شہادت کا حقیقی اسلامی تصور اور طالبان کے نام نہاد شہداء

in Tahaffuz, June 2014, غلام رسول دہلوی

گزرا ہوا ماہ محرم الحرام اسلامی تاریخ میں ایک اہم اور فیصلہ کن موڑ ثابت ہوا۔ یہی وہ مبارک و مسعود مہینہ ہے جس میں اسلام کو ثمر کے چنگل سے آزاد کرانے والے حسین ابن علی رضی اﷲ عنہما نے شہادت کے صحیح معنوں کو اجاگر کرتے ہوئے جام شہادت نوش فرمالیا۔ آج ایک بار پھر اسلام کے حقیقی تصور شہادت کی معنوی تشریح اور عالمی ترسیل ازحد ضروری ہوگئی ہے، جبکہ مسلم ممالک میں بعض دہشت گرد عناصر مجاہدین کے بھیس میں سر ابھار رہے ہیں جو بے گناہ شہریوں کا بے ریغ قتل کرتے ہیں۔ صوفی مکتب فکر کے علماء و فضلائے اسلام کے سر قلم کرتے ہیں، مسلموں اور غیر مسلموں دونوں پر خودکش حملے اور بے تابانہ بمباری کرتے ہیں اور پھر ان کی موت کے بعد ان کے مذہبی پیشوا ان کے لئے شہید کی سندیں جاری کرتے ہیں۔ مقام شہادت کی اس ہتک آمیز بے حرمتی نے آج اقوام عالم کی نظروں میں اسلام کے مقدس تصور شہادت کو ہی مشکوک بنادیا ہے۔ تقریبا تمام مسلم ممالک میں حصول شہادت اور دخول جنت کے باطل زعم میں آج کے نام نہاد مسلم مجاہدین بے گناہ بچوں، عورتوں اور ضعیف شہریوں کے قتل عام سے دریغ نہیں کرتے۔
اگرچہ دنیا بھر کے اعتدال پسند مسلمان جہاد اور شہادت کے نام پر کئے جارہے ان دہشت گردانہ اور پرتشدد سرگرمیوں کی مخالفت کررہے ہیں لیکن پھر بھی اس خونیں سلسلے میں کسی طرح کی کوئی رکاوٹ نہیں آرہی ہے۔ ہم جس شدومد کے ساتھ ان کی مخالفت کرتے ہیں، یہ مذہبی انتہا پسند اور مسلکی دہشت گرد اس سے بھی زیادہ خطرناک انداز میں حملے انجام دیتے ہیں۔ دراصل دنیا بھر کے اعتدال پسند مسلمانوں کی شدید مزاحمت کے تئیں ان جہادیوں اور طالبانیوں کی بے اعتنائی کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ان کے مذہبی پیشوا اور فکری نظریہ ساز انہیں منظم طور پر قرآن و حدیث سے ان کی کارستانیوں کو اسلامی جواز فراہم کرتے ہیں۔ گاہے بگاہے یہ کٹر مذہبی غنڈے انہیں بھڑکیلی نظریاتی بنیادیں اور پراشتعال مذہبی محرکات فراہم کرتے رہتے ہیں اور انہیں مزید جذباتی اور غضب ناک بناتے ہیں۔
ابھی حال ہی میں اسی طرح کی ایک عقل میں نہ آنے والی مثال دیکھنے کو ملی جس سے سواداعظم سے جڑے مسلمانوں کے ہوش اڑ گئے۔ حال ہی میں جماعت اسلامی کے سابق چیئرمین منور حسن اور جے یو آئی ایف کے چیف فضل الرحمن نے تحریک طالبان کے سربراہ حکیم اﷲ محسود کو شہید قرار دیا۔ فضل الرحمن نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ جو کوئی بھی امریکیوں کے ہاتھوں مارا جائے اسے شہید سمجھا جائے گا خواہ وہ کتا ہی کیوں نہ ہو۔ آج انتہا پسندانہ مزاج کے حامل ان مذہبی و سیاسی مسلم لیڈروں اور ان کے غیر اسلامی بیانات کی وجہ سے اسلام کے بنیادی عقائد و تصورات کو دنیا بھر میں ٹھیس پہنچ رہی ہے۔ سردست عرض یہ ہے کہ مذکورہ بیان نے اسلامی شہادت کے مقدس تصور کو عالمی میڈیا میں موضوع بحث اور مشق ستم بنادیا ہے۔
