جس طرح سے زمانے میں تغیر و تبدل واقع ہو تاجارہا ہے اس ہی طرح نئی نئی چیزیں ایجاد ہو تی ہیں پرانی چیزیں اس حد تک مفقود ہو تی جارہی ہیں اور یوںمحسوس ہو تا ہے کہ موجودہ سہولت کے بن تو انسانی زندگی کی کوئی وقعت ہی نہیں تھی مثال کے طور پہ طُرُق آمد و رفت کو ہی دیکھ لیں کہ زمانہ قدیم میںجو آنے جانے کے راستے تھے اب وہ سب مسدود ہو نے کے ساتھ ساتھ نیسئا منسیابھی ہو تے جارہے ہیں لوگ گھوڑوں کدھوں و خچروں کو چھوڑ کے کاروں ٹرینوں اور طیاروںمیں سفر کرنے لگ گئے ہیں گویاوہ سب سواریاںاب قصہ ماضی بن چکی ہیں اور ان ذرائع آمد و رفت کو تو ہم لوگ یقینا نسیامنسیاکر چکیں ہیںجیسے کہ تانگے گاڑیاں ہو تی تھی لوگ شوق و ذوق کے ساتھ ان پہ بیٹھتے تھے اور اب تو صرف یادیں ہی رہ گئی ہے وہ بھی ان لوگوں کی جن کا تعلق پچھلی صدی کے ساتھ تھا اب موجودہ صدی یعنی تو یہ سوچ بھی نہیں سکتے کہ تانگہ گاڑی بھی کوئی چیز ہو تی ہے ہاں کتاب میں تصویر دیکھ لیں یا پھر ساحل سمندر یا پھر کسی مقام تفریح پہ ہو تو ایک الگ بات ہے بعینہ ہم علم کو ہی لے لیتے 2000والے تو اس کے متعلق خیال بھی نہیں کر سکتے کیونکہ اب لی مارکیٹ میں بھی ان کی جگہ چنگ چی آگئے ہیں اور پنجاب و خیبر پختون خواہ میں ان کی جگہ تو سوزکی گاڑیوں نے لی لی ہے۔اس ہی طرح باقی ماندہ اشیاء میں بھی یہ ہی حال ہے کہ لوگ نے پرانے زمانے کے رسم ورواج کو دفن کر دیا ہے اور جدت کے ساتھ ترقی و سہل پسندی کی جانب بڑھنے لگ گئے ہیں۔بعینہ ہی اس ہی طرح زمانہ نبوی ﷺ سے پہلے تک علم صرف و صرف سینہ بسینہ منتقل ہو تاتھا اور کتابی صورتوں میں نہ ہو نے کہ برابر تھا اگر تھا بھی تو بہت ہی قلیل ۔کیونکہ موسی علیہ السلام کو جو توراۃ عطا ہو ئی تھی وہ کتابی صورت میں تھی مگر یہ من جانب اللہ تھی ہم جہد انسانی کے بات کررہیں ہیں کہ وہ کتابت علم کا عادی نہ ہو ا تھا اور یہ سلسلہ دورحضورﷺ کی بعثت تک جارہی رہا لیکن بعثت نبویﷺ کے بعد اس سلسلے میں تغیر وقوع ہو نا شروع ہوا کہ کیونکہ صحابہ کرام نے تحریر کرنا شروع کر دیا تھا جیسا کا اس کا ثبو ت حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے ملتا ہے آپ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے صحابہ کرام میں سب سے زیادہ احادیث روایت کی سوائے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے۔ کیونکہ وہ لکھتے تھے اور میں لکھتا نہیں تھا تو اس بات سے باخوبی اندازہ ہو سکتا ہے کہ تعلیم و تعلم کا مدار صرف و صرف قلب انسانی تھا اس کو قلم بند کرنے کا طریقہ بہت ہی قلیل تھامگر جب جدت آتی گئی اور انسان ایجادات میں اوج ثریا پہ مقیم ہو نے لگا تو انہوں نے اس علم کو صضحہ قرطاس پہ لانا شروع کیا اور بالاخر اس حد تک پہنچے کہ صدیوں پراناوہ علم من وعن آج ہمارے ہاتھوں میںاس ہی طرح موجود ہیں جس طرح صدیوں پہلے احاطہ تحریر میں لایا گیاتھا یہ تحریری کام زیادہ تر کام عہد رسالت کے بعد ہو ا کیونکہ حضور ﷺ کے زمانے میں لوگ فقط علم کو یاد کرتے اور اس پہ عمل پیرو ہو تے مگر جیسے ہی آپﷺ کا انتقال ہوا تو پھر سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ نے زید بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ کوصحابہ کرام سے قران پاک کو جمع کرکے لکھنے کا حکم دیا تو حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ نے قران مجید کو جمع کیا ۔