارخیر کے لئے چندہ کرنا جائز ہے جبکہ شوروچپقلش نہ ہو خود احادیث صحیحہ سے اس کا جواز ثابت ہے۔ مسجد میں وعظ کی بھی اجازت ہے جبکہ واعظ عالم دین سنی صحیح العقیدہ ہو اور نماز کا وقت نہ ہو، اور ان دونوں باتوں کو کہ منکرات سے خالی ہوں متولی یا کوئی منع نہیں کرسکتا (فتاویٰ رضویہ مترجم، جلد 24، ص 361)
متولی مسجد کا دیانت دار ہونا ضروری ہے
قرآن پاک ہمیں یہ نظریہ دیتا ہے کہ اﷲ کی بارگاہ میں مکرم وافضل وہ ہے جو متقی و پرہیز گار ہو لیکن ہم مسلمانوں کی حرماں نصیبی کہیے کہ ہم نے تقویٰ و پرہیزگاری کو چھوڑ کر محض مال و دولت کو وجہ شرف سمجھ لیا ہے یہی وجہ ہے کہ دنیاوی معاملات کی طرح فی زمانہ مساجد و مدارس میں بھی ایسے ہی لوگ متولی و منتظم مقرر کئے جاتے ہیں جو خوب مال دار و دولت مند ہوں۔ اگرچہ نماز نہ پڑھتے ہوں اور نجی معاملات میں دغا و دھوکہ کے مرتکب ہوں۔ اس سلسلے میں اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں۔
اس (متولی) کے لئے دیانت دار کار گزار ہونا شرط ہے۔ مال دار ہونا ضروری نہیں (فتاویٰ رضویہ، مترجم ، جلد 24 ، ص 258)
خائن کا متولی ہونا درست نہیں
خائن جس کی خیانت ظاہر ہو، اسے متولی و منتظم بنے رہنے کا کوئی حق نہیں۔ اس سلسلے میں اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں: درمختار میں ہے۔
وینزع وجوبا ولو الواقف فغیرہ اولیٰ لو غیر مامومن
خائن متولی کو ولایت وقف سے وجوباً نکال دیا جائے گا (بزازیہ) اگرچہ وہ خود وقف کرنے والا ہو، تو غیر واقف کو بہ صورت خیانت بدرجہ اولیٰ نکال دینا واجب ہوگا (فتاویٰ رضویہ مترجم، جلد 24، ص 598)
بلا ضرورت مسجد کی نئی تعمیر جائز نہیں
شہروں میں بڑی تیزی کے ساتھ لوگوں کا یہ مزاج بن رہا ہے کہ پڑوسی محلے کی مسجد نئی بن رہی ہے تو ہماری مسجد بھی نئی بننی چاہئے۔ اگر وہ تین منزلہ ہے تو ہماری چار منزلہ ہونی چاہئے۔ اگرچہ پرانی عمارت مضبوط و مستحکم ہی کیوں نہ ہو اور نمازیوں کے لئے کافی کچھ اس میں گنجائش ہی کیوں نہ ہو۔ جبکہ یہ سراسر غلط اور ناجائز ہے۔ دیکھئے اعلیٰ حضرت کیا فرماتے ہیں۔
اور اگر (مسجد) اس لئے شہید کی یہیں از سرنو اس کی تعمیر کرائے تو اگر یہ امر بے حاجت و بلاوجہ صحیح شرعی ہے تو لغو عبث و بے حرمتی مسجد و تضیع مال ہے اور یہ سب ناجائز ہے (فتاویٰ رضویہ، مترجم جلد 24، ص 354)
مسجد میں معتکف کے علاوہ کسی کا سونا جائز نہیں
روز مرہ کا مشاہدہ ہے کہ بہت سے لوگ روزانہ دوپہر کے وقت یا ویسے ہی مسجد میں سو جایا کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے تعلق سے اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں: صحیح راجح یہ ہے کہ معتکف کے سوا کسی کو مسجد میں سونے کی اجازت نہیں۔ در مختار وغیرہ میں ہے :
کرہ النوم فیہ الاالمعتکف
مسجد میں غیر معتکف کے لئے سونا جائز نہیں (فتاویٰ رضویہ، مترجم، جلد 24 ص 434)٭
مسجد میں ناسمجھ بچوں کا جانا اور معلم کا اجرت لے کر پڑھانا جائز نہیں
کسی نے سوال کیا ناسمجھ بچوں کا مسجد میں جانا اور اجرت لے کر معلم کا انہیں پڑھانا جائز ہے یا نہیں؟ اس مسئلہ کا جواب آپ یوں دیتے ہیں: مسجد میں نا سمجھ بچوں کے لئے جانے کی ممانعت ہے۔ حدیث میں ہے۔
