جہاد آزادی 1857ء سے وابستہ اکابرین ملت کا نا قابل فراموش کردار جسے کبھی جھٹلایا نہ جا سکے گاانہی ا والعزم اور جذبہ جہاد سے سرشار شخصیات میں ایک بڑا نام حضرت علامہ مولانا مفتی سید کفایت علی کافی مراد آبادی کا ہے جنہوں نے اپنے کردار و عمل سے سرزمین ہند پر قابض برطانوی سامراج کے خلاف اعلان جہاد اور فتوٰی جہاد آزادی جاری کیا جس کے نتیجے میں با الخصوص مراد آباد میں انگریز کو مشکلات کا سامنا ہوا ۔
آپ کی ابتدائی زندگی سے متعلق معلومات بہت کم ہے آپ ضلع بجنور (یوپی) کے سادات گھرانے میں پیدا ہوئے اور مراد آباد کو اپنا مسکن بنایا بدابوں و بریلی کے اکابر علماء سے علم حاصل کیا حضرت شاہ غلام علی نقشبندی کے خلیفہ اور شاہ عبدالعزیزمحدث دہلوی کے شاگرد حضرت شاہ ابوسعید مجددی سے علم حدیث کی تکمیل فرمائی۔ حصول تعلیم کے بعد درس و تدریس سے وابستہ ہوگئے اور دوران درس و تدریس نعت گوئی اور کئی کتب (منظوم) تصنیف فرمائی آپ قادر الکلام صاحب دل شاعر اورجذبہ عشق رسول ﷺ سے سرشارتھے ہمہ وقت آپ کی زبان پر نعتیہ اشعار جاری رہتے امام اہلسنت مولانا الشاہ احمد رضا خان محدث بریلوی آپ کی نعتیہ شاعری سے بہت متاثر تھے اور اسے شوق سے سنتے اور پڑھتے مولانا الشاہ احمد رضا خان محدث بریلوی کہتے ہیں کہ دو اشخاص کے کلام کے سوا کسی کا کلام قصداً نہیں سنتا ان میں مفتی سید کفایت علی کافی اور مولانا حسن رضا خان ان دونوں کے کلام اول آخر شریعت کے دائرے میں ہے امام اہلسنت الشاہ احمد رضا خان محدث بریلی شہید آزادی مفتی کفایت علی کافی کی نعتیہ شاعری سے اس قدر متاثر تھے کہ انہیں سلطان نعت اور اپنے آپکو ان کا وزیر اعظم کہتے اور تحدیث نعمت کے طور پر لکھتے ہیں ۔۔۔
مہکا ہے مری بوے ذہن سے عالم۔۔۔ہاں نغمہ شیریں نہیں تلخی سے بہہ
کافی سلطان نعت گو یا ہے رضا ۔۔۔ان شاء َ اللہ میں وزیر اعظم
مفتی سید کفایت علی کافی کے کلام سے متاثر ہوکر ۔مولانا الشاہ احمد رضاخان نے کئی کلام لکھے:۔
مثلاًیاالٰہی ہر جگہ تیری عطاکا ساتھ ہو۔۔۔جب پڑھے مشکل شے مشکل کشاہ ساتھ ہو(اعلیٰ حضرت امام احمد رضارحمۃ اﷲعلیہ )
یا الٰہی حشر میں خیر الوریٰ کا ساتھ ہو ۔۔۔رحمت عالم محمد مصطفی کا ساتھ ہو
یا الٰہی ہے یہی دن رات میری التجا ْ۔۔۔روز محشر شافع روز جزاکا ساتھ ہو
بعد مرنے کے بھی کافی کی ہے یارب یہ دعا۔۔۔دفتر اشعار نعت مصطفی کا ساتھ ہو (مفتی کفایت علی کافی )