پھر اس کے بعدذخیرہ احادیث کو صفحہ قرطاس پہ لانے کا سلسلہ جاری ہوا ۔کیونکہ اس وقت صرف دو ہی علم پڑہیں جاتے تھے اور مدار علم اس ہی کو سمجھا جاتا تھا قران مجید کا یا پھر احادیث مبارکہ کا۔اگرچہ علوم اور بھی کئی تھے مگر وہ نہ ہونے کے برابر تھے جن علوم پہ سب سے زیادہ محنت ہو ئی وہ روح زمین کے کسی بھی علم پہ اتنی محنت نہ کی گئی
مگر جب دین پھیلتا گیا اور عرب کی حدود کو پار کرتے ہو ئے عجم کے دیہات و بلاد کو اپنے نور سے منور کرنے لگا تو اس وقت قران مجید و احادیث رسول ﷺ کو سمجھنے کے لئے کئی علوم کی ضرورت محسوس ہو ئی اس ضرورت کو محسوس کرنے والے پہلے شخص حضرت سیدنا علی المرتضی رضی اللہ تعالی عنہ ہے انہوں نے تفہیم قران مجیدکے لئے کچھ عربی قواعد لکھوانے شروع کئے اورانہوں نے خود اس کی نگرانی فرمائی اس کے بعد ہر شخص نے اپنے اپنے ذوق کے مطابق اپنے اندکے مافی الضمیر کو بیان کرتارہا اس سلسلے میں سب سے پہلے قران مجید کو لکھا گیا اور اس ترتیب سے دور صحابہ کرام میں ہی تیا ر ہو ااس کے بعد احادیث کی ترویج و اشاعت کا سلسلہ جاری رہا یہاں تک کہ پھر ایسے مجموعے آنے شروع ہو گئے جن پہ پوری امت مسلمہ نے اجماع کیا ۔لیکن یہ بات ہمارے قارئین کرام جان چکیں ہو ں گے کہ تعلیم و تعلم کا سلسلہ زمانہ قدیمہ میںصرف و صرف تقریر تک ہی محفوظ تھا اگر تصنیف تھی بھی تو اس کیطرف کوئی خاص توجہ نہ تھی صرف و صرف آسمانی کتب ہو تی جن کی دیکھ بھال کی جاتی مگر ان آسمانی کتب و صحائف آج ناپید ہو گئے ہیں اور ِاس وقت سے ایک کتاب جو کہ عہد نامے کی شکل میں ہیں جو حضرت عیسی علیہ السلام کے حواریوں نے لکھی مگر جب ہم اس کا مطالعہ کرتے ہیں تو یہ سوچنے پہ مجبور ہو جاتے ہیں کہ یہ کتاب بعینہ وہ نہیں جو کہ منزل من اللہ ہو ئی یہ جو تحریری صورت میں ہے یہ بہت بعد کی ہے اس ہی لئے اس میں بہت رد و بدل ہے۔اور یہ سلسلہ تحریر نہ ہو نے کی وجہ سے ارسطو کی کتب کاذخیرہ نہ کیا جاسکا اور اس ہی طرح وہی ہی محنت از سر نوفارابی کو کرنی پڑھی جس کومناطقہ و فلاسفہ معلم ثانی کے نام سے یاد کرتے ہیں اور اسکے بعد پھر بو علی سینا کا نام معلم ثالث کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔کہ فارابی کی کتب بھی ضیاع ہو ئیں کیونکہ لکھنے کا باقاعدہ سلسلہ تو تھا نہیں جو تھا وہ بھی علم کو یاد کرنا نہیں بلکہ بس ایک بے توجہی کا امر تھااس لئے پھر اس پہ بو علی سینا نے کام کیا جس کو مناطقہ معلم ثالث کے نام سے یاد کرتے ہیں مگر ان کی کتب کو بھی اس طرح جمع نہیں کیا گیا جیسا کہ ہو نا چاہیے تھا۔ مگر اسلام نے اس کو تصنیف کوترویج دی آج اگر آپ دیکھنا چاہیںتو ہر فن کی کتابیں مل جائیں گی پہلے تحریر کیا جاچکا کہ تحریر کا کام زنانہ نبوی ﷺ میں شروع ہو چکاتھا جیسا کہ امام محمد بن اسماعیل البخاری علیہ الرحمہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کے حوالے سے نقل فرماتے ہیں کہ ’’یقول ما من اصحاب النبی صلی اللہ علیہ و سلم احد اکثر حدیثا عنہ منی الا ماکان من عبد اللہ بن عمر فانہ کان یکتب ولااکتب‘‘ترجمہ صحابہ کرام میں مجھ سے ذیادہ احادیث(لکھنے)والا کوئی نہ تھا سوائے حضرت عبدا للہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے ‘اس لئے کہ وہ لکھتے تھے اور میں لکھتا نہیں تھا(بخاری کتاب العلم)اس لئے معلوم ہو ا کہ زمانہ نبوی ﷺ میں تحریر کا کام شروع ہو چکا تھا اور یہ بات زمانہ نبوی ﷺ کی ہے وگرنہ بعد زمانہ نبو ی ﷺ تو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بھی احادیث کو تحر یر کرنا شروع کر دیا تھا جو آپ رضی اللہ تعالی عنہ کے انتقال کے بعد ایک مسودے کی صورت میں ملا جس کو بعد میں کتب احادیث میں جمع کیا گیا۔مگر اس وقت تک سلسلہ تصنیف قران و حدیث کے مجموعے تک ہی رہا ۔اور احادیث کے مجموعے کو ائمہ محدثین نے مختلف راویوںسے بیان کیا۔ ورنہ اگر سوال کیا جائے کہ بغیر تکرار کے احادیث کی کل تعداد کتنی ہے؟ جو اللہ کے رسول ﷺ سے بلا تکرار حاصل کی گئی تو اس کی مسلمہ رائے کے طورچار ہزار چار سو کی تعداد بیان ہوتی ہے۔ باقی جو راہاسوال اتنی زیادہ احادیث کا تو وہ راویان احادث کے اعتبار سے اور تکرار احادیث کے اعتبار سے احادیث میں کثرت بیان ہو ئی ۔پہلے دو سوسال تک امت مسلمہ کی متفقہ کتب یعنی صحاح ستہ میں سے کوئی بھی صفحہ قرطاس پہ نہیں لائی گئی تھی ۔اس کام کی ابتداء امام بخاری نے کی اور صحاح ستہ میں سب سے عظیم کتاب یہ ہی کہلائی کیونکہ سب سے مقدم اور پہلی کتاب صحاح میں یہ ہی ہے یاد رہے کہ یہ مرتبہ کے حوالے سے ہے ورنہ اس سے قبل ابو دائود بھی لکھی جاچکی تھی ان کا سن وصال سن 203ہجری ہے امام بخاری کاسن ولادت سن 194ہجری ہے اس سے اندازہ ہو تا ہے کہ یہ کام بہت بعد کا ہے اگرچہ اس سے قبل امام بخاری سے استاذہ نے بھی یہ کام کیا اور امام احمد بن حنبل کی مسند بھی معروف ہو چکی تھی مگروہ ایسی نہیں جتنی شہرت صحاح کی کتب کو ملی اور اس دورسے قبل لوگ صرف یاد کرتے تھے اوران میں ایسے بھی لوگ تھے جن کو پورے پورے فرامین رسولﷺ یادتھے جس کو سب احادیث یا د ہو تی تھی اس کو اس دور میں شہنشاہ کا لقب دیا جاتا تھا اس وقت کے امام اعظم ابو حنیفہ جو کہ اپنے وقت کے شہنشاہ کہلاتے تھے اور شہشاہ اس شخص کوکہتے ہیں جو کہ تمام احادیث کا جاننے والا ہو یعنی کہ کوئی ایسی حدیث نہ ہو جس کا ان کو علم نہ ہو جیسا کہ امام صاحب کے ہم عصر عالم دین و عظیم محدث بشر بن موسی اپنے استاد امام عبد الرحمن مقری کا قول نقل کرتے ہو ئے بتاتے ہیں کہ ’’و کان اذاحد ث عن ابی حنیفۃقال حدثنا شہنشاہ ‘‘ترجمہ جب وہ (یعنی میرے استاد امام مقری )امام ابو حنیفہ سے روایت کرتے تو کہتے کہ ہم نے شہنشاہ سے روایت کی (تاریخ ؓبغداد)مگر اس کے باوجود ان کی کوئی ایسی کتاب نہیں جس کو انہوں نے اپنے ہاتھ سے تصنیف کیا ہو اس ہی وجہ سے بعض ناقدین یہ اعتراض کرتے پھرتے ہیںکہ امام اعظم کو علم حدیث نہیں آتا تھا حالانکہ وکیع بن جراح کے بارے میں منقول ہیں کہ ’’و کان یحفظ حدیثہ کلہ و کان قد سمع من ابی حنیفۃ حدیثا کثیرا‘‘ترجمہ انہوں نے امام اعظم کی تمام احادیث کو یاد کیا تھا اور انہوں نے امام ابو حنیفہ سے بہت زیادہ سماع کیا۔