جنبوا مساجد کم صبیانکم ومجانیئکم
(سنن ابن ماجہ) اپنی مساجد کو ناسمجھ بچوںاور پاگلوں سے محفوظ رکھو۔ خصوصا اگر پڑھانے والا اجرت لے کر پڑھاتا ہو تو اور بھی زیادہ ناجائز ہے کہ اب کار دنیا ہوگیا اور دنیا کی بات کے لئے مسجد میں جانا حرام ہے۔ (فتاویٰ رضویہ، مترجم، جلد 24، ص 434)
مسجد میں سوال کرنا جائز نہیں
عموما غربا و مساکین فرض نمازوں کے بعد اپنی بے بسی و بے چارگی کا ذکر کرکے لوگوں سے امداد طلب کرتے ہیں جبکہ مسجد کے اندر کسی سے سوال کرنا جائز نہیں ہے۔ اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں:
مسجد میں اپنے لئے مانگنا جائز نہیں اور اسے دینے سے بھی علماء نے منع فرمایا ہے۔ یہاں تک کہ امام اسمٰعیل زاہد رحمتہ اﷲ علیہ نے فرمایا: جو مسجد کے سائل کو ایک پیسہ دے اسے چاہئے کہ ستر پیسے اﷲ تعالیٰ کے نام پر اور دے کہ اس پیسہ کا کفارہ ہوں اور کسی دوسرے کے لئے مانگا یا مسجد خواہ کسی اور ضرورت دینی کے لئے چندہ کرنا جائز اور سنت سے ثابت ہے (فتاویٰ رضویہ، مترجم، جلد 24، ص 418)
امام مسجد کے ضروری اوصاف
امام صرف پنج گانہ نمازوں کا امین ہی نہیں بلکہ اﷲ کی بارگاہ میں قوم کا ترجمان ہوتا ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ وہ عالم، فاضل ہونے کے ساتھ ساتھ اچھے عادات و خصائل کا پیکر ہو۔ اس مسئلہ میں اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں۔
امام مسجد صحیح العقیدہ صحیح الطہارۃ، صحیح القرأت، غیر فاسق معلن، عالم احکام نماز و طہارت ہونا چاہئے جس میں ایسی کوئی بات نہ ہو جس سے جماعت کی قلت و نفرت پیدا ہو (فتاویٰ رضویہ، مترجم، جلد 24، ص 418)
فاسق کی امامت درست نہیں
فی زمانہ بہت سے ایسے لوگ امامت سے وابستہ ہیں جن کی داڑھی ایک مشت سے کم یا وہ کسی ایسے کام کے مرتکب ہیں جن کو شریعت نے فسق قرار دیا ہے لہذا وہ ضرور فاسق ہیں اور ان کی امامت کسی طرح درست نہیں۔ مگر وہ جوڑ توڑ کے ذریعہ زبردستی منصب امامت سے جڑے رہنا چاہتے ہیں۔ ایسوں کے تعلق سے اعلیٰ حضرت کا نظریہ ملاحظہ فرمائیں۔ فرماتے ہیںِ:
فاسق معلن کو امام بنانا گناہ اور اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ہے کہ پڑھنا منع اور پڑھ لی تو پھیرنا واجب (فتاویٰ رضویہ، مترجم، جلد 24، ص 431)
تمامیت مسجد کے بعد اس میں دکان یا امام کے لئے
حجرہ بنانا جائز نہیں
اخراجات مسجد پورا کرنے کے لئے بعض مساجد کے ذمہ دار حضرات مسجد کی نئی عمارت کی تعمیر کے وقت اس کے نیچے تہہ خانہ بنا کر اسے کرایہ پہ لگا رہے ہیں یہ بھی دیکھا جارہا ہے کہ مسجد سے کچھ جگہ نکال کر دکانیں بنائی جارہی ہیں۔ جبکہ یہ کسی بھی طرح صحیح نہیں۔ اس سلسلے میں اعلیٰ حضرت تحریر فرماتے ہیں: متولی کو مسجد کی حد یا مسجد کے فنا میں دکانیں بنانے کا اختیار نہیں کیونکہ مسجد کو جب دکان یا رہائش گاہ بنالیا جائے تو اس کا احترام ساقط ہوجاتا ہے جوکہ ناجائز ہے اور فنائے مسجد چوں کہ مسجد کے تابع ہے لہذا اس کا حکم بھی وہی ہوگا جو مسجد کا ہے (فتاویٰ رضویہ، مترجم، جلد 24، ص 352)