خدا کا شکر ہے کہ پاکستان کی مرکزی سنی تنظیم ’’سنی اتحاد کونسل‘‘ نے سنی صوفی مکتب فکر سے تعلق رکھنے والی مختلف مذہبی جماعتوں کے ساتھ مل کر تحریک طالبان کے مقتول سربراہ حکیم اﷲ محسود کو شہید قرار دیئے جانے کی مذمت میں بروقت ایک اجتماعی فتویٰ صادر کیا اور دو ٹوک الفاظ میں یہ کہا کہ بے گناہ لوگوں کی جان لینے والے دہشت گرد کو کبھی شہید نہیں قرار دیا جاسکتا۔ قابل تعریف بات یہ ہے کہ اس صوفی سنی جماعت نے تقریبا 30 معروف سنی مفتیوں کی اجتماعی رائے کی بنیاد پر فورا یہ فتویٰ جاری کیا اور صاف الفاظ میں یہ بیان جاری کیا کہ ایک ایسے شخص کو شہید قرار دینا جو لاتعداد بے گناہ زندگیوں کی ہلاکت کا سبب بنا ہو، قرآن و سنت کی تعلیمات کی صریح خلاف ورزی ہے۔
امام عالی مقام رضی اﷲ عنہ کی شہادت ہمیں اس بات کی تحریک دیتی ہے کہ ہم لوگوں کو واضح الفاظ میں یہ بتائیں کہ دور حاضر کے انتہا پسند جہادی / طالبان جو مجاہد ہونے کا جھوٹا دعویٰ کرتے ہیں اور پرتشدد کارنامے اور خودکش حملے کرواکر خود کو شہید کہلواتے ہیں، وہ صرف اور صرف دہشت گرد ہیں اور اس کے سوا کچھ نہیں۔ اس لئے کہ ان کی یہ تمام سرگرمیاں حسینی اور اسلامی جہاد کی اصل روح کے منافی ہیں۔
امام حسین رضی اﷲ عنہ نے اس ظالم و جابر حکمران یزید کے خلاف جہاد کیا تھا جوکہ جمہوری قیادت کے اسلامی تصور سے کوسوں دور جاچکا تھا اور جو ایک مکمل آمرانہ حکومت کی بنیاد ڈال چکا تھا۔ اسی لئے امام عالی مقام رضی اﷲ عنہ کو شہادت، آزادی، جمہوریت اور عدل و انصاف کے صحیح اسلامی اصول کے احیائے نو کا علمبردار مانا جاتا ہے۔
کربلا کی طرف قدم بڑھاتے ہوئے امام حسین نے اپنے پیرو کاروں سے فرمایا تھا۔
’’اے لوگو! پیغمبر اسلامﷺ نے فرمایا کہ جب کوئی شخص ایک ظالم و جابر حاکم کو اﷲ کے قائم کردہ حدود سے تجاوز کرتا ہوا اور لوگوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ ڈھاتا ہوا دیکھتا ہے لیکن الفاظ یا اقدام کے ذریعہ حالات کو بدلنے کے لئے کچھ نہیں کرتا تو پھر اسے کیفر کردار تک پہنچانا اﷲ ہی کا کام ہے۔ کیا تم یہ نہیں دیکھتے کہ معاملات کس حد تک ابتر ہوچکے ہیں؟ کیا تم اس بات کا مشاہدہ نہیں کرتے کہ لوگ حق کو چھوڑ رہے ہیں اور باطل بے حد و حساب پھیل رہا ہے۔ جہاں تک میری بات ہے تو میں زندگی کو حصول شہادت کا ذریعہ مانتا ہوں۔ میں ظالموں کے درمیان زندگی کو ایک بیماری اور مصیبت سمجھتا ہوں‘‘