اور امام مکی بن ابراہیم جو کہ امام محمد بن اسماعیل البخاری کے استاد ہیںاور امام بخاری نے۲۲ ثلاثیات میں سے ۱۱صرف ان ہی سے نقل کیں۔ ان کے بارے میںملتا ہے کہ انہوں نے’’ولزم ابا حنیفۃرحمہ اللہ‘و سمع منہ الحدیث‘‘ترجمہ اور انہوں (مکی بن ابراہیم)نے درس امام ابو حنیفہ کو اپنے اوپر لازم کر لیا(کتاب مناقب موفق)لیکن انہوں نے بھی باقاعدہ کوئی کتاب تصنیف نہیں کی یہ ہی وجہ ہے کہ کچھ لوگ ان جیسی جلیل القدر ہستی پہ اعتراض کرتے ہیں مگر اس زمانہِ قدیم میں امام اعظم علیہ الرحمہ نے اس طریقہ تقریر میں کچھ اضافہ فرمایا کہ جووہ ارشاد فرماتے اگرچہ خودنہ لکھتے مگر اپنے شاگردوں کو لکھوادیتے ا س عمل کو اصطلاحِ علماء میں املاء کہتے ہیں اس طرح وہ املاء کئی ناموں سے منظر عام پہ آیا مگر ان میں سے صرف چار کتب مشہور ومعروف ہو کہ عالم کائنات میں سکہ بٹھا چکیں ہیں ان املاء کرنے والوں میںقاضی امام ابو یوسف و امام محمد و امام زفر و امام حسن بن زیاد علیم الرحمہ کے نام شامل ہیں ۔اس کے بعد پھرزمانہ تغیر و تبدل کا شکار ہو تا رہا تو پھر ائمہ کرام نے باقاعدہ تصنیف کا سلسہ جاری کر دیاجو کہ احادث و اصول حدیث و فقہ و اصول فقہ اور کئی دوسرے فنون پہ مشتمل ہیں ان میں سے کئی ائمہ کی کتب اس وقت سے لیکر آج تک عالم کائنات میں معروف ہیں۔چند ایک ائمہ کا نام میں یہاں ان کی تاریخ وفات کے ساتھ لکھ رہا ہوں تاکہ قارئین کرام کو اس بات کا اندازہ ہو کہ انہوں نے کون سی صدی میں فنِ تصنیف میں کام کیا کچھ نام تو گزر گئے اور جنہوں نے باقاعدہ تصنیف کی ان کے اسماء میں امام مالک بن انس سن وفات ۱۷۹کی کتاب موطاامام مالک اور امام محمد بن حسن شیبانی سن وفات سن۱۸۹موطا امام محمد‘امام سلیمان بن داود سن وفات سن ۲۰۳کتاب مسند طیالسی‘امام محمد بن ادریس شافعی سن وفات۲۰۴ کتاب مسند ‘ یہ کتب تو احادیث میں ہو ئی اب اس موضوع سے ذرا ہٹ کر دیکھیں تو کہ سن ۶۷ میں حضرت عبد للہ بن عباس کی تفسیر تنویر المقیاس تصنیف ہو چکی تھی اس کے بعد سب ۱۱۰ ہجری میں امام حسن بصری علیہ الرحمہ کی تفسیر بنام تفسیر الحسن البصری صفحہ قرطاس پہ آ چکی تھی اس کے بعد یہ سلسلہ اس حد تک بڑھا کہ بعد کے تمام ائمہ نے اپنے اپنے مسودے خود تیار کرنا شروع کئے۔آج یہ ان سلف صالحین کا احسان ہیں ہم جیسے کوتاہ ذہن لوگوں پہ کہ۔ آج ہر چیزہمارے سامنے قلمبند ہیں اور ہم اپنے ذوق کے مطابق جس فن کو چاہتے ہیں بآسانی کتابی صورت میںحاصل کر سکتے ہیں آج تقریبا ایسا کوئی فن نہیں جس پہ کوئی کتاب نہ ملتی ہو یہ حضرت عبداللہ بن عمراور حضرت ابوہریرہ اور حضرت علی اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہم کا فیضان ہے کہ ہر فن کو احاطہ تحریر میں لایا جاچکا ہے اور یہ تمام اخبارات و جرائدو رسائل ان ہی اکابرین کا فیضان کا سرچشمہ ہیں جن کی بصارت علمی کی وجہ سے یہ سب ہمارے ہاتھوں میں مبوب ہو ا ہو اہے اگر یہ سلسلہ شیخین کریمین رضی اللہ تعالی عنہما شروع نہ فرماتے تو پوری دنیا اس تحریری علم سے محروم ہو تی ۔