مفتی کفایت علی کافی کی تمام تصانیف بھی منظوم ہیں جس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ آپ کا طبعی میلان نظم اور شعر و شاعری کی جانب زیادہ تھا آپ کی کتب میں خیابان فردوس (شاہ عبدالحق محدث دہلوی کی کتاب ترغیب اہل سعادت کا منظوم ترجمہ )بہار خلد، مینم جنت، مولود بہار،جذبہ عشق وستون حنانہ کا منظوم ذکر تجمل(یہ آپ کا سفر حرم کا ذکر ہے ) دربا ر رحمت بار اور دیوان کافی قابل ذکر ہے ۔
1857ء میں جب مراد آباد میںبغاوت ہوئی آپ ہر جمعہ کے خطبے میں جہاد کی اہمیت و فرضیت اور انگریز مظالم اور تسلط کے خلاف وعظ فرماتے آپ نے انگریز وں کے خلاف فتوٰی جہاد آزادی مرتب کرکے اس کی کاپیاں مختلف علاقوں اور شہروں میں تقسیم کروائی اور بعض مقامات پر خود بھی تشریف لے گئے کئی کئی ہفتے اُن مقامات پر قیام فرماتے اور عوام کو جہاد میں عملاً شرکت کیلئے تیارکرتے جس وقت مرادآباد میں یہ خبر مشہور ہوئی کہ بریلی چھائونی کی ہندوستانی سپاہ (فوج)نے بغاوت کردی ہے اس خبر کے ملتے ہی 29پلٹن مقیم مراد آباد نے بغاوت کرکے سرکاری خزانہ اور ہتھیار لوٹ لئے اس کے بعد شہر میں ہنگامہ برپا ہوگیا مراد آباد مفتی کفایت علی کافی اور دیگر علماء کی مخلصانہ و مجاہدانہ کوششوں سے جہاد آزادی کا اہم مرکز بن گیا عوام جو انگریز کی ظلم وجبر کی حکومت سے سخت اذیت و تکلیف میں تھے تلواریں اور دستیاب بندوقوں کے ساتھ فخریہ انداز میں نعرہ تکبیر اللہ اکبر ،نعرہ رسالت یارسول اللہ ﷺ بلند کرتے ہوئے سڑکوں میں نکل آئے اور جگہ جگہ ظالم و قابض انگریزوں پر حملے شروع کردیئے علماء کرام پیران عظام بھی اپنی اپنی درسگاہو ں اور خانقاہوں سے نکل کر عوام کی رہنمائی کرتے ہوئے شامل جہاد ہوگئے مفتی صاحب کے علاوہ ان میں مولوی وہاج الدین عرف( مولوی منو) اور مولانا عالم علی کے نام بھی قابل ذکر ہیں ۔علماے کرام اور پیران عظام نے فوری طور پر ایک جنگی مشاورتی کمیٹی قائم کی جو شہر کا انتظام سنبھالتے ہوئے جہاد کیلئے وسائل و ذرائع بھی فراہم کرے گی مفتی کفایت علی کافی جو کمیٹی کے اہم رکن بھی تھے مراد آباد کے اندر اور باہر جہاد کے فتویںتقسیم کراتے، جس میں مسلمانوں کو جہاد کی فرضیت و اہمیت کا شرعی حکم بتایا گیا۔آپ کی تحریروں سے عوام میں ایک جذبہ ولولہ پیدا ہوگیا مسلمان ہر قسم کے تعاون کیلئے کمر بستہ ہوگئے اور انگریز حکومت خاتمہ ہوا اور نواب مجد الدین عرف( نواب جی خان )کی حکومت قائم ہوئی تو آپکو ریاست کا صدر شریعت بنایا گیا۔ آپ کی عدالت میں مقدمات کے فیصلے شرعی احکام کے مطابق ہوتے تھے۔