یہ ہے شہادت کا صحیح اسلامی تصور جس کی لازوال اور زندہ و تابندہ مثال پیغمبر اسلامﷺ کے عظیم نواسے نے میدان کربلا میں قائم کی۔ ابتدائے اسلام میں دفاعی اسلامی جنگوں میں شہید کئے جانے والے رسولﷺ کے چچا حضرت عباس اور حضرت امیر حمزہ رضی اﷲ عنہما کو ہرمکتبہ فکر میں اسلامی شہادت کی سب سے عظیم مثال شمار کیا جاتا ہے۔ یہ اسلام کے وہ عظیم المرتبت شہداء ہیں جن کے بارے میں قرآن کا ارشاد گرامی ہے۔
ولاتحسبن الذین قتلوا فی سبیل اﷲ امواتا بل احیاء عند ربہم یرزقون (۳:۱۶۹)
اور جو لوگ اﷲ کی راہ میں قتل کئے جائیں انہیں ہرگز مردہ خیال (بھی) نہ کرنا، بلکہ وہ اپنے رب کے حضور زندہ ہیں انہیں (جنت کی نعمتوں کا) رزق دیا جاتا ہے۔
قرآن حکیم نے انہی حضرات کو شہداء کا رتبہ عطا کیا ہے۔ شہید ایک عربی لفظ ہے جس کا مادہ ’’شہادۃ‘‘ ہے۔ اس کے لغوی معنی دیکھنا، گواہ بننا، تصدیق کرنا اور نمونہ بننا ہیں۔ قرآن نے لفظ شہید کو بنیادی طور پر ان لوگوں کے لئے استعمال کیا ہے جو حق کی شہادت دیتے ہیں اور جنہوں نے حکم الٰہی کی بجا آوری میں اپنی جان قربان کردی (قرآن ۱۶:۸۹) اور ثانیا، قرآن کریم نے یہ لفظ واضح طور پر ان لوگوں کے لئے بھی استعمال کیا ہے جو اپنے مذہب یا خاندان کے دفاع میں لڑتے ہوئے جان بحق ہوگئے۔
درحقیقت اسلام میں شہید (اﷲ کی راہ میں جان قربان کرنے کے معنی میں) وہ ہے جو سچائی کا مشاہدہ کرتا ہے اور اس کے لئے جسمانی طور پر باطل کا سامنا کرتا ہے اور ثابت قدمی کے ساتھ اس کا مقابلہ کرتا ہے، اس حد تک کہ وہ نہ صرف زبانی طور پر اس کی گواہی دیتا ہے بلکہ پہلے تو وہ اس کے خلاف پرامن طریقے سے جدوجہد کرتا ہے پھر اگر حالات میں بہتری نہیں آتی، تو وہ سچائی کے لئے اپنی جان قربان کردیتا ہے اور اس طرح اسے مقام شہادت حاصل ہوتا ہے۔
اس حقیقت سے انکار کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ اسلام میں شہادت ایک انتہائی اہم مقام ہے۔ لیکن اسلامی شہادت کا حقیقی مفہوم شہادت کے موجودہ طالبانی تصور سے یکسر مختلف ہے۔ اس لئے کہ انہوں نے شہادت کا جو تصور قائم کررکھا ہے وہ خودکش حملے اور بڑے پیمانے پر معصوم شہریوں کے قتل کے مترادف ہے۔ کافی عرصے سے طالبان، القاعدہ، بوکوحرام اور ان کے فکری و مذہبی علماء و اکابر جن کا تعلق وہابی، سلفی اور اہل حدیث جیسے انتہا پسند مکاتب فکر سے ہے، شہادت کے اسلامی تصور کو اپنے مذموم مقاصدکے حصول کے لئے استعمال کررہے ہیں۔ وہ غریب اور سادہ لوح مسلمانوں کو ورغلاتے ہیں اور انہیں اس عقیدے کی تعلیم دیتے ہیں کہ غیر مسلموں کے خلاف عام طور پر اور غیر وہابی مسلمانوں کے خلاف خاص طور پر دہشت پھیلانے سے اﷲ کی نظر میں انہیں شہادت جیسا ارفع و اعلیٰ مقام حاصل ہوگا اور انہیں ان عظیم انعامات سے نوازا جائے گا جن کا وعدہ قرآن کریم میں شہداء کے لئے کیا گیا ہے۔ ان کے فکری نظریہ سازوں نے انہیں خودکش حملوں کا جواز فراہم کرنے کے لئے اشتہاد کی اصطلاح کا غلط استعمال کرکے تشدد و بربریت اور خودکشی کا ایک دائمی مذہبی محرک فراہم کررکھا ہے، جو نہ صرف حرام ہے بلکہ چند حالات میں کفر کے برابر ہے۔