اسی مسئلہ پر روشنی ڈالتے ہوئے ایک اور مقام پر تحریر فرماتے ہیں: ہاں وقت بنائے مسجد قبل تمام مسجدیت نیچے مسجد کے لئے دکانیں اور اوپر امام کے لئے بالاخانہ بنائے اور اس کے بعد اسے مسجد کرے تو جائز ہے اور اگر مسجد بناکر بنانا چاہے اگرچہ مسجد کی دیوار کا صرف اسارہ اس میں لے اور کہے میری پہلے سے یہ نیت تھی ہرگز قبول نہ کریں گے اور اس عمارت کو ڈھادیں گے۔ (فتاویٰ رضویہ، مترجم، جلد 24، ص 432)
بلا ضرورت نچلے منزلے کو چھوڑ کر مسجد کے اوپری منزلے پر نماز پڑھنا درست نہیں
گرمی کے زمانے میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بجلی نہ رہنے کی صورت میں نماز مسجد کی چھت پر ادا کی جاتی ہے جوکہ صحیح نہیں اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں: مسجد کی چھت پر بلا ضرورت جانا منع ہے اگر تنگی کے سبب نیچے کا درجہ بھر گیا اوپر نماز پڑھیں جائز ہے اور بلا ضرورت مثلا گرمی کی وجہ سے پڑھنے کی اجازت نہیں۔
کما نص علیہ فی الفتاویٰ عالمگیریہ
(فتاویٰ رضویہ، مترجم، جلد 24، ص 439)
امامت میں وراثت نہیں، جو نماز کا پابند نہیں امام نہیں ہوسکتا
ناخواندگی اور علم دین سے دوری کے سبب کچھ لوگوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ امامت میں بھی میراث جاری ہوتی ہے لہذا امام کے انتقال کے بعد ان کے بیٹوں میں سے کسی کو امام بنانا چاہئے، اس کی داڑھی مکمل ہو یا نہ ہو، چاہے قرآن صحیح نہ پڑھتا ہو اور احکام شرع سے مطلق واقفیت نہ رکھتا ہو بہ ہر صورت وہی امام بنے گا جبکہ اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں: امامت میں میراث جاری نہیں۔
پھر ایک سطر کے بعد لکھتے ہیں: جو نماز کا پابند نہ ہو لائق امامت نہیں اسے معزول کرنا واجب ہے (فتاویٰ رضویہ، مترجم، جلد 24، ص 477)
تعلیم یافتہ کی موجودگی میں غیر پڑھے لکھے کو امام مقرر کرنا
علاقائی عصبیت یا ہم مشربیت کے سبب یا قرابت یا رشتہ داری یا کسی کی سفارش کی بنیاد پر تعلیم یافتہ کی موجودگی میں غیر تعلیم یافتہ کو امام مقرر کرنا کسی طرح درست نہیں، لیکن بدقسمتی سے آج کل اس کا رواج بڑھتا جارہا ہے۔ اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں: اگر متولی دیدہ دانستہ افضل کے ہوتے ہوئے مفضول کو امام مقرر کرے تو وہ اس حدیث کا مورد ہے کہ من استعمل علی عشرۃ من فیہم ارضی منہ ﷲ تعالیٰ فقد خان اﷲ رسولہ والمومنین (کنزالعمال) جس نے دس شخصوں پر کسی ایسے کو افسر کیا کہ نظر شرع میں اس سے بہتر ان میں موجود تھا تو اس نے اﷲ و رسول اور مسلمان سبکی خیانت کی۔ (فتاویٰ رضویہ، مترجم، جلد 24، ص 567)
مسجد میں کافر کا جانا جائز نہیں
الیکشن کے زمانے میں ووٹ مانگنے کے لئے یاعام دنوں میں اظہار یکجہتی کے لئے سیاسی لیڈران سیاست سے جڑے مسلمانوں کی دعوت پر مسجد آیا کرتے ہیں۔ حالانکہ انہیں مسجد بلانا اور مسجد میں ان کا بیان کرانا جائز نہیں ہے۔ دیکھئے اعلیٰ حضرت اس مسئلہ میں کیا فرما رہے ہیں: کافر کا اس (مسجد) میں جانا بھی بے ادبی ہے:
کما حققناہ فی فتاونا بتوفیقہ تعالیٰ