انگریز کی جانب سے اس جہاد کو ناکام بنانے کیلئے انگریز وفا دار نواب رام پور یوسف علی خان اور چند مقامی غداروں کی غداری و مدد سے اس جہاد کو ناکامی کا سامناہوا 25اپریل 1858ء کو انگریز فوج مراد آباد پر حملہ آور ہوئی نواب مجد خان (حاکم مرادآباد ) کی قیادت میں مجاہدین نے انگریز فوج کا مردانہ وار مقابلہ کیا نواب مجد خان آخری وقت تک ایک مکان کی چھت پر بندوق چلاتے نظر آئے ،سات مسلح انگریز سپاہی ان کو گرفتار کرنے کیلئے بھیجے گئے مگر گرفتار نہ کرسکے آخر وہی انہیں گولی ما ر کر شہید کردیا گیا ۔
سقو ط مراد آباد کے بعد تمام قائدین جہاد آزادی منتشر ہوگئے جو گرفتار ہوئے انہیں پھانسی دی گئی یا کالے پانی (جزہ ان ڈیمان ) کی سزا سنائی گئی، مفتی سید کفایت علی کافی اپنے گھر میں روپوشی کی زندگی گزار رہے تھے کہ ایک غدار نے انگریز کو مخبری کرکے گرفتار کروانے کا وعدہ لیا کہ انعام میں اسے مولانا کافی کی تمام جائیداد دی جائے اس نے جائیداد کا وعدہ لے کر مولانا کافی کے گھر پہنچ کر دروازے پر آواز دی مفتی صاحب نے آواز پہچان کر خادم کو دروازہ کھولنے کا اشارہ دیا دروازے کھلتے ہی انگریز سپاہی گھر میں داخل ہوئے اور آپ کو گرفتار کرکے گئے، گرفتا ر ی کے ساتھ ہی آپ پر مقدمے کی کاروائی شروع کی جاتی ہے انگریز عدالت کا یہ عالم تھا کہ کوئی ملزم کے بیان کو جس طرح چاہے تحریر کریں ملزم کو بیان دیکھنے یا وکیل کرانے کا کو ئی حق نہ ہوتا ۔
انگریز کی جانب سے مسٹر جان انگلش مجسٹریٹ پر مشتمل کمیشن قائم ہوا۔ 4مئی 1858ء کو کمیشن کے روبرومقدمہ پیش ہوا دو دن ہی میں مقدمے کی کاغذی کاروائی مکمل کرکے مفتی سید کفایت علی کافی پر جہاد آزادی میں حصہ لینے فتوٰی آزادی مرتب کرنے اور انگریز حکومت کے خلاف بغاوت کی پاداش میں 6مئی 1858ء کو سخت سزا اور سزائے موت سنائی جاتی ہے مفتی صاحب نے نہایت تحمل اور وقار کے ساتھ فیصلہ سنا اور اس بات پر مسرور ہوئے کہ یہ سزا قوم وملت اور شعار اسلام کے تحفظ و بقاء کی خاطر ہوئی آپ کو جیل میں سخت اذیت ناک سزائیں دی جاتی، آپ کے جسم پر گرم گرم استری پھیری جاتی ،زخموں پر نمک و مرچ چھڑکا جاتا،آپ صبر استقام سے تمام مصائب کو برداشت کیا۔ جب انگریز آپ سے مایوس ہوگئے تو بر سر عام مراد آباد جیل کے سامنے تختہ دار پر چڑھادیا گیا ،جس وقت آپکو تختہ دار کی جانب لیجایا جارہا ہے آپ میں کسی قسم کی کوئی گھبراہٹ و خوف نہ تھا بلکہ آپ کی زبان پر بلند آواز میں یہ اشعار تھے ۔۔۔
کہ کوئی گل باقی رہے گا نے چمن رہ جائے گا پر رسول اللہ کادین حسن رہے جائے گا
ہم صغیر و باغ میں ہے کوئی دم کا چہچہابلبلیں اُڑ جا جائیں گی سونا چمن رہ جائے گا