ان نام نہاد جہادیوں کی متعدد ویب سائٹس، میگزینز، مجلے اور جرائد ہیں جو قرآن و حدیث میں مذکورہ شہادت کے مقام و مراتب اور متعلقہ انعامات کی باضابطہ تفصیلات شائع کرکے کم پڑھے لکھے افغانی و پاکستانی نوجوانوں کو ورغلاتے ہیں۔ ہر شمارے میں درجنوں مضامین لکھے جاتے ہیں جن میں خودکش حملوں، بم دھماکوں اور بے گناہ وغیر جنگجو شہریوں کے قتل عام کو مذہبی جواز فراہم کرنے کے لئے شہادت سے متعلق قرآن و حدیث کے اقتباسات کی غلط اور گمراہ کن تشریح کی جاتی ہے۔ دہشت گرد تنظیموں کے اس طرح کے زہر آلود مذہبی جریدے، مجلے اور اخبارات پاکستان کے تقریبات تمام شہروں میں دستیاب ہیں جبکہ ان میں سے کچھ تو آن لائن مختلف زبانوں میں موجود ہیں۔ چند کے نام یہ ہیںِ
ماہ نامہ الشریعہ، آذان، ماہنامہ نوائے افغان جہاد، حطین، مرابطون، القلم، ضرب مومن، الہلال، صدائے مجاہد، جیش محمد راہ وفا، وغیرہ۔
بلاشبہ ہمیں اس موضوع پر تجزیاتی مطالعہ کرنا چاہئے کہ طالبانی مصنفین سادہ لوح مسلم قارئین کو شہادت کے نام پر دہشت گردانہ جرائم اور خود کش بم حملوں پر آمادہ کرنے کے لئے کس طرح اکساتے ہیں۔ ایک مثال حاضر ہے۔ طالبانی میگزین ’’نوائے افغان جہاد‘‘ کے مستقل قلم کار مولانا یوسف بنوری لکھتے ہیں کہ:
اسلام میں شہادت کا بہت اعلیٰ مقام ہے… شہادت سے ایک ابدی زندگی یقینی ہوجاتی ہے اور آنے والے زمانے میں اس کے اثرات نمایاں ہوتے ہیں۔ قرآن اور حدیث میں جہاد کو ایک اعلیٰ مقام عطا کیا گیا ہے۔ ہمارے لئے جہاد پر آمادہ کرنے والی اس سے بڑی کوئی چیز نہیں ہوسکتی۔ اﷲ اپنے بندوں کی جان اور جائیداد کا خریدار ہے اور اس کا فرمان ہے کہ اس وعدے کا ذکر صرف قرآن میں ہی نہیں بلکہ تورات اور انجیل میں بھی ہے … یہ شہداء خدا کی بارگاہ میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہیں اور اس کے بدلے میں خدا انہیں عظیم مقام و مرتبہ عطا کرتا ہے (اسلام میں شہادت کا مقام، ماہنامہ نوائے افغان جہاد، مئی ۲۰۱۳ئ)
پیغمبر اسلامﷺ نے اپنی امت کے افراد کو بارہا اس بات کی تلقین کی تھی کہ وہ حسین (رضی اﷲ عنہ) کو نہ بھولیں۔ آپﷺ کی یہ تاکید اس امر کی طرف غماز ہے کہ جو شخص واقعہ کربلا، امام حسین کی شہادت اور ان کے پیغام کو فراموش کرے گا وہ رسول اﷲﷺ کے دین میں سمجھوتہ کرنے پر آمادہ ہوجائے گا۔ آج جو مسلمان امام عالی مقام رضی اﷲ عنہ کے معتقد ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اور اس کے باوجود خاموش تماشائی بن کر وہابی دہشت گردوں، مذہبی انتہا پسندوں اور نام نہاد جہادیوں کو جہاد اور استشہاد (شہادت) کے نام پر بے گناہ شہریوں کا قتل عام کرتے ہوئے دیکھتے رہتے ہیں۔ وہ دراصل حسینی شہادت کی روح کے ساتھ بڑی ناانصافی کررہے ہیں۔