(جیسا کہ اﷲ تعالیٰ کی توفیق سے اس کی تحقیق ہم نے اپنے فتاویٰ میں کردی ہے) وہو تعالیٰ اعلم (فتاویٰ رضویہ، مترجم، جلد 24، ص 347)
مسجد کو گندگی سے بچانا ضروری ہے
مسجد کو حضور اکرمﷺ نے ہر طرح کی گندگی اور خراب مہک سے صاف رکھنے کا حکم فرمایا ہے مگر منتظمین و مصلی حضرات فی زمانہ اس امر سے مجرمانہ حد تک غفلت کا شکار ہیں۔ دیکھئے اعلیٰ حضرت اس سلسلے میں کیا تحریر فرما رہے ہیں: مسجد کو بو سے بچانا واجب ہے لہذا مسجد میں مٹی کا تیل جلانا حرام، مسجد میں دیا سلائی سلگانا حرام (فتاویٰ رضویہ، مترجم، جلد 24، ص 232)
پھر چند سطور کے بعد یہ حدیث نقل فرماتے ہیں:
من اکل من ہذہ الشجرۃ الخبیثۃ فلا بقربن مصلانا
جو اس گندے پیڑ میں سے کھالے یعنی کچا پیاز یا کچا لہسن وہ ہماری مسجد کے پاس نہ آئے۔ پھر یہ حدیث نقل فرمائی۔
فان الملائکۃ تتاذی ممایتا ذی منہ بنو آدم
یعنی یہ خیال نہ کرو کہ اگر مسجد خالی ہے تو اس میں کسی بو کا داخل کرنا اس وقت جائز ہو کہ کوئی آدمی نہیں جو اس سے ایذا پائے گا۔ ایسا نہیں بلکہ ملائکہ بھی ایذا پاتے ہیں اس سے جس سے ایذا پاتا ہے انسان۔ مسجد کو نجاست سے بچانا فرض ہے (فتاویٰ رضویہ، مترجم، جلد 24، ص 233)
مسجد کی فضا کو خوش گوار اور پاکیزہ رکھنے کے تعلق سے ایک اور مقام پر تحریر کرتے ہیں: بعض لوگوں کی ریح میں خلقی بوئے شدید ہوتی ہے بعض کو بہ وجہ سوئے ہضم وغیرہا عارضی طور پر یہ بات ہوجاتی ہے۔ ایسے کو ایسے وقت میں مسجد میں بیٹھنا ہی جائز نہیں کہ بوئے بد سے مسجد کا بچانا واجب ہے۔
وان الملائکۃ بتاذی منک بنو آدم
(صحیح مسلم کتاب المساجد) یعنی جس بات سے آدمیوں کو اذیت پہنچتی ہے اس سے فرشتے بھی اذیت پاتے ہیں ۔
(فتاویٰ رضویہ، مترجم، جلد 24، ص 288)
مسجد میں دنیاوی باتوں کا حکم
جہاں بہت ساری خرابیاں مسلم معاشرہ میں در آئی ہیں وہیں ایک بڑی آفت یہ ہے کہ مسجدوں میں لوگ باہم جمع ہوکر دنیاوی باتیں کرتے ہیں بلکہ چغلی، غیبت اور گالی گلوچ سے بھی پرہیز نہیں کرتے۔ اس سلسلے میں اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں: مسجد میں دنیا کی مباح باتیں کرنے کو بیٹھنا نیکیوں کو کھاتا ہے جیسے آگ لکڑی کو۔ فتح القدیر میں ہے:
الکلام المباح فیہ مکروہ یاکل الحسنات
مسجد میں کلام مباح بھی مکروہ ہے اور وہ نیکیوں کو کھا جاتا ہے
پھر اشباہ کے حوالے سے نقل کرتے ہیں:
انہ یاکل الحسنات کماتا کل النار الحطب، بے شک وہ نیکیوں کو کھا جاتا ہے جیسے آگ لکڑیوں کوکھا جاتی ہے۔ غمزالعیون میں خزانۃ الفقہ سے ہے من تکلم فی المساجد بکلام الدنیا احبط اﷲ تعالیٰ عنہ اربعین سنۃ جو مسجد میں دنیا کی بات کرے اﷲ تعالیٰ اس کے چالیس برس کے عمل اکارت فرمادے۔
پھر چند سطروں کے بعد تحریر فرماتے ہیں: سبحان اﷲ! جب مباح و جائز بات بلا ضرورت شریعہ کرنے کو مسجد میں بیٹھنے پر یہ آفتیںہیں تو حرام و ناجائز کام کرنے کا کیا حال ہوگا (فتاویٰ رضویہ، مترجم، جلد 24، ص 312)
ان مسائل کے علاوہ بھی آپ نے متعلقات مساجد کی اصلاح کے تعلق سے بہت کچھ تحریر فرمایا ہے۔ جنہیں تفصیل درکار ہو وہ فتاویٰ رضویہ مترجم جلد 24 کا مطالعہ ضرور کریں۔