اطلس و کم خواب کی پوشاک پر نازاں نہ ہو نام شایان جہاں مٹ جائیں گے لیکن یہاں
حشر تک نام و نشان پنج تن رہ جائے گاجو پڑھے گا صاحب لولاک کے اوپر درود
آگ سے محفوظ اس کا تن بدن رہ جائے گا سب فنا ہوجائیں گے کافی لیکن حشر تک
نعت حضرت زبان پر سخن رہ جائے گا ۔
جدوجہد آزادی کا لازوال کردار انگریز ظلم و بربریت کی نظر ہوجا تا ہے ۔آپ کی عوام سے پوشیدہ رکھ کر تدفین کی جاتی ہے تاکہ عوام آپ کے مزار سے لاعلم رہے آپ کی تدفین و قبر کے مقام سے متعلق اختلاف پایا جاتا ہے۔ مفتی سید نعیم الدین مراد آبادی کے والد مولانا سید ظفر الدین احمد کے بیان کے مطابق ایک سڑک اس مقام سے نکالی جارہی تھی کہ جہاں مفتی سید کفایت علی کافی کا مزار تھا مگر مزار کا کوئی واضح نشان نہ تھا مزدور کھدائی کا کام کررہے تھے کہ آپ کی قبر کھل گئی آپ کا جسم اسی طرح ترو تازہ تھا جیسا شھادت کے وقت تھا بڑے بوڑھے بزرگوں نے چہرہ دیکھ کر شناخت کیا عوام کی ایک بڑی تعداد نے آپ کی زیارت کی مزدوروں نے انجینئر کو بتایا، انجینئر خود میت کو سلامت دیکھ کر ڈر گیا اور بڑے احترام کے ساتھ قبر پر دوبارہ تختہ لگلواکر بالکل ٹھیک کر سڑک کو تبدیل کردیا جاتا ہے اور آج بھی اس مقام پر سڑک کچھ ٹیڑھی ہے الغرض مفتی کفایت علی کافی اورآپ کے رفقاء کی ہی جدوجہد کا نتیجہ ہے کہ بر اعظم پاک و ہند انگریز تسلط سے آزاد ہے پاکستان ایک اسلامی نظریاتی مملکت کے طور پر دنیا کے نقشے پر موجود ہے پاکستان ایک ایسی ریاست ہے جو کہ اسلام اور دوقومی نظریئے کی بنیاد پر حاصل کی گئی جسمیںاسلامی نظام کا نفاذ بنیادی شرط تھا مگر انگریز جاتے جاتے اپنی فکر اور مغربی اقدار دیتے گیا۔ جس سے ہم آج بھی نکل نہیں سکے آج بھی برطانوی و مغربی سامراج آئی ایم ایف کا نمائندہ ہمارا سالانہ بجٹ بناتا ہے اور اسکی منظوری سے وزیر خزانہ اور دیگر پالیسیاں بناتے ہیں، اگر چہ ہم جسمانی طور پر شاید آزاد ہیں مگر فکری و ذہنی طور پر آج بھی آزادی کے منتظر ہے ۔
جدوجہد آزادی کے اُن عظیم شہیدوں و غازیوں کی قربانیوں کی یاد تازہ کرتے ہوئے پاکستان کی نظریاتی و جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کے ساتھ مغربی تہذیب و تمدن افکار سے نجات کیلئے سعی کریں تب ہی ہم ایک آزاد قوم بن سکیں گے ۔پاکستان آج جن مسائل سے دوچار ہے جس میں علاقائی عصبیت فرقہ واریت ،خارجیوں کی دہشت گردی ،جہالت بھائی گیری سیاست و سیاسی جماعتوں پر کرپٹ اور بدمعاش قسم کے لوگوں کا قبضہ لاقانونیت اور سب سے بڑھ کر اخلاقی بحران سب کا ایک ہی علاج مقاصد پاکستان کی تکمیل اسلامی نظام کا نفاذ ہے ۔